Menu
تعلیمی22 منٹ پڑھائی

جگر کے امراض

جگر جسم کا ایک اہم عضو ہے۔ جب اس کے افعال متاثر ہو جائیں تو ضعفِ جگر، ہیپاٹائٹس، یرقان، عظمِ کبد، تصغرِ جگر اور استسقاء جیسے امراض پیدا ہو سکتے ہیں۔ ان بیماریوں میں عموماً کمزوری، بھوک کی کمی، مقامِ جگر پر درد اور ہاضمہ کی خرابیاں پائی جاتی ہیں۔

جگر کے امراض

جگر کے مختلف امراض ہیں:

ضعف جگر

جگر جب اپنے طبعی فعل سے عاجز آجائے تو اسے ضعف جگر کہتے ہیں۔ اس کی اہم صورتیں ہی ہیں:

1- اعصاب میں تحریک، غدد میں تحلیل اور عضلات میں تسکین:

چونکہ اس تحریک میں اعضاء میں سوزش ہوجاتی ہے اس لئے غدد میں تحلیل ہو جاتی ہے اور عضلات میں تسکین واقع ہوتی ہے۔ اس وجہ سے طلحال و لبلبہ اور جگر میں ضعف واقع ہو جاتا ہے اور یہ اپنے افعال پورے طور پر انجام نہیں دے سکتے یعنی نہ تو اپنے خمیر صحیح طور پر تیار کرکے خون میں شامل کر سکتے ہیں جن سے خون میں طاقت پیدا ہو کر قلب و عضلات کے افعال میں تحریک پیدا ہو۔

دوسرے تمام غدد جاذبہ رطوبات کو جذب کرنے کے قبل نہیں رہتے جو خون سے جدا ہونے والی رطوبات کو فوراََ جذب کر کے خون میں شامل کردیں۔ اس وجہ سے جسم کا سارا نظام بہت تیزی سے بغڑ کر کسی تیز ترین علامت کو رونما کر دیتا ہے مثلاََ زکام، ذیابیطس حقیقی وغیرہ۔

اسباب:

تر گرم اشیاء کا کثرت استعمال

2- عضلات میں تحریک، اعصاب میں تحلیل اور غدد میں تسکین:

چونکہ اس تحریک میں معدہ میں سوزش ہو جاتی ہے جس سے پیٹ میں درد، جلن اور تیزابیت ہوتی ہے اور ریاح بکثرت پیدا ہوتے ہیں اور اخراج نہیں پاتے جس بڑی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ غدد میں تسکین ہوتی ہے جس سے وہ اپنے ہاضم رس پوری طرح نہیں پھینکتے جس سے غذا کامل طور پر ہضم نہیں ہوتی اور بڑی آنوں میں فضلات دیر تک پڑے رہتے ہیں۔ اعصاب میں تحلیل کی وجہ سے وہ انہیں نکالنے کے لئے زوردار سگنل نہیں بھیج سکتے جس کی وجہ سے انہیں قبض رہنے لگتی ہے۔ آنکھوں کا سفید حصہ گدلا اور سر بوجھل رہتا ہے۔

اسباب:

سرد خشک اشیاء کا بکثرت استعمال

3-غدد میں تحریک، عضلات میں تحلیل اور اعصاب میں تسکین:

چونکہ اس تحریک میں غدد میں تحریک ہوتی ہے جس سے وہ سکڑ جاتے ہیں اور اپنی سکریشن (رطوبت) خون میں پقری قوت سے دے رہے ہوتے ہیں حتیٰ کہ جمع پونجی بھی صرف کرنے لگ جاتے ہیں جس سے جو رطوبات خون میں آرہی ہوتی ہیں وہ اس قدر گرم ہوتی ہیں کہ جن سے قلب و عضلات تحلیل ہونے لگتے ہیں اور اعصاب میں تسکین سے وہ بوجھل ہو جاتے ہیں۔ ہر وقت تھکے تھکے سے رہتے ہیں، نہ سونے سے سکون ہوتا ہے اور نہ ہی کام کرنے سے آسودگی ہوتی ہے۔ گھبراہٹ، بے چینی، جسم کا رنگ پیلا اور پیشاب جلن سے آتا ہے۔

اسباب:

گرم خشک اشیا کا کثرت استعمال

ہیپاٹائیٹس

یہ لاطینی زبان کے دو الفاظ سے مرکب ہے۔ Hepa بمعنی جگر اور Tis یعنی سوزش، جب دونوں کو ملایا جاتا ہے تو ہیپاٹائیٹس بمعنی سوزش جگر ہے۔

ماڈرن سائنس ہاپاٹائٹس کا سبب وائرس قرار دیتی ہے۔

وائرس کیا ہے؟

وائرس ایک لاطینی لفظ ہے جس کا مطلب “زہر” ہے۔

وائرسز کی جسامت:

وائرسز مختلف سائز کے ہوتے ہیں۔ ان کا سائز 0.01μm 0.3μm (μm سے مراد مائیکرو میٹر ہے جو کہ ایک میٹر کا دس لاکھواں حصہ ہے) تک ہوتا ہے۔

وائرسز کی شکل:

وائرسز مختلف اشکال کے ہوتے ہیں۔ کچھ لمبے، کچھ گول اور کچھ کثیر الاطراف ہوتے ہیں اور بعض ٹیڈپول (Tadpol) شکل کے ہوتے ہیں۔

ہیپاٹائیٹس — ‘اے’

HAV یہ وائرس جگر اور انتڑیوں میں سوزش پیدا کرتا ہے جس سے بھوک بند ہو جاتی ہے اور مریض کوئی بھی ٹھوس غذا مثلاً چاول، روٹی کھائے تو پیٹ میں درد، متلی، ابکائی اور قے ہونے لگتی ہے اور یہ انتہائی کڑوی قے ہوتی ہے۔ سر بوجھل اور آنتوں میں درد جسم میں بے چینی اور اضطراب کی کیفیت رہتی ہے اور مقامِ جگر پر درد کا احساس رہتا ہے۔ قبض کی شکایت، اجابت نارمل ہونے کی بجائے مروڑ سے ہوتی ہے اور دن میں تھوڑی تھوڑی دو تین بار ہو سکتی ہے۔

جسم میں ہلکا بخار 99 تا 100 تک ہو جاتا ہے۔ جگر اور تلی بڑھ جاتے ہیں تقریباً ہفتوں بعد مریض کے چہرہ، آنکھوں اور جسم پر صفراء کی زیادتی کے آثار واضح ہو جاتے ہیں۔ پیشاب اور پاخانے میں صفراء Bile Pigments اور Bile Salt خارج ہوتے ہیں۔ خون میں سرخ ذرات R.B.C کم ہو جاتے ہیں کیونکہ انہی کی تحلیل سے Bilirubin زیادہ بنتا ہے۔ اسی وجہ سے بعض اوقات جسم پر خارش اور دانے نکل آتے ہیں بالخصوص جب مریض کوئی قابض شے کھا رہا ہو مثلاً دال چاول وغیرہ اس طرح مریض میں خون کی کمی ہو جاتی ہے اس کا وزن گر جاتا ہے۔

اسباب:

گرم خشک اشیاء کا کثرتِ استعمال، ماحول، آب و ہوا۔

ہیپاٹائٹس — 'بی'

ہیپاٹائٹس بی سب سے خطرناک قسم ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کا وائرس بڑا ایکٹیو اور سرحدوں پر آ کر لڑائی کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا صحیح علاج شروع ہو جائے تو بہت جلد یہ وائرس گرفت میں آنے کے بعد ختم ہو جاتا ہے۔

ہیپاٹائٹس بی وائرس جگر کے خلیات (Heptocytes) کو زہریلے اثرات کے باعث تباہ کر کے اپنی شناخت Antibodies کے حوالے کرتا ہے جو بعد میں بیماری کے طور پر سامنے آتی ہے پھر اسی Antigen Recognition کی وجہ سے خلیے کے اندر زہر اس کے مائع حصے کو تباہ کرتا ہے جس کو Cytotoxin کہتے ہیں۔ یہ مادہ بعض اوقات ادویات کی وجہ سے ہوتا ہے اور بعض اوقات Antigen کے ردِعمل کے طور پر پیدا ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے Phogocytes کمزور پڑ جاتا ہے جس سے جگر کا خودکار مدافعتی نظام ٹوٹ جاتا ہے اور مریض میں حسبِ ذیل علامات کا ظہور ہوتا ہے۔

چہرے کا رنگ قلتِ الدم کی وجہ سے ہلکا زردی مائل، آنکھیں بے نور، چہرہ پچکا ہوا، پژمردہ، وجود میں تھکن، کمزوری، کام کرنے کی ہمت نہ ہونا، گہرا پیلا پیشاب، بھوک بند، قبض، وزن میں کمی، کسی مخرج سے خون آنا، سر درد، ہلکا بخار، جسم پر خارشی دانے، کھانے کے بعد پیٹ میں درد کی شکایت، جگر اور تلی کا بڑھ جانا، گردوں میں سوزش، منہ کا ذائقہ خراب، پیاس کی زیادتی، پسلیوں کے نیچے درد، چڑچڑاپن، اختلاجِ قلب، دل کی دھڑکن کا تیز ہونا اور سانس پھولنا، اعضاء شکنی، عظم لوزتین، ناخنوں کی رنگت سفید ہونا، جلد کی رنگت زردی مائل ہونا، خون جمنے کی صلاحیت متاثر ہونا وغیرہ۔

ایک تحقیق یہ بھی ہے کہ اس میں فولاد جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے جو خلیاتِ جگر کو تباہ کرنا شروع کر دیتا ہے۔

اسباب:

سرد خشک اشیاء کا کثرتِ استعمال، ملیریا بخار کا غلط علاج، غلطی سے وائرس والا خون لگ جانا، ماحول، آب و ہوا سمیت۔

ہیپاٹائیٹس —’سی’

جب سی وائرس جگر کے خلیات پر حملہ آور ہوتا ہے تو یہ عمل بہت منظم طریقے سے ہوتا ہے کہ پہلے وائرس جگر کے خلیہ کی دیوار کے ساتھ لگ جاتا ہے۔ پھر یہ آہستہ آہستہ جگر کے خلیہ کی جھلی سے اندر داخل ہو جاتا ہے اور خلیہ کے مرکز پر اپنا زہریلا مادہ خارج کرتا ہے اور بالآخر مرکز میں داخل ہو کر ایک خاص قسم کی پروٹین پیدا کرتا ہے۔ اسی سے RNA کاپیاں کرتا ہے جس سے خلیہ پختہ ہو کر وائرس کا ایجنٹ بن جاتا ہے۔ پھر یہ مزید دوسرے خلیات کو تباہ کرتا ہوا جگر کی پوری ساخت اور اس کے نارمل فعل کو ختم کر دیتا ہے۔ اسی طرح اسی پروٹین اور RNA سے Antigen پیدا ہوتے ہیں۔

علامات:

بھوک کم، تھکن، دردیں، بے چینی، وسواس، جسم کے کسی مخرج سے خون آنا، ناخن سفید اور ہاتھ کی ہتھیلی سرخی مائل پیلی ہوتی ہے اور ظاہرِ بدن سے شکست و ریخت نظر آ رہی ہوتی ہے۔ خون رقیق ہو جاتا ہے اور خون جمنے کی صلاحیت متاثر ہو جاتی ہے۔ پیشاب کم اور رنگ سرخی مائل زرد ہوتا ہے۔ مقامِ جگر پر دباؤ دینے سے درد ہوتا ہے۔ کبھی ناک اور آنکھوں سے پانی بہتا ہے۔ مریض کا وزن کم ہو جاتا ہے۔ اکثر قبض کی شکایت رہتی ہے۔ مریض ٹھوس اشیاء سے گریز کرنے لگتا ہے۔ اگر کھاتا ہے تو معدہ میں جلن اور تیزابیت ہونے لگتی ہے اور پاخانہ خشک اور کبھی درد کے ساتھ خون آنے لگتا ہے۔ خون میں حدت اور ظاہرِ جلد پر خارش، دانے اور پھنسیاں، پیپ نمودار ہو جاتی ہیں۔ دونوں طرف پسلیوں کے نیچے ہلکی درد رہتی ہے جسے چیک کرنے پر عِظمِ طحال اور عِظمِ کبد نظر آتا ہے۔ پیٹ میں درد اور کبھی مروڑ ہوتا ہے۔ مریض کی آنتیں اور گردے لازماً متاثر ہوتے ہیں۔ جب بدنی زہروں کو خارج نہیں کر پاتے تو ہلکا بخار رہنے لگتا ہے۔ ایک تحقیق ہے کہ جسم میں تانبا جمع ہوتا رہتا ہے، خارج نہیں ہوتا۔ وہ خلیاتِ جگر کو نقصان پہنچاتا ہے۔

خطرناک علامات:

وائرس جگر کے خلیات کو تیزی سے تباہ کر رہا ہوتا ہے تو سوزش سے متعلقہ خون کے سفید جراثیم جنہیں لمفوسائٹ کہتے ہیں، جگر میں جمع ہوتے ہیں۔ خلیاتِ جگر کی توڑ پھوڑ کے ساتھ ان کے جلنے کا عمل جاری رہتا ہے اور پھر خاص قسم کے خلیات جنہیں فائبروسائٹ کہتے ہیں، وہ تعداد میں بڑھ جاتے ہیں اور جگر کا عضلاتی پردہ سکڑنا شروع ہو جاتا ہے بالآخر اس مخصوص مادے کی مقدار بڑھنے سے کارآمد خلیات تباہ ہو جاتے ہیں۔ جگر کے فعل میں تعطل آ جاتا ہے حتیٰ کہ وہ سکڑ کر بہت چھوٹا ہو جاتا ہے جسے تصغّرِ کبد کہتے ہیں۔ جب جگر سکڑ رہا ہوتا ہے تو تلی بڑھنا شروع ہو جاتی ہے اور خون میں پلیٹ لیٹس نمایاں حد تک کم ہو جاتے ہیں۔ جگر کے سکڑنے کے نتیجے میں معدے اور آنتوں کی رگیں پھول جاتی ہیں۔ کھانے کی نالی کا وہ حصہ جو معدہ سے متصل ہوتا ہے، وہاں کی رگیں ایک گچھے کی شکل اختیار کر لیتی ہیں جنہیں وری کوز وینز کہا جاتا ہے۔

