Menu
تعلیمی17 منٹ پڑھائی

آنتوں کے امراض

گیس ٹربل عام طور پر معدے میں گیس کی زیادتی یا رکاوٹ سے پیدا ہوتی ہے۔ اس میں پیٹ پھول جاتا ہے، درد، کھچاؤ، گڑگڑاہٹ کی آوازیں اور بے چینی ہوتی ہے۔ گیس کے اخراج کے بعد وقتی سکون ملتا ہے۔

آنتوں کے امراض

آنتوں کے مختلف امراض ہیں:

تیفودیہ (تپِ محرقہ معویہ/ٹائیفائیڈ بخار)

یہ ایک قسم کا معیادی بخار ہے جس کی مدت عموماً تین ہفتے ہوتی ہے۔ ٹائی فائیڈ کے جراثیم کا حملہ چھوٹی آنتوں کے آخری حصے کے استر میں لمفاوی بافت کی گرمیوں میں ہوتا ہے جنہیں عقدہ وحیدہ کہتے ہیں۔ ان کے نام پائر قطعات ہیں۔ جس میں سوزش ہو جاتی ہے۔ پیٹ میں مروڑ اور درد کی شکایت ہوتی ہے، دن کے وقت غنودگی اور رات کو بے خوابی ہوتی ہے۔ پریشان خواب آتے ہیں، بھوک کم اور پیاس زیادہ لگتی ہے۔ کبھی نکسیر کی شکایت بھی ہو جاتی ہے۔ جب ان علامات میں شدت ہو جاتی ہے تو مریض صاحبِ فراش ہو جاتا ہے۔ پہلے ہفتے میں بخار زور سے دوسرے ہفتے میں نارمل، تیسرے میں کم اور چوتھے میں مکمل اتر جاتا ہے۔ اگر صحیح علاج نہ کیا جائے تو دوسرے یا تیسرے مہینے کے بعد بخار پھر لوٹ آتا ہے۔ اس بخار میں جسم گرم اور ہاتھ پاؤں میں جلن ہوتی ہے۔

اس مرض میں سالمونیلآ (Salmonela) جرثومہ چھوٹی آنت کے آخر میں حملہ آور ہوتا ہے جس سے فوراً حرارت تیز ہو جاتی ہے۔ مریض نہایت کمزور زبان اور ہونٹ خشک اور ان پر تہہ جم جاتی ہے۔ زبان پر بھوری اور زردی مائل تہہ بن جاتی ہے۔ اگر قبض ہو جائے تو پھر جسم پر چھوٹے چھوٹے دانے نکل آتے ہیں جنہیں مبارکی کہتے ہیں۔ اگر اس کا صحیح علاج نہ کیا جائے تو مرض بگڑ کر یرقان میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ مذکورہ علامات کی روشنی میں لیبارٹری ٹیسٹوں کی ضرورت نہیں ہے۔ ٹائی فائیڈ کے لئے عموماً یہ ٹیسٹ کئے جاتے ہیں:

1- Widal Test

2- E.S.R

3- Typhy Dot

4- پاخانے کا کلچر

ٹیسٹوں کی وضاحت

1- وڈال ٹیسٹ (Widal Test):

یہ اینٹی جن اینٹی باڈی ری ایکشن ہے جس میں سالمونیلا کے جراثیم کی موجودگی کا پتہ چلتا ہے۔ یہ ٹیسٹ بیماری کے پہلے ہفتے میں نیگیٹیو ہوتا ہے جبکہ دوسرے ہفتے میں Positive ہو جاتا ہے۔ اس ٹیسٹ میں اس طرح لکھا جاتا ہے:

1:640 1:320 1:160 1:80 1:40 1:00

+

+

+

+

+

+

 O

+

+

+

+

+

+

H

ان خانوں میں پلس (+) کے نشان لگائے جاتے ہیں۔ اگر 1:160 یا اس سے آگے تک پلس (+) کے نشان لگے ہوں تو یہ ٹیسٹ Positive سمجھا جائے گا۔ بچوں میں O پہلے اور بڑوں میں H پہلے Positive ہوتا ہے۔

