Menu
تعلیمی10 منٹ پڑھائی

دل کے امراض

دل کے امراض میں لو یا ہائی بلڈ پریشر، عظمِ قلب، انجائنا، دل کا دورہ اور والو کی خرابیاں شامل ہیں۔ عام علامات میں سینے کا درد، سانس پھولنا، چکر آنا، کمزوری، تھکن اور دل کی دھڑکن کا تیز ہونا شامل ہیں۔ بروقت علاج نہ ہو تو بعض بیماریاں جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں۔

دل کے امراض

دل کے مختلف امراض ہیں:

فشار الدم ضعیف (بلڈ پریشر لو)

اعصاب میں تحریک غدد میں تحلیل اور عضلات میں تسکین سے بوجہ تسکین مرکز عضلات دل پھول جاتا ہے تب قلب پوری انقباضی قوت سے خون آگے پمپ کرنے کی پوری طاقت نہیں رکھتا ہے اور آگے شریانیں بلغمی رطوبات سے نرم ہو جاتی ہیں اس لئے وہ دل پر کوئی دباؤ نہیں بڑھاتیں تب فشار الدم مقررہ حد سے کم رہتا ہے جسے بلد پریشر لو کہتے ہیں اور اس میں جسمانی یا دماغی محنت کرنے سے یا کچھ دیر کھڑا رہنے سے جسم بہت جلد تھک جاتا ہے، سانس پھول جاتا ہے اور سانس لینے میں بھی مشکل پیش آتی ہے۔ اٹھتے بیٹھتے چکر آتے ہیں، آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جاتا ہے، اگر لیٹ جائے تو اٹھنے کو دل نہیں چاہتا۔ ہاتھ پاؤں ٹھنڈے اور مریض کو دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ان مریضوں کا پیٹ بڑا، جسم ٹھنڈا، ڈھیلا اور نرم ہوتا ہے۔ مریض ہر کام آہستہ آہستہ کرتا ہے۔ سونے کی حالت میں ڈراؤنے خواب آتے ہیں اور نیند ڈسٹرب ہوتی ہے۔ چہرے کا رنگ پھیکا، پیشاب سفید اور مقدار میں زیادہ آتا ہے۔ غدد میں تحلیل کی وجہ سے شریانوں میں خون کم اور بلغم کی زیادتی ہوتی ہے۔ خون کی اس کمی سے عضلات کو آکسیجن بہت کم ملتی ہے جس سے حرکات قلب کم ہونا شروع ہوجاتی ہیں حتیٰ کہ فی منٹ ضربتہ القلب 60 سے کم رہنے لگتی ہے اور یہ کیفیت اگر زیادہ دیر تک رہے تو دل پھول کر انتا بڑا ہو جاتا ہے کہ اس میں سکڑنے کی قوت ختم ہونے لگتی ہے۔

عظم قلب (Heart inlarged)

رطوبات کی کثرت سے دل پھول جاتا ہے اور مقامِ قلب پر بوجھ محسوس ہوتا ہے۔ کھانے پینے کو جی نہیں چاہتا، اگر کچھ کھا لیا جائے تو دیر سے ہضم ہوتا ہے۔ تبخیرِ معدہ کی شکایت رہتی ہے۔ سر بوجھل، متلی اور بعض اوقات قے ہونے لگتی ہے۔ منہ سے پانی بہت آتا ہے، سانس میں رکاوٹ کا احساس ہوتا ہے۔ نیند میں خوف، بے چینی اور ڈراؤنے قسم کے خواب آتے ہیں۔ یہ مریض گفتگو کرتے وقت نہایت آہستہ اور لہجہ نرم رکھتا ہے۔ مجموعی طور پر جسم سست اور ڈھیلا ہوتا ہے۔ حرکت کرنے کو دل نہیں چاہتا، اگر کی جائے تو تکلیف بڑھ جاتی ہے۔ اُٹھتے بیٹھتے چکر آتے ہیں، طبعی ٹمپریچر کم ہو جاتا ہے اور رفتارِ قلب فی منٹ 60 سے کم ہو جاتی ہے۔

اسباب:

  • بلغمی اشیاء کا کثرتِ استعمال

  • مرطوب موسم میں رہنا

فشار الدم قوی کاذب (اختلاج القلب)

اس کی تین اہم صورتیں ہیں:

پہلی صورت:

عضلات میں تحریک اعصاب میں تحلیل اور غدد میں تسکین سے جگر میں حرارت کم ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے شریانوں میں چربیلے ذرات جمنے شروع ہو جاتے ہیں جس سے شریانوں کا رداس کم ہو جاتا ہے۔ شریانوں میں بیڈکولیسٹرول بڑھنے سے ان کے اندر خون کا بہاؤ مشکل ہو جاتا ہے۔

