امراضِ گردہ و مثانہ
گردہ اور مثانہ کے مختلف امراض ہیں:
درد گردہ
گردوں کے مقام پر شدید درد محسوس ہوتا ہے جس کی وجہ سے مریض تڑپتا ہے، بار بار پیشاب کی حاجت ہوتی ہے اور پیشاب رک رک کر قطروں کی صورت میں آتا ہے۔ اس درد کی ٹیس خصتین تک پہنچتی ہے جس طرف کے خصیے میں درد ہو اس طرف کی ٹانگ اور پاؤں میں بھی درد ہو گا۔ مریض کو متلی اور قے کی کیفیت رہتی ہے۔
اسباب:
بڑا گوشت، چاول، دالیں، خشک اور ریح بادی پیدا کرنے والی اشیاء کا بکثرت استعمال۔
ضعف گردہ
مریض کی ٹانگوں، رانوں اور کندھوں کے درمیان شدید درد ہوتا ہے کہ وہ چل پھر بھی نہیں سکتا۔ نیند کم ہو جاتی ہے، جسم بھاری اور ٹھنڈا محسوس ہوتا ہے، پیشاب بکثرت آتا ہے۔
اسباب:
تر سرد موسم، تر سرد اشیاء کا کثرت استعمال
ورم گردہ
مرض کی ابتداء میں آنکھوں کے نیچے اوڈیما نظر آتا ہے بعد میں تمام جسم پر پھیل جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خون میں لحمیات کی کمی کی وجہ سے دباؤ کم ہو جاتا ہے۔ اس سے پلازما باہر کی جانب ٹشو میں جمع ہو جاتا ہے۔ خون میں یوریا بڑھ جاتا ہے۔ بلڈ پریشر ہائی اور پیشاب میں کمی ہو جاتی ہے۔
R.B.C، W.B.C، البیومن اور Cast Cells پیشاب میں پائے جاتے ہیں۔ پنڈلی کی ہڈی کے اوپر دباؤ دینے سے گڑھا پڑ جاتا ہے۔ مقامِ گردہ پر تکلیف ہوتی ہے جس کی ٹیس ٹانگوں تک جاتی ہے۔ کبھی بخار ہو جاتا ہے۔ اگر گردوں میں پیپ پڑ جائے تو تپِ دق جیسی علامات نمایاں ہو جاتی ہیں۔
اسباب:
احتباسِ بول، سنگِ گردہ، مقامِ گردہ پر چوٹ، ذیابیطس، عام طور پر سٹریپٹوکوکائی بیکٹیریا سوزش کا سبب بنتا ہے تو گردے کی عروقِ شعریہ پھول جاتی ہیں۔ ان کے کام میں خلل پیدا ہو جاتا ہے۔ ان کے اندر سے R.B.C، W.B.C اور پروٹین نکلتی ہے۔
گردے کی کارکردگی
انسانی گردوں سے روزانہ تقریباً 1700 لیٹر خون صاف ہوتا ہے جس سے تقریباً ایک لیٹر فاسد مواد مائع کی شکل میں پیشاب بن کر خارج ہوتا ہے۔ یعنی گردے انسانی خون کو فاسد مادوں سے پاک رکھتے ہیں اور اچھے گردوں کی بدولت خون ان غیر ضروری اجزاء سے پاک رہتا ہے۔
گردے کے دو حصے ہوتے ہیں: بیرونی حصے کو کارٹیکس اور اندرونی حصے کو میڈولا کہتے ہیں۔ ہر گردے میں تقریباً 12 لاکھ نیفرون ہوتے ہیں جو کہ گردے کا بنیادی فعلی یونٹ ہیں۔ ایک دن میں دونوں گردے دو سے چار لیٹر پیشاب بناتے ہیں۔
گردے کی اندرونی ساخت میں نہایت حیرت انگیز صفائی کا پیچیدہ نظام ہے۔ خالی آنکھ سے گردے میں موجود نیفران ریت کے ذرے کی طرح نظر آتے ہیں مگر خوردبین کے نیچے ایک بڑے سر والا کرم لگتا ہے جس کا جسم بل کھایا ہوا دم نما پیچ در پیچ ہوتا ہے۔ یہ سرخون کی رگوں کا گچھا اور دم ایک پتلی نالی جیسی ہوتی ہے۔ سرخ عروق شعریہ کے ایک جال سے ڈھکا ہوا ہوتا ہے جو گچھے کے اندر سیال خون (بلا سرخ خلیات کے) برابر نچوڑتے رہتے ہیں۔ اس خون سیال میں %98 سے زیادہ حصہ پتلی نالیوں میں پھر جذب ہو جاتا ہے۔ ہر گردے میں ایسی پتلی نالیاں تقریباً 140 میل لمبی ہوتی ہیں۔ یہ پتلی نالیاں اپنے اعلیٰ درجے کے انتخابی عمل سے قوی امینوں ترشوں، پروٹینوں، گلوکوز، شکر اور معدنیات کو (جن کی تندرستی کی حالت میں ضرورت ہوتی ہے) اخذ کر لیتی ہیں اور فضلات اور پانی روزانہ تقریباً نصف گیلن کی شرح سے باہر نکال دیتی ہیں۔
ان پتلی نالیوں سے نکلا ہوا پانی گردے کے ایک نتھنے سے حوض میں قطرہ قطرہ جمع ہوتا رہتا ہے اور وہاں سے حالبین کی راہ مثانے میں چلا جاتا ہے۔ ہر 10 تا 30 سیکنڈ میں حالب کے عضلات کے موجی سکڑاؤ سے یہ پانی مثانے کے اندر ٹپکتا رہتا ہے۔
گردے جسم میں دو اہم کام کرتے ہیں:
1- اخراج کا عمل
2- میٹابالک فنکشن
1- اخراج کا عمل:
گردے جسم کے اندر موجود تمام بے کار اور فاسد مادے پیشاب کے راستے خارج کرتے ہیں، ان میں خارج ہونے والی اہم اشیاء یہ ہیں:
1- یورک ایسڈ
2- یوریا
3- کریٹینن
4- یوریٹس
5- فاسفیٹس
6- فینول
7- ہپورک ایسڈ
8- امونیا کے نمک
2- میٹابالک فنکشن:
1- تیزاب اور الکلی کا جسم میں توازن قائم رکھنا
2- جسم میں پانی اور نمکیات کا توازن قائم رکھنا
3- غدودی فنکشن
4- ارتھروپوئٹن پیدا کرنا
5- رینن پیدا کرنا
گردوں کے اہم امراض:
1- یورک ایسڈ
2- یوریا
3- کریٹینن
4- استسقاء
یوریا
مادہ حیات (پروٹو پلازم) کی تشکیل پروٹینز سے ہوتی ہے اور پروٹینز کی کیمیائی ساخت نائٹروجن کے علاوہ سلفر اور فاسفورس پر مشتمل ہوتی ہے اور ان کی مطلوبہ مقدار کا بڑا حصہ لحمیات سے ہی حاصل ہوتا ہے۔
ہضم کے دوران پروٹینز ٹوٹ کر پروٹیوزز (Proteoses)، پیپٹونز (Peptones)، پولی پیپٹائیڈز (Polypeptides) اور پھر امینو ایسڈز (Amino Acids) میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔
امائنو ایسڈز کا انجذاب آنت کی مخاطی جھلی میں ہوتا ہے اور یہاں سے ورید بابی (Portal Vein) کے ذریعے خون میں شامل ہو کر جگر میں بھیجے جاتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ خون میں شامل ہو کر جسم کے خلیات کے کام آ جاتا ہے اور ان جگہوں پر استعمال ہوتا ہے۔ جہاں نئے خلیوں کی تشکیل ہوتی ہے مثلاً ہڈی کا گودا (Bone Marrow) اسی طرح ساختوں کے مجروح ہو جانے کی صورت میں اور مختلف غدودوں کے افرازات اور خامروں کی تیاری کے لئے امینو ایسڈز درکار ہوتے ہیں۔
امینو ایسڈز یا پروٹین کی فاضل مقدار جسم میں جمع نہیں رہتی سوائے اس مقدار کے جو جگر میں عارضی طور پر رہتی ہے۔ استحالے کے مرحلے سے گزرنے کے بعد امینو ایسڈز کی جو مقدار جسم کے کام آنے سے رہ جاتی ہے۔ اس کی تحلیل ہو جاتی ہے۔ یہ فعل (Deamination) کہلاتا ہے جو جگر کے فعلیات میں انجام پاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں امونیا پیدا ہوتا ہے جس کی ترکیب کاربن ڈائی آکسائیڈ کے ساتھ عمل میں آتی ہے اور پولی نمک (Urea) بنتا ہے۔ یوریا جگر میں بننے کے بعد خون کے ساتھ گردوں میں جاتا ہے اور پھر وہاں سے پیشاب کے ساتھ بدن سے خارج ہو جاتا ہے۔
یہ یوریا ایک قلمی (Crystalline) مادہ ہے جو پانی میں حل ہو جاتا ہے۔ پیشاب کے ساتھ 24 گھنٹوں میں 20 تا 30 گرام یوریا بدن سے خارج ہوتا ہے۔ پیشاب کے ساتھ نائٹروجنی اجزاء بدن سے خارج ہوتے ہیں۔ ان میں یوریا کی مقدار سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ پیشاب کے ساتھ خارج ہونے والا یوریا صرف وہی نہیں ہوتا جو جگر کے خلیوں میں امینو خلیوں کی تحلیل سے حاصل ہوتا ہے بلکہ اس میں یوریا کی وہ مقدار بھی شامل ہوتی ہے جو خلیوں کے استعمال کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ بالفاظِ دیگر جو غذا ہم کھاتے ہیں ان میں گوشت، انڈے اور دالیں وغیرہ یہ خوراک کی ان اقسام سے ہیں جن میں پروٹین ہوتی ہے۔ یہ پروٹینز خون میں جذب ہو کر جسم کی نشوونما کرتی ہے۔ پروٹینز کمپاؤنڈ ہوتے ہیں جو جانداروں اور ترکاریوں میں پائے جاتے ہیں۔ یہ امینو ایسڈ سے بنے ہوتے ہیں اور جسم کی تعمیر و ترقی کے لئے لازمی ہوتے ہیں۔ وہ پروٹینز جو جانداروں کے ذریعے حاصل ہوتے ہیں ان کی Biological Value یعنی زندگی کے لئے قدر و قیمت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اس لئے یہ لازمی طور پر امائنو ایسڈز کا احاطہ کئے ہوتے ہیں البتہ وہ پروٹینز جو ترکاریوں سے حاصل ہوتے ہیں وہ امائنو ایسڈز کا احاطہ نہیں کئے ہوتے یہ پروٹین جذب ہونے کے بعد ایک مادہ بچ جاتا ہے جسے کاربومائیڈ (Carbomoid) کہتے ہیں۔ یہ مادہ بے رنگ و بو ہوتے ہیں جو پانی میں حل ہو جاتا ہے۔ اس مادے کو پروٹین کا ضائع شدہ فضلہ بالفاظِ دیگر یوریا کہتے ہیں۔
