Menu
تعلیمی7 منٹ پڑھائی

امراضِ اطفال

امراضِ اطفال میں زکام، بخار، یرقان، کھانسی، نمونیا، دانت نکلنے کے مسائل، خسرہ، کن پیڑے، لاکڑا کاکڑا اور ہاضمے کی مختلف خرابیاں شامل ہیں۔ یہ بیماریاں بچوں کی صحت، نشوونما اور روزمرہ زندگی کو متاثر کر سکتی ہیں، اس لیے بروقت توجہ اور مناسب نگہداشت ضروری ہے۔

امراضِ اطفال

امراضِ اطفال میں درج ذیل امراض آتے ہیں:

زکام

دماغ کی رطوبات بذریعہ ناک بہتی رہتی ہیں یا رطوبات ناک کے قریب پڑی رہتی ہیں جسے بار بار صاف کرنا پڑتا ہے۔

اسباب: سرد آب و ہوا، ماں کا ٹھنڈی اشیاء استعمال کرنا۔

بخار

بعض اوقات بچے کو سردی کی وجہ سے بخار ہو جاتا ہے۔ ناک سے پانی بہتا ہے ہاتھ پاؤں سردی سے کانپتے ہیں، پیشاب سفید، ضعف ہضم یا اسہال کی شکایت بھی ہو جاتی ہے۔

اسباب: سرد آب و ہوا، ماں کا ٹھنڈی چیزیں کھانا، ماں کو بخار ہونا۔

نومولود کا یرقان

بعض اوقات یہ مرض ننھے بچوں پر حملہ آور ہو جاتا ہے جس سے ان کا جگر خراب ہو جاتا ہے۔ بخار، قبض، آنکھیں اور پیشاب کا رنگ زرد اور اجابت کا رنگ مٹیالا ہو جاتا ہے۔

اسباب: ماں کا گرم خشک ادویات وغیرہ کا استعمال، والدین سے مرض منتقل ہونا۔

دودھ الٹنا

بچوں کا مزاج چونکہ اعصابی ہوتا ہے اس لئے ان کے معدہ میں رطوبات کی کثرت اور حرارت کی کمی ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ بار بار بغیر پھٹکی کے دودھ الٹ دیتے ہیں۔

اسباب: تر سرد آب و ہوا، سرد اشیاء کا کثرت استعمال، ضعفِ ہضم، دودھ پلانے کے بعد بچے کو ڈکار نہ دلانا۔

پولیو مائی لائیٹس

یہ مرض زیادہ تر دو یا تین برس کے بچوں کو ہوتا ہے۔ پہلے بچہ کو بخار ہوتا ہے جس میں بچہ بے چین یا بیمار معلوم ہوتا ہے 24 تا 36 گھنٹے کے بعد فالج کے اثرات ظاہر ہوتے ہیں اور یہ فالج زیادہ تر بائیں ٹانگ اور کبھی دائیں ٹانگ پر منفی اثرات دیتا ہے کہ وہ سوکھ کر کمزور ہو جاتے ہیں۔ بچہ سیدھا نہیں چل سکتا بلکہ ایک طرف جھک کر چلتا ہے۔

اسباب: تر گرم اشیاء کا کثرت استعمال۔

دانت نکالنا

چھ سات ماہ کی عمر میں بچے دانت نکالنے لگتے ہیں۔ اس وجہ سے رال بہنے لگتی ہے۔ سر اور کنپٹیوں میں درد ہونے کی وجہ سے وہ بار بار سر دھنتا ہے۔ خفیف بخار اور پیاس لگتی ہے۔ بچہ بمشکل دودھ پیتا ہے۔ اگر بروقت احتیاط نہ کی جائے تو بچہ کمزور اور لاغر ہو جاتا ہے۔

اسباب: غذا میں کمی، ضعفِ ہضم، اسہال۔

کھانسی

کبھی بچے کو شدید کھانسی کا مرض لاحق ہوتا ہے۔ چہرہ خشک اور قبض کی شکایت پیدا ہوتی ہے۔

اسباب: سرد خشک چیزوں کا کثرت استعمال۔

دق الاطفال (سوکڑا)

