امراضِ خون
خون کے مختلف امراض ہیں:
قلت الدم / انیمیا
خون میں ہیموگلوبن مقررہ مقدار سے کم ہونے کو انیمیا کہتے ہیں۔ پیدائش کے وقت بچے کے خون میں ہیموگلوبن 20 گرام فی لیٹر ہوتی ہے لیکن عمر کے ساتھ ساتھ یہ کم ہوتی جاتی ہے۔ جوانی میں 14 فی لیٹر رہ جاتی ہے جبکہ عورتوں میں اس کی مقدار 12 گرام فی لیٹر ہوتی ہے۔ جب اس مقدار سے ہیموگلوبن کم ہو تو انیمیا کی شکایت ہو جاتی ہے اور یہ علامات ظاہر ہو جاتی ہیں:
کمزوری، تھکاوٹ، جلد کا رنگ پھیکا، بے چینی اور کام میں عدم دلچسپی، نظر کی کمزوری، نیند کی کمی، سر درد، سانس پھولنا، کانوں میں بوجھ اور آوازیں سنائی دینا، ٹانگوں پر ورم، منہ پک جاتا ہے، زبان سرخ اور متورم ہو جاتی ہے، ناخن کمزور ہو کر ٹوٹنے لگتے ہیں، خوراک نگلنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ مریض بالخصوص بچے مٹی وغیرہ شوق سے کھاتے ہیں۔ سرخ ذرات کی کمی سے خون پتلا ہو جاتا ہے۔ شریانوں کی دیواریں نازک ہو جاتی ہیں اور پھٹ کر جسم کے کسی مخرج سے خون جاری ہو جاتا ہے۔ لیبارٹری ٹیسٹ میں H.B 14 سے کم اور فیری ٹن کی مقدار 30 مائیکرو گرام سے کم ہو جاتی ہے۔ خون میں موجود سرخ خلیات کا M.C.V کم ہو جاتا ہے۔
اسباب: سمیات، اجسام خبیثہ کا حملہ، امراض جگر۔
لیوکیمیا (دم ابیض لمفاوی)
گردن، بغل، کنجِ ران کے غدود متورم ہو جاتے ہیں جیسے بند پھوڑے یا گلٹھیاں محسوس ہوتی ہیں۔ جبڑے کے نیچے دونوں گلٹھیاں پھول جاتی ہیں۔ بائیں طرف پسلی کے نیچے درد محسوس ہوتا ہے۔ عظمِ طحال کی وجہ سے خون میں سفید ذرات کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔ تھوک، رال بے انتہاء خارج ہوتی ہے۔ پورا جسم نڈھال اور کھجلاتا ہے۔ یورن ٹیسٹ میں البیومن آتا ہے۔ بھوک بند، متلی، قے ہوتی ہے۔ دانتوں میں ڈھیلا پن، غذا چبانا مشکل ہو جاتا ہے۔ مریض کی زبان پر سفید تہہ ہو گی۔ طحال و کبد پھول جاتے ہیں۔ کھانسی اور اسہال ہوتے ہیں اور بخار آہستہ آہستہ 104 درجہ چلا جاتا ہے۔
لیوکیمیا کی چار اقسام ہیں:
کرانک مئیلو جینس لیوکیمیا
کرانک لمفوسائی ٹک لیوکیمیا
اکیوٹ لیوکیمیا
ہیری سیل لیوکیمیا
1- کرانک مائیلو جینس لیوکیمیا:
بون میرو میں مائی لائیڈ سیلز زیادہ پیدا ہونے سے ہوتی ہے جس کی وجہ سے خون میں سفید سیلز کی تعداد بہت بڑھ جاتی ہے اور ان میں مائیلو بلاسٹس سیلز کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔
اس کے ہونے کی بڑی وجہ ایک غیر نارمل کروموسوم جسے فلاڈلفیا کروموسوم کہتے ہیں۔
علامات:
یہ زیادہ تر چالیس سال کے بعد کی عمر میں ہوتا ہے۔
تھکن، کمزوری، بخار، رات کو پسینہ آنا، تلی پھول جانا، بائیں طرف پسلی اور پیٹ میں درد، سانس میں دشواری، آنکھ کے سامنے اندھیرا آنا۔
تشخیص:
بلڈ ٹیسٹ میں سفید سیلز کی تعداد خون میں بڑھ کر ڈیڑھ سے پانچ لاکھ تک ہو جاتی ہے۔ خون میں بلاسڑ سیلز بھی ہوتے ہیں۔ پلیٹ لیٹس کی تعداد نارمل یا بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ بیماری بہت بڑھ جائے تو پلیٹ لیٹس کم ہو جاتے ہیں۔ بون میرو ٹیسٹ میں مائیلو بلاسڑ سیلز %7 سے کم ہوتے ہیں اور سفید سیلز کے الکلائن فاسفیٹز کی مقدار کم ہوتی ہے۔ فلاڈلفیا کروموسوم موجود ہوتے ہیں۔ 4 تا 5 سال تک صحیح علاج نہ ہو سکے تو مریض Blascrises میں چلا جاتا ہے جس کے بعد وہ صرف چند ماہ زندہ رہ سکتا ہے۔
