Menu
تعلیمیDiseases of the Skin19 منٹ پڑھائی

پھوڑے

پھوڑے جلد کے دردناک انفیکشن ہیں جو عموماً چھوٹی گلٹی سے شروع ہو کر سرخی، سوجن اور پیپ بننے کا سبب بنتے ہیں۔ بعض اوقات بخار اور شدید درد بھی ہو سکتا ہے۔ بروقت علاج سے انفیکشن پھیلنے اور پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے۔

پھوڑے

پھوڑے کی تین اقسام ہیں:

1- دمل

2-خراج

3- دبیلہ

(1) دمل

فسادِ خون کی وجہ سے جسم کے بڑے جوڑوں کے قریب یا نرم گوشت میں بڑے بڑے پھوڑے نکل آتے ہیں جنہیں طبّی اصطلاح میں دبل اور پنجابی زبان میں رتگڑ کہتے ہیں۔ اس کی ابتداء ایک چھوٹے دانے سے ہوتی ہے۔ اس کا منہ پورا نہیں کھلتا اور اس کے ارد گرد کی جگہ سرخ ہو جاتی ہے۔ پھر بڑھتے بڑھتے قریب کے جوڑ کو بہت کمزور کر دیتا ہے۔ اٹھنا بیٹھنا اور چلنا پھرنا دشوار ہو جاتا ہے۔ کبھی بخار بھی ہو جاتا ہے۔ یہ پھوڑا آہستہ آہستہ پک کر پھٹ جاتا ہے اور مریض کو سکون ہو جاتا ہے۔ اس کی ابتداء اور انتہاء میں تقریباً دو ہفتے لگ جاتے ہیں۔ مرض جاتے وقت نشان چھوڑ جاتا ہے۔ صحیح علاج کرنے سے مرض مکمل رفع ہو جاتا ہے ورنہ پھٹنے کے بعد جسم کے کسی دوسرے مقام پر ظاہر ہو جاتا ہے۔ یہ مرض نہایت تکلیف رساں ہوتا ہے۔

اسباب: گرم خشک اشیاء کا کثرتِ استعمال، جوشِ خون، ثقیل غذا۔

(2) خراج

یہ سرخ رنگ کا ایک عضلاتی ورم ہوتا ہے جس کی ابتداء کسی عضو میں عفونت پیدا کرنے والے مادے سے ہوتی ہے۔ یہ مادہ اس جگہ کے مواد کو متعفن کر دیتا ہے اور اس کے ارد گرد کی ساختوں میں پھیل کر ورمِ حاد پیدا کر دیتا ہے۔ عفونتی مادہ کے پیدا ہونے سے ماؤف ساخت متورم ہو جاتی ہے۔ اس مقام پر درد کے ساتھ حرارت اور سرخی آ جاتی ہے۔ ابتداء میں ورم سخت تناؤ کے ساتھ ہوتا ہے اور اس میں ٹیس پڑتی ہے۔ جس مقام پر اعصاب زیادہ ہوں وہاں درد زیادہ ہوتا ہے لیکن پیپ پڑنے سے اس کی شدت کم ہو جاتی ہے اور کبھی مرض کی شدت سے بخار ہو جاتا ہے۔ سردی محسوس ہوتی ہے، چہرہ سرخ اور جسم پسینے سے تر ہو جاتا ہے۔ ماؤف ساخت کے ارد گرد دباؤ پڑنے سے اعصاب میں ہیجان برپا ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے مریض کو تندرست مقام پر بھی درد محسوس ہوتا ہے۔

اسباب: ضعف، تعفن قبول کرنے والا عنصر، اجسامِ خبیثہ کی سرائیت۔

(3) دبیلہ (ٹھنڈا پھوڑا)

یہ ورمِ دبل سے بڑا اور گول ہوتا ہے۔ عام طور پر اس میں درد نہیں ہوتا۔ کبھی عفونتی مادہ میں حدت پیدا ہو چکی ہو تو پھر درد بھی ہو سکتا ہے۔ ایک عرصہ تک یہ ورم بند رہنے سے اس میں عجیب و غریب اجسام (تلچھٹ، ریت، پتھر اور کیل وغیرہ) پیدا ہو جاتے ہیں۔ جب دبیلہ کا اندرونی مواد خشک ہو جاتا ہے تو وہ چھوٹا اور پتھر جیسی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ جگر میں تسکین ہونے کی وجہ سے یہ پھوڑا جلدی تحلیل نہیں ہوتا اور نہ ہی اس میں پیپ پڑتی ہے تو عضو کی قوت مغیرہ اس میں پیپ بنانے میں عاجز آجاتی ہے۔