نوٹ:

1- انگریزی ادویات سے علاج شروع کرنے سے دو ہفتے بعد ٹیسٹ Negative ہو جاتا ہے لیکن پھر تیسرے ہفتے سے چھ ماہ تک Positive ہی رہتا ہے اگرچہ بظاہر ٹمپریچر وغیرہ ختم ہو چکا ہو۔

2- بعض مریضوں میں ٹائی فائیڈ کی علامات موجود نہیں ہوتیں مگر یہ ٹیسٹ Positive آتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ٹیسٹ صرف ٹائی فائیڈ کے لئے ہی مخصوص نہیں ہے بلکہ چند ایسے آرگینزم جو ٹائی فائیڈ سے ملتے جلتے ہیں ان میں سے کسی ایک کی موجودگی سے بھی یہ ٹیسٹ Positive آتا ہے۔ مثلاً:

گنٹھیا، حمی حداری، جوڑوں کی سوجن کی وجہ سے بخار ہونا، امراضِ جگر، ہیپاٹائٹس یا سرہوسس آف دی لیور، گردوں کی بیماری (Nephratic Syndrome) وغیرہ۔

ٹیسٹ رپورٹ کے ساتھ مریض کی علامات کو بھی مدنظر رکھا جائے تب اس پر اعتبار کریں ورنہ دھوکا ہو سکتا ہے۔

3- ٹائی فائیڈ کی مزید تشخیص کے لئے پاخانہ کا کلچر کروائیں۔

4- ٹائیفائیڈ کی تشخیص کا حتمی ٹیسٹ Typhy Dot ہے۔ اگر یہ ٹیسٹ بھی Positive آئے تو پھر کنفرم ہے کہ مریض کو ٹائیفائیڈ ہی ہے۔

قبض

کھانا کھانے کے بائیس چوبیس گھنٹے بعد جو اجابت آئے وہ نارمل ہوتی ہے۔ اگر اس کے بعد آئے تو قبض شمار ہوتی ہے۔ اس کی تین صورتیں ہیں:

1- جسم میں سردی کی زیادتی اور حرارت کی کمی کی وجہ سے قبض ہو جاتی ہے۔ اس صورت میں زکام اور ریشہ کی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ دردِ سر، بلڈ پریشر لو، جسمانی تھکاوٹ، حرکت کرنے کو جی نہیں چاہتا اور آنتوں کی حرکاتِ دودیہ سست پڑ جاتی ہیں جس کی وجہ سے قبض ہو جاتی ہے۔

اسباب:

تر سرد اشیاء مثلاََ چاول، دال ماش وغیرہ کا کثرت استعمال، سرد آب و ہوا، زکام اور ریشہ کی کیفیت۔

2- اس صورت میں پیٹ میں ریاح کی کثرت، عضلات معدہ و امعاء میں خشکی کی وجہ سے سیکٹر بڑھ جاتا ہے تو شدید اور دائمی قبج ہوجاتی ہے۔

اسباب:

خشک اشیاء کا کثرت استعمال مثلاََ دال، چنے، بیکری کی مصنوعات وغیرہ۔

3- اس صورت میں پیٹ میں کسی سدہ کی رکاوٹ کی وجہ سے مروڑ اٹھتے ہیں۔۔ جسم میں حرارت سے ہاتھ پاؤں میں جلن ہوتی ہے، براز بھی کھل کر نہیں آتا ہے۔

اسباب:

گرم اشیاء کا کثرت استعمال، مصالحہ جات اور چٹ پٹی اشیاء کا کثرت استعمال

اسہال (Diarrhea)