2- کرانک لمفوسائی ٹک لیوکیمیا:
یہ مرض عموماََ پچاس سال کے بعد ہوتی ہے۔ اس میں بون میرو صحیح کام نہیں کرتا جس کی وجہ سے قوتِ مدافعت میں خرابی واقع ہو جاتی ہے اور جسم کے کئی اعضاء میں لمفوسائیٹس زیادہ مقدار میں داخل ہو کر براہِ راست نقصان پہنچاتے ہیں۔
علامات:
تھکاوٹ، کمزوری، عظمِ طحال کی وجہ سے درد، جسم کے مختلف حصوں کے غدود پھولنا، قلتِ الدم۔
تشخیص:
بلڈ ٹیسٹ میں لمفوسائیٹ سائز میں چھوٹے ہو جاتے ہیں مگر تعداد میں %40 سے (نارمل شرح سے) بڑھ کر %75-97 تک ہو جاتے ہیں۔ بلڈ میں گاما گلوبیولن کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔
لمف نوڈز سے بائیوپسی سے یقین ہو جاتا ہے۔ اگر لمف نوڈز بہت زیادہ بڑھ جائیں تو پلیٹ لیٹس کی تعداد بہت کم رہ جاتی ہے۔ یہ مرض صحیح علاج نہ ہو تو مریض 6 تا 10 سال تک زندہ رہ سکتے ہیں۔
3- ہیری سیل لیوکیمیا:
یہ مرض عموماً پچاس سال سے زائد عمر کے لوگوں میں ہوتا ہے چونکہ اس لیوکیمیا میں بلڈ کی سلائیڈ پر ہیری سیل نظر آتے ہیں اس لئے اسے ہیری سیل لیوکیمیا کہتے ہیں۔
لیوکیمیا کی اس قسم میں پلیٹ لیٹس اور خون کے سفید ذرات کی کمی ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے قوتِ مدافعت ختم ہو جاتی ہے اور مریض کو بار بار انفیکشن ہوتا ہے۔
علامات:
تھکاوٹ، کمزوری، عظمِ طحال کی وجہ سے درد، جسم کے مختلف حصوں کے غدود پھولنا، قلتِ الدم۔
تشخیص:
بلڈ ٹیسٹ میں پلیٹ لیٹس اور سفید سیلز کی کمی ہو جاتی ہے۔ خون میں مونو سائیٹس کی تعداد نارمل سے کم ہوتی ہے۔ خون کی سلائیڈ پر ہیری سیلز نظر آتے ہیں۔ بون میرو کا ٹیپ ڈرائی ہو جاتا ہے۔
4- اکیوٹ لیوکیمیا:
اس قسم سے سب سے زیادہ لوگ متاثر ہوتے ہیں اور یہ ہر عمر کے افراد کو ہو سکتا ہے۔ اس کی دو اقسام ہیں:
i- اکیوٹ لمفو بلاسٹ:
یہ زیادہ تر 3-7 سال کے بچوں کو ہوتا ہے مگر بعض اوقات بڑوں میں بھی پایا جا سکتا ہے۔
ii- اکیوٹ مائیلو جینس:
یہ زیادہ تر پچاس سال کی عمر تک کے افراد کو ہوتا اور کبھی کبھار بچوں میں بھی پایا جاتا ہے۔
اس لیوکیمیا میں خون کے سب سیلز (Subcells) میں کمی واقع ہو جاتی ہے جبکہ بون میرو یا خون کے سیلز میں Blast Cells کی تعداد بہت بڑھ جاتی ہے جس کی وجہ سے جسم میں طرح طرح کی انفیکشن ہونے لگتی ہے اور مختلف اعضاء سے خون بہنے لگتا ہے۔
علامات:
بے انتہاء کمزوری، لاغری ہوتی ہے۔
جسم میں طرح طرح کی انفیکشن ہوتی ہے۔
زیر جلد نیلے نشان پڑنے لگتے ہیں۔ یہ زعر جلد بلیڈنگ ہے۔
منہ میں چھالے۔ اکثر جگر، تلی اور دوسرے لمف نوڈز کا سائز بڑھ جاتا ہے۔ ہڈیوں میں درد رہنے لگتا ہے۔ مریض کی رنگت زرد ہو جاتی ہے۔
تشخیص:
بلڈ ٹیسٹ میں W.B.C، R.B.C اور پلیٹ لیٹس کم ہو جاتے ہیں۔ بلاسٹ سیلز کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔ بون میرو میں %30 سے زیادہ بلاسٹ سیلز ہو جاتے ہیں۔ خون میں یورک ایسڈ بڑھ جاتا ہے۔