اسباب:

سرش خشک اشیاء کا کثرت استعمال

چہرے کے کیل

اُٹھتے ہوئے شباب اور چڑھتی ہوئی جوانی میں چہرے پر چھوٹے چھوٹے دانے پیدا ہو جاتے ہیں جو سخت اور سرخ رنگ کے ہوتے ہیں۔ جب یہ دانے پک جاتے ہیں تو کیل کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ اگر کچے ہوں تو ان سے تھوڑی سی پیپ خارج ہوتی ہے، پھر خون نکل آتا ہے۔ ایک دانہ ختم کرنے سے دوسرے دن اور دانے نکل آتے ہیں۔ یہ دانے ختم ہوتے وقت نشان چھوڑ جاتے ہیں جس سے چہرے کا حسن زائل ہو جاتا ہے۔

اسباب: بدہضمی، جنسی ہارمون کی زیادتی۔

برص

جلد کی قوتِ مغیرہ کے ضعیف ہونے سے اس کی غذا پوری طرح ہضم نہیں ہوتی، کسی قدر کچی رہ کر بلغمی مائل ہو جاتی ہے تو اس سے سفید داغ پیدا ہو جاتے ہیں۔ جو شروع میں چھوٹے اور بعد میں بڑھ کر تمام جسم پر پھیل جاتے ہیں۔ ان داغوں کے مقامات کو چٹکی سے پکڑ کر اوپر اٹھائیں اور گوشت سے علیحدہ کر کے صرف جلد میں سوئی چبھو کر دیکھیں، اگر ان سے خون نکلے تو علاج کی امید رکھیں اگر پانی نکلے تو عسر العلاج سمجھیں۔

اسباب: موروثی، مچھلی کھانے کے بعد دودھ پی لینا، دودھ پینے کے بعد کوئی ترش چیز کھا لینا جیسے سرکہ، اچار اور چٹنی وغیرہ۔

جذام (کوڑھ)

جذام کی دو اقسام ہیں:

1۔ جذامِ خدری

2۔ جذامِ عجرى

1۔ جذامِ خدری:

اس مرض کا اثر اعصاب اور مرکزِ اعصاب پر ہوتا ہے۔ ابتداء میں تکدرِ طبع کے ساتھ بدن میں چیونٹیاں چلنے کا احساس ہوتا ہے۔ جلد کا تغذیہ بگڑنے سے اس میں گول گول سفید زردی مائل دھبے نمودار ہو جاتے ہیں جو محیط میں پھیلتے جاتے ہیں اور چند ایک مل کر بڑے بڑے بے قاعدہ دھبے بن جاتے ہیں۔ ان کا حاشیہ ابھرا ہوا اور مرکزی حصہ خشک سفید اور بے حس ہو جاتا ہے۔ زخموں سے بدبو آتی ہے اور مریض میں قوت ختم ہو جاتی ہے اور یہ مرض بیس سال تک رہتا ہے۔

2۔ جذامِ عجرى:

اس کا اثر غشائے مخاطی پر ہوتا ہے۔ ابتدائی چند مہینوں میں کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتی اس کے بعد تکدرِ طبع سوءِ مزاج جلد پر سرخ چمکدار چٹے ظاہر ہوتے ہیں جو پیشانی، رانوں اور بازوؤں پر دکھائی دیتے ہیں۔ چند روز میں کملا جاتے ہیں، پھر بخار کے ساتھ اُبھر آتے ہیں۔ یہ چھوٹے چھوٹے چٹے مل کر حجم میں بڑھ کر بیضۂ مرغ کے برابر ہو سکتے ہیں۔ پھر ان میں پیپ پڑ جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ پھٹ جاتے ہیں اور اعضاء ضائع ہونے لگتے ہیں۔