اس مرض میں غذا صحیح ہضم نہیں ہوتی۔ غیر منہضم غذا آنتوں میں خراش کرتی ہے جس کی وجہ سے اجابت بلغم آمیز اور پانی کی طرح آتی ہے۔ یہ دست مقدار میں اتنے زیادہ اور کھل کر آتے ہیں کہ کھائی ہوئی ساری غذا نکل جاتی ہے۔ پہلے سے جسم میں موجود پانی کی کمی بھی بہت ہو جاتی ہے۔ مسلسل اسہال کی وجہ سے جسم میں تغذیہ کم ہونے کی وجہ سے مریض لاغر ہو جاتا ہے۔ منہ سے رال ٹپکنے لگتی ہے۔ کبھی سفید آبلے بن جاتے ہیں۔ بلڈ پریشر لو اور تمام جسم ٹھنڈا پڑ جاتا ہے۔ چلنے پھرنے اور اٹھنے بیٹھنے سے چکر آتے ہیں۔

اسباب:

بلغمی اشیاء کا کثرتِ استعمال، بلاضرورت کھانا، ضرورت سے زیادہ کھانا، دو ممنوعہ اشیاء کا پیٹ میں جمع ہو جانا، ثقیل غذائیں۔

پیچش (Dysentery)

اس مرض میں غذا صحیح ہضم نہیں ہوتی۔ غیر منہضم غذا آنتوں میں خراش کرتی ہے جس کی وجہ سے اجابت بلغم آمیز اور پانی کی طرح آتی ہے۔ یہ دست مقدار میں اتنے زیادہ اور کھل کر آتے ہیں کہ کھائی ہوئی ساری غذا نکل جاتی ہے۔ پہلے سے جسم میں موجود پانی کی کمی بھی بہت ہو جاتی ہے۔ مسلسل اسہال کی وجہ سے جسم میں تغذیہ کم ہونے کی وجہ سے مریض لاغر ہو جاتا ہے۔ منہ سے رال ڈہنے لگتی ہے۔ کبھی سفید آبلے بن جاتے ہیں۔ بلڈ پریشر لو اور تمام جسم ٹھنڈا پڑ جاتا ہے۔ چلنے پھرنے اور اٹھنے بیٹھنے سے چکر آتے ہیں۔

اسباب:

بلغمی اشیاء کا کثرتِ استعمال، بلاضرورت کھانا، ضرورت سے زیادہ کھانا، دو ممنوعہ اشیاء کا پیٹ میں جمع ہو جانا، ثقیل غذائیں۔

ذوسنطاریا (آنتوں کا زخم/Ulcerative Colitis)

جب آنتوں پر صفراء کثرت سے گرتا ہے تو لعابی استر کو زائل کر کے انہیں چھیل دیتا ہے جس سے وہ زخمی ہو جاتی ہیں تو عروق کے منہ کھل جاتے ہیں اور خون بہنے لگتا ہے۔ پھر ناف کے اوپر اور نیچے آنتوں میں درد، بے چینی اور مروڑ اٹھتے ہیں۔ براز آواز کے ساتھ خون آمیز آتا ہے۔ جدید تحقیق اسے ”امیبائی پیچش“ کا نام دیتی ہے۔ امیبا غذائی اشیاء کے ذریعے داخل ہو جاتا ہے اور بڑی آنت میں پہنچ کر مخاطی جھلی میں حاد التہاب پیدا کر دیتا ہے جس کی وجہ سے سخت مروڑ اٹھتے ہیں اور پیچش شروع ہو جاتے ہیں۔ اجابت کے ساتھ خون اور مخاط (Mucous) بڑی مقدار میں خارج ہوتا ہے۔ اجابت میں بھی امیبا خارج ہوتے ہیں۔

اسباب: گرم اشیاء کا کثرتِ استعمال، سخت دھوپ میں کام کرنا۔

سنگرہنی (IBS)