دوسری صورت:

عضلات میں شدید تحریک سے شریانوں میں سکیڑ اور غدود میں تسکین کے ساتھ تیزی شروع ہو جاتی ہے اور اعصاب میں حرارت کے اثر سے شدید تحلیل ہو کر ضعفِ دماغ و اعصاب بڑھ جاتا ہے۔ غدود میں تسکین کی وجہ سے ثقیل غذا کو ہضم نہیں کر سکتے ہیں۔ بالخصوص پروٹین کے ہاضمے سے عاجز آ جاتے ہیں اس لئے صالح صفراء کی بجائے سوداء میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ یہ اپنی کثافت کی وجہ سے گردوں سے فلٹر نہیں ہوتا۔ نتیجہ یورک ایسڈ کا نام پا کر ٹخنے اور پاؤں کے انگوٹھے اور ایڑیوں میں درد شروع ہو جاتا ہے۔

تیسری صورت:

غدود میں تحریک عضلات میں تحلیل اور اعصاب میں تسکین ہو جاتی ہے جس سے جسم میں صفراء اور حرارت کی زیادتی ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اس تحریک میں تمام جسم کے غدد سکڑنا شروع ہو جاتے ہیں اور عضلات پھیلنے لگتے ہیں اور اعصاب میں تسکین کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔

جگر و غدود کے فعل میں تیزی سے وریدوں اور دل کے والو میں سکیڑ ہو جاتا ہے اور دل حرارت کی زیادتی سے پھیل جاتا ہے۔ گردے کی شریان سکڑنے لگتی ہے اور اس کے نیفرون صفراء کی کثرت سے سوزش ناک ہو جاتے ہیں۔

دل کے غدی پردے میں سوزش سے اس کی حرکت اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ کپڑے سے باہر بھی احساس ہوتا ہے۔ ذرا سی آہٹ یا آواز سے مزید تیز ہو جاتی ہے۔ پیاس بہت لگتی ہے، سرد ہوا کی خواہش ہوتی ہے۔ ٹھنڈے مشروبات و ماکولات کو جی چاہتا ہے۔ قلب میں گرمی سے گھبراہٹ، بے چینی اور دھڑکن پیدا ہوتی ہے۔ جسم میں حرارت بڑھ جاتی ہے۔ بخار اور پیچش کی شکایت ہوتی ہے۔ منہ اور نتھنے خشک ہو جاتے ہیں۔ ہر چیز سے نفرت ہو جاتی ہے۔ کبھی خشک کھانسی، سانس میں تنگی، جسم کمزور، پیشاب کم اور جلن سے آتا ہے۔ مریض شور و غل برداشت نہیں کرتا اور اس کی گفتگو جذباتی ہوتی ہے۔ اس مرض میں گرمی کی شدت سے دل پھیل جاتا ہے۔ غشاء مخاطی میں سکیڑ کی وجہ سے سوزش بڑھتے بڑھتے ورم کی صورت اختیار کر لیتی ہے جس میں پہلے قلب حرارت کی شدت سے پھیل جاتا ہے، چہرے کا رنگ زرد پڑ جاتا ہے پھر اس کے اندر لگے ہوئے والوز بگڑنے لگتے ہیں۔ سوزش کی وجہ سے ان میں سکیڑ ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے دل کو ملنے والے خون اور آکسیجن میں کمی ہونے لگتی ہے اور وہ فیل ہونے لگتا ہے۔ اس کے ساتھ چونکہ گردے بھی عموماً ورم میں مبتلا ہو جاتے ہیں جس کی اہم علامت آنکھوں کے پوٹے متورم ہوتے ہیں۔ اس سے انتہائی خطرناک حد تک بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے جس سے ہر وقت خطرہ رہتا ہے کہ کسی وقت بھی فالج ہو سکتا ہے یا برین ہیمبرج ہونے سے مریض دنیا فانی سے رخصت ہو جاتا ہے۔

اسباب:

  • گرم خشک اشیاء کا کثرتِ استعمال

  • موسمِ گرم خشک ماحول میں کام کرنا

فشار الدم قوی صادق

غدد میں انتہائی تحریک، عضلات میں انتہائی تحلیل اور اعصاب میں انتہائی سکون ہوتا ہے۔ اس میں ریاح کا اثر داخل نہیں ہوتا بلکہ خون میں جوش اور حرارت بہت زیادہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے بلڈ پریشر ہائی ہو جاتا ہے۔ دل کا بایاں بطن پھیل جاتا ہے اور شریانیں تنگ ہو جاتی ہیں۔

