Menu
تعلیمی7 منٹ پڑھائی

جوڑوں کی بیماریاں

جوڑوں کی بیماریوں میں وجع المفاصل، گنٹھیا، نقرس، عرق النساء، کمر درد، تشنج و کزاز اور ریڑھ کی ہڈی کے امراض شامل ہیں۔ یہ بیماریاں درد، سوجن، اکڑاؤ، حرکت میں دشواری اور جسمانی کمزوری کا باعث بن سکتی ہیں، جس سے روزمرہ زندگی اور صحت متاثر ہوتی ہے۔

جوڑوں کی بیماریاں

جوڑوں کی مختلف بیماریاں ہیں:

وجع المفاصل

بلغمی اشیاء کی کثرت سے رطوباتِ بلغمیہ پیدا ہو کر جوڑوں میں رک جاتی ہیں۔ اس طرح رطوبات کے اجتماع سے رباطات کمزور ہو کر جوڑوں کی حرکات کو کم کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے جوڑوں کے مقام پر مستقل درد رہنے لگتا ہے۔ اٹھتے بیٹھتے معمولی درد محسوس ہوتا ہے۔ زیادہ حرکت کرنے سے درد کم ہو جاتا ہے۔ اس قسم کے جوڑوں کے امراض میں سوجن نہیں ہوتی اور نہ ہی کڑکڑاہٹ کی آوازیں آتی ہیں۔ جسم عموماً سرد ہو جاتا ہے۔

اسباب: تر گرم اشیاء کا کثرتِ استعمال، ناقص غذا۔

تحجر المفاصل

شدید سردی کی وجہ سے رطوبات جم جاتی ہیں جس سے جوڑوں کی کریاں اور جھلیاں ناقص ہو جاتی ہیں اور جوڑ کھڑکھڑانے لگتے ہیں۔ کبھی مرض کی شدت کی وجہ سے بخار ہو جاتا ہے لیکن پسینہ نہیں آتا۔ اعضاء آپس میں جڑ جاتے ہیں اور پتھرا جاتے ہیں۔ کبھی ان کے پٹھے کھنچ جاتے ہیں اور ہاتھ پاؤں کی انگلیاں مڑ جاتی ہیں۔ یا ایک دوسری پر چڑھ جاتی ہیں۔

اسباب: سرد موسم، سرد اشیاء کا کثرتِ استعمال۔

گنٹھیا

اسٹریپ جراثیم جب حملہ آور ہوتے ہیں تو جسم دفاع کے لئے A.S.O.T پیدا کرتا ہے جس سے مرض آگے نہیں بڑھتا۔ سوزش صرف حلق تک محدود رہتی ہے لیکن جب یہ جراثیم بار بار حملہ آور ہوتے ہیں تو اس وقت یہ مرض بڑھ کر جوڑوں میں سوجن، حلق میں درد اور دل میں سوزش پیدا کر دیتا ہے۔ اس طرح اس مرض کی ابتداء ہو جاتی ہے۔ پھر گھبراہٹ، بے چینی، سینہ میں درد، سانس میں تکلیف، وزن میں کمی، دل کی آوازوں میں تبدیلی، دل کے والو (صمام) میں سکیڑ اور بندش جیسے عوارض لاحق ہوتے ہیں۔ عام طور پر مریض جب کوئی کام کرتا ہے تو ہاتھ سے چیز چھوٹ جاتی ہے اور کبھی رعشہ ہو جاتا ہے۔ کبھی زیرِ جلد گلٹیاں بن جاتی ہیں۔ چہرے کی کیفیت کسی کو منہ چڑانے کی سی ہوتی ہے۔ چال میں لغزش اور جلد پر سرخ دھبے آ جاتے ہیں۔ C.B.C ٹیسٹ کرانے پر HB اور RBC کم اور WBC زیادہ ہو جاتے ہیں۔ E.S.R بڑھ جاتا ہے اور A.S.O.T ظاہر ہو جاتا ہے۔

A.S.O.T اینٹی سٹریپٹو لائی سین اوٹائٹر:

یہ ٹیسٹ گٹھیا، گلومیرولونیفرائٹس، اینڈوکارڈائیٹس اور اسکارلٹ فیور میں بڑھ جاتا ہے۔

E.S.R:

7 تا 15 نارمل ہوتا ہے لیکن اس مرض میں 40 سے اوپر اوپر 60، 70، 80، 90، 100، 110 اور 120 سے بھی بڑھ جاتا ہے۔