یہ خون میں 20 تا 40 ملی سو ملی لیٹر رہتا ہے۔ فاضل یوریا گردے خون سے حاصل کر کے خارج کر دیتے ہیں۔ جب گردوں کا یہ قدرتی نظام متاثر ہو جائے پھر ان کے اس فعل میں کمی واقع ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے خون میں یوریا بڑھ جاتا ہے جسے Blood Urea یا Uremia کہتے ہیں۔
یہ ایک ایسی حالت ہے جس میں گردوں کے نیفرون متورم یا جزوی طور پر مکمل ختم ہو جاتے ہیں جس سے جسم میں کیمیاوی اور نمکیات کی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ اگر صرف یوریا کی مقدار زیادہ ہو تو اسے ایزوٹیمیا (Azotaemia) کہتے ہیں۔
خون صاف کرنے والے یونٹ Glomerulosclerosis جب سخت ہو جاتے ہیں تو اس کے ساتھ ساتھ گردوں کو خون سپلائی کرنے والی ٹیوبیں سخت ہو جاتی ہیں۔ ان نالیوں کے اندرونی حصے کا قطر اتنا تنگ اور مسدود ہو جاتا ہے کہ گردہ جو خون صاف کرتا ہے وہ صاف نہیں کر پاتا۔ گردے کی اس خرابی کی وجہ سے بلڈ یوریا اور سیرم کریٹینن بھی خون میں جمع ہو جاتے ہیں اور گردے ان سے آدھا لیٹر سے کم پیشاب خارج کرتے ہیں جس سے یہ علامات شروع ہو جاتی ہیں:
1- سوجن اور آماس۔
2- کھانے پینے کے بعد متلی اور قے ہونا۔
3- سانس کی گھٹن دمے جیسی کیفیت (یہ رات کے وقت زیادہ ہوتی ہے)۔ سانس میں سیٹی کی آواز سوڈیم ایسڈ فاسفیٹ کے بڑھ جانے سے ہوتی ہے۔
4- پیشاب بہت کم آتا ہے اور اس میں پیپ، خون اور البیومن خارج ہوتی ہے۔
5- پانی سے الرجی کا احساس۔ پانی پیتے ہی خارش شروع ہو جانا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خون میں فاسفیٹ بڑھ جاتے ہیں اور کیلشیم کم ہو جاتا ہے۔
6- سر درد۔
7- اعصابی کھچاؤ، تناؤ۔
8- غنودگی مگر رات کے وقت نیند نہیں آتی۔ اگر آ بھی جائے تو معمولی آہٹ سے ختم ہو جاتی ہے۔
9- بھوک و پیاس کم اور فم معدہ پر درد۔
10- مقامِ قلب پر درد، دھڑکن تیز اور چہرے کا رنگ فق ہو جاتا ہے۔
11۔ کمر اور مقام گردہ پر درد اور ٹانگوں میں دردیں۔
12۔ B.P ہائی اور فالج کا خطرہ۔
13۔ عضلات اس قدر کمزور کہ اٹھانے کی کوشش کرنے سے گر پڑتے ہیں یعنی ہاتھ اٹھایا یا پاؤں اٹھایا وہ نیچے لڑھکنے یا گرنے کی کوشش کرے۔ زبان سے لڑکھڑاہٹ ہو جاتی ہے۔
14۔ مسلسل سوزش کی وجہ سے گردوں کا پھیل جانا۔
15۔ 24 گھنٹوں میں پیشاب کا اخراج 400 ملی میٹر سے کم ہو جائے تو اسے گردے فیل ہو جانا کہتے ہیں۔
اس مرض کے لئے لیبارٹری سے یہ رپورٹ لی جاتی ہے:
Renal Function Test
اس رپورٹ میں یوریا 40mg/dl اور کریٹینن 1.2 سے بڑھا ہوا نظر آتا ہے۔
کثرتِ یوریا کے اسباب
1۔ پری رینل وجوہات (Pre Renal Causes):
1۔ جسم میں پانی یا خون کی کمی کی وجہ سے شاک
2۔ خون کا ری ایکشن ہونا
3۔ شدید انفیکشن
4۔ دل کا شدید درد
5۔ زہر خورانی
6۔ فوڈ پوائزننگ
7۔ جسم کے کسی حصے کے دوسرے کے ساتھ پیوند کاری
8۔ گردے کی رگ کا تنگ ہونا
2۔ رینل وجوہات (Renal Causes):
1۔ گردوں کی انفیکشن
2۔ سوزش کی وجہ سے گردوں کی خرابی
3۔ ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے گردوں کی خرابی
4۔ گردے خراب کرنے والی ادویات مثلاً سٹیرائیڈ، خام کشتہ جات
5۔ گردے کی ناکام پیوند کاری
3۔ پوسٹ رینل وجوہات (Post Renal Causes):
1۔ گردے یا گردے کی نالی میں پتھری کی وجہ سے رکاوٹ
2۔ مثانے سے آگے نالی کی بندش، پتھری یا پراسٹیٹ کی وجہ سے
البتہ ان وجوہات سے خون میں یوریا کم ہو جاتا ہے:
1۔ جگر کے افعال میں کمی
2۔ جسم میں پانی کی زیادتی
3۔ بہت زیادہ ڈرپ لگانا
کریٹی نن
یہ دراصل ہمارے جسم کے عضلات میں موجود کریٹینن کا آخری پوائنٹ ہے۔ تقریباً ایک سے دو فیصد Muscle Creatinine روزانہ Creatinine میں تبدیل ہوتی رہتی ہے جسے گردے خارج کرتے رہتے ہیں۔
جب گردوں میں سوزش سے سکیڑ ہو جاتا ہے تو گردے اسے خارج نہیں کر سکتے جس کی وجہ سے خون میں اس کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور وہی اسباب و علامات ہوتی ہیں جو یوریا کی ہیں۔
نوٹ: تمام ایسے امراض میں یوریا بڑھ جاتا ہے ان حالتوں میں کریٹینن بھی بڑھ جاتا ہے لیکن یوریا کے برعکس بڑھاپے میں کمی کی وجہ سے تیز بخار کی صورت میں کریٹینن کی مقدار نہیں بڑھتی۔
نوٹ: شوگر کے ایسے مریض جن کے پیشاب میں کیٹون باڈی (Keton Body) موجود ہوں ان میں کریٹینن لیول کی زیادتی ہوتی ہے جس کا گردوں کی خرابی سے کوئی تعلق نہیں۔
حصاۃ الکلیہ (گردے کی پتھری)
گردوں میں ریت یا پتھری ہونے کی وجہ سے پیشاب میں جلن اور ٹیس پڑتی ہے اور مقامِ گردہ پر تکلیف ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر مثانہ میں پتھری ہو تو وہاں بھی تکلیف ہوتی ہے۔ اُچھلنے کودنے سے درد میں شدت آ جاتی ہے۔ پتھری اگر معمولی ہو تو تکلیف قابلِ برداشت ہوتی ہے۔ اگر بڑی ہو جائے تو اس کی تکلیف سے مریض نڈھال ہو جاتا ہے۔ اسے کسی بھی پہلو آرام نہیں آتا۔ قے اور متلی کی کیفیت رہتی ہے۔ درد کی تکلیف گردوں سے لے کر کنجِ رانوں، خصیتین اور حشفہ کی نالی تک محسوس ہوتی ہے۔ بسا اوقات بخار بھی ہو جاتا ہے۔ جب درد میں اضافہ ہو جاتا ہے تو پیشاب میں خون آنے لگتا ہے اور کبھی پیپ بھی آتی ہے۔ پیشاب بار بار اور کبھی بند بھی ہو جاتا ہے۔
اس کی تین اقسام ہیں:
1-
یہ پودوں سے حاصل ہونے والی غذاؤں سے بنتی ہے۔ خاص طور پر جو کیلشیم زیادہ رکھتی ہیں کیونکہ اگر معدے میں کیلشیم کی مناسب مقدار موجود نہ ہو اور آگزالک ایسڈ کی صحیح
تعدیل نہ ہوسکے تو پھر آگزیلیٹ کے کرسٹل بننا شروع ہو جاتے ہیں۔
2-
یہ پروٹین کے ہضم کی حرابی سے بنتی ہے اور یہ یورک ایسڈ کی ہوتی ہے۔
3-
یہ پتھری کیلشیم فاسفیٹ کی ہوتی ہے جو انڈے، سرکنی ہڈیاں، کریاں چبانے والوں اور یخنی بکثرت پینے والوں میں بنتی ہے۔
ذیابیطس
ذیابیطس کو طبی اصطلاح میں ڈایابیٹیز میلائیٹس (Diabetes Mellitus) کہا جاتا ہے۔ یونانی زبان میں ڈایابیٹیز کے معنی "گزر جانا" ہیں اور میلائیٹس کا معنی شکر ہے یعنی اس مرض میں شکر انسانی جسم میں جزوِ بدن بننے کی بجائے پیشاب کے ذریعے خارج ہوتی رہتی ہے۔ اس لئے اسے ذیابیطس کہتے ہیں۔
ذیابیطس کا مرض لبلبہ کی خرابی سے پیدا ہوتا ہے۔ پہلے لبلبہ کی اناٹومی اور فزیالوجی ذکر کی جائے گی پھر اس میں خرابی کی نوعیت بیان ہو گی۔
لبلبہ:
یہ ایک نہایت نرم ٹشو کا بنا ہوا غدود ہے جس کی لمبائی تقریباً 6 انچ اور موٹائی تقریباً ایک انچ ہے۔ یہ غدود جوفِ شکم کے بالائی ظہری (Uper Posterior) حصے میں دوسرے اور تیسرے قطعی مہروں (Lumbar Vertebrae) کی سطح پر معدے کے بالکل نیچے ہوتا ہے۔ اس کا سر (Head) چھوٹی آنت کے پہلے حصے سے بننے والے حلقے میں اور اس کی دُم (Tail) بائیں جانب طحال (Spleen) کی طرف ہوتی ہے۔ اس کا %99 حصہ چھوٹی چھوٹی تھیلیوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ ان تھیلیوں کو (Acini) کہتے ہیں۔ ان تھیلیوں میں ایک رطوبت تیار ہوتی ہے جسے Pancreatic Juice کہتے ہیں۔ اس جوس میں مختلف انزائم ہوتے ہیں جو غذا کو ہضم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ ان کی تین بڑی اقسام یہ ہیں:
1. Amylase ...... یہ کاربوہائیڈریٹس کو ہضم کرنے میں تعاون کرتے ہیں۔
2. Lipase ...... یہ چربی کو ہضم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
3. Trypsin اور Chymotrypsin ...... یہ پروٹین کو ہضم کرنے میں معاونت کرتے ہیں۔ یہ رطوبت ایک نالی کے ذریعے چھوٹی آنت کے شروع کے حصہ ڈوڈینیئم میں گرتی ہے۔ اس نالی کو "Pancreatic Duct" کہتے ہیں۔
لبلبہ کا %1 حصہ چھوٹے چھوٹے گچھوں پر مشتمل ہے جس میں یہ سیلز پائے جاتے ہیں:
1. Alpha Cells ...... یہ سیلز گلوکاگان ہارمون خارج کرتے ہیں۔
2. Beta Cells ...... یہ سیلز انسولین ہارمون خارج کرتے ہیں۔
3. Deta Cells ...... یہ سیلز Somatostation ہارمون خارج کرتے ہیں۔
4. Pancreatic Poly Pepside / P.P.P
یہ سارے ہارمون مل کر ایک انتہائی موزوں اور مناسب مادے سے جسم کی استحالی ضرورت کو پورا کرتے ہیں۔
لبلبہ ایک ایسا غدود جو نالی دار Exocrine غددِ جذبہ اور بے نالی Endocrine غددِ ناقلہ دونوں قسم کے غدود کی حیثیت رکھتا ہے۔ نالی دار غدود کے طور پر لبلبہ کے خلیات بانقراسی نالیوں (Pancreatic Tubules) کے اطراف ہوتے ہیں۔ ان خلیات سے نکلنے والے افرازات بانقراسی نالی کے ذریعے نظامِ ہضم میں پہنچتے ہیں۔
بے نالی غدود کی حیثیت سے لبلبہ کے ہارمون بنانے والے مخصوص خلیوں کو جزائرِ لینگر ہنس کہتے ہیں۔ یہ خلیات دو قسم کے ہوتے ہیں:
1۔ الفا سیلز
2۔ بیٹا سیلز
1۔ الفا سیلز:
یہ گلوکاگان ہارمون بناتے ہیں۔ جب خون میں شکر کم ہوتی ہے تو گلوکاگان کا افراز ہوتا ہے اور جگر میں جمع ہوتا جاتا ہے۔ جگر اسے تیزی سے گلوکوز میں تبدیل کر کے خون میں ملنے کے قابل بناتا جاتا ہے۔
اگر چار گھنٹے تک گلوکاگان کا اخراج جاری رہے تو جگر میں گلوکوز بننے کا عمل اتنی تیزی سے ہوتا ہے کہ جگر میں موجود گلوکوز کا سارا ذخیرہ ختم ہو جاتا ہے۔ یہ کنفرم ہے کہ گلوکاگان جگر میں گلوکوز کو متحرک کرتا ہے۔
2۔ بیٹا سیلز:
یہ انسولین بناتے ہیں۔ جب خون میں شکر زیادہ ہوتی ہے تو انسولین کا افراز بڑھ جاتا ہے۔ بیٹا سیلز میں جب خرابی ہو جاتی ہے تو وہ انسولین پیدا نہیں کرتے اس لئے خون میں شکر بڑھ جاتی ہے۔ اس بڑھی ہوئی شکر کو ذیابیطس کا مرض سمجھا جاتا ہے۔
انسولین کا کردار:
غذا جب معدہ سے آنتوں میں جاتی ہے تو نشاستہ دار غذا ہضم ہونے کے بعد مختلف قسم کی شکر میں تبدیل ہو جاتی ہے جس میں زیادہ تعداد گلوکوز کی ہوتی ہے۔ یہ گلوکوز انتڑیوں کی جھلی کے لعاب میں جذب ہو کر خون میں شامل ہو جاتا ہے۔ پھر یہ خون کے راستے جگر میں جاتا ہے۔ جگر اسے اپنی ضرورت کے مطابق صرف کر لیتا ہے اور باقی عضلات کو تقویت کے لئے دے دیتا ہے۔ جو گلوکوز بچ جاتا ہے اسے انسولین چربی میں تبدیل کر کے چربیلی بافتوں میں ذخیرہ کر دیتی ہے۔ یا انتڑیوں پر چڑھا دیتی ہے جس سے پیٹ بڑھا ہوا یا لٹکا ہوا دکھائی دینے لگتا ہے۔ یا پھر جگر اسے اپنے اوپر چڑھا لیتا ہے جس سے لیور فیٹی ہو جاتا ہے۔ یہ جمع شدہ چربی فاقہ کشی، سخت ورزش اور دوسری ضرورتوں میں کام آتی ہے لیکن ذیابیطس کے مریضوں میں یہ نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔
انسولین گلوکوز کو جسم کے ہر خلیے میں پہنچنے میں مدد دیتی ہے جبکہ ہر ایک خلیہ ایک چھوٹے انجن کی طرح ہے جو گلوکوز کو ایندھن کی طرح استعمال کر کے حرارت اور توانائی پیدا کرتا ہے۔ گلوکوز کے ایندھن کو خلیوں کے انجن میں داخل ہونے کے لئے انسولین کی مدد درکار ہوتی ہے۔
اس انسولین کا تعلق چربی اور لحمیات کے ہضم ہونے سے بھی ہوتا ہے۔ غذائی چربی اور روغنیات مکھن، گھی وغیرہ ہضم ہونے کے بعد چربیلی تیزاب میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ انسولین ان چربیلی تیزابوں کو دوبارہ چربی میں بدل کر بافتوں میں جمع کر دیتی ہے اور پھر اسے چربیلی تیزاب میں بدلنے سے روکے رکھتی ہے۔
انسولین کی کمی:
اگر جسم میں انسولین کم یا ناپید ہو جائے تو خون میں گلوکوز کے مختلف خلیات میں داخل نہیں ہو سکتا اور خون میں اس کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ جب گردش کے دوران خون گردوں میں پہنچتا ہے تو یہ پیشاب میں شامل ہو کر خارج ہوتا ہے۔ جب گلوکوز خلیات میں داخل نہ ہو تو خلیے بھوک کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان بھوکے خلیوں کو غذا مہیا کرنے کے لئے جسم اپنی بافتوں میں موجود چربی اور پروٹین کو تحلیل کرنا شروع کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پٹھوں کی پروٹین ضائع ہو جانے پر ذیابیطس کے مریض کمزوری، تھکاوٹ اور وزن کم ہو جانے کی شکایت کرتے ہیں اور گلوکوز کسی وجہ سے اگر نہ جل رہا ہو تو چکنائیوں سے حاصل ہونے والے زہریلے عناصر جسم میں جمع ہو جاتے ہیں۔ زہریلے عناصر Ketones سانس میں بدبو پیدا کرتے ہیں۔ خون کی نالیوں میں جم کر انہیں موٹا کر دیتے ہیں۔
3۔ ڈیلٹا سیل:
جزیرہ ہائے لنگرہنس سے نکلنے والی تیسری رطوبت ڈیلٹا سیل کی ہے۔ یہ اپنے صرف 14 امینو ایسڈ رکھتا ہے اور خون میں مل کر صرف دو منٹ میں ختم ہو جاتا ہے۔ یہ ہارمون اس وقت زیادہ نکلتا ہے جب خون میں گلوکوز بڑھ جائے یا جب امینو ایسڈ بڑھ جائیں یا جب فیٹی ایسڈ بڑھ جائیں یا جب عملِ انہضام میں کام آنے والے دیگر تیزابی مادے بڑھ جائیں۔ اس وقت یہ ہارمون جزیرہ ہائے لنگرہنس میں مقامی طور پر کام کرتا ہے اور وہ انسولین اور گلوکاگان کی مقدار کو کم کرتا ہے۔ یہ ہارمون معدہ، آنتوں اور پتے کی Motafety کو کم کرتا ہے اور ہارمونز کا اعتدال رکھتا ہے۔
4۔ P.P.P:
یہ کسی نہ کسی طرح عملِ ہضم میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
ذیابیطس کا مرض اس وقت لاحق ہوتا ہے جب جزیرہ ہائے لنگرہنس کے بیٹا سیلز میں انسولین کی مقدار کم یا ختم ہو جاتی ہے۔
اس کی تین وجوہات ہیں:
1۔ بیٹا سیلز کے مخالف کوئی اینٹی باڈی پیدا ہو کر اس کے افعال کو متاثر کرتا ہے۔
2۔ کسی جراثیمی زہر سے بیٹا سیلز تباہ ہو جاتے ہیں۔
3۔ بعض اوقات ان خلیات میں غیر طبعی انحطاط پذیری شروع ہو جاتی ہے۔
لبلبہ سے انسولین خارج نہ ہونے کی صورتیں:
1۔ جزیرہ ہائے لنگرہنس کا انسولین پیدا کرنے والا حصہ غددِ ناقلہ ہے۔ یہ جسم میں اعصابی نظام کو متاثر کرتا ہے اور اس سے متاثر ہوتا ہے جبکہ دوسرے اعضاء اس سے تعلق کی وجہ سے متاثر ہو جاتے ہیں جیسے اعصاب میں تحریک غدد میں تحلیل اور عضلات میں تسکین۔
اعصاب میں تحریک سے خون میں گلوکوز اور چربیوں کی کثرت انسولین کو خلیات میں داخل نہیں ہونے دیتی، یہ حقیقی شوگر ہے۔
2۔ انسولین وصول کرنے والے Receptors کم یا بے اثر ہو جائیں تو وہ انسولین کی صلاحیتِ تجزیہ کو متاثر کر دیتے ہیں اور غیر منتخب شدہ انسولین ساختوں کے درمیان پڑی رہتی ہے۔ یہ عضلات میں تحریک اور اعصاب میں تحلیل اور غدد میں تسکین کی وجہ سے ہوتا ہے۔ غدد میں تسکین کی وجہ سے وہ اسے صحیح استعمال نہیں کر پاتے جس سے خون میں آنے والی شوگر بڑھ جاتی ہے پھر خون اور پیشاب میں خارج ہونے لگتی ہے۔
3۔ سوزشِ کبد و کلیہ سے جگر غذائی شوگر کو ہضم کر کے گلائیکوجن نہیں بنا سکتا۔ یا جگر کی قوتِ ماسکہ کی کمی سے جگر گلائیکوجن کو اپنے اندر ذخیرہ کرنے کی بجائے مسلسل خون میں بھیجتا رہتا ہے جس سے خون میں اس کی مقدار بڑھتی رہتی ہے اور گردے سوزش کی وجہ سے اسے خارج نہیں کر سکتے نتیجتاً بلڈ پریشر ہائی، خفقانِ قلب، دل کا حرارت سے پھیل جانا اور ہارٹ اٹیک کے عوارض پیش آتے ہیں۔
دماغی و حقیقی شوگر کی علامات:
بار بار پیشاب آنا، پیشاب پر چیونٹیاں جمع ہو جانا، پیاس کی زیادتی، منہ اور حلق کا خشک رہنا، بھوک کی زیادتی، وزن کی کمی، ہاضمہ خراب، جلد خشک اور کھر دری، جسم کا درجہ حرارت کم ہونا، پیشاب میں نمکیات کے اخراج سے پٹھوں میں کھچاؤ ہونا، مستقل اعصابی تناؤ، ذہنی جسمانی اور جنسی قوتیں زائل ہونا، ٹانگوں میں درد، جلن اور چیونٹیاں چلنے کا احساس، زخم ہو جائے تو جلدی مندمل نہ ہونا، بڑے بڑے پھوڑے وغیرہ یعنی کاربنکل نکل آنا، گردوں کے مقام پر بوجھ رہنا، آنکھوں کی بیماریاں اچانک ہونا، بلڈ پریشر اکثر لو اور کبھی ہائی ہو جانا۔ شدید تھکاوٹ، کام کرنے سے جسم ٹوٹ جانا اور آئندہ کام کرنے کے لئے ہمت نہ رہنا اور کبھی موتیا سفید آ جاتا ہے۔