نوٹ: یہ بیماری مائیکو بیکٹیریم لیپرا کی انفیکشن سے ہوتی ہے۔ جلد اندرونی جھلیوں اور پیری فرل نروز پر اثر انداز ہوتی ہے۔ لیبارٹری ٹیسٹ مریض کی جلد کے اوپر نوڈیولز کی بائیوپسی کر کے سلائیڈ پر ایسڈ فاسٹ سیلائی دیکھ کر پہچانا جاتا ہے۔

اسباب: موروثی، آتشک کا بگڑ جانا۔

سلعات (رسولیاں)

سلعہ (رسولی) ایسے نئے خلیوں کا مجموعہ جن کی افزائش جسم کی نشوونما کے عام قاعدے کے خلاف ہوتی ہے۔ یہ خلیے جسم میں مفید کام کرنے کی بجائے تخریب کاری کرتے ہوئے ارد گرد کی ساختوں کو تباہ کرنے لگتے ہیں۔

سلعات کی دو اقسام ہیں:

1۔ سادہ سلعہ

2۔ خبیث سلعہ

دونوں کا فرق:

1۔ سادہ سلعہ مہلک نہیں جبکہ خبیث سلعہ مہلک ہوتی ہے۔

2۔ سادہ سلعہ صرف اپنی جسامت میں بڑھتی ہے جبکہ خبیث سلعہ دوسری ساختوں میں نفوذ کر جاتی ہے۔

3۔ سادہ سلعہ کو کاٹ دیا جائے تو دوبارہ نہیں ہوتی جبکہ خبیث سلعہ کاٹ دینے کے بعد پھر ظاہر ہو جاتی ہے کیونکہ ان کے اثرات جسم میں باقی ہوتے ہیں۔

4۔ سادہ سلعہ ست جبکہ خبیث سلعہ تیزی سے بڑھتی ہے۔

سادہ سلعات (رسولیاں):

سلعات کے نام ان کی ساختوں کی مناسبت سے رکھتے گئے ہیں جہاں وہ پیدا ہوتے ہیں ان ساختوں کے نام کے ساتھ OMA کا اضافہ کیا جاتا ہے۔

1۔ سلعہ بشری (Papilloma) ...... جلد، منہ، آنتوں اور مثانہ کی مخاطی جھلی سے تشکیل پاتی ہے۔

2۔ غدی سلعہ ...... غدود کی بشری سطح سے نکلتا ہے جیسے پستان یا غدہ درقیہ وغیرہ۔

3۔ عظمی یا غضروفی سلعہ (Osteoma or Chondroma) ...... یہ ہڈی یا غضروف میں نکلتا ہے۔

4۔ لیفی سلعہ (Fibroma) ...... یہ لیفی ساخت جسم کے کسی بھی حصہ میں نکل سکتا ہے عموماً زیرِ جلد ہوتا ہے۔

5۔ شحمی سلعہ (Lipoma) ...... یہ شحمی ساخت پر نکلتا ہے۔ گردن، شانے یا پشت پر پایا جاتا ہے۔ (سبب: کثرتِ تبادلِ خردہ)

6۔ عضلی سلعہ (Myoma) ...... ارادی عضلات میں شاذ صورتوں میں نکلتا ہے۔ عموماً رحم کی عضلی ساخت میں ہوتا ہے جسے تلیفِ رحم Fibriod کہتے ہیں۔

7۔ عروقی سلعہ (Angioma) ...... یہ دموی یا لمفاوی عروق میں بنتا ہے۔ دموی عروق میں اس کا رنگ سرخ، سیاہی مائل اور لمفاوی عروق میں ہلکے نیلے رنگ کا ہوتا ہے۔ زیادہ تر چہرے اور گردن پر ہوتا ہے اور اگر یہ پیدائشی ہو تو اسے Birth Mark کہتے ہیں۔

8۔ عصبی سلعہ (Neuroma) ...... جلد پر پائے جانے والے عصبی سروں سے نکلتا ہے۔ اس کا رنگ سیاہ ہوتا ہے۔ اسے خال یا تل (Mole) کہتے ہیں۔ یہ جلد پر کسی جگہ ہو سکتا ہے۔

نوٹ: ان سادہ سلعات کو اگر مسلسل خراش پہنچتی رہے تو ان کے خبیث صورت اختیار کرنے کا اندیشہ ہے۔

اسباب:اجسام خبیثہ کا حملہ، سرد خشک اشیاء کا کثرت استعمال۔

خبیث سرطانی سلعات

بشری سرطانی سلعہ (Carcinoma):