کھانا کھانے کے فوراً بعد قضائے حاجت ہوتی ہے۔ ریح اٹھنے کی تیزی سے براز آتا ہے۔ اس کے فوراً بعد سکون ہو جاتا ہے۔ پیٹ سے ہوا اور گڑ گڑ کی آوازیں آتی ہیں اور ہلکا ہلکا درد بھی ہوتا ہے۔ ہر چیز کھانے کی خواہش ہونے کے باوجود طبیعت کھانے کی طرف راغب نہیں ہوتی۔ دن میں کئی بار اجابتیں ہونے سے جسمانی کمزوری، خون کی کمی، سانس پھولنا اور متعفن جھاگ دار دست آتے رہتے ہیں۔ ان کی کثرت سے مریض گھبرا جاتا ہے۔ بی پی لو اور جسم ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ ڈراؤنے اور خوفناک خواب آتے ہیں حتیٰ کہ موت کے آثار نظر آتے ہیں۔

مریض ہر ایک سے فریاد رسی کرتا ہے۔ مزاج ٹھنڈا اور دھیما ہوتا ہے۔ اگر قبض ہو جائے تو فوراً منہ میں آبلے پڑ جاتے ہیں۔ دست لگنے سے آبلے بھی ختم ہو جاتے ہیں۔ تھکاوٹ کے ساتھ بخار بھی ہو جاتا ہے۔

اسباب:

بلغمی، دیر ہضم اور نفاخ چیزوں کا کثرتِ استعمال، بلاضرورت کھانا، کھانا کھانے کے بعد سو جانا، طبیعت حساس ہونا، نیند کی کمی بیشی۔

قولنج (Colic)

اس مرض کی ابتداء نظامِ انہضام کی خرابی سے ہوتی ہے۔ نفخ کی کثرت سے پیٹ پھول جاتا ہے، ناف کے اردگرد ریح ٹھہر جانے سے شدید درد ہوتا ہے جسے دبانے سے آرام ہو جاتا ہے۔ اگر مرض زیادہ ہو جائے تو دبانے سے تکلیف ہوتی ہے۔ قبض کی شدت، جی متلاتا ہے اور قے ہوتی ہے۔ شدید درد کی وجہ سے مریض بے چین ہوتا ہے۔ چہرہ متفکر، جسم سرد اور پسینہ آتا ہے۔ بعض کو بخار بھی ہو جاتا ہے۔ اس حالت میں اگر پیشاب بند ہو جائے تو ہلاکت کا اندیشہ ہوتا ہے۔

اسباب:

ثقیل، نفاخ اشیاء، قابض اور دیر ہضم اشیاء کا کثرتِ استعمال مثلاً نان چنے، برف والی اشیاء وغیرہ، پیٹ میں ریاح ٹھہر جانا، بلاضرورت کھانا۔

دیدان امعاء (پیٹ کے کیڑے)

پیٹ میں ہر وقت ہلکا ہلکا درد اور نفخ کی شکایت رہتی ہے۔ جب معدہ خالی ہوتا ہے اور بھوک لگتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی چیز اوپر آتی ہے۔ منہ میں تھوک بکثرت حتیٰ کہ رال بہنے لگتی ہے۔ مریض نیند کی حالت میں دانت چباتا ہے۔ ہونٹ خشک اور براز نرم آتا ہے۔ کھانا کھانے کے بعد جی متلاتا ہے، اجابت غیر منہضم ہوتی ہے اور کبھی کیڑے بھی نظر آتے ہیں۔ ان کیڑوں کی تین اقسام ہیں:

1- کچوے

2- کدو دانے

3- چنونے

1- کچوے:

یہ چھوٹی آنتوں میں پائے جاتے ہیں۔ ان کی شکل کچوے جیسی ہوتی ہے۔ انہیں پنجابی زبان میں ”ملہپ“ کہتے ہیں۔ یہ رنگت میں سفید چار سے دس انچ تک لمبے ہوتے ہیں۔

اسباب: مٹی کھانا، باسی اشیاء کا استعمال۔

2- کدو کیڑے:

یہ کیڑے کدو کے بیج کے مشابہ ہوتے ہیں اس لئے انہیں کدو کیڑے کہتے ہیں۔ یہ بڑی آنت میں پائے جاتے ہیں۔ ان کی لمبائی پانچ سے بیس فٹ ہوتی ہے۔ یہ ٹوٹ ٹوٹ کر بذریعہ براز خارج ہوتے ہیں۔ ان کی وجہ سے ہر وقت سر میں درد، منہ سے بدبو، پیٹ میں مروڑ، چہرہ زرد اور بھوک زیادہ لگتی ہے۔ اگر یہ مرض چھوٹے بچوں کو لاحق ہو تو وہ ہر وقت ناک نوچتے رہتے ہیں۔ سیون اور مقعد میں خارش ہوتی رہتی ہے۔

اسباب: خشک گرم اشیاء کا کثرتِ استعمال۔

3- چنونے:

یہ چھوٹے چھوٹے کیڑے سفید دھاگے جیسے باریک، تقریباً ایک سینٹی میٹر لمبے ہوتے ہیں۔ ان کا مقام مقعد ہے۔ جب ان کی مادہ رات کے وقت یہاں انڈے دیتی ہیں تو خارش بہت ہوتی ہے۔ پنجابی میں انہیں ”سمکاں“ کہتے ہیں۔ مریض کو بدہضمی، پیٹ میں درد اور رات سوتے وقت دانت پیسنا جیسے عوارض لاحق ہوتے ہیں۔

اسباب: گرم اشیاء کا کثرتِ استعمال۔

ورم زائدہ اعور (Appendix)

زائدہ اعور تقریباً پانچ انچ لمبا، تھیلی نما ہوتا ہے جس کا منہ ایک طرف سے بند ہوتا ہے، یہ کانی آنت کے نچلے حصہ میں لٹکا ہوتا ہے۔ اگر ناف سے خاصری (Illiaespine) تک ایک سیدھی لکیر کھینچی جائے اور اس کے تین حصے کر دیئے جائیں تو آخری 1/3 حصہ کے نیچے اپنڈکس ملے گا۔ اس جگہ دبایا جائے تو درد ہوتا ہے۔

ماہیت: عام طور پر اپنڈکس کی نالی کسی اجنبی مادہ سے، سخت پاخانہ کے سدہ سے یا بیکٹیریا سے بند ہو جاتی ہے۔ صحیح علاج سے یہ انفیکشن ختم ہو جاتی ہے اور مریض صحت یاب ہو جاتا ہے مگر بعض اوقات اپنڈکس کے چاروں اطراف قدرتی طور پر ایک اُبھار بن جاتا ہے جو انفیکشن پھیلنے سے روک دیتا ہے۔ یہ ہاتھ سے محسوس ہوتا ہے۔ انفیکشن شدید ہونے سے اپنڈکس پھٹ جائے یا وہاں پھوڑا بن جائے یا وہ جگہ سوج جائے تو اس حالت میں درد زیادہ ہو جاتا ہے۔ خون میں W.B.C کی مقدار بڑھ کر 16000cm تک ہو جاتی ہے جبکہ یورن ٹیسٹ، ایکسرے رپورٹ اور الٹراساؤنڈ نارمل ہوتے ہیں۔

علامات: یہ مرض دو سال کی عمر کے بعد زندگی کے کسی حصہ میں بھی ہو سکتا ہے۔ مرض کی ابتداء میں سارے پیٹ میں تھوڑا تھوڑا درد رہتا ہے۔ پھر ناف کے قریب درد ٹھہر جاتا ہے۔ براز کی حاجت مستقل رہتی ہے۔ اس کے ساتھ قے، متلی اور ابکائیاں بھی آتی ہیں۔ درد مسلسل رہتا ہے۔

