صداع
صداع سر میں ہونے والے درد یا تکلیف کو کہتے ہیں۔ یہ درد سر کے کسی بھی حصے، کھوپڑی یا گردن تک محسوس ہو سکتا ہے۔ یہ ہلکا بھی ہو سکتا ہے اور شدید بھی، اور کچھ دیر کے لیے یا بار بار بھی ہو سکتا ہے۔ سر درد کیا ہوتا ہے؟ سر درد اس وقت ہوتا ہے جب سر کے اندر موجود درد محسوس کرنے والے حصے جیسے اعصاب، خون کی نالیاں یا پٹھے کسی وجہ سے متاثر یا تناؤ کا شکار ہو جائیں۔
سر درد کی اقسام:
۱) صداع حار ساذج:
محض حرارت پہنچنے سے سر میں درد ہوتا ہے۔
خارجی اسباب:
شدید دھوپ میں چلنے، آگ کے قریب کام کرنے یا کسی بھی طرح حرارت کے زیر اثر زیادہ دیر تک کام کرنے سے سر میں درد ہونے لگتا ہے کیونکہ ان کی گرمی جسم کی گرمی سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔ اس طرح جب دو چیزیں آپس میں ملتی ہیں کہ ایک ان میں سے زیادہ گرم اور دوسری کم گرم تو کم گرم شئے بھی زیادہ گرم ہو جاتی ہے۔ اس طرح دھوپ کی گرمی سے پہلے سر کی وہ سطح گرم ہوتی ہے جو گرم شئے سے ملی ہوتی ہے۔ اس کے بعد دوسرے اعضا جو سر کی سطح سے متصل ہوتے ہیں، گرم ہو جاتے ہیں۔ ان کا گرم ہونا س گرم کرنے ولی شئے کے زمانہ قیام اور اس آدمی کی استعدد کے مطابق ہوتا اس طرح سر میں حرارت پہنچنے سع رقیق اور لطیف رطوبات تحلیل ہو جاتی ہیں اور بقیہ گرم ہو جاتی ہیں، ان میں جوش آجاتا ہے اور ان کا حجم بڑھ جاتا ہے اور اس مقدار میں تناوٗ پیدا ہو جاتا ہے جس میں جھلیاں، رگیں اور شرائین موجود ہوتی ہیں۔ علامات: سر کی جلد چھونے سع گرم محسوس ہوتی ہے، پیاس لگتی ہے، منہ اور نتھنے خشک ہوتے ہیں اور کانوں میں ایسی آواز آتی ہے جس کا خارج میں وجود نہیں ہوتا، پاخانے کا رنگ اور قوام معتدل ہوتا ہے۔ اس میں کوئی جھاگ نہیں ہوتی۔ تر گرم اور تر سرد اشیا کھانے کی شدید خواہش ہوتی ہے اور گرم خشک چیزوں کی طرف رغبت نہیں ہوتی۔ ٹھنڈی اشیا کے استعمال سے سکون اور گرم کے استعمال سے اضطراب ہوتا ہے۔فہم متاثر، نیند کم اور حواس میں کسی قدر تکدر پیدا ہو جاتا ہے۔
داخلی اسباب:
کبھی سر درد گرم خشک غذاؤں جیسے لہسن، میتھرے، سرسوں، انڈ اور گوشت اور اسی درجے کی دوائیں جیسے اجوائن دیسی، رائی، کھجور زرد رنگ والی کھانے سے گرم بخارات پیدا ہوتے ہیں جو دماغ کی طرف جا کر اسے بہت جلد گرم کر دیتے ہیں اور وہاں درد کا سبب بنتے ہیں یا شدت سے سوزش کر کے درد پیدا کرتے ہیں اور ان بخارات کی وجہ سے سر کے اخلاط میں جوش پیدا ہو جاتا ہے اور متخلل ہو کر حجم میں بڑھ جاتے ہیں جس سے سر درد ہونے لگتا ہے۔
