لقوہ
لقوہ کے معنی عقاب کے ہیں، جب وہ بیٹھتا ہے تو اپنا چہرہ ایک طرف کر کے بیٹھتا ہے۔ اس حالت میں اس کی باچھ فراخ ہوتی ہے چونکہ اس مرض میں مریض کا چہرہ ٹیڑھا اور باچھ فراخ ہوتی ہے اس لئے اسے لقوہ کہتے ہیں۔ جب چہرہ دائیں طرف ٹیڑھا ہو جاتا ہے اس وقت بائیں طرف باچھ بند نہیں ہوتی۔ مریض تھوک سکتا ہے اور نہ ہی سیٹی بجا سکتا ہے اور نہ ہی پھونک مار سکتا ہے۔ بائیں آنکھ سوتے وقت بھی کھلی رہتی ہے۔ جب وہ پانی پیتا ہے تو باہر آ جاتا ہے اور منہ سے رال بہتی رہتی ہے۔ دونوں ہونٹ اور آنکھوں کی پلکیں اچھی طرح نہیں ملتیں۔ لقوہ عموماً دو اسباب سے ہوتا ہے:
استرخاء
تشنج عضل اجفان/ تشنج عضلات وجھ
جو لقوہ استرخاء سے پیدا ہو اس میں اگر ایک جانب جھکے گی تو اس کے ساتھ دوسری جانب بھی مائل ہوگی یعنی ڈھیلی ہو کر اپنی اصلی ہیئت سے متغیر ہو جائے گی۔ اگر استرخاء قوی سبب سے ہو۔ اگر ضعیف سبب سے ہو تو ایک ہی جانب میں استرخاء ہو گا۔ جو لقوہ تشنج سے پیدا ہوتا ہے اکثر یہی قسم واقع ہوتی ہے۔ ایک طرف میں پیدا ہوتا ہے یعنی دائیں طرف چہرہ ٹیڑھا ہو جاتا ہے۔ اگر چہرہ بائیں طرف مڑ جائے تو ساتھ فالج ہو جاتا ہے۔
لقوہ استرخائی:
اس کی علامات یہ ہے کہ اس جانب حرکت میں ضعف ہوا ہے اور حواس مکدر ہو جاتے ہیں اور جلد میں نرمی پیدا ہو جاتی ہے اور عضلات میں بھی لینت ظاہر ہوتی ہے اور تمدد محسوس نہیں ہوتا اور نیچے والی پلک کچھ اتری ہوئی نظر آئے اور اس جھلی کا نصف جو حنک پر اس آنکھ کے سامنے ہے، مسترخی اور ڈھیلا ہو جائے اور اس میں استرخاء کا ظہور ہو جاتا ہے۔
علامات
چہرے کی ایک طرف نفخہ یعنی چہرہ پھولا پھولا اور جلد پتلی نظر آتی ہے
اس طرف سے پھونک اور لعاب دہن کی گرفت نہیں ہوتی
اکثر ہمراہ لقوہ کے سر درد ہوتا ہے
وجوہات
سرد خشک اشیاء کا بکرت استعمال
ضلیظ بلغم اور سوداء کا اختلاط
ضربہ وسقطہ
سلعہ دماغ
