Menu
تعلیمی5 منٹ پڑھائی

امراض چشم( آنکھوں کی بیماریاں)

امراضِ چشم میں ایسی بیماریاں شامل ہیں جو بینائی اور آنکھوں کی صحت کو متاثر کرتی ہیں۔ عام مسائل میں آنکھ دکھنا، شب کوری، موتیا بند، دھند، ضعفِ بصارت، آشوبِ چشم اور گوہانجنی شامل ہیں۔ علامات میں سرخی، پانی آنا، جلن، درد اور کم دکھائی دینا شامل ہو سکتے ہیں۔

امراضِ چشم:

امراضِ چشم کی مختلف اقسام ہیں:

1) رمد بلغمی( آنکھ دکھنا)

آنکھ دکھنا دراصل طبقہ ملتحمہ کا مرض ہے جو ایک غشائی جھلی ہے جو آنکھ کے پپوٹوں کے اندر لگی ہوئی ہے پھر یہی باریک جھلی پردہ قرنیہ پر لپٹی ہوتی ہے۔ دراصل یہ جھلی جلد کے قائم مقام ہے۔ پپوٹوں کے اندر اس میں عروق کے ساتھ چھوٹی چھوٹی گلٹیاں بھی ہوتی ہیں جب وہ سوج جاتی ہیں تو ان کو گکروں کا مرض کہتے ہیں۔ دراصل یہ جھلی پر سب کے اندر کی طرف مشیمیہ اور شبکیہ کے توسل سے بنتی ہے۔ جب اس میں سوزش ہوتی ہے تو اس کو آنکھ کا دکھنا کہتے ہیں۔ بلغمی آنکھ کا دکھنا میں سوزش صرف ملتحمہ کے اعصاب میں انتہائی تری سردی سے زیادہ ہوتی ہے اور آنکھ میں خفیف سوزش مگر رطوبت اور میل زیادہ آتی ہے اور جب شدت زیادہ ہوتی ہے تو سوجن بھی ہو جاتی ہے۔

اسباب:

  • تر سرد اشیاء کا کثرتِ استعمال

  • تر سرد آب و ہوا میں کام کرنا

2) عشا (نائٹ بلائنڈنس) شب کوری:

اس علامت میں مریض رات خصوصاً اندھیرے میں دیکھ نہیں سکتا۔ کبھی شام کے وقت سے نظر آنا بند ہو جاتا ہے کیونکہ اعصابی تحریک میں رطوبات کی زیادتی ہوتی ہے اور یہ زیادتی اعصاب دماغ پر اثر کرتی ہے جس سے پردہ شبکیہ میں بھی تحریک بڑھ جاتی ہے اور اس کے نتیجے میں رطوبت زجاجیہ میں رطوبت بڑھ جاتی ہے جس سے اس میں اندھیرا کی وجہ سے تحریک نور رک جاتی ہے اور روشنی اندر داخل نہیں ہو سکتی اور مریض کھڑا ہی رہ جاتا ہے آگے کچھ دکھائی نہیں دیتا اور ویسے اندھیرا بھی جسم میں اعصابی تحریک بڑھا دیتا ہے۔

اسباب:

  • تر سرد اشیاء کا کثرت استعمال

3) روز کوری:

اس علامت میں دن کے وقت کم دکھائی دیتا کیونکہ آنکھییں چندھیا جاتی ہیں۔ یہ شب کوری کے برعکس ہے۔ اس میں روشنی کی برداشت کم ہو جاتی ہے اور دیکھنے میں تکلیف ہوتی ہے۔ اس میں ایک صورت یہ ہے کہ پردہ شبکیہ میں کچھ سیاہی کی کمی بھی واقع ہو جاتی ہے جو روشنی کو برداشت کرتی ہے۔

اسباب:

  • گرم خشک اشیاء کا کثرتِ استعمال

4) دھند:

اس علامت میں آنکھ پر غبار کا ایک پردہ سا معلوم ہوتا ہے گویا اس میں آنکھ کی شفافیت پر گدلا پن چھایا رہتا ہے اور ظلمتِ بصر لاحق ہو جایا کرتی ہے۔ اس علامت میں کبھی کبھی رطوبات کا اخراج بھی ہوتا ہے۔ دراصل یہ رطوبات کی زیادتی ہے جو آنکھوں میں بھری رہتی ہے۔ یہ زکام کی ایک علامت ہے۔

اسباب:

  • تر سرد موسم اور تر سرد اشیاء کا کثرتِ استعمال۔

5) پڑبال:

پلکوں میں زائد بال پیدا ہو جانا یا ان کا اندر کی طرف مڑ جانا۔ جسم میں بالوں کے مواد کا زیادہ ہونا اور پلکوں میں اندر کی طرف تحریکات کا پیدا ہو جانا جس سے زائد بالوں کی پیدائش شروع ہو جاتی ہے۔

اسباب:

سرد خشک اشیاء کا کثرت استعمال

6)نزول الماء:

موتیا بند ایک رطوبت غریبہ ہے جو نزلہ کی شکل میں بتدریج یا کبھی یکبارگی آنکھ کی پتلی ثقبہ غبیہ میں ٹھہر جاتی ہے۔ جب یہ رطوبت زیادہ غلیظ ہو اور پردہ کے تمام سوراخ پر چھا جائے تو نظر آہستہ آہستہ بند ہو جاتی ہے، آنکھ سے پانی بہتا رہتا ہے، آنکھوں کے سامنے ہر وقت پتنگے سے اڑتے رہتے ہیں، مریض کو ہر چیز ایک کی دو نظر آتی ہیں۔ اگر کچھ خالی رہے تو کم وبیش بینائی باقی رہتی ہے لیکن رطوبت اگر رقیق ہو تو بھی اس سے روشنی آفتاب یا چراغ کا پتہ چلتا رہتا ہے۔

اس کی تین اقسام ہیں: سفید، سیاہ اور سبز۔

اسباب:

  • بڑھاپا

  • ذیابیطس

  • آنکھوں پر چوٹ لگنا

  • امراضِ گردہ وغیرہ۔

7) ضعف بصارت:

بصارت کمزور ہونے کی وجہ سے تھوڑی دیر لکھنے پڑھنے یا نظر کا کام کرنے سے آنکھیں تھک جاتی ہیں، باریک حروف نہیں پڑھے جاتے، آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا جاتا ہے۔ کبھی پانی آنے لگتا ہے۔ سر میں ہلکا درد ہوتا ہے۔ دور کی اشیاء صاف نظر نہیں آتیں۔

اسباب:

  • دماغی محنت

  • نظر کے کام کی زیادتی مثلاً مطالعہ، سلائی کڑھائی اور باریک پرزہ جات والی مشینوں کا کام

  • کمپیوٹر اور ویڈیو گیمز کا کثرت استعمال

  • جنسی بے راہ روی

  • ہضم کی خرابی

  • تبخیر و ریاح

  • دائمی زکام

  • منشیات کا استعمال

۸) آشوبِ چشم( رمد چشم):

یہ مرض موسم گرما میں ہوتا ہے۔ اس مرض کا شکار زیادہ تر سخت دھوپ میں چلنے پھرنے والے لوگ ہوتے ہیں۔ آنکھوں کا طبعی مزاج گرم ہے جب انہیں مزید گرمی ملتی ہے تو بے تاب ہو جاتی ہیں، چبھن اور ٹیسیں پڑتی ہیں تو آنکھیں جلن کی وجہ سے انتہائی سرخ ہو جاتی ہیں۔ مرض کی شدت سے چہرہ بھی سرخ ہو جاتا ہے۔ خارش ہوتی ہے اور پانی بہنے لگتا ہے۔ اس مرض کو آنکھوں کی الرجی بھی کہتے ہیں۔

اسباب:

دھوئیں یا گرد و غبار میں کام کرنا

گرم اشیاء کا کثرتِ استعمال

تعز دھوپ اور شدت کی حرارت میں کام کرنا

وبائی تاثیر

9)گوہانجنی(stye) شعیرہ:

آنکھ کی پلک کے کنارے ایک پھنسی نما سخت گلٹی لمبوتری شکل میں بن جاتی ہے جو کہ درد کر کے پریشانی کا سبب بنتی ہے۔ ایک دفعہ پک کر ختم ہو جاتی ہے لیکن پھر نکل آتی اور دیر سے پکتی ہے۔

اسباب:

  • سرد کشک اشیاء کا کثرت استعمال و موسم و آب و ہوا

10) سُبل:

آنکھوں کی باریک رگیں پھول کر سرخ پردہ سا بن جاتی ہیں اور پانی بہتا رہتا ہے۔ بسا اوقات آنکھیں سرخ تو نہیں ہوتیں صرف پانی ہی بہتا رہتا ہے۔

اسباب:

  • سرد خشک اشیاء کا بکثرت استعمال

  • آب و ہوا و ماحول

متعلقہ بیماریاں

امراضِ چشم: اقسام، علامات، اسباب اور روایتی تشریحات