علامات:
منہ اور نتھنے خشک ہوتے ہیں، قلق اور بے چینی ہوتی ہے۔ غلبہ حرارت سے افعال میں اضطراب اور تشویش پیدا ہو جاتی ہے۔ دماغ کو خالص روح نفسانی کم ملنے کی وجہ سے حواس درست نہیں رہتے، غوروفکر کی قوت متاثر ہو جاتی ہے، دماغ میں گرمی خشکی ہونے سے نیند مضطرب ہو جاتی ہے۔
۲) صداع خبطہ (درد سر سرد سادہ):
صداع خبطہ سے مراد ایسی حالت ہے کہ جس میں سردی کے باعث دماغ میں کندی حواس جیسی کیفیت ہو جاتی ہے کہ آدمی اپنے آپ کو جہاں پر بھی ہو، سونے کے لئے لیٹ جانے پر مجبور کر دیتا ہے۔ یہ سر درد بھی دو اسباب سے ہوتا ہے:
خارجی اسباب:
یہ درد سر خارجی اسباب سے پیدا ہوتا ہے جیسے ہوا کی سردی، برف پر چلنا یا برفیلا پانی پینا، سرد پانی سے نہانا۔ یہ کام حرارت کو ضعیف اور عضو کو سرد کر دیتے ہیں۔ اس طرح دماض جب سرد ہو جاتا ہے تو جمع شدہ اخلاط کو نہ نکال سکتا ہے اور نہ ہی تحلیل کر سکتا ہے اور اس میں جمع تر سرد بخارات حواس میں گرانی کا سبب بنتے ہیں۔
علامات:
حواس سست اور مکدر ہوتے ہیں کیونکہ سردی اعصاب کو کثیف بنا کر مسامات کو بند کر دیتی ہے جس سے روح اعصاب کے ذریعے اعضا تک نہیں پہنچ سکتی اور حرکت کرنے میں سست ہو جاتے ہیں۔
داخلی اسباب:
یہ درد سر زیادہ ٹھنڈا پانی پینے/ دیگر مشروبات پینے سے ہوتا ہے۔
علامات:
اس درد سر کا سبب اور مسبب کے درمیان کوئے وقفہ نہیں ہوتا جونہی ٹھنڈے مشروبات کا استعمال ہوا ساتھ ہی درد شروع ہو جاتا ہے۔ اس وق سر چھونے سے ٹھنڈا معلوم ہوتا ہے اور کپڑوں سے ڈھانپنے پر آرام ملتا ہے کیونکہ وہ سرد ہوا کو بدن تک پہنچنے سے روک دیتے ہیں۔
۳) صداع یابس:
صداع یابس جو بلا مادہ ہو۔
اسباب:
سرد خشک ماحول
۴) صداع بلغمی اعصابی:
انسجہ میں تر سرد کیفیاتی، نفسیاتی اور مادی اثرات سے سوزش پیدا ہو کر رطوبات کے دباؤ سے درد پیدا ہوتا ہے۔
علامات:
یہ درد سر کے دائیں طرف سے شروع ہوتا ہے اور پھر تمام سر میں پھیل جاتا ہے اور اس حالت میں غدد سے کحاری رطوبات کا اخراج بکثرت ہوتا ہے جس سے منہ کا ذائقہ پھیکا اور پانی بہت آتا ہے حتیٰ کہ نتھنے اور منہ تر رہتے ہیں اور یہی پانی معدے کی بھوک پیاس بھی کم کر دیتا ہے۔ بول و راز کی رنگت میں سفیدی اور نیلا پن ہوتا ہے۔ سر اور پیشانی کی جلد سرد ہوتی ہے، ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوتے ہیں اور جسم کے تمام مخارج سے رطوبات کا اخراج بھی زیادہ ہوتا ہے۔ مریض کا مزاج نرم اور دھیما ہوتا ہے۔
