Menu
تعلیمی31 منٹ پڑھائی

امراضِ نسواں

امراضِ نسواں میں خواتین کی مختلف بیماریاں شامل ہیں، جیسے پستانوں کے امراض، بریسٹ کینسر، لیکوریا، ماہواری کی بے قاعدگیاں، رحم کی بیماریاں، اوورین سسٹ اور بانجھ پن۔ بروقت تشخیص اور مناسب علاج خواتین کی صحت کے تحفظ کے لیے نہایت ضروری ہیں۔

امراضِ نسواں

امراضِ نسواں میں مختلف امراض آتے ہیں:

پستانوں کا بڑھ جانا

بعض خواتین کے پستان بہت بڑے ہو کر لٹک جاتے ہیں اور چلنے پھرنے سے اِدھر ادھر ڈھلکتے ہیں۔

اسباب:

پستانوں کو گدگدانا اور کھینچنا، بلغمی اشیاء کا کثرت استعمال۔

کثرت لبن (دودھ کی پیدائش بڑھنا)

کبھی پستانوں می دودھ بہت زیادہ پیدا ہونے لگتا ہے کہ بچہ بھی خوب سیر ہو کر پیتا ہے پھر بھی پستانوں سے دودھ نکلتا رہتا ہے۔ اس صورت میں ان میں تناؤ اور درد شروع ہو جاتا ہے۔ پھر اس طرف دوران خون تیز ہو کر سوزش اور ورم کی کیفیت پیدا کر دیتا ہے۔

اسباب:

بچے کو دودھ چھڑا دینا، بلغمی رطوبات کا زیادہ ہونا، مولدلبن غذا کا استعمال مثلاََ دودھ، گھی، دال ماش وغیرہ۔

قلت لبن (دودھ کی پیدائش کم ہوجانا)

کبھی پستانوں میں دودھ اس قدر کم ہو جاتا ہے جو بچے کی غذا کے لئے ناکافی ہوتا ہے۔ وہ بھوک سے بے تاب ہو کر روتا رہتا ہے اور روز بروز کمزور ہونے لگتا ہے۔

اسباب:

غم و غصہ، خشک اشیاء کا کثرت استعمال، غذا کی کمی، خون کی کمی، گرمی میں کام کاج۔

پستانوں میں دودھ رک جانا

بعض دفعہ عورت کو بخار یا کوئی عارضہ لاحق ہونے کی وجہ سے اسے دودھ پلانے سے روک دیا جاتا ہے۔ وہ زہریلی کیفیت پیدا کر کے تناؤ، درد، سوزش، ورم اور بخار کا باعث بنتا ہے۔

اسباب:

بخار، دودھ کی نالیوں میں سدہ یا سلعہ پیدا ہونا۔

گلٹیاں اور بریسٹ کینسر

بریسٹ کینسر میں ہونے والی گلٹیاں اس طرح کی ہوتی ہیں:

سلعات بسیط (Simple Tumors):

ان کی یہ اقسام ہیں:

1- صلب لیفی سلعہ (Hard Fibroadenoma)

2- غددی کیسہ سلعہ (Cystic Adenoma)

1- صلب لیفی سلعہ (Hard Fibroadenoma):

صلبی غددی سلعہ ایک مخاط (Circumseribed) اور قدرے لچکدار (Elastic) حجوم کی صورت مظاہر ہوتا ہے۔ اس کا قطر سات سینٹی میٹر تک ہو جاتا ہے لیکن عام طور پر اس کی جسامت زیادہ بڑی نہیں ہوتی۔ یہ نمایاں طور پر ملفوف (Encapsulated) ہوتا ہے اور اس کو آسانی سے نکالا جا سکتا ہے۔ یہ سلعہ ثدوی فص (Mammary Lobule) کی تمام تشریحی اکائی (Anatomical Unit) سے وجود میں آتا ہے۔ پیدائش سے سلعہ کے طریق کار کی مناسبت سے اس کی دو اقسام ہیں:

الف: پہلی قسم Pericanalicular بیرونی قنالی سلعہ

ب: دوسری قسم Intracanalicular اندرونی قنالی سلعہ

الف: پہلی قسم Pericanalicular:

اکثر ایک سلعہ کے اندر پیدائش کی دونوں اقسام موجود ہوتی ہیں۔ اوّل الذکر حالت میں ترتیب بشرہ مخاطیہ (Epithelial Arrangment) حسب معمول چھاتیوں کے بشرہ مخاطیہ کی ترتیب سے مشابہ ہوتی ہے۔ اس حالت میں بشرہ مخاطیہ اور اتصالی بافت دونوں کی پیدائش دیکھنے میں آتی ہے مگر ان کا تناسب ایک جیسا نہیں ہوتا کبھی کبھی عنیبات (Acini) کے اردگرد نسیج اساسی سٹروما کی ساخت بہت زیادہ ڈھیلی ہوتی ہے۔ اس سلعہ کے اندر کی پیدائش نوعیت پستان کی حسب معمول نشونما کی مانند ہوتی ہے۔ یہ سلعہ بالعموم جوانی کے پہلے سالوں میں رونما ہوتا ہے۔ اگر نسیج اساسی سٹروما قلیل مقدار میں ہو تو ایسی حالتوں کے لئے عام مشاہدے میں آنے والے لیفی غدوی سلعہ کی بجائے بعض اوقات ساذج غدی سلعہ (Adenoma Simplex) کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔

ب: دوسری قسم Intracanalicular:

اس میں کئی ایک خمیدہ اور شاخوں والی درزیں (Clefts) ہوتی ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کی اطراف پر بشرہ مخاطیہ کا پیرہن موجود ہوتا ہے۔ دراصل یہ ساخت عنیبات (Acini) اور بطانہ قنوات میں لیفی و خلیاتی بافت (Fibro Cellular Tissue) کے کند اور گول زائدوں کی پیدائش کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ نسیج اساسی کی پیدائش کے ساتھ ساتھ استر کرنے والا بشرہ مخاطیہ بھی اسی مناسبت سے پیدا ہوتا رہتا ہے یعنی ان دونون کا پیدائش میں یکسانیت و توازن بر قرار رہتا ہے جس کی وجہ سے نمونے کی ساخت وجود میں آتی ہے۔

2- غددی کیسہ سلعہ (Cystic Adenoma):

اس حالت میں خلیات بشرہ مخاطیہ بڑے اور عمودی ہوتے ہیں۔ اکثر Cysts کے اندر حلمی Papilliform پیدائشیں بھی وجود میں آتی ہیں۔ اس میں ایک قوم ایسی ہوتی ہے کہ جس میں کیس اندرونی حلمی پیدائشوں (Papilliform Ingrowths) سے بھر جاتا ہے۔ اسے تکاثری قسم (Proliferous Types) کہتے ہیں۔ اس کیس کی جسامت بہت بڑی ہو سکتی ہے۔ اس کے اندر تقرح (ulceration) کے بعد یہ شق بھی ہو سکتا ہے جس ککے نتیچے میں ایک حلمی حجوم جلد سے باہر بھی نکل سکتا ہے۔ سا قسم کی پیدائشیں خصوصیات کے لحاظ سے عام طور پر ساذج (Simple) ہوتی ہیں مگر کبھی کبھی ان میں سرطانی تبدیلی ہو جاتی ہے۔