شوگر چیک کرنے کیلئے لیبارٹری ٹیسٹ
1۔ Fasting Blood Sugar:
اس ٹیسٹ کو صبح ناشتے سے پہلے کیا جاتا ہے۔ ایک نارمل انسان میں نہار منہ گلوکوز کی مقدار 120 ملی گرام فی 100 ملی لیٹر سے زیادہ نہیں ہونی چاہئے۔
2۔ Random Blood Sugar:
یہ ٹیسٹ کھانے کے دو گھنٹے بعد کیا جاتا ہے۔ اس میں 120 تا 180 ملی گرام فی 100 سی سی سے زیادہ نہیں ہونی چاہئے۔
اگر یہ دونوں مقدار میں نارمل حد سے بڑھی ہوئی ہوں تو کنفرم ہے کہ اسے شوگر کا عارضہ ہے۔
اسباب:
خلقی تقص، بسیار خوری، ذہنی ٹینشن، ایلوپیتھی ادویہ کے مضر اثرات، اجسام خبیثہ کا حملہ۔
ذیابیطس معدی
عضلات میں تحریک، اعصاب میں تحلیل اور غدد میں تسکین کی وجہ سے ذیابیطس معدی کا عارضہ لاحق ہوتا ہے اس تحریک سے انسولین پیدا ضرور ہوتی ہے لیکن وہ باڈی کی ضرورت پوری نہیں کر سکتی جس کی وجہ سے خون میں گلوکوز کا لیول بڑھتا جاتا ہے اور انسولین کم ہونے کی وجہ سے گلوکوز کو جسم میں خرچ نہیں کر سکتی۔ یہ اس لئے ہوتا ہے کہ چونکہ غدد میں تسکین ہے اس لئے وہ ایکٹیو ہو کر اسے Utalize نہیں کر سکتے تب شوگر خون میں بڑھتی جاتی ہے حتیٰ کہ پیشاب میں بھی خارج ہونے لگتی ہے۔
ہضم کی اس خرابی کی وجہ سے زبان اور حلق خشک ہو جاتے ہیں اور بار بار پیاس لگتی ہے۔ معدہ میں نفخ اور کھٹی ڈکاریں آتی ہے۔ شکم میں ریاح بکثرت پیدا ہوتی ہیں اور خشکی کی وجہ سے شدید قبض ہو جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نیند بھی کم ہو جاتی ہے اور موتیا سیاہ کی شکایت ہو سکتی ہے۔ کبھی معدہ میں درد اور تیزابیت کی شکایت پیدا ہوتی ہے اور کبھی مسوڑھوں اور کبھی قولونِ نازل سے خون بہنے لگتا ہے۔ ان مریضوں میں بواسیری مادہ اور زہر کی علامات پائی جاتی ہیں اور ان میں کچھ وہمی اور نفسیاتی ہوتے ہیں۔ کبھی بھوک نہیں لگتی اور جب لگتی ہے تو شدید کہ جسم نڈھال ہونے لگتا ہے۔
اسباب: سرد خشک اشیاء کا کثرتِ استعمال۔
ذیابیطس کبدی
در اصل یہ سوزشِ کلیہ کا مرض ہے۔ اس میں پیشاب کا رنگ زرد اور جل کر آتا ہے۔ جسم میں چبھن، نیند کی بے چینی، ہاتھ پاؤں میں جلن، سر اور کنپٹیوں پر درد، تھکاوٹ، خفقان اور بلڈ پریشر ہائی ہو جاتا ہے۔ مسلسل دباؤ رہنے سے گردے فیل ہونے لگتے ہیں جس سے جسم میں یوریا بڑھ جاتا ہے اور عضلات میں تناؤ آ جاتا ہے۔ اس وقت بلڈ پریشر ہائی ہو جاتا ہے کیونکہ غدد میں تحریک سے وہ سکڑ جاتے ہیں اور نیفرون کے منہ بند ہو جاتے ہیں اور گلوکوز جگر کی طرف نہیں جاتا، وہ گردے تک رک جاتا ہے جس سے یہ شوگر صرف خون میں ہوتی ہے اور پیشاب میں خارج نہیں ہوتی۔
اسباب: گرم خشک اشیاء کا کثرتِ استعمال۔
ہائپوگلائیسیمیا (بلڈ شوگر کم ہونا)
یہ مرض دو طرح کا ہوتا ہے:
1۔ کھانا کھانے سے پہلے
2۔ کھانا کھانے کے بعد
1۔ کھانا کھانے سے پہلے ہائپوگلائسمیا:
خون میں گلوکوز لیول کم رہنے سے اعصابی نظام کو آہستہ آہستہ نقصان پہنچتا ہے، یادداشت کم ہو جاتی ہے، بات کرتے وقت زبان لڑکھڑاتی ہے، آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جاتا ہے، کبھی ایک کی بجائے دو نظر آتے ہیں۔ شدت کی صورت میں دورے بھی پڑتے ہیں اور کماٹوز (بے ہوش) بھی ہو سکتا ہے۔ لیبارٹری ٹیسٹ میں بلڈ شوگر عموماً 40mg فی ڈیسی لیٹر سے کم ہوتی ہے اور انسولین کا سیرم میں لیول آٹھ مائیکرو یونٹ فی سی سی بڑھ جاتا ہے۔
2۔ کھانا کھانے کے بعد ہائپوگلائی سیمیا:
مریض کو کھانا کھانے کے ایک تا تین گھنٹے کے اندر اور بعض کو تین تا پانچ گھنٹے کے بعد ہائپوگلائی سیمیا ہو جاتا ہے۔ دل کی رفتار بڑھ جاتی ہے۔ پسینہ، رعشہ، متلی اور دردِ سر ہوتا ہے۔ مریض صحیح طرح سو نہیں سکتا کیونکہ اس مرض میں کھانا بہت جلد معدہ سے انتڑیوں میں پہنچ کر جذب ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں گلوکوز کا لیول خون میں بڑھ جاتا ہے۔ اسے کنٹرول کرنے کے لئے لبلبہ فوراً انسولین زیادہ خارج کرتا ہے جس سے ہائپو گلائی سیمیا ہو جاتا ہے۔
اسباب: پچوٹری گلینڈ کا سست ہو جانا، موٹاپا، اینڈوکرائن گلینڈ کی خرابیاں مثلاً لبلبہ میں ٹیومر، تھائیرائیڈ کا میکسے ڈیما، گردوں کا فیل ہونا۔
احتباسِ بول (پیشاب بند ہو جانا)
اس کی تین اقسام ہیں:
پہلی قسم:
اس مرض میں پیشاب کی پیدائش رک جاتی ہے۔ مثانہ میں پیشاب نہ ہونے کی وجہ سے بوجھ نہیں ہوتا۔ شدید حاجت ہونے سے مریض پیشاب کرنے کے لئے بیٹھتا ہے مگر کچھ نہیں آتا، دیر سے چند قطرے خارج ہوتے ہیں کیونکہ اعصاب میں تحریک، غدد میں تحلیل اور عضلات میں تسکین ہوتی ہے۔ تحریکِ اعصاب کی صورت میں دورانِ خون سست ہو جاتا ہے اس لئے گردوں میں خون کا زور کم پڑ جاتا ہے اور ان کی شریانوں میں امتلاء اور تناؤ گھٹ جاتا ہے اس لئے پیشاب کی پیدائش ہی کم ہو جاتی ہے اور بعض اوقات اس میں کمی و جلن پیدا ہو جاتی ہے۔ اس حالت میں پیشاب کی پیدائش کی ادویہ دینی چاہئیں نہ کہ پیشاب جاری کرنے والی اگر پیشاب جاری کرنے والی ادویہ دی گئیں تو مریض کا منہ خشک ہونے لگے گا اور تلخی بڑھ جائے گی، پیشاب نہیں آئے گا اگر اس حالت میں عضلات کا فعل تیز کرنے والی کوئی چیز دے دی جائے تو چند منٹوں میں پیشاب جاری ہونے لگتا ہے اور مریض کی پریشانی دور ہونے لگتی ہے۔
اسباب: تر سرد اشیاء کا کثرتِ استعمال، ایلوپیتھی مدرِبول ادویہ کے مابعد اثرات مثلاً Lasix وغیرہ۔
دوسری قسم:
اس قسم میں خون دل سے گردوں کی طرف آ رہا ہوتا ہے۔ جب گردوں میں پہنچتا ہے تو وہاں صاف ہوتا ہے اس حالت میں عضلات میں تحریک، غدد میں تسکین اور اعصاب میں تحلیل ہوتی ہے۔ عضلاتی تحریک میں خون گاڑھا ہوتا ہے اور غدد میں تسکین کی وجہ سے اسے صحیح طور پر صاف نہیں کر سکتے اور اجزائے بوليہ کم چھنتے ہیں۔ ایسی صورت میں گردوں اور مثانہ میں ریگ و پتھری بننی شروع ہو جاتی ہے۔ پیشاب آتے وقت درد اور نالی میں رڑک اور بعض اوقات خون آ جاتا ہے۔ جب شدت ہو جائے پیشاب آنا بند ہو جاتا ہے۔
اسباب: سرد خشک اشیاء کا کثرتِ استعمال۔
تیسری قسم:
اس مرض میں مریض کا جسم گرم، منہ کا ذائقہ کڑوا اور جسم میں چبھن جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ مثانہ پیشاب سے لبریز ہوتا ہے لیکن اس کے اخراج کا راستہ بند ہوتا ہے۔ اس وجہ سے مریض مثانہ کے مقام پر بوجھ محسوس کرتا ہے۔ اس حالت میں غدد میں تحریک، عضلات میں تحلیل اور اعصاب میں تسکین ہوتی ہے۔ تسکینِ اعصاب کی صورت میں دورانِ خون غدد کی طرف زیادہ ہوتا ہے اور اعصاب میں سکون کی وجہ سے پیشاب کا اخراج بہت حد تک کم ہو جاتا ہے اور بعض اوقات بالکل بند ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں جلن بھی ہونے لگتی ہے کیونکہ صفراء کی پیدائش زیادہ ہوتی ہے اور اس کا ایک حصہ اس راستے سے باہر آ رہا ہوتا ہے اور اس حالت میں گردوں میں اس کی زیادتی سے ورم ہوتا ہے اس لئے فلٹریشن کے وقت بھی تلخی ہوتی ہے اور جاری ہوتے وقت بھی ٹیس اور جلن محسوس ہوتی ہے۔
اسباب: گرم خشک اغذیہ و ادویہ کا کثرتِ استعمال، موسم، آب و ہوا۔
بول الدم (پیشاب میں خون آنا)
بعض اوقات پیشاب کرنے سے پہلے یا بعد یا پیشاب کے ساتھ خون بھی آتا ہے۔ کبھی پیشاب کی بجائے خالص خون آنے لگتا ہے۔
اگر پیشاب کرنے سے پہلے خون آتا ہو تو وہ احلیل سے آتا ہے۔ یہ خون بلا پیشاب بھی آ سکتا ہے۔ اگر پیشاب کرنے سے پہلے کم مقدار میں خون آئے تو وہ غدہ قدامیہ سے آتا ہے۔ اگر گردوں سے خون آئے تو اس کا رنگ گوشت کے دھوون جیسا ہوتا ہے اور مقامِ گردہ پر تکلیف ہوتی ہے۔ جب خون مثانہ سے آ رہا ہو تو وہ پیشاب میں مکس ہو کر آتا ہے۔ یہ رنگت میں سیاہ ہوتا ہے۔ کبھی کثرتِ جلق سے اوعیہ منی سے مادہ منویہ کی بجائے خون آنے لگتا ہے۔