اسباب:
سرد پانی سے غسل کرنا
گرمی سے سردی میں جانا
تر سرد اشیا کا بکثرت استعمال
گرم اشیا کھانے کے فوراََ بعد تر سرد اشیا کھانا
۵) سر درد (صداع) سوداوی:
عضلاتی انسجہ میں سرد خشک کیفیاتی، نجسیاتی اور مادی اثرات سے سوزش پیدا ہو کر دماغ میں خشکی پیدا ہو جاتی ہے جس سے سر میں کرانی اور نیند کم ہو جاتی ہے۔
علامات:
چہرہ اور جسم سیاہی مائل ہونے لگتا ہے۔ رطوبت کم ہو جانے سے سر میں درد اور کھچائ ہوتا ہے۔ یہ درد جھٹکوں کی صورت میں ہوتا ہے۔ پیشاب کم، سفید اور رقیق آتا ہے لیکن نضج مائل کے بعد اس میں غلظت اور سیاہی آجاتی ہے ور بدن کے تمام مخارج قبض کا شکار ہوتے ہیں بالخصوص جابت کے وقت قبض محسوس ہوتی ہے اور معمولی دباؤ سے ایسے لگتا ہے کہ دماغ کی نسیں پھت جائیں گیں۔ اجابت آتے ہی سکون ہو جاتا ہے۔ کبھی پیت میں گیس پیدا ہو کر تھہر جانے سے اور کبھی بلغم غلیظ ہو کر جمع ہو جانے سے درد سر لاحق ہو جات ہے جس کی علامت یہ ہے کہ جب رکوع ور سجدہ کی حالت یں سر جھکایا جائے تو آنکھوں اور پیشانی پر بوجھ اور درد ہوتا ہے۔ اس صورت میں طحال کا مرض ضرور شریک ہوتا ہے۔ مریض کے مزاج میں خشکہ اور بے رخی پائی جاتی ہے۔ جسم میں سوداء کی زیادتی سے خشکی کے آچار واضح دکھائی دیتے ہیں۔
اسباب:
سرد خشک اشیاء کا بکثرت استعمال
دماغی کام کی زیادتی
بواسیری مادہ
جنسی بے راہ روی
۶) درد سر صفراوی:
غدی انسجہ میں گرم خشک کیفیاتی، نفسیاتی اور مادی اثرات سے سوزش پیدا ہو کر دماغ میں گرمی خشکی پیدا ہو جاتی ہے جس سے سر چھونے پر گرم محسوس ہوتا ہے۔
علامات:
منہ اور نتھنے خشک، پیاس کا غلبہ اور منہ کا ذائقہ کڑوا ہو جاتا ہ۔ درد کی حالت میں کنپتی کی رگیں تڑپتی ہیں، جی متلاتا ہے اور ابکائیاں آتی ہیں۔ نیند کی بے چینی اور گھبراہٹ بہت ہوتی ہے۔ پیشاب جلن سے اور براز مروڑ سے آتا ہے۔ کھانے پینے، چلنے پھرنے اور صبح اٹھنے کو دل نہیں چاہتا۔ چہرے کی رنگت اور تمام مخارج سے نکلنے والے فضلات زردی مائل ہوتے ہیں۔ مزاج میں تلخی اور لب و لہجہ میں تیزی اور مجموعی کیفیت غصے کی ہوتی ہے۔ ہیتھ پائٔں حرارت سے جلتے ہیں، جسم میں چبھن اور چنگاریاں لگنے کا احساس ہوتا ہے۔ سر میں درد متواتر یا نوبت کے ساتھ ہوتا ہے۔
اسباب:
گرم خشک اشیاء کا بکثرت استعمال
گرم ماحول میں کام کرنا
سوزا کی مادہ کے اثرات
جنسی بے راہ روی
۷) صداع دودی:
دماغ میں ہلکا مسلسل درد یا شدید خارش اور دغدغہ محسوس ہوتا ہے۔
علامات:
تمام مخارج کی رطوبات خصوصاََ ناک سے بدبو آنا بڑی علامت ہے۔
اسباب:
تر سرد اشیاء کا بکثرت استعمال
۸) درد عصابہ:
عصابہ کے معنی پٹی کے ہیں۔ اس درد کا نام عصابہ اس لئے رکھا گیا ہے کہ یہ اس مقام پر ہوتا ہے جہاں پٹی باندھی جاتی ہے یعنی یہ درد سر اور ابرو میں ہوتا ہے۔
علامات:
اس مرض کی ابتداء ابرو سے ہوتی ہے اور شدت کے وقت بائیں ابرو تک پھیل جاتی ہے۔ پھر تمام سر کے گرد درد کی لہر محسوس ہوتی ہے اور بعض اوقات تمام سر درد کرتا ہے۔ یہ درد صبح طلوع آفتاب سے پہلے ہی قحف کے پانچویں عصب، عصب ثلاثی وجہی یا اس شاخ میں شدت سے شروع ہوتا ہے چونکہ عصب ثلاثی وجہی کی شاخیں بہت زیادہ ہیں اس لئے ان کے ماؤف ہونے کے لحاظ سے علامات بھی مختلف نمایاں ہوتی ہیں چنانچہ یہ درد رخسار، ابرو، ٹھوٹی، پپوٹے، آنکھ کے ڈھیلے، پیشانی یا زیریں جبڑے میں ہو سکتا ہے۔ درد کی نوعیت نشتری، برقی اور حرقی ہوتی ہے۔ درد کی شدت سے مریض بے چین ہو کر چیخ اٹھتا ہے اور مقامِ درد کو بار بار ملتا اور دباتا ہے۔ سورج کی گرمی کے تیز ہونے سے یہ درد کم ہوتا جاتا ہے بالآخر دوپہر کے وقت بالکل ختم ہو جاتا ہے کیونکہ حرارت سے اس کا مادہ تحلیل ہو جاتا ہے جب مادہ مرض زیادہ ہو تو یہ درد سارا سارا دن بھی رہتا ہے اور مریض پپوٹوں کو اوپر نہیں اٹھاتا بلکہ اوندھے منہ لیٹے رہنے میں عافیت سمجھتا ہے۔
اسباب:
خون میں سمیت
بدہضمی
ملیریا
سرد آب و ہوا
ٹھنڈی اشیاء کا استعمال
زکام
دانت
کان اور ناک کی بیماریاں
بلغم کی زیادتی
۹) درد شقیقہ:
یہ درد اکثر سر کے بائیں جانب ہوتا ہے اور کبھی تمام سر میں بھی ہونے لگتا ہے۔ درد کی شدت کا احساس بھی بائیں طرف ہوتا ہے۔
علامات:
درد کے ساتھ متلی، قے بھی کبھی ہوتی ہے عموماً طلوعِ آفتاب سے درد شروع ہو کر زوالِ آفتاب تک بڑھتا رہتا ہے اور اس کے بعد کم ہونے لگتا ہے بالآخر غروبِ آفتاب کے وقت بالکل ختم ہو جاتا ہے۔ درد شروع ہونے سے پہلے طبیعت میں اضمحلال اور سر چکراتا ہے، آنکھوں کے سامنے چنگاریاں اڑتی محسوس ہوتی ہیں کیونکہ بینائی کے مرکز (اوکسی پیٹل لوب) کو بلڈ ویسلز کے تنگ ہونے کی وجہ سے خون کی فراہمی کم ہو جاتی ہے۔ پندرہ بیس منٹ بعد جب اس مرکز کو دوبارہ خون کی سپلائی ہوتی ہے تو تکلیف میں کمی آ جاتی ہے۔مریض تیز روشنی اور شوروغل سے سخت نفرت کرتا ہے۔ اندھیرے میں خاموش رہنے کو ترجیح دیتا ہے۔
اسباب:
ہضم کی خرابی
موروثی
نزلہ بگڑنا
دھوپ میں کام کرنا
پیچش
گرم خشک اشیاء کا کثرتِ استعمال
منشیات کا استعمال
امراضِ رحم