سرطانی سلعات (Malignant Tumours):

یہ عام طور پر 30 سال سے زائد عمر کی خواتین میں پایا جاتا ہے۔ سرطان ثدوی کی کئی اقسام بیان کی جاتی ہیں لیکن حقیقت میں غور کرنے سے سبب کی خصوصیات یکساں نوعیت کی ہیں۔ سرطان ثدوی کی Cirrhous Form کثیر الوقوع ہے۔ اس میں اضافے کی بجائے ثقلص (Contraction) اور کچھ حصوں کا اندرونی جانب سکڑنے کا رحجان ہو جاتا ہے چنانچہ ایسی حالتوں میں مریضہ کے سیدھا ہونے کی صورت میں متاثرہ طرف بھٹنی اوپر کی جانب اٹھی ہوئی ہوتی ہے۔ سرطان کی یہ قسم چھاتی کے کسی حصہ میں بھی ہو سکتی ہے لیکن بالائی اور بیرونی حصہ اس کا خاص مقام ہے۔ اس کی وجہ سے ایک غیر معین حاشیوں والا صلب حصہ وجود میں آجاتا ہے۔ بھٹنی میں اکثر کھچاوٹ پیدا ہو جاتی ہے۔ درمیانی حصوں کی اس خبیث پیدائش کی زد میں آنے کی صورت میں بھٹنی کی کھچاوٹ میں نمایاں درجے کی ہوتی ہے۔

بیماری کی زد میں آنے کے تھوڑے عرصہ بعد ابطی غدد جاذبہ (Axillary Lymph Node) بہت متاثر ہوتے ہیں۔ یہ سوج کر سخت گلٹیوں کی صورت اختیار کر لیتے ہیں اور آہستہ آہستہ جلد کی عروق جاذبہ و غدد جاذبہ تک بیماری سرائیت کر جاتی ہے۔ چھاتی کی متاثرہ جلد بہت سخت اور دبیز ہو جاتی ہے۔

بریسٹ کینسر کی عام علامات:

آج کل بریسٹ کینسر کی وباء عام ہے۔ کسی عمر میں بھی ہو سکتا ہے لیکن اکثر 30 سال سے زائد عمر کی خواتین میں ہوتا ہے۔ چھاتی میں کینسر کی ابتداء ایک خاص قسم کے ابھار یا سخت گلٹی کی صورت میں ہوتی ہے۔ پہلے پہلے جلد کے اندر محسوس ہوتی ہے، پھر طاہر جلد تک واضح ہو جاتی ہے۔ مرض کا احساس ابتداء میں نہیں ہوتا کیونکہ گلٹی میں درد نہیں ہوتا ہے۔ محض ایک ابھار سا معلوم ہوتا ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتا اور پھیلتا چلا جاتا ہے اور آہستہ آہستہ اس میں درد محسوس ہونے لگتا ہے۔ سوزش کے بعد وہاں ورم ہو جاتا ہے اور شدید درد ہوتا ہے حتیٰ کہ ورم پختہ ہو کر پھٹ جاتا ہے جس سے سرخی مائل مواد بہتا ہے۔ بریسٹ کینسر میں رسولیوں کی وسعہ بغل کے نیچے پیٹ کے نیچے نسوانی اعضاء تک جا پہنچتی ہے لیکن ٹیومرز کے اس پھیلاؤ میں کافی وقت لگ جاتا ہے۔

بریسٹ میں موجود ابھار یا گلٹی ضروری نہیں ہے کہ وہ کینسر کی ہو بلکہ عام طور پر سادہ گلٹی ہوتی ہے جو عام غدی اعصابی محلل ادویہ سے ٹھیک ہو جاتی ہے لیکن جب وہ خبیچ ہو تو اس میں مواد متعفن ہو کر کینسر کی صورت اختیار کر لیتا ہے لہٰذا اس کا بروقت صحیح علاج کرانا ضروری ہے۔

چھاتی میں مستقل درد واقعتاََ کسی اہم مرض کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ مثلاََ چھاتی میں ایک گلٹی یا کئی گلٹیاں، چھاتی میں انفیکشن، چھاتی کی ٹی بی، چھاتی پر خارش، چھاتی کا کینسر وغیرہ ان امراض میں درد کی نوعیت مرض کے اعتبار سے ہوتی ہے، کسی میں زیادہ کسی میں کم ہوتی ہے۔

تشخیص کے بعد اگر گلٹی سادہ ہے تو اس کا جلد علاج کریں اور اگر خبیث یعنی کینسر کی ہے تو فوری طور پر تمام مناسب تدابیر بروئے کار لا کر اس سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کریں اور مرض کے مکمل خاتمے تک پوری جدوجہد کریں۔ اگر معالج کو شک ہو تو چھاتی کا خاص ایکسرے جسے میموگرافی (Mamography) کہتے ہیں، کروائے۔ اس سے بیماری کی نوعیت سمجھنے میں آسانی ہو جاتی ہے البتہ کینسر کا حکم لگانے سے پہلے بائیوپسی (Biopsy) ضرور کرائے۔

حتمی تشخیص کے بعد طب جدید (ایلوپیتھی) میں چھاتی کٹوانے کے لئے بڑا آپریشن (Matictomy) کراتے ہیں۔ ان کا خیال ہے ککہ اس طرح اس کے جراثیم دوسرے حصوں تک سرئیت نہیں کرتے۔ اس کا زخم بچنے کے بعد وہ برقی شعاعیں (Radiation) کے ذریعے مرض کا مکمل طور پر خاتمہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن افسوس ایسے ہوتا نہیں ہے کیونکہ جس عضو کے بگاڑ سے یہ مرض واقع ہوا تھا اس کی اصلاح کرنا ان کے علاج میں شامل ہی نہیں۔ اس لئے وہ عضو اسی طرح کے مواد مسلسل بناتا رہتا ہے اور ایک وقت پھر اکٹھا ہو جاتا ہے جس سے مرض پھر اسی طرح لوٹ آتا ہے جبکہ طب قدیم نہ صرف ظاہری طور پر اس مرض کا خاتمہ کرتی ہے بلکہ خون سے اخلاط (کیمسٹری) مکمل تبدیل کر دیتی ہے جس سے دوبارہ مرض ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

اسباب:

بچوں کو دودھ نہ پلانا، ہارمونز بڑھانے والی ادویہ اور غذائیں، ملیریائی زہر کے اثرات، ٹی بی کا بگڑنا۔