جب جگر سکڑنے لگتا ہے تو پیٹ میں پانی پڑ جاتا ہے۔ پیٹ پانی سے فل ہو جانے اور معدہ میں دباؤ بڑھنے سے ویری کوز وینز کسی وقت بھی پھٹ سکتی ہیں۔ ان کے پھٹنے سے ایک ہنگامی صورت پیدا ہو جاتی ہے، خون کی قے ہوتی ہے، معدہ میں شدید جلن اور تیزابیت کے ساتھ ساتھ سیاہ پاخانے آتے ہیں۔ اس کی ایک دفعہ شدت کنٹرول ہو جاتی ہے جبکہ دوسری دفعہ کنٹرول نہیں ہوتی جیسے ہی خونی قے ہوتی ہے، ساتھ ہی مریض دنیا فانی سے رخصت ہو جاتا ہے۔

اسباب:

انتقالِ خون سے، استعمال شدہ سرنج، خون آلودہ اوزارِ حجام کے استرے و بلیڈ، دانت اکھاڑنے کے اوزار، سرجری کا سامان، چھید کاری کے آلات اور سوئیوں کا استعمال وغیرہ۔

یرقان اصفر

Bilirubin کی پیدائش اور اجتماع سے یرقانِ اصفر ہوتا ہے۔ یہ نارمل حالات میں خون میں 0.2 تا 0.8 ملی گرام فی سو ملی لیٹر ہوتی ہے۔ جب 1.0 سے بڑھ جائے تو اسے یرقانِ اصفر کا نام دیا جاتا ہے۔

جگر کی نسج الخاص (Hepatic Parenchyma) کے خلیات Bilirubin کی پیدائش میں کوئی کردار ادا نہیں کرتے۔ یہ خلیات اسی صفراوی رنگ کو پلازما سے جذب کر کے صفراوی نالیوں میں منتقل کر دیتے ہیں اور حسبِ ضرورت آنتوں میں چلی جاتی ہے۔ اس عمل کے ذریعے یہ پلازما پروٹین سے علیحدہ ہونے کے بعد گلائیکورانک ایسڈ کے ساتھ مل کر مونو یا ڈائی گلوکورونائیڈ (Mono or Diglacorunide) صورت اختیار کر لیتی ہے۔ نتیجے کے طور پر سالمیاتی جسامت میں کمی کے علاوہ اس کی طبعی اور کیمیائی صلاحیتوں میں تبدیلی آ جاتی ہے۔ اس حالت میں اسے کوہلی بلی روبن (Chole Bilirubin) کہا جاتا ہے۔

جدید تحقیقات سے حمرۃ الدم کی بناوٹ کے دوران بلی روبن کی قلیل مقدار میں پیدائش کا انکشاف ہوا ہے۔ بناوٹِ حمرۃ الدم میں غیر معمولی اضافے کے ساتھ مؤخر الذکر ذریعے سے وجود میں آنے والی بلی روبن کے تناسب میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ بناوٹِ بلی روبن کے تناسب میں اضافے یا اس کے اخراج میں کمی دونوں صورتوں میں پلازمائی لونیتِ صفراوی کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔ لونیتِ صفراوی کے تناسب میں جلد کی رنگت کو تبدیل کر دینے کی حد تک کے اضافے کو یرقانِ اصفر کہتے ہیں۔

خون کے سرخ خلیوں کی توڑ پھوڑ سے بلی روبن پیدا ہوتی ہے۔ یہ بلی روبن جگر میں چلی جاتی ہے مگر یہ پیشاب میں خارج نہیں ہوتی۔ اسے پہلے جگر میں جانا پڑتا ہے جہاں ایک کیمیائی مرکب سے مل کر پھر صفراء (Bile) میں شامل ہو جاتی ہے۔ اب یہ پیشاب میں بھی گزر سکتی ہے۔

جب بلی روبن آنتوں میں چلی جاتی ہے وہاں پر بیکٹیریا اس پر عمل کرتے ہیں اور اس کو توڑ کر کئی طرح کے مرکب بنا دیتے ہیں۔ ان میں سے ایکسٹر کو بلی نوجن (Stercobilinogen) جو پاخانے کے ساتھ جسم سے باہر چلا جاتا ہے۔ کچھ مرکبات دوبارہ آنتوں سے جذب ہو کر خون میں آ جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک Urobilinogen ہے جو پہلے گردے میں آتا ہے اور پھر پیشاب کے ساتھ باہر نکل جاتا ہے۔ اسی وجہ سے پیشاب کا رنگ پیلا ہوتا ہے۔

عظمِ کبد (جگر کا بڑھ جانا)

جگر کا بڑھنا دو وجہ سے ہوتا ہے:

1- اعصاب میں تحریک، غدد میں تحلیل اور عضلات میں تسکین:

چونکہ اس تحریک میں غدد میں تحلیل ہوتی ہے لہٰذا وہ پھیل جاتے ہیں جس سے تھکن، منہ کا ذائوقہ کھاری پھیکا، جی متلانا اور قے ہونے کی علامات ہوتی ہیں۔ کبھی ہلکا سا بخار ہو جاتا ہے۔ جگر زیادہ بڑھ جائے تو دائیں طرف پسلیوں کے نیچے چیک کرنے سے انگلیوں کے پوروں پر واضح محسوس ہوتا ہے لیکن سخت نہیں بلکہ نرم ہوتا ہے۔

اسباب:

تر گرم اشیاء کا بکثرت استعمال۔

2- عضلات میں تحریک، اعصاب میں تحلیل اور غدد میں تسکین:

چونکہ غدد میں تسکین ہوتی ہے جس سے وہ پھول جاتے ہیں اور مریض کو قبض، پیٹ میں ریاح کی زیادتی اور کیچڑ جیسے موشن تھوڑے تھوڑے ہوا دار آتے ہیں۔ مقامِ جگر پر بوجھ، کبھی ہلکی سی درد کی لہر، سوئیاں چبھنے کا احساس اور جسم میں شدید تھکاوٹ ہوتی ہے۔ اس کے بعد بخار ہونے لگتا ہے اور جگر مزید بڑھنے لگتا ہے حتیٰ کہ مریض کے لئے دائیں طرف سونا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کا اگر صحیح علاج نہ کیا جائے تو ان میں تخدیر واقع ہونے لگتی ہے جو فنا کی علامات میں سے ہے۔

اسباب:

سرد خشک اشیاء کا کثرتِ استعمال۔

تصغر جگر (جگر کا چھوٹا ہونا)

اس مرض میں جگر کے سیلز کو نقصان پہنچتا ہے تو وہ اپنے آپ کو صحیح کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو اکثر ٹھیک ہو جاتے ہیں اور کبھی نہیں ہوتے۔ جگر کے کئی حصوں میں فائبروسس اور سکار ٹشو پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ فائبروسس جگر میں موجود خون اور صفراء کی نالیوں کو تنگ کرنا شروع کر دیتی ہے جس کی وجہ سے تصغر کی علامات شروع ہو جاتی ہیں بالآخر یہ مرض کینسر میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس مرض کی اہم علامات یہ ہیں:

کمزوری، گال پچک جانا، تھکاوٹ، وزن کم ہونا، بھوک ختم ہو جانا، متلی، قے ہونا، مقامِ جگر پر درد، خونی قے، مردوں میں نامردی کی شکایت اور عورتوں میں ماہواری بند ہو جاتی ہے۔ نیند کم ہو جاتی ہے۔ مرض کے ابتداء میں جگر بڑھتا ہے پھر آہستہ آہستہ سکڑ جاتا ہے۔ اس کے کسی درجہ پر بھی استسقاء ہو سکتا ہے۔ پیٹ پانی سے پھول جاتا ہے اور اس کی جلد بے رونق پیلی اور نیلی وریدیں اُبھر آتی ہیں۔ پاؤں، زبان اور ہونٹ سوج جاتے ہیں۔

سرہوسز میں پورٹل وین جو انتڑیوں اور معدہ سے خون جگر میں لے کر آتی ہے وہ تنگ ہو جاتی ہے۔ جب اس میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو پریشر بڑھ جاتا ہے اور معدہ کی دوسری چھوٹی وریدوں میں پریشر بڑھانے کا سبب بنتی ہے۔ اس کے نتیجے میں خوراک کی نالی کے نچلے حصے میں ویری کوز وینز بن جاتی ہیں۔ یہ بہت نازک ہوتی ہیں۔ پریشر زیادہ ہونے کی وجہ سے پھٹ کر معدہ میں خون ضائع کرنا شروع کر دیتی ہیں جسکے نتیجے میں خونی قے اور سیاہ اجابت آتی ہے، اگر خون ایک دم ضائع ہو جائے تو مریض کی حالت خطرناک ہو جاتی ہے۔ اس مرض کی تشخیص اینڈوسکوپی اور الٹراساؤنڈ سے واضح ہو جاتی ہے۔

اسباب:

وائرس کا حملہ، شراب نوشی، بواسیر کا غلط علاج، مائرین پی (ٹی بی کی ادویہ کا استعمال)۔

اماس (سوجن)

جگر کے فعل میں تیزی آ جانے سے صفراء کثرت سے پیدا ہو کر خون میں رکنے لگتا ہے جس کی گرمی سے عضلات میں تحلیل واقع ہونے لگتی ہے اور وہ پھیلنا شروع ہوتے ہیں اور جسم سوجن میں مبتلا ہونے لگتا ہے۔ چہرے پر سوجن بالخصوص آنکھوں کے نچلے پلوٹے اور بدن کا نچلا حصہ دونوں پاؤں متورم ہونے لگتے ہیں۔ آہستہ آہستہ ورم بہت بڑھ جاتا ہے جسے اگر دبایا جائے تو گڑھا پڑ جاتا ہے اور یہ گڑھا صرف عضلات میں ہوتا ہے۔ یعنی جہاں گوشت زیادہ ہوتا ہے وہاں دبانے سے پڑتا ہے جبکہ ہڈی پر گڑھا نہیں پڑتا اور نہ ہی باقی جلد پر ایسے ہوتا ہے اور پیٹ میں درد، مروڑ، پیاس کی شدت، گھبراہٹ، خفقانِ قلب، سانس پھولنا، پیشاب گہرا پیلا مقدار میں کم اور جلن سے آتا ہے۔