اسباب: بلغمی اشیاء کا کثرتِ استعمال، تر گرم یا تر سرد آب و ہوا، سوءِ ہضم، ضعفِ جگر۔
تھیلا سیمیا
ماں کے پیٹ میں بچہ اپنی تمام ضروریات ماں کے خون سے حاصل کرتا ہے۔ زندگی کے اس دور میں خون میں ہیموگلوبن کی منفرد قسم ہوتی ہے جس کے H.B.F کہتے ہیں۔ جب بچہ پیدا ہوتا ہے اور کھلی فضاء میں سانس لینے لگتا ہے تو اس کی H.B.F آہستہ آہستہ ختم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اس کی جگہ ایک دوسرا مادہ H.B.A آ جاتا ہے حتیٰ کہ دو سال کی عمر میں H.B.F صرف دو فیصد رہ جاتی ہے اور باقی سب H.B.A ہوتا ہے۔ اس عمل کو سوئچنگ (Switching) کہتے ہیں۔ اس کی تین صورتیں ہیں:
i- مکمل سوئچنگ:
اس میں H.B.F تقریباً مکمل ختم ہو جاتی ہے اور اس کی جگہ H.B.A لے لیتی ہے۔ یہ سب صحت مند انسانوں میں ہوتی ہے۔
ii۔ نامکمل سوئچنگ:
اس میں H.B.F ہی خون میں موجود رہتی ہے اور H.B.A پیدا نہیں ہوتی۔ یہ لوگ بھی نارمل زندگی بسر کرتے ہیں۔
iii۔ زیادہ سوئچنگ:
اس میں H.B.F بننا بند ہو جاتی ہے اور H.B.A نہیں بنتی یہی تھیلیسیمیا ہے۔ اگر ان بچوں کو چار تا چھ ہفتے تک خون نہ دیا جائے تو خون کی یہ کمی ہلاکت کا سبب بن سکتی ہے۔ اس مرض میں بچے کا جگر اور تلی بڑھ جاتی ہے اور ہڈیاں کمزور ہو جاتی ہیں۔
ماہیت مرض:
Thalassaemia یونانی زبان کا لفظ ہے۔ Thalassa کا معنی ہے ”سمندر“ اور Aemia کا معنی ”خون“ چونکہ یہ مرض بحیرہ روم Mainly Mediterreansea کے اطراف کے ممالک میں پھیلا تھا اسی وجہ سے اس کا نام تھیلیسیمیا رکھا گیا۔
اس کی دو اقسام ہیں:
مائنر (Minor)
میجر (Major)
1- مائنر (Minor):
مائنر کا عارضہ ایسے بچوں کو ہوتا ہے جن کے والدین یا دونوں میں سے کسی ایک کے میں تھیلیسیمیا کے جینز موجود ہوں۔ مائنر کے مریضوں میں روزانہ کے معمولات زندگی اتنے زیادہ متاثر نہیں ہوتے لیکن اس کے کچھ مریضوں خاص طور پر خواتین میں During Pregnancy خون کی قلت ہو سکتی ہے۔ کچھ ایسے Cases میں آئرن مکمل طور پر ممنوع ہوتا ہے۔ صرف Folic Acid کی ایک گولی روزانہ دی جا سکتی ہے۔
2- میجر (Major):
یہ مرض کی شدید ترین قسم ہے۔ یہ عموماً ایسے بچوں کو ہوتی ہے جن کے ماں اور باپ دونوں میں تھیلیسیمیا مرض کے جینز موجود ہوں۔ ان مریضوں کی زندگی عطیہ خون پر منحصر ہے۔ اس زندگی کے حصے میں ان میں یہ علامات ظاہر ہوتی ہیں:
1- Breath Lessness
2- Pallorness
3- Fatigue
4- There may alse be Jaundice
5- Leg Ulcer
6- عظم کبد و طحال
7- حصاة المرارہ
8- Groth Trap, Anorexia Peevishness
9- Dehydration Due to Loose Motion
10- Anaemic State
11- Thikness of Skull Bones
12- Oesteoporosis, Fracture of long Weight Bearing Bones Easily
13- A Brown Pigmentation is seen arround the eyes at the root of hairs on the back of hands in other places
14- The venous net work on the skin of head is very pronounced
15- Dyspnoea from slight muscular exertion