لیکوریا

فرج کی اندرونی تہہ لیکٹک تیزاب کی وجہ سے تیزابی خاصیت رکھتی ہے اور یہ بیماری پیدا کرنے والے جراثیم سے محفوظ رکھتی ہے۔ جب اس کی تیزابی کیفیت کم یا ختم ہو جائے تو اس وقت رحم یا خصیتہ الرحم میں سوزش ہونے سے رطوبات زیادہ مقدار میں خارج ہونا شروع ہو جاتی ہیں جسے سیلان الرحم یا لیکوریا کہتے ہیں۔

اس کی تین اقسام ہیں:

1- غدی اعصابی سیلان:

اس لیکوریا میں رطوبت زردی مائل سفید قارورہ زرد اکثر جلد کی علامات پائی جاتی ہیں۔ ہاتھ پاؤں گرم اور پسینہ خوب آتا ہے۔

اسباب:

گرم تر اشیاء کا کثرت استعمال

2- اعصابی غدی سیلان:

اس صورت میں رطوبت سفید، زردی مائل، قارورہ متعفن، رحم میں جلن اور لیس کی زیادتی ہوتی ہے۔

اسباب:

تر گرم اشیاء کا کثرت استعمال۔

3- اعصابی عضلاتی سیلان:

اس صورت میں سفید رطوبت بکثرت آتی ہے۔ کبھی میلا پن، قارورہ سفید، زکام و ریشہ کی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ ایسے سیلان میں اکثر موٹی عورتیں مبتلا ہوتی ہیں۔

اسباب:

تر سرد اشیاء کا بکثرت استعمال۔

عورت کے جنسی اعضاء کا کردار

خصیتہ الرحم (اووری):

اووریز تعداد میں دو ہوتی ہیں۔ یہ یوٹرس کے بیرونی طرف دائیں اور بائیں یوٹرائن ٹیوب کے قریب نیچے واقع ہوتی ہیں۔ ہر اووری سے باری باری اٹھائیس روز کے بعد اووم خارج ہوتا ہے جو سپرم سے مل کر حمل کی علامت بن جاتا ہے۔ اووری کے دو اہم افعال یہ ہیں:

1۔ انڈے کا اخراج

2۔ ہارمون کا اخراج

1- انڈے کا اخراج:

اووریز میں تقریباً 50 ہزار انڈے موجود ہوتے ہیں جن میں سے پانچ سو کے قریب پختہ ہو کر حمل ٹھہرنے کے وقت خارج ہوتے ہیں۔ ہر قمری مہینے میں ایک اووم خارج ہوتا ہے۔ ایک ماہ پختہ گرافین فالیکل اٹھائیس روز کے بعد اووری کی سطح پر نمودار ہوتا ہے اور سطح کی جلد پھٹنے سے اووم خارج ہونے کے بعد یوٹرائن ٹیوب کی قیف نما جھالر میں دبوچ لیا جاتا ہے۔ یہ عمل صحت کی حالت ہر ماہ صرف ایک دفعہ ہوتا ہے۔ یہ سلسلہ بلوغت سے لے کر بانجھ پن (مینوپاز/انقطاعِ حیض) کی عمر تک جاری رہتا ہے۔ اووری سے خارج ہونے کے بعد گرافین فالیکل اگلے مرحلے کے لئے کارپس لیوٹم بن جاتا ہے۔ اووم کے خارج ہونے کے پانچ، چھ دن بعد یوٹرس (بچہ دانی) میں پہنچ جاتا ہے۔

2- ہارمون کا اخراج:

اووریز دو قسم کے ہارمون خارج کرتی ہے:

i- ایسٹروجن

ii- پروجسٹرون

i- ایسٹروجن:

پچوٹری غدود کے سامنے والے حصے سے ایک ہارمون خارج ہوتا ہے اس کا نام ایف۔ ایس۔ ایچ (Folicle Stimulating Hormones) ہے۔ یہ اووری پر اپنا اثر کرتا ہے تو اووری سے ایسٹروجن ہارمون خارج ہوتا ہے۔

اہم افعال: یہ ہارمون بلوغت کے وقت تولیدی اعضاء کی ترقی کا باعث بنتا ہے۔ عورت کی شکل و صورت اور اس کی آواز کو دلکش بناتا ہے۔ پستانوں کا سائز بڑھا کر دودھ پیدا کرتا ہے اور یوٹرس کا سائز بھی بڑھاتا ہے۔ اس سے خون یوٹرس میں پہنچتا ہے۔ ایک حیض سے دوسرے حیض تک یوٹرس کی اندرونی جھلی ٹوٹ پھوٹ جاتی ہے۔ یہ اسے نئے سرے سے مرمت کرتا ہے۔ اس ہارمون کے اثر سے عورت کی بغلوں اور جنسی اعضاء کے آس پاس بال اُگتے ہیں۔

ii- پروجسٹرون:

پچوٹری غدود کے سامنے والے حصے سے ایک ہارمون خارج ہوتا ہے۔ اس کا نام ایل۔ ایس۔ ایچ (Luteinising Hormones) ہارمون ہے۔ اس کے اثر سے کارپس لیوٹم سے ماہواری کے نصف وقت میں پروجسٹرون خارج ہوتا ہے۔

اہم افعال: یہ ہارمون اووم خارج کرتا ہے۔ فرٹیلائزڈ اووم کے پہنچنے سے پہلے یوٹرس میں خون کی سپلائی بڑھ جاتی ہے۔ جسم کا درجہ حرارت \bm{0.5^\circ\text{C}} مزید بڑھ جاتا ہے۔ اینڈومیٹریم کو زائیگوٹ حاصل کرنے کے لئے تیار کرتا ہے اور اس کی ڈیولپمنٹ کرتا ہے اور یوٹرس کو سکڑنے سے بھی بچاتا ہے۔

پیچوٹری غدود:

اس غدود کے سامنے والے حصے سے دو قسم کے ہارمون خارج ہوتے ہیں:

1- ایف ایس ایچ

2- ایل ایچ

1- ایف ایس ایچ:

یہ ہارمون بے شمار گرافین فالیکل کی تعداد اور سائز بڑھاتا ہے جبکہ ان میں سے ایک بڑا ہو جاتا ہے۔ ایف ایس ایچ تھکا اور گرینیولیس کو ایسٹروجن ہارمون خارج کرنے کے لئے تحریک دیتا ہے۔ ایف ایس ایچ کا لیول ایک خاص حد تک بڑھ کر رک جاتا ہے۔

2- ایل ایچ:

یہ ہارمون بھی پیچوٹری غدود کے سامنے والے حصے سے اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ایف ایس ایچ کی پیداوار رک جاتی ہے۔ فالیکل پھٹ جاتا ہے اور اووم خارج ہو جاتا ہے۔ پھر ایل ایچ کے زیر اثر کارپس لیوٹم بڑھتا ہے جس سے دونوں ہارمون ایسٹروجن اور پروجسٹرون پیدا ہوتے ہیں۔ ایل ایچ چودہ دنوں کے لئے پیدا ہوتا ہے۔ اس کے بعد ایف ایس ایچ شروع ہو جاتا ہے۔ اسی طرح یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔

نوٹ: عورت کے جسم میں خون کی غیر طبعی حالت میں مذکورہ نظام کے بگڑ جانے سے نسوانی امراض لاحق ہو جاتے ہیں۔

احتباسِ طمث

(ماہواری بند ہو جانا)

پیچوٹری گلینڈ کے مبیضی کیسوں کو تحریک دینے والے ہارمون F.S.H اور اس کے ساتھ L.H کی تھوڑی سی مقدار کے زیر اثر ایک مبیضی کیسہ Ovary میں دورِ طمث کے تقریباً تیسرے دن نمو پانا شروع کر دیتا ہے۔ نمو کا یہ عمل دورِ طمث کے تیسرے سے چودہویں روز تک جاری رہتا ہے۔ چودہویں دن ایک پختہ بیضہ (Mature Ovum) خارج ہوتا ہے جس کے بعد مبیضی کیسے سے ایسٹروجن اور پروجسٹرون کا افراز عمل میں آنے لگتا ہے۔ ایسٹروجن ایک طرف رحم کی اندرونی سطح پر نموی تبدیلیوں کے عمل کو تحریک دیتا ہے، دوسری طرف نخامیہ کے F.S.H کے افراز کو روکتا ہے۔

دورِ طمث کے چودہویں روز مبیضی کیسہ پھٹ کر بیضے کو آزاد کر دیتا ہے۔ کیسے میں یہ تغیر محرک کیسہ ہارمون L.H کے زیرِ اثر ہوتا ہے اس کے بعد کیسے کے خلیات میں شحمی ساخت بھر جاتی ہے اور ان سے پروجسٹرون اور ایسٹروجن کا افراز ہونے لگتا ہے۔ یہ دونوں ہارمون رحم کی اندرونی سطح (Endometrium) کے خلیات میں افزائش کا عمل تیز تر کر دیتے ہیں اور سطحی غدود کا عمل بھی بڑھا دیتے ہیں۔ جسمِ اصفر کے ہارمون کا افراز نخامیہ کے ہارمون L.T.H کے زیرِ اثر ہوتا ہے۔ رحم کی اندرونی سطح میں مذکورہ بالا تبدیلیوں کے ساتھ ایسٹروجن اور پروجسٹرون کی دورانِ خون میں موجودگی نخامیہ کے ہارمونز F.S.H اور L.H کے افراز پر مانع اثر بھی کرتی ہے۔

اس مرحلے پر اس دورِ طمث میں اگر بیضہ بارآور نہ ہو تو جسمِ اصفر تقریباً 24 روز غیر فعال ہونے لگتا ہے۔ اب چونکہ ایسٹروجن اور پروجسٹرون کا افراز بند ہو جاتا ہے اس لئے رحم کی اندرونی سطح کی جھلی مردہ ہونے لگتی ہے۔

28 ویں روز رحم کی اندرونی جھلی دیوارِ رحم سے الگ ہو جاتی ہے اور طمث شروع ہو جاتا ہے۔ اگر یہ ہارمون پیدا نہ ہو رہے ہوں یا ان کا توازن خراب ہو جائے اور وہ اپنا کام صحیح نہ کر رہے ہوں تو طمث بند ہو جاتا ہے جس سے یہ پیچیدگیاں بڑھ جاتی ہیں:

1- عورت کا جسم بڑھنے لگتا ہے یعنی موٹاپا شروع ہو جاتا ہے۔

2- اس وقت عورت اولاد کی نعمت سے محروم ہو جاتی ہے۔

3- مایوسی، تھکن، اعضاء شکنی شروع ہو جاتی ہے۔

4- جلدی امراض شروع ہو جاتے ہیں۔

5- فشار الدم ضعیف اور سر بوجھل رہتا ہے۔

6- نیند کی زیادتی سے جسم میں رطوبات اور بڑھنے لگتی ہیں جس سے سارا بدن بوجھل پن کا شکار ہو جاتا ہے۔

7- کثرتِ رطوبت سے سیلان شروع ہو جاتا ہے۔

8- بھوک کم لگتی ہے اور بہت کم کھانے کے باوجود جسم پھولنے سے نہیں رکتا۔

9- ناک سے پانی بہنا، زکام اکثر لگا رہتا ہے۔

10- کمر اور ٹانگیں شدید درد کرتی ہیں۔

مجموعی طور پر بلغم کی علامات ہوتی ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ جب بدن میں رطوبات کی زیادتی ہو گی، تب خون کا اخراج بند ہو جائے گا۔

اسباب: تر گرم و تر سرد اشیاء کا کثرتِ استعمال، مانع حمل ادویات۔

کثرت طمث (ماہواری زیادہ آنا)

کثرتِ طمث ہمیشہ خشکی یا سوزش سے ہوتا ہے۔ یہ خشکی اور سوزش بظاہر گرمی کی زیادتی سے ہی کیوں نہ ہو اصلاً یہ گرمی کی کمی کی علامت ہے۔ اس حالت میں حیض معینہ مدت سے زیادہ آتا ہے۔ بے قاعدگی اور کثرت سے آتا ہے۔ کبھی خون دونوں مدتوں کے درمیان بھی آنا شروع ہو جاتا ہے۔ یا مقررہ ایام سے بڑھ کر کئی دنوں تک جاری رہتا ہے۔ اسے استحاضہ کہتے ہیں اور اس خشکی اور سوزش کا علاج محللات سے کرنا چاہئے۔

اسباب: خشک گرم اشیاء کا کثرتِ استعمال، ایامِ حیض میں مجامعت کرنا، خشکی سے رگ پھٹنا، انشقاق رحم، اسقاط حمل۔

عسر طمث (ماہواری تنگی اور تکلیف سے آنا)

اس مرض کا سبب خصیتہ الرحم کی سوزش ہے۔ اس سوزش کو ختم کرنا ہی اس مرض کا علاج ہے۔ اس مرض میں حیض کی مقدار کم اور اس کا اخراج نہایت تکلیف دہ ہوتا ہے۔

بسا اوقات تکلیف میں شدت ہونے سے مریضہ رونے لگتی ہے۔ ہاتھ پاؤں گرم، ان میں جلن ہوتی ہے۔

اسباب: گرم اشیاء کا کثرتِ استعمال، رنج و غم، کثرتِ مجامعت، موٹاپا پیدا کرنے والی غذائیں جو خون میں غلظت پیدا کرتی ہیں جس سے خون کے اخراج میں تکلیف ہوتی ہے۔