اسباب: گرم خشک اشیاء کا کثرتِ استعمال، گردہ و مثانہ میں پتھری، ضربہ و سقطہ، قروح گردہ و مثانہ، سوزاک، کثرت جلق، کثرت طمث وغیرہ۔
عسرُ البول (پیشاب تنگی سے آنا)
پہلے بار بار پیشاب کی حاجت ہوتی ہے اور پیشاب کی دھار باریک ہو جاتی ہے۔ کبھی پیشاب بالکل رک جاتا ہے۔
اسباب: مزمن سوزاک، گرم خشک اشیاء کا کثرت استعمال
تقطیر بول (پیشاب کے قطرے آنا)
اس مرض میں پیشاب کی حاجت بار بار ہوتی ہے لیکن چند قطروں کے سوا کچھ نہیں خارج ہوتا، پیشاب میں جلن ہوتی ہے۔ کسی کام میں دلجمعی نہیں ہوتی۔ پیشاب کرنے کے بعد قطرے نکلتے محسوس ہوتے ہیں، یوں لگتا ہے کہ ابھی مثانہ صاف نہیں ہوا۔
اسباب: گرم خشک اشیاء کا کثرت استعمال، گرم آب و ہوا۔
عظم غدہ قدامیہ (Pristate Gland)
یہ مرض عموماً بوڑھے افراد کو لاحق ہوتا ہے۔ اس مرض میں پیشاب کھل کر نہیں آتا۔ مثانہ، مقعد اور سیون میں بوجھ، جلن اور درد کی شکایت ہوتی ہے۔ پیشاب کی حاجت بار بار ہوتی ہے اور مقدار میں کم ہوتا ہے۔ تھوڑی دیر بعد قطرے نکلنے لگتے ہیں۔ یا دوبارہ پیشاب کی حاجت ہوتی ہے۔ بیٹھنے سے چند قطرے گرتے ہیں۔ پیشاب کرتے وقت سخت تکلیف ہوتی ہے۔ درد کی وجہ سے مریض اجابت بھی نہیں کر سکتا۔ اس وقت الٹرا ساؤنڈ کرانے سے پراسٹیٹ گلینڈ بڑھا ہوا دکھائی دیتا ہے جبکہ طبعی حالت میں اس کی لمبائی 4cm اور چوڑائی 3cm اور موٹائی 2cm ہوتی ہے۔ یہ پیشاب کی نالی کو اردگرد سے گھیرتا ہے اور گاڑھی اور ملائم رطوبت پیدا کرتا ہے۔ پیشاب کو خود بخود خارج ہونے سے روکتا ہے۔ مباشرت کے وقت جب منی کا اخراج ہوتا ہے تو یہ پیشاب کو خارج نہیں ہونے دیتا۔
اسباب: سرد خشک اشیاء کا کثرتِ استعمال، بڑھاپا، تجرد سمیت۔
سلسل بول (پیشاب بار بار آنا)
مثانہ کا عضلہ ڈھیلا ہو جانے سے سلسل البول کی شکایت ہو جاتی ہے۔ اس وجہ سے پیشاب ہر وقت قطرہ قطرہ ٹپکتا رہتا ہے۔ یا بار بار پیشاب کرنے کی حاجت ہوتی ہے۔ پیشاب مقدار میں کم اور اتنی تیزی سے آتا ہے کہ مریض اسے روک نہیں سکتا۔ اس لئے کبھی بے خطا نکل جاتا ہے۔ موسم سرما میں سرد ہوا چلنے سے یہ تکلیف بڑھ جاتی ہے۔ رات کو بار بار پیشاب کرنے کی وجہ سے نیند بھی خراب ہو جاتی ہے۔
اسباب: تر سرد اشیاء کا کثرتِ استعمال، ذیابیطس حقیقی، ضعفِ گردہ، بڑھاپا۔
بول زلالی (البیو مینوریا) پروٹینوریا
لحمیات جسم کی نشونما اور ساخت میں اہم کردیار ادا کرتے ہیں۔ یہ ہر خلیے اور انسانی عضلات کی ساخت کا بنیادی اور اہم جزو ہیں جو بافتوں، طنابوں، جلد، ناخن، بال، ہارمونز، خامرات، اینٹی باڈیز وگیرہ کی ساخت کے لئے ضروری ہیں۔ ہاں البتہ یہ توانائے کی فراہمی کے کام نہیں آتے اور یہ جسم میں تحلیل ہو کر ہوریا کی شکل میں گردوں سے خارج ہو جاتے ہیں اور باقی گلوکوز اور چربی میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔
خون میں موجود ایک لحمیہ جسے البیومن کہتے ہیں اور چند دیگر لحمیات 150 ملی گرام تک 24 گھنٹے میں روزانہ ہر بالغ مردوزن کے پیشاب سے خارج ہوتی ہیں۔ اس میں البیومن 10 تا 15 ملی گرام ہوتی ہے۔ البیومن جگر میں بننے والی سب سے اہم لحمیہ (پروٹین) ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً تیس (30) سے زائد اقسام کی لحمیات شامل ہیں۔
گردوں کی وہ بیماریاں یا غیر طبعی حالتیں جو گردوں کی قنابلون (Glomerule) اور قناتِ صغیرہ (Tubulus) کو نقصان پہنچاتی ہیں، لحمیات اور البیومن کا اخراج پیشاب کے ذریعے سے بڑھا دیتی ہیں اور بڑھتے بڑھتے یہ مقررہ مقدار 150 ملی گرام سے تجاوز کرنے لگتی ہیں۔ تب اس حالت کو پروٹینوریا (Proteinuria) کہتے ہیں۔ اگر اس اخراج کی مقدار ساڑھے تین (\bm{3\frac{1}{2}}) ملی گرام سے زیادہ ہو جائے تو خون میں البیومن کی کمی واقع ہونے سے چہرے اور پاؤں پر ورم آ جاتا ہے۔ اس حالت کو انحطاطِ گردہ (Nephrotic Syndrome) کہتے ہیں۔
اس مرض میں گردوں کی ساخت میں خرابی پیدا ہو جاتی ہے۔ جب یہ مرض شروع ہوتا ہے تو مریض دیکھنے میں تندرست لگتا ہے۔ پیشاب سفید، کثرت سے اور بار بار آتا ہے۔ سر کے پچھلے حصے اور کمر میں درد ہوتا ہے۔ بدن کمزور اور قوتِ باہ ضعیف ہو جاتی ہے۔ جب مرض بڑھ جاتا ہے تو مریض کے چہرے کا رنگ پھیکا پڑ جاتا ہے۔ دردِ سر کی شکایت ہوتی ہے، سانس تیز ہو جاتا ہے اور کبھی نہ رکنے والی کھانسی شروع ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات غشی اور تشنج کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ یورن ٹیسٹ میں البیومن کے اخراج کا پتہ چل جاتا ہے۔ پیشاب میں گردوں کی چربی، انڈے کی سفیدی کی طرح خارج ہوتی ہے۔
اسباب: شراب کی لعنت کا رسیا ہونا، کثرتِ جماع و جلق، ورمِ کلیہ۔
آتشک
اعصاب کی غذا بلغم اور رطوبت ہے اور اس میں جب تحریک ہوتی ہے تو یہ بھی جسم میں رطوبت اور بلغم پیدا کرتے ہیں۔ ان حقائق سے ثابت ہوتا ہے کہ آتشک کے مریض کے جسم میں اعصاب کے تحریک کے ساتھ ساتھ رطوبات اور بلغم کی شدت ہوتی ہے جس میں خمیر اور تعفن پیدا ہو کر مرض کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
علامات: محققین نے اس مرض کی علامات میں تین درجے لکھے ہیں:
درجہ اوّل:
آتشک کا زہر جسم میں داخل ہوتے ہی اس مرض کا ابتدائی دور شروع ہو جاتا ہے اور تین ہفتے سے لے کر پانچ ہفتے تک کی مدت زیادہ سے زیادہ اس درجے کی مانی گئی ہے لیکن کم از کم دس دن بعد سرائیت کے مقام پر ایک سخت ابھار یا سرخ پھنسی پیدا ہو جاتی ہے جس کی جڑ سخت ہو جاتی ہے اور یہ رفتہ رفتہ بڑھ کر پھٹ جاتی ہے اور ایک زخم بن جاتا ہے جو صرف ایک ہی ہوتا ہے اور اس کے آس پاس کی جگہ قدرے اونچی ہوتی ہے۔ اگر زخم کو دبا کر دیکھیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی سخت گرمی جلد کے اندر پیدا ہو گئی ہے۔ اس زخم میں درد بالکل نہیں ہوتا اور مواد بھی بہت کم نکلتا ہے اور زخم کے پیدا ہونے کے پانچ سات روز بعد جنگاسوں (کنج رانوں) کی گلٹیاں متورم ہونے لگتی ہیں جو دبانے سے سخت تکلیف دہ معلوم ہوتی ہیں لیکن عام طور پر ان میں درد نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ نرم ہوتی ہیں اور نہ ان میں پیپ پڑتی ہے۔ اگر اس آتشکی پھنسی یا ابھار میں یا متورم غدد میں بذریعہ سوئی ذرا سی رطوبت لے کر بذریعہ خوردبین امتحان کیا جائے تو اس میں آتشک کے لہر دار جراثیم نظر آئیں گے۔
درجہ دوم:
یہ تو معلوم ہو گیا کہ آتشک ابتدائی درجہ میں ایک ورم یا آبلہ سا عضوِ تناسل پر نمودار ہوتا ہے اور یہ درجہ دس دن سے لے کر پانچ چھ ہفتے تک ہوا کرتا ہے۔ درجہ دوم میں اسی ورم، پھنسی یا آبلہ میں جو ابتداء میں بہت مشتبہ اور مشکوک حالت میں ہوتا ہے آتشک کے جراثیم ملتے ہیں۔ اگر ان زخموں کو کھرچ کر خوردبین کے سامنے دیکھا جائے تو آسانی سے آتشک کے جراثیم کا ثبوت ملتا ہے۔ پھر اگر یہی درجہ غفلت اور لاپرواہی سے گزار دیا جائے تو درجہ دوم شروع ہو جاتا ہے اور خون کے مسموم ہو جانے کی علامتیں ظاہر ہونے لگتی ہیں۔ یعنی جب آتشک کا زہر سرائیت کر جاتا ہے تب علامتِ مفصلہ ذیل پیدا ہوتی ہیں چنانچہ ابتداء میں مریض کے جسم میں ہلچل مچ جاتی ہے یعنی بخار ہو جاتا ہے جو کبھی خفیف اور کبھی شدید ہو جاتا ہے اور کبھی نوبتی اور کبھی لازمی ہوتا ہے اور بعض اوقات ملیریا یا بخار سے اس بخار کا دھوکا ہونے لگتا ہے۔ مریض پست ہمت اور نڈھال ہو جاتا ہے۔ گوشت اور ہڈیوں میں درد ہونے لگتا ہے۔ عموماً دست و پاء اور جوڑوں میں درد ہونے لگتا ہے۔ شدید دردِ سر اور بے خوابی ہونے لگتی ہے اور جلد کی رنگت پیلی پڑ جاتی ہے۔ آتشک کے بخار اور دردوں میں اکثر رات کے وقت شدت ہوتی ہے۔ حلق، تالو اور لوزتین میں التہاب اور ورم کا آغاز ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد بازوؤں اور رانوں کے پچھلے حصوں پر گلابی رنگ کے داغوں سے درجہ دوم کے آغاز کا ثبوت ملتا ہے۔ یہ دانے دو ہفتے سے چار ہفتوں تک تمام جسم پر نکلتے ہیں اور پھر دو ماہ کے اندر مرجھا جاتے ہیں یا ختم ہو جاتے ہیں اور کچھ عرصہ کے لئے وہاں سیاہ داغ رہ جاتے ہیں۔ ان دانوں کے درمیان پیپ بھی پڑ جاتی ہے مگر جلن یا خارش بالکل نہیں ہوتی جو آتشکی دانوں کی علامتِ خاص ہے۔ ان دانوں کے نکلتے ہی لبوں اور زبان پر اور رخساروں کے اندر سفید چٹاخ یا داغ بن جاتے ہیں۔ چڈوں اور گردن کی گلٹیاں بھی بڑھ جاتی ہیں۔