16- The life span of erythrocytes in circulating blood is very short
17- Increase billirubin level in blood
18- Urobilin in urine
19- Due to iron load damage of the heart's muscles
20- Heart failure
ان مریضوں کے پیٹ میں میں کیڑے نہ ہونے دیئے جائیں ورنہ قلتِ الدم شدید ہو جاتا ہے۔
تھیلیسیمیا میجر کے مریض کے H.B پر خصوصی توجہ رکھی جاتی ہے۔ ان کا H.B 9g/dl سے کم نہیں ہونا چاہئے جیسے ہی H.B اس مقدار سے کم ہونے لگے تو فوری طور پر Blood Transfusion Arrange کرنا چاہئے۔ اس طرح سے بچوں کی نشوونما جاری رہتی ہے اور ان کی تلی بڑھنے کے امکانات کم سے کم ہو جاتے ہیں۔
اگر ان مریضوں کا 6-7/dl H.B تک کم ہو جائے تو ان کی صحت کے لئے انتہائی نقصان دہ ہوتا ہے۔ کوشش یہی ہونی چاہئے کہ 10 H.B گرام سے نیچے کسی صورت میں نہ جائے ورنہ خون کی کمی کے ساتھ بچے کا رنگ پھیکا ہو جاتا ہے اور تلی کی جسامت بھی بڑھ جاتی ہے۔
تھیلیسیمیا میجر کے کسی بھی مریض کو 250 cc of Packed Red Cells کی ضرورت ہوتی ہے اسی کلئے کو سامنے رکھتے ہوئے H.B کی سطح کو 8 to 13g/dl تک پہنچانے کے لئے 250 cc of pached Red Cells کی ضرورت ہوگی جب بچے چھوٹے ہوں انہیں خون 20 ml of blood per kg of body weight کے حساب سے دیا جاتا ہے۔ عام طور پر 10 تا 12 کلوگرام کے بچے کو 250 ml کا پورا بیگ لگایا جاتا ہے۔
جب تھیلیسیمیا کے مریض بچے بڑے ہو جاتے ہیں تو پھر انہیں H.B کی مقدار بڑھانے کے لئے زیادہ خون کی ضرورت ہوتی ہے حتیٰ کہ 10 تا 15 سال کی عمر کے بڑے بچوں میں خون کے دو دو بیگ مہینے میں دو بار لگائے جاتے ہیں۔ گویا تھیلیسیمیا کے لفظی معنی کے اعتبار سے مریضوں کی زندگی کی بقاء کے لئے خون کا سمندر درکار ہوتا ہے۔
اگر بر وقت ان مریضوں کو خون نہ مل سکے تو عظمِ طحال و کبد ہو جاتے ہیں۔ Iron Load کی شکایت ہوتی ہے۔
تھیلیسیمیا کے مریضوں کو ہر ماہ خون کی ایک بوتل لگائی جاتی ہے جس میں تقریباً 200 ملی گرام Iron ہوتا ہے۔ ہر Blood Transfusion پر یہ فولاد ان مریضوں میں منتقل ہو کر جمع ہوتا رہتا ہے۔ یہ زائد فولاد جسے Ferritin کہتے ہیں، تھیلیسیمیا کے مریضوں کا جسم عام صحت مند جسم کی طرح اسے خارج کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اس عارضے کو آسان لفظوں میں Iron Load کہتے ہیں اور طبی اصطلاح میں Haemo Chromatosis یا Ridrosis یا Haemo کہتے ہیں۔
یہ فاضل فولاد ان مریضوں کے جسم میں بالخصوص Blood Reservoiring Organs مثلاً جگر، تلی، گردے اور سرخ ارادی عضلات میں جمع ہونے لگتا ہے اور Iron Load کے باعث یہ اہم Visceral Organs اپنے طبعی افعال انجام نہیں دے پاتے۔ Iron Load کے سب سے زیادہ خطرناک نقصانات قلب پر مرتب ہوتے ہیں۔ اوّل خون کی کمی کے باعث دل کی درمیانی عضلاتی تہہ میں Dystrophy ہونے لگتی ہے۔ دوّم Haemo Chromatosis کے باعث دل کے عضلات بُری طرح Damage ہو جاتے ہیں اور Cardia Failure کے باعث موت واقع ہو جاتی ہے۔