یہ سرطانی سلعات اکثر وقوع پذیر ہوتی ہیں۔ ان کا پھیلاؤ چونکہ لمفاوی نظام کے ذریعے ہوتا ہے اس لئے ان کی ثانوی لمفاوی سلعات تیزی سے بنتی ہیں۔ ایسی سلعہ کو جب کاٹ دیا جاتا ہے تو متعلقہ تمام لمفاوی غدود کو بھی کاٹ دیا جاتا ہے اور عام طور پر ابتدائی سرطانی سلعہ کی موجودگی کا علم ثانوی افزائش کے نتیجے میں ہوتا ہے۔

لحمی سرطانی سلعہ (Sarcoma):

یہ اتصالی لمفی ساخت کی سلعہ ہے جو ہڈی، شحم، نسیج، غضروف، زیرِ جلد ساخت اور عضلات میں پیدا ہوتی ہے۔ یہ پہلے کی نسبت کم واقع ہوتی ہے۔

بنیادی طور پر یہ دونوں سلعات کینسر ہیں جو اس دور کا عسر العلاج مرض ہے۔

کینسر

کینسر لاطینی زبان کا لفظ ہے جسے عربی زبان میں سرطان (کیکڑا)، انگریزی میں کارسی نوما، سارکوما اور یونانی میں اوما (پھوڑا) کہتے ہیں۔

جسم کے کسی حصے میں گلٹی یا رسولی ہو تو اس عضو کے نام کے ساتھ لفظ اوما (OMA) کا اضافہ کر دیا جاتا ہے مثلاً اگر یہ عارضہ چربی میں لاحق ہو تو لائیپ اوما (Lipoma) اور عضلات میں ہو تو مائی اوما (Myoma) کہتے ہیں۔

یہ ایک قسم کی خبیث رسولی ہے جو جسم کے کسی حصہ میں ظاہر ہو سکتی ہے چونکہ اس کی نشوونما جسم کے عام قاعدے کے بالکل خلاف ہوتی ہے اس لئے اس کے بے لگام خلیات جسم کے تندرست خلیات کو ان کے فرائضِ منصبی سے روک دیتے ہیں جس کی وجہ سے جسم کا سارا نظام تہہ و بالا ہو جاتا ہے۔

اس کا آغاز ایک چھوٹی سی گلٹی سے ہوتا ہے جس میں درد ہونے لگتا ہے۔ پھر اس کے گرداگرد اسی طرح کی ایک اور گلٹی نمودار ہو جاتی ہے۔ ان کی وجہ سے جسم میں درد، تھکاوٹ اور بخار ہونے لگتا ہے۔ مسلسل سوزش رہنے کی وجہ سے وہ حصہ متورم ہو جاتا ہے اس مقام کو چھونے سے حرارت واضح محسوس ہوتی ہے اور متورم حصہ آہستہ آہستہ پھیلنے لگتا ہے۔ پھیلتے وقت اس پر سبز اور سرخ رگیں نمودار ہوتی ہیں جس کی مشابہت کیکڑے کی ٹانگوں سے ہوتی ہے جس طرح کیکڑا اپنی ٹانگیں آہستہ آہستہ پھیلاتا ہے اسی طرح یہ رسولی بھی آہستہ آہستہ بڑھتی ہے۔ اس حالت میں کمر اور کندھوں میں درد اور شدید کمزوری ہو جاتی ہے۔ بھوک میں کمی اور قبض کی شکایت ہوتی ہے۔ جسم میں چبھن، جلن اور سانس پھولنے لگتا ہے۔ حرارتِ غریزی کم ہونے سے خون کی کمی ہو جاتی ہے۔ پیشاب مقدار میں کم اور سرخ زردی مائل بالآخر سرسوں کے تیل جیسا ہو جاتا ہے۔ کبھی مقامِ ماؤف پر نا قابلِ برداشت درد ہوتا ہے۔ کبھی قے ہوتی ہے۔ ہاتھ پاؤں اور چہرہ پر ورم ہو جاتا ہے تو مریض چلنے پھرنے کے قابل نہیں رہتا۔ غیر طبعی سوداء کی زیادتی سے خون گاڑھا ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے اندرونی اعضاء کی ساختوں کے راستے مسدود ہو جاتے ہیں اس لئے مطلوبہ اعضاء کو غذا نہیں پہنچتی۔ وہاں یہ صورت مختلف مراحل حبس، قبض، لذت، بے چینی، خارش، درد، سوزش، ورم السراور کینسر تک پہنچ جاتی ہے۔ اس کے بعد جب یہ سرطان زخمی ہو جاتا ہے تو اس وقت اس کا زخم سرخی مائل، کبھی سیاہ اور سبز ہو جاتا ہے۔ ابتداء میں اس زخم سے بدبودار پانی بہتا ہے اور جب اس میں پیپ پڑ جاتی ہے تو وہ شدید متعفن ہو کر خارج ہوتی رہتی ہے۔ یورن ٹیسٹ میں اپی تھیلیل ٹشوز زیادہ آتے ہیں۔ H.B لیول کم ہو جاتا ہے۔ E.S.R بڑھ جاتا ہے۔ اس کی حتمی تشخیص بائیوپسی سے ہوتی ہے۔ اگر رسولی جسم کے اندر ہو تو پہلے الٹرا ساؤنڈ سے صحیح جگہ متعین کر کے مواد حاصل کیا جاتا ہے۔