R.A Factor:

یہ اکثر موروثی طور پر جینز سے ہوتا ہے۔ ریوماٹائیڈ آرتھرائیٹس میں مبتلا لوگوں کا خون مائیکروگلوبولن ٹائپ اینٹی باڈی پر مشتمل ہوتا ہے جسے آر۔اے فیکٹر کہتے ہیں جن لوگوں میں یہ پازیٹو ہوتا ہے ان میں یہ بہت تباہ کن تبدیلیوں کا باعث بنتا ہے۔

جوڑوں میں شدید درد، سختی اور حرکت کرنے کے قابل نہیں رہتا ہے۔ یہ صورت چھ ہفتے تک لمبی ہو سکتی ہے۔ جونہی حرکت کرے گا مریض درد سے بے حال ہو جائے گا اور ان جوڑوں پر سوجن اور ساتھ ساتھ بخار ہو جاتا ہے اور زیرِ جلد گانٹھیں بن جاتی ہیں اور ان مریضوں کا ایکسرے کروانے سے ان میں سمیت کا اشارہ ملتا ہے۔

Decalcification ہوتی ہے اور عام طور پر اس کے ساتھ ساتھ یہ امراض بھی ہونے کا خطرہ رہتا ہے:

1. S.L.E (Lupus Erythematosus)

2. اینڈوکارڈائیٹس

3. ٹیوبرکلوسس

4. آتشک

5. کینسر

6. وائرل انفیکشن وغیرہ

کبھی ان مریضوں کا یورک ایسڈ بھی بڑھا ہوا ہوتا ہے۔ اس وقت ان کے جگر اور گردے بھی متاثر ہو رہے ہوتے ہیں۔

نقرس (یورک ایسڈ کی زیادتی)

یورک ایسڈ ایک قلمی تیزاب "Crystalizable Acid" ہے جو طبعی طور پر خون اور پیشاب میں موجود ہوتا ہے۔ یہ دراصل نیوکلیک ایسڈ میٹابولزم (Nucleic Acid Metabolism) کا End Point ہے جو عموماً جسم میں موجود نیوکلیک ایسڈ (Nucleic Acid) کے ٹوٹنے پھوٹنے سے وجود میں آتا ہے اور اس میں تقریباً mg 300 صرف غذا سے حاصل ہوتا ہے۔ یورک ایسڈ پانی میں حل نہیں ہوتا البتہ الکلائن نمکیات میں بآسانی حل ہو جاتا ہے اور اس کی مناسب مقدار خواتین میں 5.5 ملی گرام فیصد اور مردوں میں 7 ملی گرام فیصد ہے۔

اگر خون میں یورک ایسڈ اس سے بڑھ جائے تو Hyperurecemia کہتے ہیں۔ اس حالت میں یورک ایسڈ جوڑوں میں یوریٹس کی صورت میں اکٹھا ہونے لگتا ہے اور بعض اوقات کرسٹل کی شکل میں جوڑ کی اندرونی سطح پر نمودار ہوتا ہے اور مونو سوڈیم یوریٹ کرسٹل کی وجہ سے جوڑوں میں درد، سوزش اور ورم ہو جاتا ہے۔ اس بیماری کو طبِ یونانی میں نقرس اور طبِ جدید میں Gout کہتے ہیں۔

اس کی علامات کا ظہور اکثر مریض کے ٹخنے، ایڑی، پاؤں کے انگوٹھے اور انگلیوں کے قرب و جوار سے ہوتا ہے جو آہستہ آہستہ تمام جوڑوں کو متاثر کرنے لگتا ہے۔ جوڑ متورم اور سوجنے لگتے ہیں۔ درد کی زیادتی سے چلنا پھرنا حتیٰ کہ اٹھنا بیٹھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ جوڑوں میں یورک ایسڈ کے کرسٹل رکنے سے ان کی قدرتی حرکت متاثر ہو جاتی ہے۔ مقامِ ورم پر جلد نیلی اور تنی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ مریض لڑکھڑا کر چلتا ہے۔ خون میں تیزابیت کے بڑھ جانے سے نیند کم ہو جاتی ہے۔ نظامِ ہضم خراب، سر بوجھل، بسا اوقات فشار الدم قوی ہونے سے چکر آتے ہیں اور حلق کی تکالیف ہو جاتی ہیں۔