اسباب: اپنڈکس نالی میں براز یا کسی مواد کا پھنس کر متعفن ہو جانا

کانچ نکلنا

پیچش کے مرض میں مریض کے بار بار زور لگانے سے کمزوری کے باعث کانچ نکلنے لگتی ہے جسے پنجانؤبی میں “ڈھنڈری” کہتے ہیں، عجلات مقعد میں تحلیل کی وجہ سے بھی یہ شکایت ہو جاتی ہے اور یہ مرض عموماََ بچوں میں ہوتا ہے۔

اسباب: گرم خشک اشیاء اور مصالحہ جات کا کثرت استعمال۔

بھگندر

اس مرض کی تین صورتیں ہیں:

1- ناسور آرپار ہو یعنی اندر تک پورا سوراخ ہوجائے۔

2- بیرونی جانب ناسور ہو اور اندر تک منہ نہ بنا ہو۔

3- اندرونی جانب ہو اور باہر منہ نہ بنا ہو۔

مذکورہ تین اقسام میں سے تیسری قسم بہت خطرناک ہوتی ہے۔ اس میں رفع حاجت کے وقت جلن اور درد ہوتا ہے۔ ناسور کے سوراخ سے زرد رنگ کا پانی، خون یا پیپ بہتا رہتا ہے۔ سوراخ کی جگہ دبانے سے مواد خارج ہوتا ہے۔

اسباب:

کثرتِ گوشت خوری اور شراب نوشی، تیز مسہل بار بار لینا، عرصہ تک پیچش لگے رہنا۔ بواسیری زہر کا فساد، فحش فلمیں دیکھنا۔

ہرنیا (Hernia)

بطن کی دیوار ناف اور کنجِ ران سے کمزور ہوتی ہے۔ اگر کسی دباؤ کی وجہ سے آنتوں کا تھوڑا سا حصہ اس جگہ سے نکل کر جلد کے نیچے آ جائے اور غیر طبیعی کیفیت سے پھول جائے تو اس کو ”ہرنیا“ کہتے ہیں۔ یہ کبھی پھول کر گیند نما گولا سا بن جاتا ہے۔ قے، قبض اور شدید درد ہونے لگتا ہے۔ مقامِ درد پر ہاتھ رکھنے سے افاقہ ہو جاتا ہے۔

اسباب: خشک نفاخ اور ریح پیدا کرنے والی اشیاء کا کثرتِ استعمال۔

ناف پڑنا (IBS)

بعض اوقات ناف کے ادھر ادھر سرک جانے سے پیچش اور مروڑ لگ جاتے ہیں جس پر پیچش کی عام ادویہ اثر نہیں کرتیں اس وقت ناف ضرور چیک کر لینی چاہئے۔ ناف چیک کرنے کے طریقے درج ذیل ہیں:

1- صبح نہار منہ چت لیٹ کر ناف پر انگلی رکھ کر دباؤ دینے سے ہلکی سی تھرتھراہٹ یا دھڑکن محسوس ہو تو سمجھ لیں کہ ناف اپنے مقام پر ٹھیک ہے۔

2- مریض کی ناف پر دھاگا رکھ کر پستان کے نپل تک پیمائش کرلیں، اگر دونوں طرف دھاگا برابر نہ ہو تو سمجھ لیں کہ ناف اپنے مقام سے ہٹ گئی ہے۔

3- مریض کو چت لٹا کر اس کے دونوں ہاتھ اور پاؤں سیدھے کریں۔ اگر دونوں پاؤں کے انگوٹھے بالکل سیدھے ہیں یعنی ایک لائن میں ہوں تو ناف درست ہے۔

4- مریض کی دونوں ہتھیلیاں اس طرح جوڑیں کہ کلائی کی لکیریں آمنے سامنے ہوں اور دونوں ہاتھوں کی چھوٹی انگلیاں ملائیں۔ اگر چھوٹی انگلیوں کے پوروں کی تینوں لائنیں اور ہتھیلی کی لکیر سب ایک دوسرے کے برابر ہوں تو ناف بالکل درست ہے۔ اگر یہ لکیریں آمنے سامنے نہ ہوں تو یہ ناف سرک جانے کی علامت ہے۔