اسباب:منشیات، مخدرات اور مسکنات اشیاء کا استعمال، گوشت خوری، تمباکونوشی، سمیات کا اثر، حشرات الارض کا ڈسنا، خشک گرم اشیاء کا بکثرت استعمال۔

پت

جلد کی سطح پر چھوٹے چھوٹے دانے نمودار ہوتے ہیں اور پورے جسم پر پھیل جاتے ہیں۔ ان کو دبانے سے سفید پانی نکلتا ہے اور وہ جگہ سرخ ہو جاتی ہے۔ اس مرض میں عموماً جلد کے مسامات بند ہو جاتے ہیں۔ پسینہ کی رطوبات اندر ہی رک جاتی ہیں، جب انہیں تحریک ملتی ہے تو جلد پر چھوٹے چھوٹے دانے بن جاتے ہیں۔

اسباب: گرم خشک اشیاء کا بکثرت استعمال۔

کثرت پسینہ

جسم میں موجود نظامِ دمویہ دل، شریانوں اور وریدوں پر مشتمل سارے جسم کو غذا دینے کے لئے دورانِ خون کو ریگولیٹ رکھتا ہے اور یہ نظام اعصاب کے تحت کام کرتا ہے۔ اس کا مرکز دماغ ہے اور اس نظام کا فضلہ پسینہ ہے کیونکہ یہ ہضم عروقی کا فضلہ ہے۔ یہ لطیف اسی لئے ہوتا ہے کہ جسم کے دیگر نظاموں کی نسبت اس میں کام آنے والی رطوبات زیادہ لطیف ہوتی ہیں۔

پسینہ: یہ اعضاء کی وہ رطوبت ہے جو بعض خاص حالت میں جلد کے مسامات کے ذریعے اخراج پاتی ہے اس طرح اعضاء کی مناسبت سے اس کی تین اقسام ہیں:

1- اعصابی پسینہ: وہ ہے جو حالتِ سکون میں بیٹھے بٹھائے یا لیٹے سوتے آتا ہے۔ یہ رقیق ہوتا ہے اس میں عام طور پر بدبو نہیں ہوتی لیکن تعفن پیدا ہو چکا ہو تو بدبو بھی آ جاتی ہے۔

اسباب: تر سرد اشیاء کا کثرتِ استعمال۔

2- غدی پسینہ: وہ ہے جو گرم حبس دار موسم میں آتا ہے۔ یہ پسینہ جب خشک ہوتا ہے تو جلد پر نمکیات جمع ہوتے ہیں۔ اگر ان میں تعفن پیدا ہو جائے تو اس سے انتہائی ناگوار بدبو آتی ہے۔ اس کی رطوبات بھی کوئی زیادہ غلیظ نہیں بلکہ رقیق ہوتی ہیں۔

اسباب: گرم حبس دار موسم، گرم خشک غذا و ماحول۔

3- عضلاتی پسینہ: یہ وہ پسینہ ہے جو کثرتِ حرکات سے آتا ہے۔ ورزش زیادہ ہونے کی صورت میں پسینہ آنے لگتا ہے۔ یہ پسینہ کی رطوبات غلیظ ہوتی ہیں اور متعفن ہونے کی حالت میں اس پسینے سے ترش بو آتی ہے اور جہاں جہاں جسم پر لگتی ہے وہاں وہاں خارش اور کھجلی بہت ہوتی ہے۔

