Menu
تعلیمی3 منٹ پڑھائی

جلد کی بیماریاں

جلد کی بیماریوں میں شریٰ (پتی اچھلنا)، دھدر، چنبل، خارش اور مختلف اقسام کی پھنسیاں شامل ہیں۔ یہ امراض جلد پر سرخی، جلن، خارش، خشکی، چھلکے بننے اور دیگر تکالیف کا باعث بنتے ہیں، جو جلد کی صحت اور روزمرہ زندگی کو متاثر کر سکتے ہیں۔

جلد کی بیماریاں

جلد کی درج ذیل بیماریاں ہیں:

شریٰ (پتی اچھلنا)

انسانی جسم میں کیمیائی عنصر Histamine ہوتا ہے جو صحت کی حالت میں نارمل ہوتا ہے لیکن جب ایسے عناصر جسم میں داخل ہوں جنہیں جسم پسند نہیں کرتا تو ان کے ردِعمل میں Histamine زیادہ پیدا ہوتا ہے۔ اس وقت جسم پر تھپڑ نکل آتے ہیں جسے اردو میں پتّی اچھلنا، طب میں شریٰ اور انگریزی میں "Urticaria" کہتے ہیں۔ یہ جسم کے خودکار اعصابی نظام کا مرض ہے۔ جلد میں اعصابی نظام کے محافظ زنک، کیلشیم اور میگنیشیم ہیں۔ جب انہیں اندرونِ جسم پریشان کیا جاتا ہے تو یہ اندر سے نکل کر ظاہر جلد پر سرخی مائل تھپڑ کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ جلد میں دورانِ خون بڑھنے کی وجہ سے جلن اور شدت کی خارش ہوتی ہے۔

اسباب: قوتِ مدافعت میں کمی، انگریزی ادویات کے مضر اثرات، مختلف کیمیکلز کا زہر، سمیات، آنتوں میں سوزش، مصالحہ جات کا کثرتِ استعمال۔

دھدر

پہلے چھوٹے چھوٹے سرخی مائل دانے پیدا ہوتے ہیں۔ پھر یہ کچھ عرصہ کے بعد گول دائرے کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ پھر وہاں کی جلد سرخ ہو جاتی ہے اور چھوٹی چھوٹی پھنسیاں بن جاتی ہیں۔ طب یونانی میں انہیں قوبا اور ایلوپیتھک میں رنگ ورم (Ring Worm) کہتے ہیں۔

اسباب: بدہضمی، پراگندہ حالت، ثقیل اور دیر ہضم اشیاء کا استعمال۔

چنبل (داد)

پہلے جلد پر چھوٹے چھوٹے دانے نمودار ہوتے ہیں جن کی سطح پر چھوٹے چھوٹے چھلکے تہہ بہ تہہ ہوتے ہیں جو آسانی سے کھرچے جا سکتے ہیں۔ عام طور پر ان میں خارش نہیں ہوتی۔ اگر خارش ہو تو یہ مرض بڑھنے کی علامت ہے۔

ان چھلکوں کے نیچے پھنسیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ دیکھنے سے جلد پر ایک نشان ہوتا ہے جس میں معمولی دانے ہوتے ہیں۔

اسباب: پراگندہ رہنا، بواسیری زہر کا اثر۔

خارش

خارش دو طرح کی ہوتی ہے:

1. جرب

2. حکہ

1۔ جرب (خارشِ تر):

اس خارش میں جسم پر چھوٹے چھوٹے دانے نکل آتے ہیں جن میں پیپ پڑ جاتی ہے۔ ان میں جلن اور تکلیف ہوتی ہے۔ کھجلی کرنے سے ابتداء میں لطف اور بعد میں تکلیف ہوتی ہے۔ یہ خارش اکثر پنڈلیوں سے شروع ہوتی ہے اور تمام بدن میں پھیل جاتی ہے۔ خارش کرنے سے لذت محسوس ہوتی ہے۔ جب تک مواد نمودار نہ ہو تو چھوڑنے کو جی نہیں چاہتا۔

اسباب: خشک گرم اشیاء کا کثرتِ استعمال۔

2۔ حکہ (خارشِ خشک):

یہ خارش عموماً سارے جسم پر ہوتی ہے بالخصوص اعضائے مستور (زیرِ ناف) میں ہوتی ہے۔

اسباب: رطوبات کا تعفن، تیز مرچ و مصالحہ جات، بڑا گوشت۔

پھنسیاں

اس کی چار اقسام ہیں:

1-:

فسادِ خون کی وجہ سے جلد پر چھوٹی چھوٹی پھنسیاں ظاہر ہوتی ہیں جو گلٹی دار ہوتی ہیں اور جلدی پکتی نہیں جب دیر سے پکتی ہیں تو ان سے خون پیپ آمیز نکلتا ہے۔ پیٹ میں نفخ، گیس، معدہ میں جلن، تیزابیت، شدید قبض اور بخار جیسے عوارض لاحق ہوتے ہیں۔

اسباب: ترش اور ثقیل اشیاء کا کثرتِ استعمال، آب و ہوا کا تغیر، تیز مصالحہ جات۔

2-:

جب اعصاب میں سوزش پیدا ہوتی ہے تو جسم پر چھوٹی چھوٹی پھنسیاں نمودار ہوتی ہیں۔

اسباب: تر گرم اشیاء کا کثرتِ استعمال۔

3-:

بعض اوقات جسم پر زرد رنگ کی بڑی پھنسیاں ظاہر ہوتی ہیں۔ یہ نملہ پھنسیاں ہیں جن کی تکلیف کا احساس چیونٹی کاٹنے کی طرح ہوتا ہے۔

اسباب: گرم تر اشیاء کا کثرتِ استعمال۔

4-

بعض پھنسیاں جلن دار، زردی مائل اور سائز میں چوڑی ہوتی ہیں۔

اسباب:

گرم خشک اشیاء کا کثرت استعمال۔

متعلقہ بیماریاں

جلد کی بیماریاں: خارش، چنبل، دھدر اور جلدی امراض کی مکمل رہنمائی