گردوں میں سوزش ہونے سے ان کے فلٹر کثیف مواد جذب کرنے سے عاجز آ جاتے ہیں۔ اس لئے پیشاب کم، قوام غلیظ، رنگ گہرا گدلا اور شدید تیزابی ہوتا ہے۔ یہ عارضہ اکثر تیس سال سے زائد عمر کے لوگوں میں نوٹ کیا گیا ہے۔ اگر اس کا صحیح تدارک نہ کیا جائے تو مریض کے گردوں میں یورک ایسڈ کی پتھری بن جاتی ہے جو انتہائی اذیت کے ساتھ جسم سے خارج ہوتی ہے۔

اسباب:

جسم میں یورک ایسڈ بڑھنے کے دو بڑے عوامل ہیں:

1. ایسی خوراک کا استعمال جس میں یورک ایسڈ زیادہ ہوتا ہے مثلاً گوشت وغیرہ۔

2. گردے میں سوزش اور سکیڑ کی صورت میں یورک ایسڈ کا مناسب اخراج نہ ہونا۔

یورک ایسڈ ان حالتوں میں بڑھ جاتا ہے:

1. نقرس (Gout)

2. گردوں کی خرابی

3. بلڈ کینسر

4. خون کے سرخ جسیموں کا بڑھنا

5. Toxaemia of Pregnancy

6. خون میں کیلشیم کی زیادتی

7. چنبل

8. بواسیر

9. شراب کی لعنت

10. Regolving Pneumonia

اسباب: خشک گرم اشیاء کا کثرتِ استعمال۔

عرق النساء (شیاٹیکا)

یہ درد کولہے سے شروع ہو کر پوری ٹانگ میں چلا جاتا ہے۔ جب یہ مرض بڑھتا ہے تو ٹانگ، پاؤں، پاؤں کی انگلیاں اور ایڑیاں تمام حصے اذیت محسوس کرتے ہیں۔

اسباب: گردوں میں نقص، خشک یا تری والی اشیاء کا کثرتِ استعمال۔

وجع القطن (کمر درد)

کمر درد نہایت پریشان کن مرض ہے۔ اس مرض میں مبتلا حضرات بہت تکلیف میں ہوتے ہیں۔ چلنا پھرنا، اٹھنا بیٹھنا محال ہو جاتا ہے۔ کوئی کام کرنے کو دل نہیں چاہتا۔ اگر کچھ کر لیا جائے تو سخت تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور مریض تھک کر کمر پر ہاتھ رکھ لیتا ہے۔

اسباب: کثرتِ مباشرت، جریان، احتلام، لیکوریا، بلڈ پریشر لو، ٹی بی، خون کی کمی، شوگر، نفسیاتی دردیں۔

تشنج و کزاز

اس مرض میں جسم کے تمام اختیاری عضلات متشنج ہو جاتے ہیں اور جسم اکڑ کر تیر کی طرح سیدھا یا کمان کی طرح خمیدہ ہو جاتا ہے۔

مرض کی ابتداء میں گردن کے عضلات میں سختی یا کڑاؤ پھر منہ اور چہرے کے عضلات میں تشنج ہونے لگتا ہے۔ کبھی منہ بند ہو جاتا ہے اور کھلتا نہیں۔ مریض کو نیند نہیں آتی۔

اسباب: سمیات مثلاً کچلا وغیرہ کا اثر، ٹیٹنس کے جراثیم (کلاسٹریڈیم ٹیٹ نی) کا حملہ جو عموماً سڑک پر گرنے سے گھوڑے یا گدھے کی لید پر سے حملہ آور ہوتے ہیں۔

حدبہ (مہرے ہل جانا)

پشت کے مہرے اپنی جگہ سے اکھڑ جانے کو حدبہ کہتے ہیں۔ اگر ان کا میلان آگے کی طرف ہو تو انہیں حدبہ مقدم اگر پیچھے کی طرف ہو تو حدبہ مؤخر کہتے ہیں۔

اس حالت میں ریڑھ کے اوپر جھلی میں سوزش ہو جاتی ہے جس سے ہڈیوں میں چونے کے اجزاء مکمل جذب نہیں ہوتے تو عضلات میں تحلیل ہو جاتی ہے۔ اس کی صحیح تشخیص ایکسرے اور M.R.I سے ہوتی ہے۔

اسباب: گرم اور خشک اشیاء کا کثرتِ استعمال۔

متعلقہ بیماریاں

جوڑوں کی بیماریاں :گنٹھیا، نقرس، جوڑوں کے درد اور علامات کی مکمل رہنمائی