اسباب:

گرم خشک اشیاء کا کثرتِ استعمال، گرم آب و ہوا ۔

دبیلہ کبد

اس مرض میں کبد کے کسی بھی حصہ بالعموم اور دائیں زائدہ نیز باب الکبد کے محاذ میں بالخصوص پھوڑے پیدا ہو جاتے ہیں جن سے یہ علامات رونما ہوتی ہیں۔

علامات: مقامِ کبد پر ثقل اور درد محسوس ہوتا ہے۔ گہری سانس لینے یا کھانسنے سے درد میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ شدید سوزش یا چبھن ہوتی ہے۔

اگر دبیلہ سطح کے قریب ہو تو جلد متورم اور سرخ دکھائی دیتی ہے۔ مریض کے لئے چت لیٹنا بھی دشوار ہو جاتا ہے۔ لرزہ کے ساتھ شدید بخار ہوتا ہے، پسینہ آتا ہے، سوءِ ہضم، نفخ اور قبض کی شکایت ہوتی ہے۔ سقوطِ اشتہاء ہوتا ہے، چہرہ سرخ ہو جاتا ہے، عضلاتِ شکم میں تناؤ پیدا ہو جاتا ہے۔ ٹٹولنے سے شکم کے قسم شراسیفی میں گول ابھار محسوس ہوتا ہے۔ لاغری اور ضعف بہت زیادہ ہوتا ہے۔

قرع پر مقامِ کبد سخت اور ٹھوس ہوتا ہے۔ بعض اوقات کبد پر اصواتِ اعتکاک بھی سنی جا سکتی ہیں۔ بعض اوقات مقامِ کبد پر درد کی شکایت کرنے کی بجائے مریض اپنے دائیں شانے پر درد کی نشاندہی کرتا ہے۔ دبیلہ کے باعث حجابِ حاجز کے سامنے باریطون میں سوزش ہونے کی صورت میں درد کا احساس کندھے کے جوڑ کے سامنے ہوتا ہے اور حجابِ حاجز کے وسط میں سوزش کی صورت شانے کی چوٹی پر درد کا احساس ہوتا ہے۔

کچھ عرصہ بعد صلابتِ کبد ختم ہو جاتی ہے اور کبد نرم محسوس ہوتا ہے اور ورم دید بنتے وقت کی شدید علامتوں میں سکون آ جاتا ہے اور دبیلہ کے پھٹنے کے وقت لرزہ کے ساتھ بخار آتا ہے اور ثقل اور گرانی کا احساس ختم ہو جاتا ہے۔ دبیلہ کی سطح پر پھٹنے کی صورت میں سیاہ بدبودار پیپ خارج ہوتی ہے۔ مقعر کبد کا دبیلہ عام طور سے امعاء میں کھلتا ہے اور صدیدی مواد مقعد کے راستے خارج ہوتا ہے۔ معدہ میں کھلنے کی صورت میں مخصوص پیپ کی قے آتی ہے۔ محدب کبد کا دبیلہ اگر کلیتین کی طرف کھلتا ہے تو مثانہ میں آ کر بذریعہ پیشاب خارج ہوتا ہے۔ بعض اوقات دبیلہ کبد پھٹتا ہے تو اس کا صدیدی مادہ جوفِ شکم، امعاء اور پردہ شرب کے درمیان جمع ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت میں مواد کا جسم سے اخراج نہیں ہو پاتا۔ جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ التہابِ باریطون ہو کر محدب کبد، حجابِ حاجز کو مبتلا کرتا ہوا غلاف القلب یا ریہ میں پھٹ پڑتا ہے جس کے سبب شدید تنگیِ تنفس ہوتی ہے۔ یہ صورت بہت ہلاکت خیز ہے۔

اسباب:

سمیت، سرد خشک اشیاء کا کثرتِ استعمال، شراب کی لعنت کا رسیا ہونا، منشی مخدر اشیاء کا کثرتِ استعمال۔

شحمِ کبد (جگر پر چربی آجانا)