ناف سرکنے کے اسباب:

کمزوری، اونچی یا نیچی جگہ سے پاؤں پھسلنا، زیادہ بوجھ اٹھانا، ریح پیدا کرنے والی اشیاء کا کثرتِ استعمال، گرم مصالحہ جات۔

مذکورہ اسباب کی بدولت ناف اوپر یا نیچے کی طرف سرک جاتی ہے۔ اگر اوپر کی طرف سرک جائے تو گیس کے دباؤ سے مروڑ لگ جاتے ہیں۔ عام ادویہ سے یہ شکایت دور نہیں ہوتی۔ عرصہ تک یہ شکایت رہنے سے نظامِ ہضم بگڑ جاتا ہے۔

تدابیر:

پہلے ناف کو اس کے مقام پر لائیں جس کے طریقے درج ذیل ہیں:

1- انگوٹھے سے ناف کے گرد دباؤ ڈال کر ناف اس کے مرکز کی طرف دھکیل دیں۔

2- مریض کو چت لٹا کر اس کے دونوں بازو سیدھے رکھیں پھر اس کے گھٹنوں پر دباؤ ڈالیں مزید ضرورت کے وقت ایک ہاتھ سے اس کے دونوں انگوٹھے پکڑیں جو انگوٹھا سمٹا ہوا ہو اس کو کھینچ کر برابر کرنے کی کوشش کریں۔ دونوں انگوٹھوں کے نشان آمنے سامنے ہونے تک یہ عمل دہراتے رہیں۔

3- مریض چت لیٹ کر سانس باہر نکالے، دوبارہ سانس لینے سے پہلے پیٹ کو پھیلائے اور جہاں تک ممکن ہو اسی حالت میں رکھے۔ اس عمل کو بار بار دہرائے حتیٰ کہ ناف اپنی جگہ پر آ جائے۔

4- مریض چت لیٹ کر دونوں بازو سیدھے رکھے، سر کے نیچے تکیہ وغیرہ نہ ہو۔ ٹانگیں جوڑ کر 90 درجہ کے زاویہ پر لے جا کر واپس لے آئے۔ یہ عمل پانچ یا چھ مرتبہ کرے۔

اسباب: تیزابی، بادی، سرد خشک اشیاء کا کثرتِ استعمال۔

گیس ٹربل

عام حالات میں ہر انسان کے پیٹ میں گیس بنتی ہے جس کی مقدار ہر آدمی میں مختلف ہے۔ اس لئے اس کی معمولی مقدار مضر نہیں ہے۔ جب یہ شدت اختیار کرتی ہے تب یہ نہایت اذیت دیتی ہے۔ اس وقت اس کا صحیح علاج کرانا چاہئے۔ ورنہ اس سے دردیں، کھچاؤ، تناؤ اور ایسی پیچیدہ تکالیف ہونے لگتی ہیں جن کا نہ تو خون کے ٹیسٹ سے تشخیص کرنا ممکن ہے اور نہ ہی الٹراساؤنڈ سے کوئی خاص رہنمائی ملتی ہے۔

گیس دو طرح سے ہمارے پیٹ میں آتی ہے:

1- کھانا کھانے کے دوران یا کسی اور وجہ سے ہوا کا منہ کے راستے پیٹ میں چلے جانا۔ یہ کوئی خاص اہمیت نہیں دیتی۔ اس طرح ایک عام انسان میں نگلی جانے والی گیس کی مقدار تقریباً 500 ملی میٹر روزانہ ہوتی ہے۔ اس میں زیادہ نائٹروجن گیس ہوتی ہے۔