Iron Load ہونے کے باعث بچے کی نشوونما متاثر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اگر Haemo Chromatosis میں Pancrease کے Beta Cells متاثر ہونے لگے تو اس وجہ سے انسولین پیدا کرنے والے بیٹا خلیات کی Atrophy ہو جانے کے بعد Diabetic Mellitus کا عارضہ بھی ہو سکتا ہے۔
تھیلیسیمیا میجر کے مریضوں میں Blood Transfusion کے ساتھ ساتھ خون کے سرخ خلیات کی توڑ پھوڑ کے بعد سے ہی Iron Store ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ پیدائش کے پہلے ماہ سے لے کر دو سال کی عمر تک بچے کے جسم میں خاصا (Excess) Iron Store ہو جاتا ہے۔
اس زائد فولاد کی مقدار کا پتہ چلانے کے لئے ایک مخصوص Ferritin Test کروایا جاتا ہے۔ یہ ٹیسٹ Iron Load سے بچنے کے لئے ہر چھ ماہ بعد کرواتے ہیں۔ سیرم میں فیری ٹن کی نارمل مقدار 250mg/ml سے کم ہوتی ہے مگر یہ مقدار ان مریضوں کے جسم میں مسلسل بڑھتی چلی جاتی ہے۔ جب یہ مقدار 1000mg/ml سے زائد ہونے لگے ڈسفرال کا انجکشن استعمال کرائیں۔ اگر فیری ٹن کی مقدار 1000 سے 2000 تک پہنچ جائے تو ڈسفرال کی روزانہ مقدار 25 mg فی کلوگرام جسمانی وزن کے لحاظ سے دی جاتی ہے اور اگر یہ 3000 تک چلی جائے تو روزانہ ڈسفرال کی مقدار 35mg فی کلوگرام جسمانی وزن کے لحاظ سے دی جائے۔ اگر 3000 سے زائد ہو ڈسفرال روزانہ 45 mg فی کلوگرام جسمانی وزن کے لحاظ سے دی جائے۔
تھیلیسیمیا کی تشخیص کے لئے ٹیسٹ:
Haemoglobin Electophoresis
اسباب: سوداء کا بگڑ کر زہر بن جانا۔
ہیموفیلیا
ہیمو کا معنی “خون” اور فیلیا کا معنی “محبت” (یعنی خون سے محبت)۔
یہ ایک سنگین بیماری ہے جس میں خون جمنے (Coagulation) کی صلاحیت انتہائی کم ہو جاتی ہے۔
انجماد خون (Coagulation):
انجمادِ خون کے لئے کئی مادوں کی ضرورت ہوتی ہے جن میں چند ایک یہ ہیں:
1- Prothrombin
2- Thrombin
3- Thromboplastin
4- Fibrinogin
5- Calcium in Ionic Form
6- Vitamin-K
کیلشیم آئنز کی موجودگی میں Thromboplastin کے فعل کی وجہ سے Prothrombin میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد Thrombin پلازما کے حل پذیر Fibrinogen پر اثر کرتا ہے جس کی بدولت غیر حل پذیر فائبرین جنم لیتا ہے۔
Fibrin ایک مخصوص طرز کا جال ترتیب دیتا ہے جس میں خون کے خلیات باہم پھنس کر الجھ جاتے ہیں اور اس طرح خون کا لوتھڑا تشکیل پاتا ہے۔ فائبرین کے سکڑاؤ سے پلازما سے عاری فابریوجن نکلتا ہے جو خون کے Blood Serum کی تشکیل کرتا ہے۔ جب کسی جگہ سے خون جسم سے باہر نکل پڑے تو ایسی صورت میں زخمی ٹشو سے اور گھٹنے والے پلیٹ لیٹس سے Thromboplastin نکل پڑتا ہے جس کی وجہ سے انجمادِ خون کا عمل Process of Coagulation شروع ہو جاتا ہے۔
انجمادِ خون کو درج ذیل ایک کلیہ سے بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ اس کلیہ کو Cascade Hypothesis کہتے ہیں:
Prothrombin + Thromboplastin + Calcium Ions — Thrombin
Thrombin + Fibrinogen — Fibrin