سلعتہ الرِحم

(رحم کی گلٹیاں، رسولیاں)

یہ عموماً 25 سے 50 سال کی عمر کے درمیان ہوتا ہے۔ رحم کا طبعی مزاج بگڑ جانے سے اس مرض کی ابتداء ہوتی ہے۔ سوزش ہو کر ایک یا زیادہ گلٹھیاں بن جاتی ہیں جن کا سائز مٹر کے دانے سے لے کر بیضہ مرغ یا اس سے بھی بڑی ہو جاتی ہیں۔ بسا اوقات حمل کا شبہ ہونے لگتا ہے۔ مقامِ قاذف پر دبانے سے درد ہوتا ہے۔ مریضہ ہر وقت پریشان اور تھکاوٹ سے بے چین رہتی ہے۔ رنگ پھیکا، نقاہت، کمیِ خون، بلڈ لو، ہاضمہ خراب، ایام کی باقاعدگی دیگر عوارض لاحق ہوتے ہیں۔ حمل ٹھہر جائے تو اسقاط ہو جاتا ہے۔ چلنے پھرنے سے تکلیف ہوتی ہے۔ الٹراساؤنڈ سے تشخیص کلیہ ہو جاتی ہے۔

سادہ رسولی ایک حد تک بڑھ کر رک جاتی ہے۔ قرب و جوار کی ساختوں کو متاثر نہیں کرتی اور نہ ہی اس سے بخار اور درد ہوتا ہے۔ بسا اوقات رسولی اگر رحم کے پچھلے حصے میں ہو تو معائے مستقیم پر دباؤ پڑتا ہے جس سے قبض یا موشن لگے رہتے ہیں۔ اگر رحم کے اگلے حصے میں ہو تو مثانہ پر دباؤ پڑتا ہے اور پیشاب کی بار بار حاجت ہوتی ہے۔

اسباب: سرد خشک اشیاء کا کثرتِ استعمال۔

ورمِ رحم (رحم کی سوزش/انفیکشن)

رحم کی سوزش اور ورم سے تمام جسم میں حرارت بخار کی طرح تیز ہو جاتی ہے۔ اس تکلیف سے اندامِ نہانی اس قدر کمزور ہو جاتی ہے کہ معمولی چوٹ بھی ناقابلِ برداشت ہوتی ہے اور مجامعت محال ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں اگر مرد شدت دکھائے تو عورت کو سخت تکلیف ہوتی ہے جو کئی دنوں تک محسوس ہوتی رہتی ہے اور مجامعت کی طرف رغبت نہیں رہتی۔ پیڈو اور کمر میں شدید تکلیف ہوتی ہے۔ اس مرض میں عموماً شرم و حیاء والی لڑکیاں مبتلا رہتی ہیں۔

اسباب: گرم خشک اشیاء کا کثرتِ استعمال، جنسی ہیجان، گرم آب و ہوا، بخار، دیگر امراضِ رحم۔

صلابت رحم (رحم کی سختی)

رحم کے عضلات میں مزمن سوزش کی وجہ سے رحم میں سختی پیدا ہو جاتی ہے۔ پھر اس میں بنجر پتھریلی زمین کی طرح کوئی چیز پیدا نہیں ہوتی۔

اسباب:

سرد خشک اشیاء کا کثرت استعمال۔

نتوء رحم (رحم باہر آنا)

رحم کا حصہ نرم ہو کر ڈھلکنے لگتا ہے اور باہر نکلنے لگتا ہے۔ یا کسی قدر نیچے آ جاتا ہے۔ رحم میں رطوبات بڑھ جانے سے اس کا جسم پھولنے لگتا ہے۔

اسباب: بلغمی اشیاء کا کثرتِ استعمال، سیلان الرحم، سرد آب و ہوا۔

رحم ٹل جانا

آنتوں میں دباؤ، قبض، بھوک بند اور پٹھوں میں کھچاؤ کی وجہ سے جھکنے میں تکلیف ہوتی ہے۔ رحم اپنی جگہ سے ٹل کر سامنے یا پیچھے کی جانب جھک جاتا ہے۔ کمر درد اور دونوں پاؤں پر بوجھ محسوس ہوتا ہے۔

اسباب: عضلاتِ رحم میں تشنج، چھلانگ لگانا، بار بار اسقاط، خون کی کمی، جگر کی خرابی، شدید قبض۔

استسقائے خصیتہ الرحم

(اوورین سسٹ)

عورت کی اووری سے ہر ماہ بیضہ خارج ہو کر فیلوپین ٹیوب کے ذریعے رحم میں پہنچتے ہیں۔ کبھی ان اووریز میں سسٹ بن جاتی ہیں تو اس وقت یہ علامات ظاہر ہوتی ہیں:

ابتداء میں کوکھ اور پیڈو کے درمیان گول ابھار محسوس ہوتا ہے۔ رفتہ رفتہ یہ ابھار تمام پیٹ کو گھیر لیتا ہے۔ اگر مریضہ کے پیٹ پر دونوں ہاتھ رکھ کر ایک طرف حرکت دیں تو دوسرے ہاتھ کو پانی کی لہریں محسوس ہوتی ہیں چونکہ اکثر حالات میں صرف ایک ہی خصیہ مبتلائے مرض ہوتا ہے اس لئے مریضہ کو حیض کی کوئی شکایت محسوس نہیں ہوتی لیکن بحالتِ شدت مرض قلتِ حیض یا احتباسِ طمث کا مرض رونما ہوتا ہے۔ اگر مریضہ کمزور ہو تو اس کے غلاف کے تناؤ کی وجہ سے کثرتِ حیض کی شکایت بھی ہو سکتی ہے۔ کبھی بدبودار لیس دار رطوبت بہتی ہے جس سے خارش ہونے لگتی ہے۔ پیڈو اور کمر میں درد، سرخی اور گرمی پائی جاتی ہے۔ پانی کے زیادہ جمع ہو جانے کے باعث شکم اور حجابِ حاجز پر تناؤ پڑنے سے تنفس میں تکلیف ہونے لگتی ہے۔ اکثر قبض رہتا ہے۔ مثانہ پر دباؤ پڑنے سے پیشاب میں تھوڑا تھوڑا اور جلد جلد آتا ہے جسے مریضہ روک نہیں سکتی۔ کبھی مجرائے بول پر دباؤ پڑ کر پیشاب اس طرح رُک جاتا ہے کہ کیتھٹر کے بغیر خارج نہیں ہوتا۔

کبھی گردن پر دباؤ پڑنے سے پیشاب کی پیدائش کم ہوتی ہے اور خون میں پیشاب کے زہریلے اجزاء مل کر کئی قسم کی تکلیفات اور آفات کا باعث بنتے ہیں۔ اس حالت میں مباشرت سے شدید تکلیف ہوتی ہے۔

