Menu
تعلیمی4 منٹ پڑھائی

پتے کی بیماریاں

پتے کی عام بیماریوں میں التہابِ مرارہ اور پتے کی پتھری شامل ہیں۔ ان امراض میں بدہضمی، نفخ، متلی، سینے کی جلن اور دائیں پسلیوں یا دائیں شانے کے نیچے درد ہو سکتا ہے۔ شدید صورت میں پتھری صفراوی نالی میں پھنس کر یرقان اور دیگر پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے۔

امراضِ مرارہ (پتے کی بیماریاں)

اس کی مختلف بیماریاں ہیں:

التہاب مرارہ

اس مرض میں نفخ، بدہضمی اور سینے میں جلن ہوتی ہے۔ نفخ کے ساتھ دائیں قوسِ ضلعی کے نیچے یا دائیں کتفی زاویئے کے نیچے درد ہوتا ہے۔

علامات: حادّ عضلاتی تناؤ ورم کے ساتھ شدید درد اقلیم تحت الغضاریف میں شدید درد جو داہنے شانے کی طرف بڑھتا ہے۔ مقامی تناؤ ہوتا ہے۔ بعض اوقات تنفس میں بھی دشواری ہوتی ہے۔ جسم کا درجہ حرارت زیادہ ہوتا ہے۔ بعض اوقات لرزہ بھی ہوتا ہے۔ سوءِ ہضم، شدید متلی اور قے اور بے چینی ہوتی ہے۔ خون کی جانچ سے سفید دمویت کا پتہ چلتا ہے۔ اختلاجِ قلب اور یرقان بھی ہو سکتا ہے۔

مزمن علامات کا انحصار حصاة کی موجودگی اور مجریٰ مرارہ کے التہاب پر ہے اور کسی قدر انجذابِ سمیت کے اثرات پر بھی۔۔۔ چنانچہ نفخ اور بدہضمی ہوتی ہے۔ غذا لینے کے بعد خصوصاً روغنی غذا کھانے کے بعد نفخ زیادہ ہوتا ہے۔ ساتھ ہی دائیں قوسِ ضلعی کے نیچے یا دائیں کتفی زاویئے کے نیچے میٹھا میٹھا درد شروع ہو جاتا ہے۔ درد کا آغاز عموماً آگے جھکنے سے ہوتا ہے اور درد کی حالت میں آگے جھکنے سے درد میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ وقتاً فوقتاً شدید درد کے مختصر اور تیز حملے قسم شراسیفی سے شروع ہو کر زیریں اضلاعِ کاذبہ False Ribs کے گرد ہر دو جانب پھیل جاتے ہیں۔ جو اس بات کی علامت ہے کہ پتھری مجریٰ مرارہ یا مجریٰ مشترک میں چلی گئی ہے۔ درد اور نفخ کے اندیشہ سے مریض کام کاج سے جی چراتا ہے جس کے باعث اس کا وزن بڑھنے لگتا ہے اور نتیجہ کے طور پر جسم میں شحمی اجزاء زیادہ ہو جاتے ہیں اور مریض کو تنگیِ تنفس کی شکایت ہو جاتی ہے۔ سینے میں سوزش ہوتی ہے۔ پتھری مجریٰ مشترک میں پھنس جائے تو یرقان ہو جاتا ہے۔ بعض مریضوں میں علامات بہت خفیف ہوتی ہیں اور نمایاں شکایت متلی، دردِ سر، گردن، کمر اور جوڑوں کا درد ہوتا ہے۔ خون میں سمی اجزاء شامل ہو جانے سے یہ عوارض شدید ہو سکتے ہیں۔ مقامِ مرارہ پر دباؤ ڈالنے سے درد محسوس ہوتا ہے۔ گہری سانس لینے سے بھی تکلیف ہوتی ہے بلکہ سانس ٹوٹ جاتی ہے۔

اسباب: سرد خشک اشیاء کا کثرتِ استعمال و سمیت۔

پتے کی پتھری (حصاۃ مرارہ)

اس مرض میں مرارہ میں پتھری پیدا ہو جاتی ہے اور بغیر کسی تکلیف اور شدید مرضی علامات کے یوں ہی پڑی رہتی ہے۔ تاہم مقامِ مرارہ پر بوجھ اور مقامِ معدہ پر تناؤ ہوتا ہے۔ تنفس میں لمبی آہ نکلتی ہے، متلی ہوتی ہے اور پتھری کے مقام بدلنے سے علامات و عوارض میں بھی تبدیلی ہوتی ہے۔

علامات: حصاةِ مرارہ جب تک مرارہ میں رہتی ہے، اکثر کوئی مرضی علامات عموماً پیدا نہیں ہوتی لیکن اس کی جگہ بدلتے ہی مرضی علامات رونما ہونے لگتی ہیں۔ ان عوارض کی شدت اور خفت کا انحصار پتھری کی ساخت اور مقام و وضع پر ہوتا ہے۔ مجریٰ صفراء میں ہو تو براز سفید ہوتا ہے، شدید درد ہوتا ہے۔ عموماً درد کا دورہ رات میں یکبارگی ہوتا ہے۔ فمِ معدہ سے درد بڑھ کر دائیں شانے کے بالائی حصے تک محسوس ہوتا ہے۔ نویں پسلی کی نوک ذکی الحس ہوتی ہے، قے آتی ہے اور لرزہ کے ساتھ بخار ہوتا ہے۔ اگر پتھری وہیں پھنسی رہے تو درد کا دورہ پڑتا رہتا ہے اور قناۃ صفراوی سے نکل کر اثناء عشری میں چلی جائے تو درد یکدم مفقود ہو جاتا ہے اور حصاة براز میں خارج ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات حصاة کے مرارہ میں پڑے رہنے سے بھی مرضی علامات رونما ہوتی ہیں۔ مثلاً مقامِ مرارہ پر ثقل اور مقامِ معدہ پر تناؤ سا رہتا ہے۔ مریض سانس لیتے لیتے ایک لمبی آہ بھرتا ہے، متلی کی شکایت ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ غش بھی آتا ہے۔ غذا لینے کے بعد لرزہ طاری ہوتا ہے۔

اگر حصاة مجریٰ مشترک Common Bile Duct ہو تو زیادہ خطرناک اور تکلیف دہ ثابت ہوتی ہے اور بعض اوقات اسے مہلک مرضیاتی علامات رونما ہوتی ہیں۔ مثلاً خون صفراوی ہونا، التہابِ یرقان، دبیلہ کبد، سوزشِ بانقراس، سوزشِ ورید بابی وغیرہ۔ حصاةِ مرارہ کی تشخیص ایکسرے اور الٹرا ساؤنڈ سے یقینی طور پر ہو جاتی ہے۔

اسباب: سرد خشک اشیاء کا کثرتِ استعمال۔

متعلقہ بیماریاں

امراضِ مرارہ (پتے کی بیماریاں): علامات، اسباب، التہابِ مرارہ اور پتے کی پتھری