سردی کی وجہ سے انجمادِ خون کا عمل سست پڑ جاتا ہے جبکہ گرمی کی حالتوں میں اس میں تیزی آ جاتی ہے۔ جسم کی ہموار اور چکنی سطحیں غیر جاندار نمکیات مثلاً میگنیشیم، سوڈیم سلفیٹ اور کیلشیم کے ساتھ جڑ جانے والے مادے مثلاََ Ethylenediamine Tetra Acetic Acid; E.D.T.A سے انجمادِ خون کا عمل سست پڑ جاتا ہے۔ سانپ کا زہر (Snake Venom)‘ ہیپارن اور Hirudin سے بھی انجمادِ خون کا عمل سست پڑ جاتا ہے۔
انجمادِ خون کا دورانیہ (Coagulation Time) انجمادِ خون کا اوسط طبعی دورانیہ 6 تا 17 منٹوں پر محیط ہوتا ہے۔
انجمادِ خون کے عاملین (Coagulation Factors):
انجمادِ خون کے لئے تکنیکی اعتبار سے جن مادوں کی ضرورت درکار ہوتی ہے، انہیں Factor کہا جاتا ہے۔ ان فیکٹرز کو رومن ہندسوں میں لکھا اور بولا جاتا ہے تاہم ہر ایک فیکٹر کا اپنا علیحدہ نام اور کام ہے جو کہ درج ذیل ہے:
i- Fibrinogen Factor
ii- Prothrombin Factor
iii- Tissue Factor
iv- Calcium Ions
v- یہ ایک غیر مستحکم لحمیاتی مادہ ہے جس کا سالماتی وزن 290000 ہے۔
vi- Accelerin یہ اب متروک ہو چکا ہے۔
vii- Proconuertin یا سیرم پروتھرومبین کنورژن ایکسیلیریٹر
viii- Anti Hemophilic Factor
ix- پلازما تھرومبین بلاسڑین کمپوننٹ یا کرسمس فیکٹر
x- Stuart Factor or Power Factor
xi- Plasma Thrombo Plastin Antecedent
xii- Hageman or Glass Factor
xiii- Fibrin Stabilizing Factor
ہیموفیلیا کی اقسام:
بنیادی طور پر اس کی دو بڑی اقسام ہیں:
ہیموفیلیا اے
ہیمو فیلیا بی
1- ہیموفیلیا اے:
ہیموفیلیا اے کو Classic Haemophilia اور Factor viii Deficiency Haemophilia بھی کہتے ہیں۔ یہ ایک ایسی بیماری ہے جو نوعیت کے اعتبار سے موروثی ہے جس میں خون جمانے والے فیکٹر viii کی کمی کی وجہ سے جریانِ خون ہو جاتا ہے بشرطیکہ مریضوں میں خون جمانے والا پروٹین viii مقدار کے حساب سے گھٹ جاتا ہے تاہم کچھ مریضوں میں اگرچہ اس کی مقدار کم نہیں ہوتی مگر ناقص ضرور ہوتی ہے۔
ہیموفیلیا ایک کروموسوم سے تعلق رکھنے والی مرض ہے جس کا اصولی طور پر مرد شکار ہوتے ہیں۔ شاذ و نادر حالتوں میں خواتین میں بھی ہوتا ہے۔
درجہ بندی
1۔ نرم درجہ:
جب انجمادِ خون میں شریک فیکٹر viii-c کی مقدار %5 ہو تو اسے ہیموفیلیا نرم تصور کیا جاتا ہے۔
2۔ معتدل:
جب انجمادِ خون میں شریک فیکٹر viii:viii-c کی مقدار %1.5 تک ہو تو درمیانئے درجے کا سمجھا جاتا ہے۔
3۔ شدید:
جب انجمادِ خون میں شریک فیکٹر viii:viii-c کی مقدار %1 سے کم ہو تو ہیموفیلیا کا شدید سمجھا جاتا ہے۔
ہیموفیلیا کی علامات:
ہیموفیلیا اے جریانِ خون والی شدید موروثی مرض ہے۔ دنیا بھر میں تقریباً فی دس ہزار افراد میں سے ایک فرد کو یہ بیماری لاحق ہوتی ہے۔ جریانِ خون کے رجحان Blood Tendency کا تعلق انجمادِ خون کے ایک عامل سے ہے جسے فیکٹر viii:viii-c یا Anti Haemophilic Factor کہتے ہیں۔
ہیموفیلیا کے مریض کو جسم کے کسی بھی مخرج یا مقام سے جریانِ خون لاحق ہو سکتا ہے۔ جریانِ خون کے عام مقامات کہنی، گھٹنے، عضلات اور جائے مبرز وغیرہ ہیں۔
نوٹ: جوڑوں، عضلات، گھٹنوں، ٹخنوں اور کہنیوں کے اندر جریانِ خون کو Hemarthrosis کہتے ہیں جبکہ مخارج سے بہنے والے خون کو Haemorrhage کہتے ہیں۔