اسباب: ایلوپیتھی اینٹی بائیوٹک ادویہ کا استعمال، گرم خشک اشیاء کا استعمال۔

اختناق الرحم

اس میں اوّل دو صورتیں کام کرتی ہیں جو شدید ہیں۔

ان میں بھی غدی عضلاتی تحریک زیادہ تیز ہے۔ اس کا مرکز عورتوں میں خصیتہ الرحم ہوتا ہے۔ اس تحریک سے خون و ریاح کا دباؤ بڑھ جاتا ہے اور انزال و اخراجِ رطوبت رک جاتا ہے، جس سے ذکاوت و لذت اور شہوت میں تیزی پیدا ہو جاتی ہے اور بعض اوقات اس قدر شدت ہو جاتی ہے کہ مریضہ مغلوبِ ذکاوت و لذت اور شہوت ہو جاتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ کوئی مریضہ ظاہر میں ذکاوت و لذت اور شہوت کی حقیقت اور اسرار سے واقف نہیں ہوتی۔ وہ اس کو مرضِ دورہ کا مرض خیال کرتی ہے کیونکہ اس میں جسم خصوصاً رحم میں جو سنسناہٹ یا تیزی کا احساس ہوتا ہے اس کو وہ ماہواری کی خرابی اور درد خیال کرتی ہے۔ لذت و شہوت کا تصور کرنا بھی اس کی حیاء اور نسوانیت گوارا نہیں کر سکتی۔ عورت تو کیا جو مرد بھی اس مرض میں گرفتار ہو مغلوب الشہوت ہو جاتے ہیں۔ وہ بھی اس کو مرض ہی تصور کرتے ہیں۔ اپنی لذت و شہوت کی زیادتی کا احساس تک نہیں کر سکتے البتہ اس مرض میں پیشاب کے ساتھ جو منی اخراج پاتی ہے اس کو سببِ مرض اور کمزوری قرار دے لیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مرض کی اصل حقیقت سے نہ عورت واقف ہوتی ہے اور نہ مرد آگاہ ہوتا ہے۔

اسبابِ مرض:

یہ مرض زیادہ تر ان لڑکیوں میں بالغ ہونے کے بعد ظاہر ہوتا ہے جن کو کھانے پینے کی بے فکری ہو اور تعلیم یا کام کاج کی کوئی فکر نہ ہو۔ وہ اس صورت میں جبکہ جوشِ جوانی اپنے پوری جوبن پر ہو کیونکہ ان دنوں خون کی زیادتی کے ساتھ ساتھ اعضاء کے افعال بھی تیز ہو جاتے ہیں اور غدی عضلاتی تحریک سے طبیعت میں اس قدر نزاکت پیدا ہو جاتی ہے کہ اگر ذرا سا بھی کوئی غیر معمولی واقعہ یا صدمہ پہنچ جائے تو مزاج بگڑ جاتا ہے۔ کوئی غیر معمولی غم و غصہ، دہشت ناک خبر یا عشق و محبت کی داستانیں سن لیں یا تجربہ میں آ جائیں یا ناول اور افسانہ اور فلم میں ایسا غیر معمولی واقعہ پیش آ جائے جو برداشت نہ ہو سکے اور ایسا معلوم ہو کہ ذاتی واقعہ ہے۔ لذائذ کی کثرت، جلق اور غیر فطری حرکات اور انتہائی مشکلات اکثر نقصان رساں ہوتی ہیں۔

ناواقف اور بھولی بھالی لڑکیوں اور امراضِ رحم، ماہواری کی خرابی، کثرتِ مطالعہ، دماغ سوزی، غور و فکر، کمی و خرابیِ خون اور اغذیہ کا توازن بگڑ جانا، بہت جلد بچیوں کو ہسٹریا جیسے خوفناک مرض میں مبتلا کر دیتا ہے۔ بعض شرم و حیاء کی وجہ سے ناواقف اور بھولی بھالی لڑکیاں گیلے کپڑوں کا استعمال کر لیتی ہیں یا خاص دنوں میں سرد پانی کا استعمال یا نہانا یا غیر معمولی حرکات کر لینا وغیرہ سے کبھی کبھی عشق و محبت کے واقعات دیکھنا یا قصے کہانیاں پڑھنا بھی اس مرض میں مبتلا کر دیتا ہے۔

علامات مرض:

اس مرض کا نام اختناق الرحم اس لئے ہے کہ اس کا تعلق رحم کے ساتھ ہے اور اس میں اخراج و نزولِ رطوبت میں اعتدال قائم نہیں رہتا اور وہاں گھٹن معلوم ہوتی ہے۔ انگریزی میں اس کو ہسٹریا بھی اس لئے کہتے ہیں کہ اس کے معنی رحم کے ہیں اور اس میں سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ قوتِ ارادی کمزور ہو جاتی ہے اور مریضہ اپنی طبیعت پر قابو نہیں رکھ سکتی۔ بغیر بھوک کے غذا کھانا، بدہضمی اور نفخ کی زیادتی عام طور پر پیٹ میں ہوا کا گولا سا معلوم ہوتا ہے جو دورے کے وقت بڑھ کر تمام پیٹ کو گھیر لیتا ہے۔ پھر اوپر چڑھتا ہے اور گلے کے پاس آ کر پھنس جاتا ہے۔ اس وقت مریضہ بے ہوش ہو کر آرام سے چارپائی پر گر جاتی ہے۔

جن دنوں دوروں کا زور ہو ان دنوں مریضہ زیادہ باتیں کرتی ہیں۔ جلد جلد غم و غصہ میں گرفتار ہو جاتی ہے۔ اکثر لڑکیاں عشقیہ باتیں کرتی ہیں۔ بعض کو مذہبی جنون اور دینی جوش پیدا ہو جاتا ہے۔ پاکی، طہارت، نماز و خیرات کی طرف زیادہ مائل رہتی ہیں۔ غیر معمولی آوازیں سنتی ہیں اور عجیب و غریب روشنیاں دیکھتی ہیں۔ ایسے خواب دیکھتی ہیں جو ظاہراً نیکی اور مذہبی محبت پر دلالت کرتے ہیں لیکن ایک واقفِ علمِ خواب اور ماہرِ تعبیر خوب جانتا ہے کہ یہ جنسی اشارے ہیں۔ خاص طور پر مسجد کے مینار دیکھنا یا پیر فقیر اور اولیاء اللہ سے ملاقات کرنا وغیرہ۔ اسی طرح اکثر خواب میں دیکھنا کہ سانپ و چوہا، بھینسا، بیل، شیر و ریچھ اس کے پیچھے دوڑ رہے ہیں یا بدمعاش اور لفنگے پیچھا کر رہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