اس تحریک کا اثر خاص طور پر دل، پھیپھڑوں، معدہ، امعاء کے غددِ معدہ میں شدید سوزش و ورم، آنتوں میں شدید قسم کی پیچش ہو جاتی ہے۔ مردوں میں بائیں خصیے کے اثر سے سرعتِ انزال کی شدت اور عورتوں میں خصیتہ الرحم میں سوزش سے ماہواری میں تنگی اور درد میں شدت ہوتی ہے۔

خون میں جوش سے بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے جس سے سر اور کنپٹیوں پر درد، گردن کے پچھلے حصہ میں دونوں کندھوں کے درمیان کھچاؤ اور درد کا احساس، زیادہ چلنے یا سیڑھیاں چڑھنے سے سانس پھول جاتا ہے، قوتِ برداشت کم ہو جاتی ہے، نیند کی بے چینی، پریشان کن خواب، لڑائی جھگڑے والے، پیشاب کی جلن اور غصے کی زیادتی اس کی عام علامات ہیں۔ ایک اہم بات کہ غدی عضلاتی تحریک میں پوری گرمی نہیں پائی جاتی۔ پوری گرمی ہمیشہ گرمی تری میں پائی جاتی ہے۔ پوری گرمی کی اس تحریک میں ہونے والے بلڈ پریشر کو فشار الدم قوی صادق کہا گیا ہے۔ اس تحریک میں گردے ایک خاص قسم کا مادہ پیدا کرتے ہیں جسے رینن (Renin) کہتے ہیں۔ یہ ایلڈوسٹیرون ہارمون کو خون میں بڑھا دیتا ہے جو کہ گردوں سے سوڈیم اور پانی کو جذب کر کے خون میں شامل کر دیتا ہے جس سے بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے۔

گردے کے اندر موجود J.G خلیات ایک پرولائٹک اینزائم رینن خون میں شامل کرتے رہتے ہیں۔ یہ رینن کلوی دورانِ خون میں پلازما گلوبولن جسے اینجیوٹینسینوجن 1 کہتے ہیں۔ اینجیوٹینسینوجن 1 وریدوں اور غددِ لمفاوية سے گزرتے ہیں، جسمانی دوران میں شامل ہو جاتے ہیں جہاں اس پر ایک اینزائم پیپٹی ڈیڑیا ACE کہتے ہیں جو کہ اینڈوتھیلیل خلیات میں موجود ہوتا ہے۔ اینجیوٹینسینوجن 1 پر عمل کر کے اوکٹا پیپٹائڈ اینزائم بنا دیتا ہے جسے اینجیوٹینسینوجن 2 کہتے ہیں۔ ریوی دورانِ خون میں اس کی پیدائش کا تناسب بہت زیادہ ہوتا ہے۔

اینجیوٹینسینوجن 2 کے افعال:

یہ بلڈ پریشر بڑھانے کا طاقتور ترین ذریعہ ہے۔ اس کی شرائین کو سکیڑنے کی صلاحیت نارا یڈرینالین سے 200 گنا زیادہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ دل کے دھڑکنے کی رفتار میں اضافہ کر دیتا ہے۔ یہ ایڈ رینل کارٹیکس سے ایلڈوسٹیران کا اخراج کرتا ہے جس سے نمک کا انجذاب بہت زیادہ بڑھ کر پلازما کے مجموعی حجم میں اضافہ ہو جاتا ہے جو بی پی میں مستقل اضافہ کا سبب بنتا ہے۔ گویا کہ ہائپرٹینشن بوجہ مرضِ گردہ رینن کے اضافہ کی بدولت ہوتی ہے۔ اسے ہائپر رینینزم کہتے ہیں۔

نوٹ: جب پلازما میں رینن کا تناسب بڑھنے سے بلڈ پریشر بڑھا ہوا ہو تو اس وقت رینن کی پیدائش کم ہو جاتی ہے تاکہ بلڈ پریشر کو کم کیا جا سکے۔

اسباب:

  • گرم تر اشیاء کا کثرتِ استعمال۔

انجائنا پیکٹورس

دل کی کسی شریان یا ورید میں کسی جگہ رکاوٹ پیدا ہونے سے یہ مرض لاحق ہوتا ہے۔ یا جب شریان کسی وجہ سے سکڑتی ہے (جسے اسپازم کہتے ہیں) تو دل اور متعلقہ اعضاء کو تازہ آکسیجن فراہم نہیں ہوتی تو یہ درد پیدا ہوتا ہے۔ درد کی ٹیسٹ بائیں بازو کی طرف جاتی ہے، سانس گھٹنے لگتا ہے اور مریض کا رنگ فق ہو جاتا ہے۔ یہ عمل تقریباً پچیس منٹ تک رہتا ہے۔ پھر ازخود ٹھیک ہو جاتا ہے۔ اس درد میں اگر مریض کھڑا ہو یا حرکت کر رہا ہو تو بیٹھ جانے سے آرام ہو جاتا ہے۔ اگر درد تیس سیکنڈ سے کم اور تیس منٹ سے زیادہ ہو تو وہ انجائنا نہیں ہے۔

اسباب:

  • ثقیل اور نفاخ اشیاء کا کثرتِ استعمال

  • بواسیری زہر کا فساد

دل کا دورہ

شریانوں میں عارضی رکاوٹ کی نوعیت کو انجائنا پیکٹورس کہتے ہیں۔ اگر یہ مستقل ہو تو اسے دل کا دورہ (Myocardial Infarction) کہتے ہیں۔ مریض کی چھاتی میں شدید گھٹن ہوتی ہے۔ مقامِ قلب سے درد کی لہریں بائیں بازو کی طرف جاتی ہیں اور یوں لگتا ہے جیسے ہاتھ سُن ہو گیا ہے۔ سانس رکتا ہے اور مریض بے ہوش ہو جاتا ہے۔ یہ درد آرام کرنے سے بھی کم نہیں ہوتا۔ عموماً اس میں شریانیں موٹی ہو کر بند ہو جاتی ہیں یا ان میں کولیسٹرول کے چربیلی مادے رک کر سدے بن جاتے ہیں۔ دل کمزور اور آکسیجن کی کمی ہو جاتی ہے۔ مناسب علاج نہ کیا جائے تو موت واقع ہو جاتی ہے یا دل پھیل جاتا ہے۔ اکثر یہ دورہ چالیس سال سے زائد عمر کے لوگوں کو ہوتا ہے۔

اسباب:

  • سخت پریشانی

  • منشیات

  • موٹاپا

  • بلڈ پریشر

  • ذیابیطس

  • تبخیرِ معدہ

  • کھانا کھانے کے فوراً بعد سو جانا

دل کے والو کی لیکج

دل کے والو کسی وجہ سے کمزور ہو جائیں تو لیکیج شروع ہو جاتی ہے یعنی اس والو سے خون آگے نکل جاتا ہے۔ پھر تھوڑا تھوڑا واپس آنا شروع ہو جاتا ہے۔ اس وقت مریض کی نبض کی ضربات 100 عدد فی منٹ سے متجاوز ہوتی ہیں۔ جسم کا رنگ پھیکا، زردی مائل ہوتا ہے۔ رخساروں پر نیلی رگیں ظاہر ہوتی ہیں۔ جسم میں درد ہوتا ہے اور مریض روز بروز دبلا پتلا ہوتا جاتا ہے۔

اسباب:

  • گرم خشک اشیاء کا کثرتِ استعمال

  • سمیات کا حملہ

دل کے والو بند ہونا

غلیظ بلغم کی وجہ سے خون گاڑھا ہو کر جمنے لگتا ہے جس کی وجہ سے دل کے والو بند ہو جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے بعض لوگوں کی آرٹریز بند ہو جاتی ہیں۔ مقامِ قلب پر درد کا احساس، کبھی چبھن اور ٹیس پڑتی ہے جس کی لہر بائیں بازو کی طرف جاتی ہے۔ بعض کو یہ درد قلب کے مقام پر پچھلی طرف محسوس ہوتی ہے۔ نبض میں فترہ آ جاتا ہے۔ تھکاوٹ اور قبض کی شکایت اکثر رہتی ہے۔ بعض مریضوں میں یہ علامات پیدا نہیں ہوتیں۔ جب شدید اٹیک ہوتا ہے تو اس وقت پسینہ آتا ہے اور سارا جسم ڈھیلا پڑ جاتا ہے۔ مریض درد سے نڈھال ہو جاتا ہے۔ E.C.G، ایکو گرافی اور انجیو گرافی سے مزید تشخیص ہو جاتی ہے۔

اسباب:

  • سرد خشک اشیاء کا کثرتِ استعمال

متعلقہ بیماریاں

دل کے امراض: علامات، اسباب، اقسام اور روایتی طبی نقطۂ نظر