نرم درجہ والوں کی چوٹ یا سرجری کے موقع پر جریانِ خون ہوتا ہے جبکہ شدید ہیموفیلیا کسی وقت بھی ہو سکتا ہے۔
تشخیص کے لئے ٹیسٹ:
1- ایکٹی ویٹیڈ پارشل تھرومبوپلاسٹین ٹائم A.P.T.T
2- فیکٹر viii
3- فیکٹر ix
4- Prothrombin Time
5- Cougulation Factor Assay
6- Von Willbrand Factor Antigen
7- Factor ix Complex
8- Von Willbrand Factor Antigen
9- Platelets Aggragution
10- Fibrinogen
11- Aspirin Tolrance Test
12- C.B.C
13- Platelets Count
ٹیسٹوں کی تشریح:
1- ایکٹی ویٹیڈ پارشل تھرومبوپلاسٹین ٹائم P.T.T) APTT)
نارمل حدود: 25 تا 39 سیکنڈز
ہیموفیلیا اے اور بی دونوں میں بڑھا ہوا ہوتا ہے۔
2- فیکٹر viii مترادفات viii-c:Ag (Fviii) A.H.F
نارمل حدود: %50 to 150%
Plasma Concentration 100 ug/L
نتیجہ: ہیموفیلیا A میں کم ہو گا۔
3- فیکٹر ix’ مترادفات ہیموفیلیا بی‘ کرسمس ڈیزیز فیکٹر
Plasma Thromboplastin Compnent
نارمل حدود: %50 to 150%
درجہ شدید میں: %71
درجہ اعتدال میں: %1 تا %10
درجہ نرم میں: %11 تا %49
4- پروتھرومبین ٹائم مترادفات (P.T)
نارمل حدود: 10 تا 13 سیکنڈز
نتیجہ: ہیموفیلیا کی صورت میں بڑھا ہوا ہوتا ہے۔
نوٹ: ہیموفیلیا کی صورت میں P.T.T بڑھا ہوتا ہے جبکہ پروتھرومبین ٹائم بلیڈنگ ٹائم اور فائبرینوجن کی مقداریں نارمل ہوتی ہیں۔
viii-c کی مقدار کم ہو جاتی ہے اور وان ولبرانڈ فیکٹر نارمل ہوتی ہے۔
اگر ہیموفیلیا کے مریض کے پلازما میں کسی صحت مند کا پلازما شامل کر دیا جائے تو P.T.T نارمل ہو جاتا ہے لیکن اگر P.T.T نارمل نہ ہو تو یہ Factor viii Inhibitor کی موجودگی کے لئے قابلِ بھروسہ تشخیص ثابت ہوتی ہے۔ اگر پلیٹ لیٹس کاؤنٹ میں کمی ہو جائے تو یہ HIV Associated Immune Thrombocyto Penia کی جانب اشارہ ہو گا۔
اسباب: تر سرد اشیاء کا کثرتِ استعمال، سمیت۔
ایڈز (AIDS)
AIDS یعنی Acquired Immuno Deficiency Syndrome (قوتِ مدافعت کی کمی کی علامات)
یہ وائرل انفیکشن ہے جو HIV وائرس سے پھیلتی ہے۔ وائرس جسم میں داخل ہونے کے بعد کئی سال تک اس کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں لیکن جب ظاہر ہوتی ہیں تو اس کے بعد مریض ہر وقت موت و حیات کی کشمکش میں ہوتا ہے۔ لمفاوی غدود سوج جاتے ہیں لیکن ان میں درد نہیں ہوتا اور کئی کئی مہینے سوجے رہتے ہیں۔ فلو ہو جاتا ہے، گلا سوج جاتا ہے، پیچش لگ جاتے ہیں، جسم پر دانے نکل آتے ہیں، بخار ہونے لگتا ہے اور وزن گرنے لگتا ہے، شدید کمزوری ہو جاتی ہے۔ C.B.C ٹیسٹ کرنے پر پلیٹ لیٹس کی تعداد کم نظر آتی ہے اور W.B.C بھی کم ہو جاتے ہیں اور قلتِ الدم کی مسلسل شکایت رہتی ہے۔ عضلات میں تحلیل سے کوئی کام کرنے کی ہمت نہیں رہتی، شدید پسینہ آتا ہے۔ جلد پر شدید خارش ہوتی ہے جو کہ کسی عام دواء سے جلدی ٹھیک نہیں ہوتی اور غذا کی نالی میں لچھوں کی صورت میں رسولیاں بن جاتی ہیں۔ نمونیہ اور دمہ کی طرح شدید کھانسی ہوتی ہے۔