شادی شدہ عورتیں دورہ کے بعد بہت ننگی اور بے حیائی کی باتیں کرتی ہیں اور مردوں پر ناشائستہ الزام لگاتی ہیں اور ان کو بدنام کرتی ہیں۔ ان کی دوسری شادی کے خوف میں ہر وقت پریشان رہتی ہیں۔ دورہ شروع ہونے سے قبل عجیب قسم کی باتیں اور حرکات کرتی ہیں۔ کبھی ہستی ہیں، کبھی روتی ہیں، کبھی گاتی ہیں اور کبھی عشقیہ اشعار پڑھتی ہیں۔ بہرحال ان کا ذہنی توازن بگڑ جاتا ہے۔ سانس میں تیزی، سر بوجھل یا درد اور چکر ہیں۔ بہرحال ان کا ذہنی توازن بگڑ جاتا ہے۔ سانس میں تیزی، سر بوجھل یا درد اور چکر آتے ہیں۔ رنگ زرد اور کمزوری اور تھکاوٹ کی زیادتی، بس ایک دم اس کی طبیعت غیر ہو جاتی ہے اور دورہ شروع ہو جاتا ہے۔ مرگی کا مریض یک دم گر جاتا ہے اور خطرناک مقام پر بھی گر پڑتا ہے اور منہ سے جھاگ آتی ہے لیکن ہسٹریا کی مریضہ گرنے میں بھی غیر شعوری طور پر ہوشیار رہتی ہے بلکہ دورہ میں نیم شعور بیدار رہتا ہے جب وہ ہوش میں آتی ہے تو گرنے سے لے کر بے ہوشی تک کے واقعات بیان کر دیتی ہے۔

خواہش کی کمی

بعج عورتوں میں جنسی خواہش بہت کم ہوجاتی ہے جسے مرد اس وقت محسوس کرتا ہے جب وہ اسے مباشرت کے لئے تیار کرنا چاہتا ہے مگر وہ ٹس سے مس نہیں ہوتی۔ مباشرت کے بعد بھی عورت کو احساس نہیں ہوتا۔

اسباب:

تر سرد اشیاء کا کثرت استعمال، ذہنی پریشانی، خوف، موٹاپا، حمل ٹھہر جانا، تولیدی اعضاء کی بیماری، عادات خاوند سے نفرت، عمر زیادہ ہونا۔

اٹھرا

بانجھ پن کی طرح اٹھرا نہ کوئی مرض ہے اور نہ ہی کوئی علامت ہے البتہ ایک ایسی حالت کا نام ہے جو ایسے مرد و عورت میں پائی جاتی ہے جن کی اولاد پیدائش سے لے کر آٹھ سال تک مر جاتی ہے۔ اس حالت کا اس وقت تک علم نہیں ہوتا جب تک دو چار بچے اس عمر کے اندر نہ مر جائیں۔ اس حالت کا پتہ چل جانے کے بعد عورت کو پریشانی اور غم ہوتا ہے کیونکہ عورتوں کو یقین ہے کہ اس مرض کا علاج ادویات سے نہیں ہو سکتا۔ اس کا تعلق جنات کے ساتھ ہے یا کسی ایسی عورت کے سائے کا اثر ہوتا ہے جس پر جنات یا ایسے امراض کا اثر ہو۔ اسی طرح بھوت پریت اور تعویذ گنڈوں کا اثر بھی خیال کیا جاتا ہے لیکن یہ سب غلط ہے۔

اس حالت کا احساس عوام خاص طور پر دیہاتی عورتوں میں پایا جاتا ہے۔ پڑھے لکھے طبقے میں اس کو جہالت اور بے علمی کہا جاتا ہے لیکن جب پڑھے لکھے خاندانوں میں یہ حالت پائی جائے تو وہ خود اس کو مانتے ہیں بلکہ تعویذ گنڈوں اور پیروں فقیروں کے پاس بھی جاتے ہیں لیکن یہ سب کچھ بے فائدہ ہے۔

علامات: ایسی عورتوں کا جب بار بار بغور مطالعہ کیا گیا تو ان میں خاص اقسام کی علامات پائی گئیں مثلاً پیشاب میں جلن اور تنگی، ہاتھ پاؤں کا جلنا، تلوؤں میں ایسی جلن جیسے وہاں پر زخم ہوں۔ اکثر قبض اور خشکی، پیٹ میں رحم کے گردا گرد جیسے کسی نے پٹی باندھ کر جکڑ دیا ہو۔ بعض کو خارش، پھنسیاں اور پھوڑے، منہ میں دانے، گلے میں زخم، دائمی نزلہ آنکھوں میں دائمی جلن، بعض کے پیٹ میں باؤ گولا، اختناق الرحم کے دورے، طبیعت میں غصہ، تیزی اور کسی کی بات برداشت نہ ہونا، اکثر ہر شخص اور گھر بھر سے ناراض رہنا، یہاں تک کہ کسی بچے پر بھی پیار مشکل سے آتا ہے۔

بچے جو پیدا ہوتے ہیں اکثر ظاہراً تندرست پیدا ہوتے ہیں، پھر رفتہ رفتہ سوکھنے لگتے ہیں۔ بعض پیدائش کے وقت سے ہی مریض ہوتے ہیں۔ بعض بچوں میں سوزاک کی علامات بھی دیکھی گئی ہیں۔ بعض بچے پیدائش کے وقت تندرست ہوتے ہیں مگر تین دن کے اندر ان کی آنکھوں میں سیاہی پھیل جاتی ہے اور وہ اندھے ہو کر مر جاتے ہیں۔ بعض بچے ایسے گلے سڑے ہوتے ہیں جیسے گندھا ہوا آٹا اور اس میں سخت بو آتی ہے۔

خاص بات:

1- اٹھرا کا مرض ان خاندانوں میں پایا جاتا ہے جن میں مرضِ سوزاک کا اثر ہوتا ہے۔ یہ اثر باپ کی طرف سے اولاد میں منتقل ہوتا ہے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ اوّل بیوی پر اثر انداز ہوتا ہے اور اس میں سوزاک یا ایسے دیگر عوارضات پیدا ہوتے ہیں جن کے ساتھ ہی اس میں اٹھرا کا مرض پیدا ہو جاتا ہے۔ ایسے میاں بیوی کی اولاد اوّل تو تندرست پیدا نہیں ہوتی اور اگر تندرست پیدا ہوتی ہے تو جلد مر جاتی ہے۔

2- عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ اٹھرا میں عورتوں کے اندر خرابی پائی جاتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ عورتوں میں یہ خرابی مردوں کی طرف سے آتی ہے اس لئے ایسے مرض میں مردوں کا معائنہ بھی کر لینا چاہئے اور یہ دیکھ لینا چاہئے کہ اٹھرا کی حالت مرد یا اس کے خاندان کی طرف سے تو نہیں آئی۔ اس صورت میں عورتوں کے ساتھ مردوں کا علاج بھی ضروری ہے۔

