حمیات (بخار)
یہ مختلف امراض ہیں:
اعصابی عضلاتی بخار
اس حالت میں اعصاب میں تحریک ہونے سے عجضلات میں تسکین ہو جاتی ہے جس سے جسم اپنے قابو میں نہیں رہتا۔ بلڈ پریشر لو ہو جانا، جسم میں چلنے پھرنے کی ہمت نہیں رہتی۔ دوسری طرف غدد میں تحلیل ہوتی ہے جس سے وہ تعفن کو ختم کرنے پر قادر نہیں ہوتے۔ جسم کو جو غذا کی ضرورت ہوتی ہے، وہ پوری نہیں ہوتی اس لئے جسم کمزور ہو جاتا ہے۔ اعصاب میں تحریک ہوتی، خون میں رطوبات کی کثرت ہونے سے بخار جلد اتر جاتا ہے۔ اگر اس میں نقص زیادہ ہو تو بخار اتارنے میں احتیاط سے کام لیا جائے ورنہ مہلک ثابت ہوگا۔
اسباب: تر سرد اشیاء کا کثرت استعمال، آب و ہوا۔
عضلاتی اعصابی بخار
اس بخار میں عضلات میں غیر معمولی تحریک ہوتی ہے۔ ہر تحریک سے انقباض ہوتا ہے جس کے کچھ عرصہ بعد سوزش اور ورم ہو جاتا ہے۔ اس تحریک سے روح حیوانی گرم ہو جاتی ہے جو عضلاتی میں تحریک کا باعث بن جاتی ہے۔ یہ عارضی حرارت دل کے ذریعے تمام خون اور جسم کو گرم کر دیتی ہے اور بخار کی صورت قائم ہو جاتی ہے۔
اس بخار میں عضلات میں تحریک غدد میں تسکین اور اعصاب میں تحلیل ہوتی ہے۔
علامات:
اس کی علامات درج ذیل ہیں:
قارورہ سرخی مائل
چہرہ پر سرخی
قبض
ریاح کا غلبہ
طلحال کا بڑھ جانا
اسباب: سرد خشک اشیاء کا کثرت استعمال۔
عضلاتی غدی بخار
اس بخار میں عضلات میں تحریک ہوتی ہے، جگر میں تسکین کی وجہ سے رطوبات اور بلغم جمع ہو جاتے ہیں، اخراج نہیں ہوتا جس کی وجہ سے تعفن پیدا ہو کر بخار ہو جاتا ہے۔
اس صورت میں عضلات میں تحریک غدد میں تسکین اور اعصاب میں تحلیل ہوتی ہے۔
علامات:
اس کی علامات درج ذیل ہیں:
چہرہ اترا ہوا
منہ، گلا، زبان خشک
قبض
کمی نیند
غصہ
نبض مشرف طویل سریع
قارورہ سرخ اور ناری ہونا
اسباب: خشک گرم اشیاء کا کثرت استعمال
غدی عضلاتی بخار
غدد میں غیر معمولی تحریک ہوتی ہے جس سے روح طبعی گرم ہو جاتی ہے یا روح طبعی کسی وجہ سے گرم ہو کر غدد میں تحریک کا باعث ہوتی ہے جس سے فعل میں تیزی ہو جاتی ہے۔ یہ عارضی حرارت دل کے ذریعے تمام خون اور جسم کو گرم کر دیتی ہے۔ جب تحریک بڑھتی ہے تو سوزش اور ورم کی صورت بھی اختیار کر لیتی ہے۔
اس بخار میں غدد میں تحریک، اعصاب میں تسکین اور عضلات میں تحلیل کی صورت قائم ہوتی ہے۔
علامات:
قارورہ زرد
چہرہ زردی مائل
پیٹ میں مروڑ
نبض تیز
بے چینی
کمزوری کا احساس
اسباب: گرم خشک اشیاء کا کثرت استعمال۔
غدی اعصابی بخار
اس حالت میں غدد میں تحریک عضلات میں تحلیل اور اعصاب میں تسکین ہوتی ہے جس کی وجہ سے جذب آکسیجن اور اخراج دخان میں مشکل پیش آتی ہے اس لئے کھانسی شدید اور کافی دیر رہتی ہے چونکہ غدد میں تحریک اور اعصاب میں تسکین ہوتی ہے اس لئے بلغم رقیق اور لیس دار ہوتا ہے۔ دوسری طرف عضلات میں تحلیل کی وجہ سے بہت جلد جسم کمزور ہو جاتا ہے۔
علامات:
قاروہ زرد
چہرہ زرد سفیدی مائل
بخار مسلسل
کثرت ضعف
خون میں جوش
اسباب: گرم تر اشیاء کا کثرت استعمال۔
اعصابی غدی بخار
اس حالت میں اعصاب میں غیر معمولی تحریک ہونے سے روح نفسانی عارضی حرارت سے گرم ہو جاتی ہے۔ پھر یہ حرارت سیل کے ذریعے تمام خون اور جسم کو گرم کر دیتی ہے۔
مفرد اعضاء کی صورت یہ ہو گی: اعصاب میں تحریک، عضلات میں سکون اور غدد میں تحلیل ہوگی یعنی تری کے ساتھ گرمی قائم ہوگی۔ دوسری طرف عضلات میں رطوبت کی زیادتی یعنی تسکین ہوگی۔
علامات:
اعصابی غدی بخار کی علامات درج ذیل ہیں:
سوء ہضم
کثرت پیشاب
کثرت لعاب
اسہال
فشار الدم ضعیف
قارورہ سفیدی مائل
رگیں پھولی ہوئیں
اسباب: تر گرم اشیاء کا کثرت استعمال۔
