Menu
تعلیمی3 منٹ پڑھائی

بالوں کے امراض

بالوں کے امراض میں بال گرنا، بال سفید ہونا اور بالچر/داء الثعلب شامل ہیں۔ غذائی اور جسمانی خرابیوں کے باعث بال کمزور ہو کر گر سکتے ہیں، جبکہ سفید بال کسی بھی عمر میں ظاہر ہو سکتے ہیں۔ داء الثعلب میں سر یا داڑھی کے مخصوص حصوں سے بال جھڑنے لگتے ہیں۔

بالوں کے امراض

بالوں کے مختلف امراض ہیں:

بال گرنا

اس کی دو اقسام ہیں:

  1. بوجہ کثرت بلغم

  2. بوجہ کثرت سوداء

بوجہ کثرت بلغم:

بلغم کی کثرتِ پیدائش کی وجہ سے بال گرنے لگتے ہیں۔ جلد کے مجاری و مسامات بگڑ جاتے ہیں جس سے بالوں کو صحیح غذا نہیں ملتی تو وہ کمزور ہو کر گرنے لگتے ہیں۔

بوجہ کثرت سوداء:

کثرتِ سوداء سے خون گاڑھا ہو جاتا ہے جس سے غددِ ناقلہ کمزور پڑ جاتے ہیں وہ ضروری غذا کو بالوں تک نہیں پہنچا سکتے جس کی وجہ سے وہ گرنے لگتے ہیں۔

بال سفید ہو جانا

ضعفِ ہضم اور قلتِ حرارت کی وجہ سے خون میں مائیت آ جاتی ہے تو بال سفید ہونے لگتے ہیں عموماً ایسے مریض زکام اور ریشہ جیسی تکالیف میں مبتلا ہوتے ہیں۔ سوداء کے غیر طبعی ہونے سے بالوں کے تمام امراض پیدا ہو جاتے ہیں۔

اسباب: بلغمی اشیاء کا کثرتِ استعمال۔

سفید بالوں کی حقیقت:

اس حقیقت کو ہمیشہ مدنظر رکھیں کہ بالوں کے سفید ہونے کے لئے تو خاص عمر کی حد مقرر نہیں ہے بلکہ وہ ہر عمر میں سفید ہو سکتے ہیں۔ ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض مزاجوں میں بچپن ہی سے بال سفید ہو جاتے ہیں اور اس کے برعکس بعض مزاجوں میں ساٹھ سال تک جا کر سفید ہوتے ہیں اور بعض مزاجوں میں چالیس سال کے بعد آہستہ آہستہ بال سفید ہونے شروع ہوتے ہیں اور بعض طبائع کے چند ماہ میں بال سفید ہو جاتے ہیں۔ تاریخ میں ایسے لوگوں کا ذکر ہے جن کے بال غم سے ایک رات میں سفید ہو گئے تھے۔

یہی تو حقیقت ہے کہ جن لوگوں کے اعصاب ذکی الحس یا کمزور ہوتے ہیں، ان کے بال بہت جلد سفید ہو جاتے ہیں لیکن ہماری تحقیقات میں بال ان کے جلد سفید ہوتے ہیں جو نزلہ زکام کے دائمی مریض ہوتے ہیں یا جن کے جسم میں حرارت کی کمی یا پیدائش کم ہو جاتی ہے۔ انہی کے بال ہی جلد سفید ہوتے ہیں۔

البتہ جن لوگوں کے جسم میں صفراء کی زیادتی ہوتی ہے، ان کے بالوں کو ستر سال تک بھی سیاہ دیکھا گیا ہے۔ ان امور سے ثابت ہوتا ہے کہ بالوں کا تعلق اعصاب کی نسبت زیادہ تر غدد سے ہے جو جگر کی تیزی سے خود بھی تیز رہتے ہیں۔ اس طرح بال ایک بڑی عمر تک سفید نہیں ہوتے۔ گویا بالوں کے لئے فولاد کی سرخی کا ہونا ضروری ہے۔ ان حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اس حقیقت کو ذہن نشین کر لیں کہ نزلہ و زکام کی کثرت رطوبتِ غریزی میں کمی و بیشی اور خرابی و فساد پیدا ہو جاتا ہے جس سے حرارتِ غریزی کی پیدائش بگڑ کر کم ہو جاتی ہے اس لئے سفید بالوں کا بہترین علاج یہ ہے کہ حرارتِ غریزی پیدا کی جائے۔

بالچر / داء الثعلب

بالچر...... سر کے کسی حصہ سے بال جھڑ جانے کو بالچر کہتے ہیں۔

داء الثعلب...... سر کی جلد پر چھوٹی چھوٹی پھنسیاں پیدا ہو کر ایک داغ سا بن جاتا ہے۔ پھر ان پھنسیوں کے خشک ہونے پر بھوسی جھڑنے لگتی ہے اور ساتھ ہی سر کے بال جھڑنے لگتے ہیں۔ اس مرض کو داء الثعلب کہتے ہیں۔

اگر یہ مرض داڑھی کے بالوں میں ہو تو اسے داء اللحیہ کہتے ہیں۔

اسباب: سرد خشک اشیاء کا بکثرت استعمال۔

متعلقہ بیماریاں

بالوں کے امراض: بال گرنا، سفید بال اور بالچر