جب انسان ضرورت سے زیادہ غذا لیتا ہے تو جگر اسے ہضم کر کے جسم کی ضرورت پوری کرتا ہے۔ اس کے پاس جو زائد مواد رہ جاتا ہے وہ اسے چربی میں تبدیل کر کے ناف کی نیچے والی آنتوں پر چڑھا دیتا ہے جس سے لوگوں کے پیٹ بڑھنا شروع ہو جاتے ہیں۔ جب یہ مقام ٹھوس ہو جاتا ہے تو جگر اپنے اوپر چربی جمع کرنا شروع کر دیتا ہے جس کی عام علامات بلڈ پریشر ہائی رہنا، منہ کا ذائقہ خراب اور منہ سے بدبو آنا، بول و براز غلیظ کم مقدار میں آتے ہیں۔ ہاتھ پاؤں میں خون میں تیزابیت زیادہ ہونے سے جلن اور نیند متاثر ہو جاتی ہے۔

اسباب:

مرغن غذائیں، بیکری کی مصنوعات، سگریٹ، چائے، شراب نوشی، مصالحہ جات اور ٹینشن۔ شراب کی لعنت کا رسیا ہونا۔

وجع الکبد

اس مرض میں کبد میں درد ہوتا ہے۔ وجع الکبد دراصل بذاتِ خود کوئی مرض نہیں ہے بلکہ دوسرے امراض کی ایک علامت ہے۔

علامات: کبد کے سوءِ مزاجِ حار میں درد سوزشی نوعیت کا ہوتا ہے۔ شدید پیاس ہوتی ہے۔ منہ خشک ہوتا ہے، پیشاب زرد رنگ کا ہوتا ہے۔ صغرِ کبد کی علامات بھی پائی جا سکتی ہیں۔ براز میں بدبودار غلیظ صفراء خارج ہوتا ہے، صفراوی قے آتی ہے، بطلانِ اشتہاء کی شکایت ہوتی ہے اور عام طور سے جسمانی حرارت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ کبد کے سوءِ مزاجِ حار میں درد کی نوعیت تیز ہوتی ہے۔ پلکوں کے نیچے اور پاؤں پر ورم ہوتا ہے۔ ہونٹ پھیکے پڑ جاتے ہیں اور کچھ عرصہ بعد پیچش آنے لگتے ہیں اور لازمی طور پر بخار ہوتا ہے۔

اسباب:

گرم خشک اشیاء کا کثرتِ استعمال، سمیت۔

استسقاء (پیٹ میں پانی پڑ جانا)

اس مرض میں خون آب مترشح ہو کر جلد یا غشائے مخاطی کے نیچے خلاؤں یا خانوں یا کسی جوف میں جمع ہو جاتا ہے جس سے مرضی علامات رونما ہوتی ہیں۔

اس کی تین اقسام ہیں:

1-استسقاء لحمی:

علامات:

اس مرض میں جلد اور تحت الجلد کی بافتوں میں خوں آب ہو جانے کی وجہ سے ورم رخو، انتفاخ اور تربل کاذب ہوتا ہے۔ جسم خمیری آٹے کی طرح پھولا اور گوندھا ہوا دکھائی دیتا ہے اور جسم کے کسی بھی حصہ میں انگلی گاڑنے سے چند سیکنڈ کے لئے گڑھا پڑ جاتا ہے چونکہ اس میں خوں آب قلیل مقدار میں اور سارے جسم میں پھیلا ہوتا ہے اس لئے گڑھا بہت معمولی ہوتا ہے اور جلد ہی زائل ہو جاتا ہے۔ تاہم اگر خوں آب زیر جلد زیادہ مقدار میں ہو تو گڑھا گہرا اور زیادہ دیر میں زائل ہوتا ہے۔ تہیج اور تربل کا آغاز پیروں سے ہوتا ہے جو بعد میں شکم اور چہرے تک پھیل جاتا ہے۔ جسم کی رنگت سفید، چکنی، مردہ جیسی ہوتی ہے۔ براز سفید ہوتا ہے، پیشاب بھی سفید خارج ہوتا ہے۔ نفخ کی شکایت ہوتی ہے، دست آتے ہیں، منہ کا مزہ کڑوا محسوس ہوتا ہے۔ پیاس لگتی ہے، ناف ابھری ہوئی ہوتی ہے۔ نبض موجی، عریض اور لین ہوتی ہے۔

استسقائے لحمی میں حکۃ الانف اور چہرہ، بدن یا دائیں ہاتھ میں تربل ہو تو یہ ردی علامت ہے۔ اطباء کا خیال ہے کہ ایسا مریض بس دو تین دن کا مہمان ہوتا ہے۔ اسی طرح چہرہ، جسم یا دائیں ہاتھ میں تربل کے ساتھ اگر بحرالفم کی شکایت پیدا ہو جائے تو مریض پانچویں دن فوت ہو جاتا ہے۔

اسباب:

تر گرم اشیاء کا کثرت استعمال، سمیت۔

2-استسقاء زقی:

علامات:

مادہ مرض کے حار ہونے کی صورت میں جوف شکم میں پردہ ثرب اور صفاق کے درمیان عضلات کی تحلیل شدہ رطوبات کو استسقاء زقی کہتے ہیں کیونکہ اس سے شکم بتدریج مشک کی مانند پھولتا جاتا ہے اور بہت زیادہ بوجھ محسوس ہوتا ہے۔ شکم پر ہاتھ مارنے یا مریض کے پہلو بدلنے سے پانی کی لہریں محسوس کی جا سکتی ہیں۔ دلدلا ہٹ بھی محسوس ہوتی ہے۔ پہلو بدلنے پر اوپر کے حرقی حصہ میں گڑھا پڑ جاتا ہے۔ شکم کی جلد صاف اور تنی ہوئی ہوتی ہے جس پر ایک طرح کی چمک بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ اس پر سفید سفید لکیریں پڑ جاتی ہیں، ناف پھیل جاتی ہے اور اس کا گڑھا زائل ہو جاتا ہے۔ مریض کی شکل سوائے شکم کے باقی تمام اعضاء میں ذبول اور لاغری ہوتی ہے۔ جسم کی ہڈیاں نکل آتی ہیں۔ سینہ کی پسلیاں تو بہت نمایاں طور پر دکھائی دینے لگتی ہیں۔ چہرہ بھنچا ہوا، متفکر اور پریشان رہتا ہے۔ آنکھوں کے گرد حلقے پڑ جاتے ہیں۔ ہاتھ، پیر ٹھنڈے ہو جاتے ہیں۔ بعض اوقات چہرہ، پلکوں اور قضیب میں ورم پیدا ہو جاتا ہے۔ صفن میں پانی بھر جاتا ہے، ناف ابھر آتی ہے۔ پیشاب سرخ اور قلیل مقدار میں آتا ہے۔ بسا اوقات بند ہو جاتا ہے۔ الٹرا ساؤنڈ کروانے سے +++ Acities رپورٹ ملتی ہے اور CBC میں HB کی کمی کی علامات ہوتی ہیں۔ اجتماعِ آب کی وجہ سے حاجز پر دباؤ پڑنے کی وجہ سے عسر تنفس اور کم و بیش کھانسی کی شکایت بھی پیدا ہو جاتی ہے۔

استسقاءِ زقی میں خصیوں کا متورم ہو جانا اور برازِ دموی آنا، نہایت ردی علامت ہے۔ اطباء کا خیال ہے کہ ان علامات کی موجودگی کے بعد مریض بالعموم شفایاب نہیں ہوتا بلکہ ہفتہ بھر میں مر جاتا ہے۔ اسی طرح غبِ غیر خالص، شطر الغب یا لازمی نائبہ حمیٰ بلغمی میں استسقاءِ زقی ہو جانا اور ساتھ میں التہابِ کبد اور التہابِ طحال پیدا ہو جائے تو بھی مریض ہفتہ عشرہ میں فوت ہو جاتا ہے۔

اسباب:

گرم خشک اشیاء کا کثرتِ استعمال، ماحول، موسم، آب و ہوا، سمیت۔

3-استسقاء طبلی:

علامات:

شکم میں عسیر التحلیل ریاح پیدا ہونے سے شکم پھول جاتا ہے۔ بعض اوقات ریاح کے ساتھ قدرے مائیت بھی شامل ہو جاتی ہے۔ شکم میں تمدد، پھیلاؤ اور شدید نفخ ہوتا ہے۔ ثقل مفقود ہوتا ہے یا بہت کم ہوتا ہے۔ پیٹ پر ہاتھ مارنے سے طبل یعنی ڈھول کی مانند آواز سنائی دیتی ہے۔ اسی مناسبت سے اسے استسقاءِ طبلی کہتے ہیں۔ مریض کو ہمہ وقت ڈکار آتے ہیں۔ ڈکار یا گوز سے راحت ملتی ہے۔ امعاء اُبھری ہوئی ہوتی ہیں اور ان کی حرکاتِ دودیہ محسوس ہوتی ہیں۔ شکم کا قرع ہر جگہ زمانیہ ہوتا ہے۔ ناف اُبھر آتی ہے اور اس کے پاس مروڑ کے ساتھ مستقل درد ہوتا رہتا ہے۔ اعضاء میں ذبول ہونے لگتا ہے۔ ٹانگوں میں تربلی کیفیت نہیں پیدا ہوتی، نبض طویل ہوتی ہے۔ بعض مریضوں میں سریع، متواتر اور مائل بہ صلابت و تمدد ہوتی ہے۔ پیشاب سرخ آتا ہے۔

استسقاء کی اس قسم میں ربو، ضیق النفس اور کھانسی آنا ردی علامت ہے۔ ان حالات میں بالعموم دوسرے، تیسرے دن مریض فوت ہو جاتا ہے۔ اسی طرح قروحِ دہن، قروحِ لثہ، قروحِ بدن اور اسہال بھی مہلک تصور کیا جاتا ہے۔

اسباب:

سرد خشک اشیاء کا کثرتِ استعمال۔

متعلقہ بیماریاں

جگر کے امراض: علامات، اسباب، ہیپاٹائٹس، یرقان، تصغرِ جگر اور استسقاء