حجرہ، لوزتین اور حلق میں ورم اور التہاب جو عروقِ جاذبہ کی سوزش کا نتیجہ ہے، پیدا ہو جاتی ہے۔ یعنی ورمِ لوزتین آتشکی ہو جاتا ہے۔ ان میں زخم پڑ جاتا ہے نیز مبرز وغیرہ کے اطراف میں اور عورتوں کے جسم کے زیریں حصے میں مرد کے فوطوں وغیرہ پر اور انگلیوں کے درمیانی حصوں میں چٹے یا بدبودار رطوبت کا بہہ کر جم جانا جو لعاب دار جھلیوں میں پھیل جاتی ہے۔ یہ علامتیں ہیں جو ظاہر ہونے لگتی ہیں:
بالوں کا جھڑ جانا، ناخنوں میں شکستگی و تیرگی کا پیدا ہونا۔ یہ سب عصبی خرابیوں کا نتیجہ ہے اور انہی صورتوں کے ساتھ بعض اوقات جسم پر بھور ٹولولی (مسوں کی طرح کی پھنسیاں) پیپ دار دانے اور چھالے اور جسم کے مختلف حصوں میں زخم یا عام پھوڑے بھی اس مادے کی ماہیت اور خونِ صالح سے تغذیہ حاصل نہ ہونے کے اسباب کا نتیجہ ہے۔ انہی دنوں کلائی اور ٹانگوں کی لمبی ہڈیوں اور نلیوں میں درد ہونے لگتا ہے چونکہ علاماتِ جسم کی شدت میں بہت اختلاف ہے اس لئے جب تھوڑے عرصہ کے بعد گلابی رنگ کے دھبے مرجھانے لگتے ہیں تب کوئی نہ کوئی اور قسم کے بخارات بدن میں نکلتے ہیں اور یہ جوڑے، سرِچشم اور ہاتھ پاؤں پر اکثر نمودار ہوتے ہیں۔ رنگ ان بخارات کا بھی تانبے جیسا ہوتا ہے اور جب وہ بڑھنے لگتے ہیں تب ان پر چھلکے پیدا ہو جاتے ہیں اور تمام جسم مرج سورائی سس (چنبل یا اپرس) کی شکل کا ہو جاتا ہے۔ یعنی تمام جسم پر یا جسم کے بعض حصوں پر گول گول چھلکوں کی چٹیں پیدا ہو جاتی ہیں مگر ان میں کسی قسم کی رطوبت نہیں ہوتی۔ جب یہ جھڑ جاتی ہیں تب جلد پر اور چٹیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ بعض صورتوں میں ایسی سخت پھنسیاں جن میں پیپ نہ پڑے بڑھ کر اونچا ابھار بن جاتے ہیں۔ اب ملائم تالو اور حلق میں زخم پیدا ہو جاتے ہیں۔ یا لوزتین میں گہرے زخم پڑ جاتے ہیں۔ حلق کے پردہ اور بانچھوں پر، عورت کے اندامِ نہانی اور لبوں پر، مرد کے فوطوں پر اور مقعد کے گرد داغ پیدا ہو جاتے ہیں۔ سر کے بال اس قدر گر جاتے ہیں کہ مریض گنجا ہو جاتا ہے۔ یا اس کے سر میں لف پیدا ہو جاتا ہے۔ اکثر مریض بہرے ہو جاتے ہیں۔ بعدازاں کفِ دست وپا پر سورائی سس اور زبان کے کناروں پر زخم پیدا ہو جاتے ہیں۔ طبقہ غیبیہ کے التہاب کی بیماری بھی ہو جاتی ہے۔
بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ابتداء ہی سے جلد پر سخت قسم کی پھنسیاں پیدا ہو جاتی ہیں اور جب وہ جابجا اکٹھی ہوتی ہیں اور ان پر جابجا موٹا سیاہ رنگ کا کھرنڈ بن جاتا ہے تب مریض نہایت بدشکل ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات پھنسیاں بھی چیچک کے دانوں کی طرح نمودار ہوتی ہیں۔ جلد کی وہ بیماری جو آتشک کے سبب پیدا ہوئی ہے علاج سے بمشکل رفع ہو جاتی ہے اور برسوں تک چلتی رہتی ہے۔ ان امراضِ جلدی میں جو آتشک کے سبب سے پیدا ہوتی ہیں اور ان جلدی بیماریوں میں جو آتشک کے سبب سے پیدا نہیں ہوتیں یہ فرق ہے کہ جو بیماریاں آتشک کے سبب سے پیدا ہوتی ہیں ان سے جلد کا رنگ تانبے جیسا ہو جاتا ہے اور ان میں نہ خارش ہوتی ہے اور نہ ہی گرم ہوتی ہے اور یہ اکثر بدکاری سے پھیلتی ہیں مگر تشخیصِ کامل کے لئے حلق اور منہ کو بھی ملاحظہ کرنا چاہئے اور چڈوں اور گلو کی گلٹیاں بھی دیکھنی چاہئیں۔
جلد کا رنگ تانبے جیسا اس لئے ہوتا ہے کہ آتشک کا زہر تمام خون میں سرائیت کر جاتا ہے جس کی وجہ سے تمام باریک عروق اور رگوں میں خون کا اجتماع ہونے لگتا ہے۔ ان کی رنگت اس مادہ سمیہ کے اشتراک کی وجہ سے تانبے جیسی ہو جاتی ہے اور کبھی ان بھور میں پیپ بھی پڑ جاتی ہے لیکن اس کے باوجود بھی ان میں خارش اور جلن نہیں ہوتی۔
درجہ سوم:
آتشک کے تیسرے درجے کے ظاہر ہونے کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے بلکہ اس درجے کا ظاہر ہونا بہت حد تک مریض کی صحت اور علاج پر منحصر ہے چنانچہ آتشک کے تیسرے درجہ میں جن بیماریوں کا صحیح اور باقاعدہ علاج کیا جاتا ہے ان میں آتشک کے تیسرے درجے کی علامتیں ظاہر نہیں ہوتیں۔ اگر ہوں بھی تو بہت خفیف ہوتی ہیں لیکن بعض مریضوں میں معقول علاج کے باوجود چھ یا آٹھ ماہ بعد اور بعض میں کئی کئی سال بعد درجہ سوم کی علامتیں ظاہر ہوتی ہیں اور بعض مریض پندرہ پندرہ بیس بیس سال تک بھلے چنگے رہتے ہیں اور پھر ان میں درجہ سوم کی علامتیں ظاہر ہوتی ہیں۔ درجہ دوم اور سوم میں وقتاً فوقتاً ایسی علامتیں ظاہر ہوتی ہیں جو مریض کو تنبیہ کرتی ہیں کہ ابھی آتشک کا مرض گیا نہیں۔ ان علامتوں کو درجہ دوم کی آخری علامتیں کہتے ہیں مثلاً:
1۔ کرہ چشم کے مختلف پردوں میں التہاب۔
2۔ شرائین کے اندرونی طبق میں التہاب۔ کسی دماغی شریان میں سدہ واقع ہو کر کسی خاص حصہ دماغ کے دورانِ خون کا مسدود ہو جانا اور اس کے افعال کا معطل ہو کر فالج ہو جانا۔
3۔ ہاتھ پاؤں کے تلوؤں اور بعض دفعہ تمام جسم پر مرض سورائی سس کا پیدا ہو جانا جس میں گول گول چٹاخ پڑ جاتے ہیں اور چمڑا خشک ہو کر پھٹ جاتا ہے اور اس پر سے چھلکے اترتے رہتے ہیں۔
4۔ ٹانگوں وغیرہ پر گول گول زخم بن جاتے ہیں جنہیں ڈاکٹری اصطلاح میں روپیا (Rupia) اور طبِ قدیم کی اصطلاحات میں لفاخات یا چھالے کہتے ہیں۔ یہ چھالے کبھی متفرق اور کبھی مجتمع ہوتے ہیں اور مٹر کے دانے سے لے کر کبوتر یا مرغی کے انڈے کے برابر ہوتے ہیں اور آبی رطوبت سے پُر ہوتے ہیں۔ چھالے پھٹ کر رطوبت بہہ جاتی ہے اور ان پر کھرنڈ جم جاتے ہیں۔ آتشکی لفاخات کا یہ خاصہ ہوتا ہے کہ یہ زخم اندر ہی اندر بڑھتا ہے۔ ننھے بچوں کی ہتھیلیوں اور تلوؤں میں مادہ آتشک سے یہ مرض عموماً ہو جاتا ہے۔
غرض یہ کہ اس مرض میں اگر پہلے اور دوسرے درجے کا علاج دھیان سے نہ کروایا جائے تو تیسرا درجہ اپنے خوفناک اثرات کے ساتھ رونما ہوتا ہے اور اعضائے رئیسہ تک متاثر ہوتے ہیں۔ دماغ اور اس کے اعصاب، پھیپھڑے، جگر، گردے، طحال، آنتیں اور اعضائے باطنی میں گونا گوں خرابیاں اور سختیاں پیدا ہو کر حیات کی مسرتیں اور نشاطِ عمر کا دور کلفت اور مصیبتوں میں بدل جاتا ہے۔ بعض اوقات آنکھ کا پردہ قرنیہ اور دوسرے پردے باہم جڑ جاتے ہیں اور عصب لوزتین میں التہاب پیدا ہو جاتا ہے۔ ابتدائی حالات میں تو ہڈیاں درد کرتی ہیں لیکن آخر میں ہڈیاں نرم ہو کر گلنے لگتی ہیں۔ تالو گل جاتا ہے، کبھی ناک کا بانسہ گل کر ناک بیٹھ جاتی ہے۔ پھر یہ حالتیں ایسی بعید العلاج ہوتی ہیں کہ مریض موت کی گھڑیاں گننے لگتا ہے۔