تشخیص "HIV By Screening Test" میں اگر پازیٹو ہو تو مریض +HIV ہے اور مزید تفصیل کے لئے Elisa Method کروا کر دیکھ لیں۔
HIV وائرس بے جان اشیاء میں زندہ نہیں رہتا اس لئے بذریعہ خوراک اور لباس اور دیگر چیزوں کے ذریعے نہیں پھیلتا۔
ایس نوفیلیا (Eosinophilia)
W.B.C جسم کے دفاعی نظام کا اہم حصہ ہیں۔ یہ جسم میں داخل ہو کر بیماری کا باعث بننے والے جاندار اور بے جان خوردبینی اجسام کا مقابلہ کرتے ہیں اور جسم کو ان کے فاسد اثرات سے محفوظ رکھتے ہیں۔
ایس نوفلز سیلز کا تعلق انہی سفید خلیاتِ خون Leukocytes کے Polymorpho Nuclear Cells کے گروپ سے ہے۔ اس گروپ کے خلیات کے سائٹو پلازم میں پائے جانے والے ذرات کی وجہ سے ان کی ساخت دانے دار سی دکھائی دیتی ہے۔ اس لئے Polymorpho Nuclear Cells کو Granular Leukocytes بھی کہتے ہیں۔
Eosinophil Cell کا وزن 8 مائیکرون ہوتا ہے۔ اس کا نیوکلیس دو Lobes پر مشتمل ہوتا ہے جو کہ باہم کروماٹن دھاگے سے جڑے ہوتے ہیں۔ اس کے سائٹو پلازم میں سرخ ذرات پائے جاتے ہیں دیگر Leukcytes کی طرح یہ بھی ہمارے جسم کے دفاعی نظام کا اہم حصہ ہیں۔
ایس نوفلز کی تعداد Leukeytes میں 2-3 فیصد تک ہوتی ہے لیکن کچھ مخصوص بیماریوں میں بالخصوص الرجی سے ہونے والے عوارض اور Parasitic Infections میں بے تحاشا بڑھ جاتی ہے۔ ان کی معمول سے بڑھی ہوئی تعداد کو Eosinophilia کہتے ہیں۔
ایس نوفلز کا کردار:
Phagocytes (ان کا کام مائیکرو آرگینزم کو جو بیماری پیدا کرتے ہیں، پکڑ کر ہڑپ کر جانا ہے) کی طرح ہے۔ ان میں بھی دیگر خلیات کی طرح یہ صلاحیت موجود ہے کہ یہ خون سے نکل کر متاثرہ بافتوں میں چلے جاتے ہیں اور پیرا سائیٹس کا قلع قمع کر دیتے ہیں۔ کچھ پیرا سائیٹس اتنے بڑے ہوتے ہیں جو کہ ایس نوفلز کے قابو میں نہیں آتے۔ ایس نوفلز ان پیرا سائیٹس یا ان کے Larvas سے چمٹ جاتے ہیں اور ایسے مادے خارج کرتے ہیں جو کہ ان پیرا سائیٹس اور ان کے لاروؤں کو ہلاک کر دیتے ہیں۔
الرجک ری ایکشنز میں ماسٹ سیلز اور بیسوفلز اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بیسوفلز اور ماسٹ سیلز سے کئی کیمیائی مادوں کا اخراج ہوتا ہے جن میں ہیپارین اور ہسٹامین ہیں۔ انہی کے باعث الرجک ری ایکشنز ہوتا ہے۔ یہ کیمیائی مادہ ایس نوفلز کو بھی خون سے نکل کر ان بافتوں میں جانے کو تحریک دیتے ہیں جہاں الرجک ری ایکشنز نمودار ہوتا ہے۔ یہ متاثرہ مقام پر جمع ہونے والے غیر ضروری اور اضافی مادوں ہیپارین اور ہسٹامین کو بے ضرر بنا دیتے ہیں جو کہ بیسوفلز اور ماسٹ سیلز اور متاثرہ بافتوں سے الرجک ری ایکشنز میں نمودار ہوتے ہیں۔ اس طرح سوزش اور ورم صرف متاثرہ مقام تک محدود رہتے ہیں اور ان کے اثرات باقی اعضاء تک نہیں پھیلتے۔
ان امراض میں ایس نوفلز بڑھ جاتے ہیں:
دیدانِ امعاء، الرجی، چھینکیں، خارش، جلدی السرز، ڈرما ٹائیٹس
تشخیص:
1- پاخانے میں کیڑے اور انڈوں کی موجودگی۔
2- بلغم ٹیسٹ میں انڈوں اور لاروؤں کی موجودگی۔
3- بلڈ سیرم میں IgG & IgE کا بڑھا ہوا ہونا۔
4- ایس نوفلز کی تعداد میں اضافہ ہونا۔