یہ ننھے بچوں کا مرض ہے اس میں عموماً بچوں کو موشن لگ جاتے ہیں جس کی وجہ سے بچہ سوکھ کر نہایت دبلا ہو جاتا ہے۔ کبھی دست تو نہیں لگتے لیکن بدن کمزور ہو جاتا ہے۔ خون کی کمی، جلد بے رونق، بال کمزور اور ان کا رنگ پھیکا اور چہرے پر جھریاں آ جاتی ہیں اور کانوں کی لو دبائیں تو درد نہیں ہوتا۔

اسباب: بدہضمی، مٹی کھانا، قلتِ غذا۔

مٹی کھانا

بعض ننھے بچوں کو مٹی کھانے کی عادت پڑ جاتی ہے۔ اگر مٹی میسر نہ ہو تو کوئلے یا سنگریزے وغیرہ منہ میں ڈال لیتے ہیں۔

اسباب: غیر متوازن غذا، کیلشیم کی کمی۔

بول فی الفراش

(بستر پر پیشاب نکل جانا)

بعض بچے نیند کی حالت میں بستر پر پیشاب کر دیتے ہیں۔ مثانہ کے عضلہ میں کمزوری واقع ہونے سے یہ ڈھیلا پڑ جاتا ہے تو پیشاب پر کنٹرول کرنا اس کے بس میں نہیں رہتا۔ بچوں میں چونکہ رطوبات کی کثرت ہوتی ہے اس لئے وہ نیند کی حالت میں بستر پر پیشاب کر دیتے ہیں۔ بچیوں کی نسبت بچے اس مرض کا شکار زیادہ ہوتے ہیں۔

اسباب: تر سرد اشیاء کا کثرت استعمال، تر سرد ماحول۔

پیچش

بعض بچوں کو سبز یا پیلے پیچش اور مروڑ لگ جاتے ہیں۔ کھائی ہوئی غذا صحیح ہضم نہیں ہوتی اور جسم کمزور ہو جاتا ہے۔

اسباب: گرم خشک اشیاء کا کثرت استعمال۔

پیٹ درد

پیٹ میں تبخیر اور ریاح ٹھہر جانے سے بچہ تکلیف سے بے تاب ہو جاتا ہے۔ زور زور سے چیختا اور روتا ہے۔ جسم کو حرکت دے دے کر اسے خارج کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن خارج نہیں کر پاتا تو مسلسل روتا رہتا ہے۔

اسباب: دودھ پلا کر ڈکار نہ دلانا، سرد خشک اور نفاخ چیزوں کا استعمال۔

تپ محرقہ (ٹائی فائیڈ)

یہ بخار بچے کو بہت تیزی سے ہوتا ہے اور سارا جسم حرارت سے گرم ہو جاتا ہے۔ اس کی حرارت واضح محسوس ہوتی ہے۔

اسباب: گرم خشک اشیاء کا کثرت استعمال، گرم آب و ہوا‌۔

نمونیا

بعض کمزور بچے سردی سے بہت متاثر ہو جاتے ہیں تو انہیں نزلہ اور کھانسی جیسی شکایات پیدا ہوتی ہیں۔ پھیپھڑے کمزور ہونے کی وجہ سے وہ اس مرض کا شکار ہوتے ہیں۔ کھانسی خشک، بلغم کم اور بار بار آتی ہے۔ بخار ہو جاتا ہے اور بچہ بہت کمزور ہو جاتا ہے۔

اسباب:

سردی لگنا، بادی اور سرد خشک اشیاء کا کثرت استعمال، سرد موسم و آب و ہوا۔

سرخ بادہ

شیر خوار بچوں کو گرمی اور برسات کے موسم میں یہ مرض لاحق ہوتا ہے۔ اس میں بچے کے جسم پر سرخ نشان پڑ جاتے ہیں اور ورم ہو کر مقامِ ورم کا حجم بڑھ جاتا ہے۔ جب اس ورم کو انگلی سے دبائیں تو اس کی سرخی دور ہو جاتی ہے۔ جب انگلی اٹھا لیں تو سرخی بدستور رہتی ہے۔ اس میں درد کم لیکن سوزش اور تشنگی زیادہ ہوتی ہے۔ یہ شکایت رخساروں پر زیادہ ہوتی ہے۔ بعض دفعہ سرخ دانے نکل آتے ہیں اور پھر ان میں پیپ پڑ جاتی ہے۔

اسباب: ماں کے خون کی خرابی، دھوپ میں چلنا پھرنا، آگ کے قریب کام کرنا، گرم آب و ہوا‌۔