اس مرض کا اثر ذراتِ خون اور اعضائے جسم کے تار و پود پر بھی ہوتا ہے اور وہ اس طرح کہ جب مریض کے جسم میں مادہ ”سمِ قاتل“ داخل ہو جاتا ہے اور مدافعتِ فطری مقابلے پر آمادہ ہو جاتے ہیں تو جسم کے ریشوں، غدد اور جھلیوں وغیرہ میں سختی اور مادہ ٹولولی پیدا ہو کر اس کے مزاج کی رطوبتیں جسم کے ہر حصہ میں جہاں آسانی سے موقع ملتا ہے، جمع ہو کر صلاحیتیں پیدا کرتی رہتی ہیں اور اسی مادہ لزوج کا دباؤ کہیں جسم کے ریشوں اور شریانوں و اعصاب وغیرہ پر پڑتا ہے اور کہیں یہ لزوجت ان تمام اعضاء میں سے کسی ایک کو انتخاب کر لیتی ہیں چنانچہ مختلف احشاء میں گلٹیاں جلد کے نیچے عضلات میں زبان، حلق، امعاء، دماغ، نخاع، اعصابِ دل، پھیپھڑے، جگر، تلی اور گردوں وغیرہ پر نیز ہڈیوں میں بھی پیدا ہو جاتی ہے۔
آتشک کی اقسام:
آتشک کی دو اقسام ہیں۔ عوام میں ان کو نر اور مادہ کہتے ہیں۔ انگریزی میں سافٹ شنکر اور ہارڈ شنکر کہتے ہیں۔ ہماری تحقیقات میں ایک اعصابی عضلاتی ہے اور دوسرے کا نام اعصابی غدی ہے۔ یونانی طب میں اعصابی عضلاتی اس آتشک کو کہتے ہیں جس میں رقیق بلغم جل کر سودا بن جائے اور متعفن ہو جائے۔
اور اعصابی غدی اس آتشک کو کہتے ہیں جس میں رقیق بلغم صفراء سے مل کر جل جائے اور متعفن ہو جائے۔
بہر حال دونوں قسم کے آتشک میں بلغم کا دخل ہوتا ہے۔ یہ جل کر متعفن ہو جاتا ہے۔
نر آتشک اعصابی عضلاتی ہوتا ہے جو زیادہ تر مردوں کو ہوتا ہے۔
اور مادہ آتشک اعصابی غدی ہوتا ہے جو مردوں کو کم اور عورتوں کو زیادہ ہوتا ہے۔
نر اور مادہ آتشک میں فرق:
مادہ اور نر آتشک میں یہ تفاوت ہے کہ:
1۔ مادہ آتشک سے مسموم ہونے کے بعد کم از کم دس یوم ورنہ دو ہفتے تک ابتدائی علامتیں ظاہر ہوں تو سمجھ لینا چاہئے کہ آتشک مادہ ہے اور اگر ارتکابِ فعلِ بد سے 24 گھنٹے کے اندر ہی فوری آبلہ نمودار ہو جائے اور ٹوٹ کر چار پانچ دن میں زخم بن جائے تو سمجھ لینا چاہئے کہ آتشک نر ہے۔
2۔ مادہ آتشک میں آبلہ یا زخم پیدا ہونے کے ہفتہ عشرہ بعد چڈوں میں ایک طرف یا دونوں طرف گلٹیوں میں ورم نمودار ہوتا ہے لیکن پیپ نہیں پڑتی۔
اور اگر آتشک نر ہے تو زخم پیدا ہوتے ہی غدود متورم ہو کر عموماً جلد پک جاتے ہیں اور پیپ بہنے لگتی ہے۔
3۔ اگرچہ بازاری عورتوں سے مباشرت کے بعد ان علامتوں کا پیدا ہو کر آبلہ، ورم یا زخم بن جانا پھر چڈوں کی گلٹیاں متورم ہو جانا تو مشترک ہیں۔
لیکن مادہ آتشک کا آبلہ بہت سخت ہو جاتا ہے اور چٹکی کے اندر دبانے سے جلد کے اندر ایک غدود سا معلوم ہوتا ہے اور چھونے سے متحرک اور ایک سمت سے دوسری سمت ہٹتا معلوم ہوتا ہے اور نر آتشک میں اتنی صلاحیت نہیں ہوتی، وہ نمودار بھی جلد ہوتا ہے اور پک بھی جلد جاتا ہے اور اس کا زخم بھی گہرا ہوتا ہے۔ تاہم یہ باتیں بہت غور کے قابل ہیں کیونکہ دونوں آتشک ایک ہی زمانے میں پیدا ہوتے ہیں۔
4۔ مادہ آتشک کا زہر خون میں سرائیت کر جاتا ہے اور اس کا مادہ اندر ہی اندر نشونما پاتا رہتا ہے اس لئے ایک زمانہ دراز تک علاج کی ضرورت ہے۔ دور جدید میں تین سال تک علاج کی ضرورت ہے۔
لیکن نر آتشک کا زہر خون میں شامل نہیں ہوتا بلکہ بیرونی تکلیف پر ہی ختم ہو جاتا ہے لیکن اگر زخم کا علاج فوری نہ کیا جائے تو اس سے بھی عضو تناسل میں تاکل پیدا ہو جاتا ہے اور وہ گل جاتا ہے۔
نوٹ:
نر آتشک میں مرکبات سیماب وغیرہ کے زیادہ استعمال کی ضرورت نہیں پڑتی اس لئے کہ اس کا اثر خون اور عروق کے نازک حصے تک نہیں پہنچ سکتا اور اس میں درجات بھی نہیں ہوتے۔
بواسیر
بواسیر کی اقسام:
بنیادی طور پر بواسیر کی دو اقسام ہیں:
1- بواسیر بادی
2- بواسیر خونی
1- بواسیر بادی:
اس کو ریحی بواسیر بھی کہتے ہیں کیونکہ اس میں صرف قبض ہوتی ہے نہ مسّے بنتے ہیں اور نہ ہی خون آتا ہے۔ پیٹ میں ریاح دوڑتی پھرتی ہے جس کا اخراج آسانی سے نہیں ہوتا اور کبھی یہ ریاح جسم میں مختلف مقام پیٹ، کمر، مقعد، امعاء، کندھوں اور سر میں دباؤ سے درد پیدا کر دیتی ہے۔
اسباب: سرد خشک اشیاء کا کثرت استعمال
2- بواسیر خونی:
اس کی دو اقسام ہیں:
1- مسوں کے ساتھ خون آتا ہے اسے “دامی” یا “دامیہ” کہتے ہیں۔
2- مسے ہیں لیکن خون نہیں آتا اسے “عمیا” کہتے ہیں۔
مسوں کی اقسام:
یہ مسے کئی طرح کے ہوتے ہیں، ان میں سے چند ایک یہ ہیں:
1- عنبی۔۔۔۔ یہ انگور کی شکل کے ہوتے ہیں۔
2- تینی (انجیری)۔۔۔۔ یہ انجیر کی شکل کے ہوتے ہیں۔
3- ثولولی (مسوری)۔۔۔۔ یہ تل نما مسور جیسے ہوتے ہیں۔
4- تمری (کھجوری)۔۔۔۔ یہ کھجور کی گٹھلی جیسے ہوتے ہیں۔
5- ثوثی (شہتوتی)۔۔۔۔ یہ شہتوت جیسے لمبے اور نرم ہوتے ہیں۔
بواسیر خونی کی حقیقت:
مقعد کے مقام پر بڑی آنت ککے آخری حصہ میں خون کے دباؤ کی وجہ سے وریدیں پھول جاتی ہیں۔ یہ وریدیں بڑی آنت کی دیواروں میں پیوست ہوتی ہیں۔ دباؤ کی وجہ سے یہ باہر کی طرف پھولتی چلی جاتی ہیں۔ اس وقت مریض درد محسوس کرتا ہے۔ جب تلخ اور خشک چیزیں زیادہ کھاتا ہے تو آنتوں میں خشکی بڑھ جاتی ہے۔ اجابت انتہائی خشک اور سخت مٹی کی طرح ہوجاتی ہے۔ جب مریض زور لگا کر اسے خارج کرنے کی کوشش کرتا ہے تو فضلہ انتہائی تکلیف کے ساتھ ان وریدوں کے اوپر سے گزرتا ہے۔ اس کی چبھن سے وریدیں پھٹ جاتی ہیں اور خون بہنے لگتا ہے۔ یہ پھولی ہوئی وریدیں ہی مسے ہوتے ہیں جو کہ مقعد کے اندر اور باہر دونوں طرف مختلف شکلوں میں ہوتے ہیں چونکہ اس مرض میں بواسیری مسوں کی دیواریں بہت زیادہ پتلی ہو جاتی ہیں اور عضلات میں تحریک کی وجہ سے ریاح اور رطوبات کا اخراج رک جاتا ہے، نتیجہ کے طور پر وریدوں کے سروں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے جس سے باریک وریدیں پھٹ جاتی ہیں اور سرخ سیاہی مائل خون بڑی مقدار میں خارج ہوتا ہے۔ یہ سلسلہ اکثر جاری رہتا ہے جس سے مریض کا رنگ پیلا پڑ جاتا ہے۔ وہ نہایت لاغر اور نحیف ہو جاتا ہے حتیٰ کہ چکر آنے لگتے ہیں۔
علامات:
عام علامتیں:
جسم میں تناؤ، کھچاؤ، دل کی رفتار میں تیزی، عضلات میں ریاح سے سکیڑ، جسم میں خشکی، دماغ اور اعصاب میں ضعف، جگر اور غدد کے افعال میں سستی اور سکون اور وہاں پر رطوبت اور بلغم کی زیادتی، اسی ترش بلغم اور رطوبت کے دباؤ سے جسم کے تمام مخرجوں پر مسے پیدا ہو جاتے ہیں جن میں مقعد، رحم، ناک اور لب وغیرہ شامل ہیں اور ظاہر جلد پر سیاہ تل اور موہکے بن جاتے ہیں۔ منہ اور ناک اور سر میں خشکی، نزلہ بند، سینے میں جلن اور خشک کھانسی، معدہ میں سوزش، درد، جلن اور ریاح۔ گردوں اور جگر پر دباؤ، ان علامات میں شدت سے جوڑوں اور عضلات میں درد ہوتا ہے۔
خاص علامتیں:
مقعد کے اندر درد، جلن، سوزش اور خارش اور بوجھ کے احساس کی شدت، طبیعت بے چین، بیٹھتے وقت تکلیف محسوس ہوتی ہے۔ خشکی کی زیادتی سے آنتوں میں براز انتہائی خشک ہو کر آتا ہے۔ اکثر انسان لیٹا رہتا ہے۔ گزرتا ہے تو خون بہنا شروع ہو جاتا ہے۔ جب یہ مسوں سے رگڑ کھا کر نہیں آتا۔ یہ اکثر پہلے آتا ہے یا بعد میں قطروں کی شکل میں گرتا ہے۔ خون کے اخراج کے بعد سوزش اور بوجھ کم ہو جاتا ہے اور ریاح کے اخراج کے بعد درد میں کمی ہوتی ہے۔ جوں جوں ریاح میں بندش ہوتی جاتی ہے مسے بڑھتے جاتے ہیں اور درد میں شدت ہوتی جاتی ہے۔ اکثر قبض رہتی ہے مگر کبھی مروڑ کے ساتھ پاخانہ آتا ہے۔ البتہ پیشاب بار بار آتا ہے جس کے ساتھ کچھ تسکین محسوس ہوتی ہے۔
چونکہ بواسیری مادہ کا اثر اور اخراج جگر و غدد اور گردوں کی طرف ہوتا ہے اس لئے وہ بھی متاثر ہو جاتے ہیں۔ رفتہ رفتہ ان میں سوزش ہو جاتی ہے۔ بار بار خون کو صاف کرتے کرتے تھک جاتے ہیں جسے حالت تسکین کہتے ہیں۔