اسباب: خشک گرم اشیاء کا کثرتِ استعمال۔

بدبودار پسینہ

غددِ ناقلہ میں موجود رطوبات کے متعفن ہو جانے سے بدبودار پسینہ آتا ہے جس سے وہ خود بھی تنگ آ جاتے ہیں۔ دوسرے اس کے قریب بیٹھنا بھی پسند نہیں کرتے۔

اسباب: نظامِ انہضام کی خرابی، ثقیل اشیاء کا کثرتِ استعمال، تپِ دق کا عارضہ وغیرہ۔

جلد کا پھٹنا

بعض افراد کی حساس طبع موسمی تغیر برداشت نہیں کر سکتی جس سے جسم کے مختلف مقامات پر جلد کا حصہ بالخصوص ہاتھ پاؤں پھٹ جاتے ہیں۔

اسباب: سرد خشک اشیاء کا کثرت استعمال، موسمی تغیر، بد ہضمی، قبض، ریاح شکم۔

سن سٹروک

موسم گرما میں درجہ حرارت بڑھنے سے ہر جاندار متاثر ہوتا ہے۔ اس کی حرارت سے پسینہ خارج ہوتا ہے جب اس کی مقدار بڑھتی ہے تو جسم سے قیمتی نمکیات خارج ہو جاتے ہیں جس سے سن سٹروک کا عارضہ لاحق ہو جاتا ہے۔

اس مرض میں جلد گرم اور سرخ ہو جاتی ہے۔ دورانِ خون تیز ہونے سے دل کی دھڑکن بھی تیز ہو جاتی ہے۔ اس کی تیزی کی وجہ سے اعصاب میں تناؤ کا احساس ہوتا ہے خصوصاً گردن اور کمر کے پٹھوں میں یہ کیفیت زیادہ ہوتی ہے۔ تیز بخار ہو جاتا ہے جس کا درجہ حرارت 104 تا 106 تک ہو جاتا ہے۔ پیاس شدید لگتی ہے جو پانی پینے سے بھی نہیں بجھتی۔ سر چکراتا ہے، چلنا پھرنا مشکل ہو جاتا ہے، کوئی چیز کھانے کو دل نہیں چاہتا، متلی اور قے کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ شدتِ مرض میں بے ہوشی طاری ہو جاتی ہے اس لئے کہ مدافعتی نظام کمزور ہو جاتا ہے۔

اسباب: گرم خشک آب و ہوا، گرم خشک غذاؤں کا استعمال۔

ضربہ وسقطہ

ایکسیڈنٹ، لاٹھی کی ضرب، گر جانا یا جسم پر کسی قسم کی چوٹ لگ جائے تو متاثرہ حصہ پر درد، سوزش اور ورم ہو جاتا ہے۔

فنگس انفیکشن

اس مرض کی مثال یوں ہے جیسے موسمِ سرما میں زمین پر سردی اثر انداز ہوتی ہے تو اس کا شور اوپر آ جاتا ہے اور نیچے سخت سیاہی مائل زمین ہوتی ہے۔ اسی طرح بعض لوگوں میں جب سردی خشکی کا اثر ہوتا ہے تو تیزابیت، قبض، ریاح، تبخیر، سہر، پسینہ نہ آنا، ہاتھ پاؤں کا پھٹنا، چہرہ اور بدن کا کھردرہ ہونا جیسی علامات نمایاں ہوتی ہیں۔ مساماتِ جلد بند ہو جانے سے تمام جسم سے چھلکے اترتے ہیں یا مقامی طور پر جلد کے مسام بند ہونے سے چھلکے اترتے ہیں جیسے سر اور داڑھی میں سکری بنتی ہے اور بھوسی جھڑتی ہے اور ہاتھ پاؤں کی انگلیوں کے درمیانی حصے گل جاتے ہیں۔

اسباب: سرد خشک اشیاء کا کثرتِ استعمال۔

 ایگزیما (نار فارسی)