2- آنتوں میں جراثیم نشاستے پر عمل کر کے گیس بناتے ہیں۔ اس میں ہائیڈروجن، کاربن ڈائی آکسائیڈ اور میتھین (\bm{CH_4}) گیس ہوتی ہے۔ آنتوں میں سب سے زیادہ ریاح بڑی آنتوں میں نشاستے سے بنتی ہیں۔ اس نشاستے کی مختلف شکلیں ہیں مثلاً:

i- فرکٹوز (Fiructose)، لیکٹوز (Lactose)، ساربیٹول (Sarbitol) یہ نشاستے زیادہ تر کھمبیوں (Mushrooms) میں پائے جاتے ہیں۔

ii- ریفی نوز (Raffinose) اور سٹے کی اوز (Stachyose) یہ نشاستے زیادہ پھلیوں (Legumes) میں پائے جاتے ہیں۔

iii- بہت پیچیدہ نشاستوں (Complen Starchose) اور بھوسی یعنی نہ ہضم ہونے والی غذا (Fiber) استعمال کرنے سے بھی گیس زیادہ پیدا ہوتی ہے۔

iv- بعض غذاؤں میں ایسے نشاستے اور شکر ہیں جو جلدی ہضم نہیں ہوتے اور ان سے گیس بنتی رہتی ہے جیسے لوبیا، چنے، مٹر، آلو اور گوبھی وغیرہ۔

v- آنتوں میں رطوباتِ صالحہ سے اگر لبریشن نہ ہو رہی ہو تو گیس آواز سے خارج ہوتی ہے۔

ریاح زیادہ تر بڑی آنت میں پیدا ہوتی ہیں کیونکہ اس میں بیکٹیریا کی وجہ سے فضلہ میں خمیر کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ بعض غذاؤں میں ایسی شکر ہوتی ہے جو ہضم نہیں ہوتی اور وہ گیس پیدا کرتی ہے جیسے لوبیا وغیرہ اور کبھی گیس معدہ میں محسوس ہوتی ہے کیونکہ معدہ کا کچھ حصہ فم معدہ کی سطح سے قدرے اوپر ہوتا ہے۔ اس حصہ میں غذا نہیں پہنچتی۔ دورانِ ہضم معدہ میں جو ریاح پیدا ہوتی ہیں وہ اس حصہ میں جمع ہو جاتی ہیں۔ گیس کی یہ تمام صورتیں جب خارج ہونے سے رک جائیں تو طبیعت گھبرا جاتی ہے، دل ڈوبتا ہے، دماغ پر بُرا اثر پڑتا ہے، نیند کم اور دماغی تھکاوٹ زیادہ ہوتی ہے۔

اس کی تین صورتیں ہیں:

1- پیٹ گیس سے بھرا ہوا محسوس ہوتا ہے لیکن خارج نہیں ہوتی البتہ کچھ کام، حرکت یا تفریح کرنے سے بلا آواز خارج ہونے لگتی ہے۔

اسباب: دیر ہضم، نفاخ اور بلغمی اشیاء کا کثرت استعمال۔

2- پیٹ میں گیس کثرت سے پیدا ہوتی ہے جو رک کر سخت تککلیف کا باعث بنتی ہے۔ یہ گیس گوز کی صورت میں یعنی زوردار آواز سے خارج ہوتی ہے۔ اس کے اخراج سے فوراََ سکون ہو جاتا ہے۔

اسباب: ترش، دیر ہضم اور نفاخ اشیاء کا کثرت استعمال

3- پیٹ میں یہ گیس بہت کم پیدا ہوتی ہے۔ پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ خارج بھی ہوتی رہتی ہے اور کبھی زور لگانے سے کچھ مواد بھی خارج ہو جاتا ہے۔ مقعد میں جلن ہوتی ہے۔

اسباب: گرم خشک اشیاء کا کثرت استعمال

متعلقہ بیماریاں

آنتوں کی بیماریاں | علامات، اسباب اور قدرتی علاج