Menu
تعلیمی2 منٹ پڑھائی

نسیان/بھول جانا

نسیان ایک ایسی حالت ہے جس میں قوتِ حافظہ، فکر یا تخیل کمزور ہو جاتی ہے۔ مریض عام چیزیں بھولنے لگتا ہے، بات کرتے ہوئے بھول سکتا ہے، سر بوجھل محسوس ہوتا ہے اور لمبا مضمون پڑھنے یا سننے کے بعد اسے سمجھنے اور ترتیب دینے میں دشواری ہوتی ہے۔

نسیان(بھول جانا)

نسیان میں قوتِ حافظہ، فکر یا تخیل خراب ہو جاتی ہے۔ قوتِ تخیل وہ قوت ہے جو دیکھی ہوئی چیزوں کے غائب ہونے پر دوبارہ ان کو یاد دلاتی ہے جو خزانہ خیال میں محفوظ ہوتی ہیں۔ اس قوت کے فاسد ہونے کی وجہ کبھی حسِ مشترک کا فساد ہوتا ہے جو خزانہ خیال سے واپس لوٹاتی ہے اور کبھی قوتِ خیال کا فساد ہوتا ہے جو ان صورتوں کا خزانہ ہے اور ان کی حفاظت کرتا ہے۔ رطوبات کی زیادتی سے اعصاب ڈھیلے، جسم سست، دماغ نرم ہو جاتا ہے۔ قوتِ ہاضمہ کمزور اور بھوک ختم ہو جاتی ہے۔ زکام سے ضعفِ دماغ کا عارضہ لاحق ہو جاتا ہے اور مرضِ نسیان شروع ہو جاتا ہے۔ عام معمول کی چیزیں بھی بھولنے لگتی ہیں۔ کبھی مریض بات کرتے کرتے بھول جاتا ہے۔ قوتِ فکر اور تخیل زائل ہو جاتا ہے۔ سر بوجھل اور اُٹھتے بیٹھتے چکر آتے ہیں۔ مطالعہ کرنے سے سر میں ہلکا سا درد ہونے لگتا ہے۔ لمبا مضمون پڑھنے یا سننے کے بعد اسے صحیح ترتیب دے کر نتیجہ نکالنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔ نسیان عموماً تین قسم کا ہوتا ہے:

1- نسیان کی پہلی قسم:

ماضی بھول جانا اور حال یاد رہنا۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ اعصابی عضلاتی تحریک ہے۔ اس میں دماغ کے پچھلے حصہ پر جو حافظہ کا مقام ہے‘ تری سردی کا غلبہ ہوتا ہے جو حافظہ میں محفوظ چیزوں کی حفاظت نہیں کر سکتی کیونکہ ہر چیز کی حفاظت صرف خشکی سے ہوتی ہے۔

2- نسیان کی دوسری قسم:

ماضی یاد رہنا اور حال بھول جانا، عضلاتی اعصابی تحریک میں ہوتا ہے۔ اس کی قوتِ حافظہ میں خرابی کا سبب سر کے پچھلے حصے میں سرد خشکی کا غلبہ ہوتا ہے جو کہ دماغ کے مزاج کے خلاف ہے۔ دماغ تر سرد اور نرم بنایا گیا ہے کہ اس میں نئی چیزوں کے نقوش بآسانی نقش ہو سکیں لیکن سردی خشکی سے کثافت ہو کر اس راستے میں روح کی حرکت سست ہو جاتی ہے یعنی دماغ کو تازہ آکسیجن کی فراہمی میں کمی آ جاتی ہے جس سے نسیان طاری ہونے لگتا ہے۔

متعلقہ بیماریاں

بھولنے کی بیماری (ایمنیشیا): وجوہات، علامات اور علاج