یہ مرض جوش خون سے ہوتا ہے۔ بدن میں چبھن اور جلن محسوس ہوتی ہے۔ کبھی جسم نہایت سرخ ہو جاتا ہے۔ جب یہی کیفیت ایک عرصہ تک رہے تو سرخ رنگ کی سخت پھنسیاں نمودار ہوتی ہیں جن میں شدید جلن اور درد ہوتا ہے۔ یہ اکثر بدن کے نازک مقام پر گول دائرے کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں۔ کبھی سارے بدن پر نکل آتی ہیں۔ مریض کو بدن میں آگ لگی ہوئی محسوس ہوتی ہے اور وہ گھبراہٹ محسوس کرتا ہے۔

جب مرض میں شدت ہوتی ہے تو ان پھنسیوں میں پیپ پڑ جاتی ہے۔ پھر یہ زہریلا مادہ نکل کر جہاں لگتا ہے وہاں پر بھی یہ کیفیت پیدا کر دیتا ہے۔ جب اس میں مزید شدت آجاتی ہے تو پھنسیوں پر کھرنڈ آجاتے ہیں اور مریض کو خارش بہت ہوتی ہے جسے وہ زور سے کھجلاتا ہے بالآخر خون نکل آتا ہے۔

اسباب: سوزاکی مادہ۔

کاربنکل (شب چراغ)

یہ مرض عموما ذیابیطس کے مریضوں کو لگتا ہے چونکہ ان کی قوت مدافعت کم ہوتی ہے اس لئے اس کے جراثیم جلد پر داخل ہونے کے بعد نیچے کی تہہ تک سرائیت کر جاتے ہیں۔ مرض کے آغاز میں ایک چھوٹی سی پھنسی ظاہر ہوتی ہے جو پھیل کر آس پاس کی جلد کو متاثر کرتی ہے۔ سوزش پھیلنے سے آس پاس کی جگہ سرخ ہوجاتی ہے اس کے درمیان میں یہ ابھری ہوئی پھنسی ہوتی ہے۔ یہ ایسے لگتا ہے جیسے سرخ رنگ کے فرش پر موتی پڑا ہے۔ اس وجہ سے اطباء قدیم نے اسے شب چراغ کا نام دیا ہے۔ ایک دو روز میں سرخ جگہ کے نیچے پیپ پڑ جاتی ہے۔ کاربنکل ایک یا زیادہ ہو سکتے ہیں۔

اسباب: ذیابیطس حقیقی۔

تقشر جلد

جب سوداوی مادہ جل کر راکھ ہو جاتا ہے تو قوت مدبرہ انہیں جلد کے باہر پھینک دیتی ہے۔ یہ اپنے فساد سے جلد کو فاسد کر دیتی ہے اس وجہ سے اس میں کھجلی ہوتی ہے اور جلد سے چھلکے اترتے ہیں۔

اسباب: سرد خشک اشیاء کا کثرت استعمال۔

غانغرانہ (گنگرین)

جس جسم کے کسی حصہ مثلاََ جلد، بازو، ہاتھ، پاؤں کی انگلیاں اور پھیپھڑے وغیرہ میں زخم یا چوٹ لگنے سے خون کی رسد نہ ملے تو ابتداء میں وہ مقام سن ہو جاتا ہے۔ پھر پھٹ کر زخم کی صورت بنا لیتا ہے اور وہ زخم مسلسل خون نہ ملنے کی وجہ سے سیاہ ہونے لگتا ہے۔ اس کا فوری علاج کر لیا جائے تو مرض سے نجات ہو سکتی ہے ورنہ جسم کا اتنا حصہ کاٹنا پرتا ہے۔ اگر پھر بھی لاپرواہی کی جائے تو جان لیوا ثابت ہوتا ہے عموماََ اس کی دو قسمیں ہیں:

1- خشک غانغرانہ

2- تر غانغرانہ

1- خشک غانغرانہ:

جیسے پاؤں کی شریانوں میں بڑھاپے کی وجہ سے ضعف قلب یا شوگر کی وجہ سے دوران خون بند ہو جائے تو پاؤں کی انگلیااں مردہ ہو جاتی ہیں اور خشک قسم کا گنگرین ہو جاتا ہے، پاؤں خشک ممی کی طرح سکڑ جاتا ہے اور رنگ سیاہ ہو جاتا ہے۔ یہ رنگ ہیموگلوبن پر جراثیم کے اثر سے پیدا ہوتا ہے۔