لہذا تھکے ہوئے غدود جسم سے زہر نہیں نکال سکتے جس سے وہ زہر جسم کے مختلف غدودِ ناقلہ پر ہوتے ہیں اور ہر مقام پر ایک الگ قسم کی آفت پیدا کرتے ہیں جنہیں لوگ امراض سمجھ لیتے ہیں مثلاً معدہ میں ترشی زیادہ ہونے سے السر، آنتوں میں زخم اور کولون میں قروح، معدہ پر مسے، ظاہر جلد پر پھوڑے پھنسیاں، گلٹیاں، رسولیاں، دل کی اپنی وریدوں، شریانوں اور صمام میں بندش، گردوں میں یورک ایسڈ، ناک کے مسے یہ سب بواسیر ہیں۔
اسباب: خشک گرم اشیاء کا کثرت استعمال۔
پیاس:
سچی پیاس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ معدے میں پڑی ہوئی غذا کو رقیق بنا دے اور ان کے شریانوں سے گزرنے کے لئے ذریعہ بنے۔
اعصابی پیاس (عطش کاذب)
عام طور پر جب اعصاب میں تحریک ہوتی ہے تو غدد میں تحلیل اور عضلات میں تسکین ہو جاتی ہے اور عضلات میں رطوبات کی کثرت سے پیاس لگنے کا عمل ختم ہو جاتا ہے۔ ہے البتہ جب اس میں سوزش ہو جاتی ہے تو شدید پیاس کا احساس اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ سرد پانی جتنا زیادہ پیا جاتا ہے اس کا احساس ختم نہیں ہوتا اسے عطشِ کاذب بھی کہتے ہیں اور یہ صرف اعصاب میں سوزش ہونے سے ہوتی ہے۔
اس کی اہم علامت یہ ہے کہ اگر پیٹ بھر کر تسلی کے ساتھ پانی پی لیا جائے تب بھی پیاس نہیں بجھتی۔ اس کی وجہ عام طور پر لیس دار مواد یا بلغمِ شور کی معدے میں زیادتی ہوتی ہے جسے طبیعت رفع کرنے کے لئے پیاس لگاتی ہے۔ اس حالت میں اگر ٹھنڈا پانی پی لیا جائے تو اس لیس دار مواد یا بلغمِ شور میں اور اضافہ ہو جاتا ہے۔ تب پہلے سے زیادہ شدت سے پیاس لگتی ہے جیسے تخمہ اور حیضہ میں لگتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ معدے میں غذا کچی پڑی ہوئی ہے اور وہ معدے میں سوزش کر رہی ہے۔
اسباب: حیضہ، تر سرد پانی کا کثرتِ استعمال۔
عضلاتی پیاس:
جب عضلات میں تحریک ہو تو اعصاب میں تحلیل اور غدد میں تسکین ہوتی ہے اس حالت میں عضلات میں تیزابی سوزشی مادہ گرنے کی وجہ سے خشکی پیدا ہوتی ہے یا تیزابیت پیدا کرنے والی مسلسل غذا کھانے سے یا کثرت سے ریاضت کرنے سے عضلات میں موجود رطوبات خشک ہو جاتی ہیں اس خشکی کو ختم کرنے کے لئے پیاس کا احساس ہوتا ہے۔
اسباب: سرد خشک اشیاء کا کثرتِ استعمال، کثرتِ ریاضت۔
کثرت پیاس:
اس مرض میں پانی پینے کی بار بار خواہش ہوتی ہے مگر پانی پینے سے بھی طبیعت سیر نہیں ہوتی اسے ”پیاسِ کاذب“ کہتے ہیں۔
اسباب: گرم موسم، گرم اشیاء کا کثرتِ استعمال، معدہ میں غلیظ بلغم کا چپک جانا۔
سوزاک:
یہ ایک بیکٹیریا ”نائزیریا گنوریا“ کی وجہ سے ہوتا ہے جس کے ذریعے سے پروردگارِ عالم خبیث اور بے حیاء مرد و زن کو جو اس کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بدکاری کرتے ہیں دنیا میں تاحیات سزا دیتا ہے۔
تعریف: پیشاب کی نالی (نائزہ) کا زخم ہے جو کہ نائزیریا بیکٹیریا کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ جراثیم بے حیاء مرد و زن کے جنسی اختلاط کے وقت پیشاب کی نالی میں داخل ہو کر دو سے پانچ روز تک پیشاب کی نالی کی اندرونی جھلی غشاء مخاطی میں خراش اور ورم پیدا کر کے زخم بنا دیتا ہے۔ اس زخم سے بدبودار سفید رطوبت یا پیلی پیپ بہتی ہے۔ پیشاب درد، رکاوٹ اور جلن سے آتا ہے۔ غشاء مخاطی میں سکیڑ ہو جاتا ہے جس سے نالی تنگ ہو جاتی ہے۔
خواتین میں یہ جراثیم سرویکس، یورتھرا اور Vulva کو متاثر کرتا ہے۔ جب سرویکس پر ورم ہو جاتا ہے تو انہیں پیشاب کرتے ہوئے درد اور پیپ آنے لگتی ہے۔ پنڈ دانی فیلوپین ٹیوب حتیٰ کہ تمام پیلوس کو متورم کر دیتا ہے۔
ماہیتِ سوزاک:
پیشاب کی نالی نائزہ میں اندر کی طرف ایک جھلی ہوتی ہے جو قشری (غدی) مادہ کی بنی ہوتی ہے۔ یہ نالی رطوبت سے تر رہتی ہے تاکہ پیشاب یا منی کے اخراج میں آسانی رہے اور جلن نہ ہو۔ جب اس رطوبت کا اخراج کسی سبب سے رک جاتا ہے تو نالی میں جلن پیدا ہو جاتی ہے۔ یہی جلن حرقتِ بول یا سوزاک کی صورت اختیار کر لیتی ہے اور جب یہ شدت اختیار کرے تو سوزاک کا مادہ پیدا ہو جاتا ہے۔
سوزاکی مادہ کی حقیقت:
جب جگر اور غدد کے افعال میں تیزی آتی ہے تو خون میں ایسی رطوبات اخراج پاتی ہیں جن میں صفراء ہوتا ہے۔ جب اس صفراء میں زیادتی ہو جائے تو زائد صفراء میں خمیر بننا شروع ہو جاتا ہے اور یہ متعفن ہو جاتا ہے اور آہستہ آہستہ یہ زہر جسم کے تمام غدد میں سر سے پاؤں تک پھیل جاتا ہے اور کیمیاوی طور پر خون میں شامل ہو جاتا ہے اور ان سب میں سکیڑ پیدا کر دیتا ہے۔
علامات: سوزاک کی مادہ کے اثرات تین تا دس دنوں میں ظاہر ہوتے ہیں جس سے پیشاب کی نالی میں خارش، درد اور سوزش، پیشاب کم اور جلن سے آتا ہے۔ پھر وہاں زخم ہو جاتا ہے جس سے خون آتا ہے اور شدید درد ہوتا ہے۔ پھر پیپ آنے لگتی ہے لیکن مریض پیشاب کرنے سے گھبرا جاتا ہے اور کبھی رک جاتا ہے جس سے عضوِ مخصوص متورم ہو جاتا ہے۔ پیشاب کرتے وقت ٹیسیں پڑتی ہیں (اس وقت انہیں بے حیائی سے رکنے کا خیال آتا ہے) یہ علامات اس قدر شدید ہوتی ہیں کہ کپڑا لگنے سے بھی درد شروع ہو جاتا ہے۔ جب پیپ پڑ جاتی ہے تو علامات کم ہو جاتی ہیں۔ اگر صحیح علاج ہو جائے اور آئندہ سے توبہ کر لے تو سوزاک مکمل ختم ہو جاتا ہے۔ ورنہ نالی میں قرحہ بن جاتا ہے اور آہستہ آہستہ سوزاک کی مادے کے اثرات سارے جسم میں سرائیت کر جاتے ہیں اور پھر یہ ذلت آمیز زندگی گزارنے پر اپنے ہاتھوں مجبور ہو جاتا ہے۔ کمر اور کولہے میں درد ہوتا ہے۔ جسم میں گرمی کا احساس ہوتا ہے۔ نیند کی بے چینی ہو جاتی ہے۔
پیشاب کی نالی میں زخم اور زائد گوشت کے ابھار سے تنگی ہو جاتی ہے۔ پیشاب کا اخراج مشکل ہو جاتا ہے اور بعض اوقات پیشاب کی نالی لگا کر نکالنا پڑتا ہے۔
جب اس کا زہر خون میں سرائیت کر جاتا ہے تو اسے بھی متعفن کر دیتا ہے جس سے جسم پر دانے نکل آتے ہیں۔ اس سے دل اور باقی اعضاء کی غدی جھلی میں بھی شدید جب سوزاک کی مادہ میں شدت ہوتی ہے تو یہ مثانہ کی طرف بڑھتا ہے۔ غدہ مذی، ودی اور خصیہ، سیمی نل ویزیکل، ایپی ڈی مس تک پہنچ جاتا ہے۔
مردوں میں اس کی انفیکشن فوطوں میں جاتی ہے تو اس کے سپرم مردہ ہو جاتے ہیں جس سے وہ اولاد پیدا کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ لیبارٹری ٹیسٹ میں سیمن میں پیپ (Puss Cells) کی مقدار 4 سے بڑھ جاتی ہے۔
اسی طرح جب عورت میں اس زہر کی شدت ہوتی ہے تو یہ مرض پیشاب کی نالی میں زخم کے بعد اندرونی اعضاء تک پھیل جاتا ہے۔ اندامِ نہانی میں آگ لگا دیتا ہے۔ پیشاب جل کر اور تھوڑا تھوڑا آتا ہے۔ بدبودار رطوبت اور پیپ آتی ہے۔ کمر اور سارے جسم میں درد اور شدید اضطراب ہوتا ہے۔ بالآخر ورمِ رحم، ورمِ خصیہ رحم، عسرحمت اور بانجھ پن کا شکار ہو جاتی ہے جس سے ہاتھ پاؤں گرم، منہ کا ذائقہ کڑوا، نیند کی بے چینی، جسم میں چبھن، مخارج میں جلن جیسی تکالیف سے واسطہ پڑتا ہے اور صحیح علاج کریں اور آئندہ سے توبہ کر لیں تو یہ مرض مکمل ختم ہو جاتا ہے ورنہ ساری زندگی ذلت سے بسر کریں گے۔
جب مرد اور اس کی عورت میں سوزاک کی مادہ پیدا ہو چکا ہو تو ان کے نوزائیدہ بچوں میں آنکھ کی جھلی کا ورم، آنکھیں سوزش ناک یا ضائع ہو چکی ہوں گی اور باقی جسم پر سوزش کے اثرات ہوتے ہیں۔
غرضیکہ سوزاک ایک ایسا خبیث مرض ہے جس سے اور کئی امراض پیدا ہوتے ہیں مثلاً بد گٹھیا، خونی پیشاب کا آنا، پیشاب کا بند ہو جانا، ورمِ خصیہ، ورمِ مثانہ، نامردی، سوزاکی آنکھ کا آنا، خون کا متعفن ہو جانا، عورتوں میں ورمِ گردنِ رحم، ورمِ رحم اور بانجھ پن وغیرہ لیکن عام طور پر لوگ نادانی سے سوزاک کو ایک معمولی مرض سمجھ کر اس کا مناسب علاج نہیں کرتے حالانکہ یہ ایک نہایت ہی موذی اور خبیث مرض ہے۔
اسباب: بدکاری اور گرم خشک اشیاء کا کثرتِ استعمال اور گرم خشک ماحول، آب و ہوا۔