اسباب: سوزاک کی زہر کے اثرات، گرم اشیاء کا کثرتِ استعمال۔

بانجھ پن

W.H.O کے مطابق شادی کرنے کے ایک سال باقاعدہ مباشرت کرنے کے باوجود حمل نہ ٹھہرے تو مرض بانجھ پن تصور ہو گا۔ پیدائشی نقص کے علاوہ تمام صورتوں میں علاج ممکن ہے۔

اسباب: ماہواری بند ہونا اور اووری سے بیضہ کا اخراج رک جانا، ورمِ رحم، مانع حمل ادویات کا استعمال، بر وقت مباشرت نہ ہونا، ایسٹروجن اور پروجسٹرون ہارمونز کی بے ترتیبی، فیلوپین ٹیوب کی خرابی۔

خواتین میں حیض کا دورانیہ عموماً اٹھائیس روز کا ہوتا ہے۔ حیض کے آغاز سے تقریباً چودہویں دن بعد اووری سے بیضہ خارج ہوتا ہے۔ اس کے بعد اٹھائیس گھنٹوں تک کسی وقت بھی مباشرت کرنے سے حمل ٹھہر جاتا ہے۔ بیضہ کے اخراج کی بڑی علامت یہ ہے کہ عورت کے جسم کا درجہ حرارت1-0.5°C بڑھ جاتا ہے۔ یہ مسلسل تین دن قائم رہتا ہے۔ عورت کا جسم قدرے گرم اور وہ جنسی لحاظ سے تیز ہو جاتی ہے۔ اگر ان تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں روز مباشرت کی جائے تو حمل ضرور ٹھہر جائے گا۔ خون میں پروجسٹرون ہارمون کی مقدار کی موجودگی سے بیضہ کے اخراج کی نشاندہی ہوتی ہے۔ خون میں پروجسٹرون کے اخراج کے بعد نارمل لیول 10 ملی گرام فی لیٹر ہوتا ہے۔

فیلوپین ٹیوب کی خرابی:

اس کی تین صورتیں ہیں:

1- اعصاب میں تحریک ہونے سے احتباس طمث کا مرض لاحق ہوتا ہے۔

2- عضلات میں تحریک ہونے سے صلابت رحم کا عارضہ لاحق ہوتا ہے۔

3- غدد میں تحریک ہونے سے ورم رحم کا مرض لاحق ہوتا ہے۔

نوٹ: بعض اوقات خاوند اور بیوی کی رپورٹس نارمل ہوتی ہیں یعنی مرد کے سپرم 60% یا اس سے زیادہ ہوتے ہیں اور عورت کے بیضے بھی اپنی روٹین سے آ رہے ہوتے ہیں لیکن حمل نہیں ٹھہرتا۔ بڑے بڑے فاضل اطباء اور ڈاکٹر صاحبان تھک ہار جاتے ہیں اور کہنے لگتے ہیں کہ اب اس کا کوئی حل نہیں، زیادہ سے زیادہ آپ دعا کرا سکتے ہیں۔ یاد رکھئے دعا کرنا اور زندہ لوگوں سے کرانا سنت ہے اس سے تمام مسائل حل ہو جاتے ہیں لیکن طب میں اسے ایک مرض کی حیثیت سے بیان کر رہا ہوں کیونکہ عرصہ دراز کی تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ مرد کے سپرم کے آگے Plasmin ہوتا ہے جو تیر کی مانند ہوتا ہے وہ عورت کے بیضے کو جو پروٹین کے غلاف میں ملفوف ہوتا ہے اسے کراس نہیں کر سکتا اس لئے حمل نہیں ہوتا۔ ایک طرف مرد میں کمی ہے تو دوسری طرف عورت میں زیادتی کہ وہ زیادہ عضلاتی غذائیں کھاتی ہے

اسستقرار حمل

ضعفِ رحم کی وجہ سے بعض اوقات حمل نہیں ہوتا اس صورت میں عورت کا طبعی مزاج قائم نہیں رہتا ہے جس سے یہ علامت واقع ہوتی ہے۔ جوان عورت کا طبعی مزاج غدی عضلاتی ہے اسے بحال کریں تو اس کے رحم میں تقویت پیدا ہو جائے گی اور یہ حقیقت ہے کہ یہ تقویت رحم میں حرارت پیدا کرنے سے ہوتی ہے۔ جب اس کی صحیح حرارت بحال ہوتی ہے تو پھر حمل ضرور ہو جاتا ہے۔

اسباب: تر گرم، تر سرد اور سرد خشک اشیاء کا کثرتِ استعمال۔

حمل کاذب

بانجھ پن عورتیں حمل کے لئے بے قرار ہوتی ہیں اس لئے ماہواری کے بعد ایک نئی امید لگا لیتی ہیں۔ اکثر ایسی عورتوں کو ماہواری کی خرابی کا مرض ہوتا ہے اس لئے بسا اوقات کئی کئی ماہ ماہواری نہیں آتی جس پر ان کو حمل کا یقین ہو جاتا ہے۔ اکثر پستان پھول جاتے ہیں اور بعض اوقات دودھ بھی نمودار ہو جاتا ہے اور بعض اوقات دردِ زہ لاحق ہو کر گوشت کا ایک ٹکڑا سا خارج ہو جاتا ہے۔ اسی طرح کثرت سے رطوبات کا اخراج ہوتا ہے۔ کبھی یہی مادے متعفن ہو کر نفسِ حیوانی کو قبول کر لیتے ہیں چنانچہ بعض عورتیں کچھوے، سانپ وغیرہ چیزیں جنتی ہیں۔

حمل صادق و کاذب:

جب عورتوں کو حمل ہوتا ہے تو ان میں عضلاتی تحریک بڑھنی شروع ہو جاتی ہے۔ حاملہ عورتوں کی نبض اور قارورہ وغیرہ روز بروز عضلاتی ہوتے جاتے ہیں۔ مثلاً جی متلانا، قے آنا، بھوک بند ہو جانا وغیرہ یہ عرصہ آٹھ ماہ تک رہتا ہے۔ پھر تحریک بدل کر غدی اعصابی ہونے لگتی ہے اور ایسے ہی امراض لاحق ہوتے ہیں۔ مثلاً رقتِ کمیِ خون، قبض، پیشاب کی بندش کی بجائے بار بار پاخانہ اور پیشاب کا دباؤ بڑھنا، کبھی کبھی پیچش وغیرہ خاص قسم کی علامات ہیں۔ جو حمل کاذب میں نہیں پائے جاتے۔ کاذب حمل کی علامت پیٹ میں رسولی کی علامت سے ملتی جلتی ہیں اور نفخ اور قرار بڑھ جاتا ہے۔

اس کی مزید تشخیص پیشاب ٹیسٹ اور الٹراساؤنڈ سے ہو جاتی ہے۔

متعلقہ بیماریاں

امراضِ نسواں | خواتین کی تولیدی صحت، ماہواری کے مسائل اور پستانی امراض