خشرہ

پہلے زکام ہوتا ہے پھر لرزے سے بخار ہو جاتا ہے۔ بخار شدید نہیں ہوتا۔ بار بار چھینکیں آتی ہیں اور ناک سے پانی بہتا ہے۔ اس طرح بار بار کھانسنے سے آواز بیٹھ جاتی ہے۔ چوتھے پانچویں روز خشخاش کے دانوں جیسے چھوٹے چھوٹے دانے نکل آتے ہیں۔ یہ دانے پہلے پیشانی پھر تمام بدن پر پھیل جاتے ہیں۔ اس مرض کی مدت عموماً چودہ روز ہوتی ہے۔

اسباب: تر گرم اشیاء کا کثرت استعمال، میزل وائرس کا حملہ۔

چیچک

اس مرض کی ابتداء میں آنسو بہتے ہیں۔ آنکھوں میں سرخی اور ناک میں خارش ہوتی ہے۔ سر اور گلے میں درد ہوتا ہے، کھانسی آتی ہے حتیٰ کہ آواز بیٹھ جاتی ہے۔ پھر ان علامات کے ساتھ اچانک بخار ہو جاتا ہے۔ اس کے 48 گھنٹے بعد پیشانی پر چھوٹے چھوٹے دانے نمودار ہوتے ہیں اس مرض میں بخار 101°F تا 105°F ہوتا ہے اور تمام جسم پر دانے نکل آتے ہیں۔ تین چار دنوں کے بعد ان دانوں میں پانی پڑ جاتا ہے اور مریض سے بدبو آتی ہے۔ صحیح علاج سے مریض دو ہفتوں تک ٹھیک ہو جاتا ہے۔

اسباب: فسادِ خون، ویریولا وائرس کی انفیکشن۔

کن پیڑے

اس مرض میں کان کی لو کے سامنے اور نیچے کا تھوک پیدا کرنے والے غدود متورم ہو جاتے ہیں۔ کانوں کے پیچھے گلٹیاں واضح نظر آتی ہیں جو پھول کر گردن کو ڈھانپ دیتی ہیں۔ اگر ان میں درد محسوس نہ ہو تو یہ مرض کی ابتدائی حالت ہے اور اگر درد شروع ہو گیا ہو تو یہ کسی زہر کا اثر ہوتا ہے۔ کھانا کھانے میں تکلیف ہوتی ہے۔ تنفس سے بدبو آتی ہے۔ زبان میلی، سر میں درد اور کبھی ناک سے خون بھی آ جاتا ہے۔ بخار ہو جاتا ہے جو عموماً چار تا چھ ایام تک رہتا ہے۔

ورم تقریباً دس دنوں میں کم ہو جاتا ہے۔ اس ورم کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ اس سے زبان حرکت نہیں کرتی۔

بعض اوقات ٹھوڑی کے نیچے غدود متورم ہو جاتے ہیں جس سے کوئی چیز بھی نگلنا مشکل ہو جاتی ہے۔

تقریباً پچیس فیصد بچوں میں بیماری کے اثرات فوطوں پر ظاہر ہوتے ہیں اور وہاں درد کے ساتھ ورم آ جاتا ہے۔ اس کیفیت میں سپرم مردہ ہو جانے سے بچے میں اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔

اسباب: متعفن ماحول، ردی غذا، پیرامکسو وائرس کی انفیکشن۔

لاکڑا کاکڑا (Chiken Pox)

مرض کی ابتداء میں معمولی بخار ہوتا ہے، سردی لگتی ہے۔ 24 گھنٹے بعد چھاتی، پشت پھر آہستہ آہستہ چہرہ اور سارے بدن پر آبلہ نما دانے نکل آتے ہیں جس سے بڑی بے چینی ہوتی ہے۔ ان دانوں میں سفید رطوبت پھر پیپ بن جاتی ہے بالآخر خشک ہو کر کھرنڈ بن کر اتر جاتے ہیں۔ تمام دانے یکدم نہیں نکلتے۔

اسباب: ناقص غذا، موسمی تغیرات، ویری سیلا زوسٹر وائرس کی انفیکشن۔

متعلقہ بیماریاں

امراضِ اطفال: بچوں کی عام بیماریاں، علامات، اسباب اور صحت کی رہنمائی