2- تر غانغرانہ:

اس میں خشک غانغرانہ میں مذکور تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ رطوبات جمع ہو کر متعفن ہو جاتی ہیں کیونکہ شریانی خون نہیں پہنچتا اور جو اس حصہ میں پہلے سے جمع ہے وہ متعفن ہو کر بدبو دینے لگتا ہے۔

اسباب:

ذیابیطس معدی، جلنا، سرنا، ضربہ وسقطہ۔

موٹاپا

تمام نشاستہ دار غذائیں دوران ہضم شکر میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ یہ شکر گلوکوز کی صورت میں جزو بدن بن کر توانائی فراہم کرتا ہے لیکن جب یہ گلوکوز جسم کی ضرورت سے زائد ہو تو جگر اور دیگر عضلات میں اس کا ذخیرہ چربی کی شکل میں ہوتا ہے جو موٹاپے کا باعث بنتی ہے۔ یہ عموماََ زیادہ چکنائیاں، چربی اور مرغن غذائیں کھانے سے جلد کے نیچے اور اندرونی اعضاء کے ارد گرد چربی جمع ہو جانے سے ہوتا ہے۔ چربی زیادہ ہونے سے حرکات جسم میں بہت دشواری پیدا ہو جاتی ہے جس سے شوگر، سانس پھولنا، خون میں چربی بڑھ جانا، خون کا گاڑھا ہونا، انجائنا اور دل ڈوبنا وغیرہ کے عوارض لاحق ہوتے ہیں۔ انہیں گردہ، مثانہ اور پتہ میں پتھریاں بن جاتی ہیں۔ سارے جسم کے جوڑ جوڑ درد کرتے ہیں۔ نقل و حرکت کم ہو جاتی ہے کیونکہ ایسے حضرات تیز چل سکتے ہیں نہ دوڑ سکتے ہیں۔ سستی اور کاہلی، نیند گہری اور لمبی خراٹے دار آتی ہے۔ سفر کرنا ان کے لئے عذاب ہوتا ہے۔ نفسیاتی طور پر یہ الجھن کا شکار رہتے ہیں۔ حقوق زوجیت میں مشکل اور رکاوٹ ہوتی ہے اور آہستہ آہستہ جنسی لحاظ سے بے کار ہو جاتے ہیں۔ عورتوں کو ماہواری کی بندش سے یا برتھ کنٹرول گولیوں کے استعمال سے یہ عارضہ لاحق ہو جاتا ہے۔

اسباب: مرغن، نفاخ اور دیر ہضم غذائیں۔ چینی، چاول، چکنائی، چپاتی وغیرہ۔ موروثی، برتھ کنٹرول ادویات، ورزش نہ کرنا یا کرتے ہوئے ایک دم چھوڑ دینا۔

دبلا پن

بعض افراد جسمانی طور پر نہایت دبلے پتلے اور کمزور ہوتے ہیں جو معمولی موسم کی تبدیلی سے فوراََ متاثر ہو جاتے ہیں۔ ان کے اجسام میں رطوبت کی کمی ہو جاتی ہے اس لئے معمولی تحلیل سے ان کا بدن مختلف امراض میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اعضاء کو ہوا کی گرمی اور سردی سے محفوظ رکھنے کے لئے گوشت ایک مضبوط آڑ ہے جو بہت ہی کم ہو جاتا ہے۔ انسان ہڈیوں کی مٹھی نظر آتا ہے۔

اسباب:

قلت غذا، سوء ہضم مزمن، دیدان امعاء، غم و فکر، ترش اور خشک اشیاء کا کثرت استعمال۔ بعض امراض کے غلط علاج کے ما بعد اثرات، نفسیاتی عوارض، تپ دق یا ٹائیفائید کے ما بعد اثرات۔

چنڈی

بعض لوگوں کے پاؤں کے تلوؤں میں سخت گانٹھیں بن جاتی ہیں جن پر شدید درد ہوتا ہے۔ بعض دفعہ تو مریض چل پھر نہیں سکتا۔

اسباب:

سرد خشک اشیاء کا کثرت استعمال۔

متعلقہ بیماریاں

پھوڑے | اسباب، علامات اور مؤثر علاج