Menu
تعلیمی17 منٹ پڑھائی

پھیپھڑوں کے امراض

پھیپھڑوں کے امراض میں دمہ، نمونیا، تپ دق، ذات الجنب اور مختلف اقسام کی کھانسی شامل ہیں۔ یہ بیماریاں سانس کی تنگی، بلغم، بخار، سینے کے درد اور کمزوری پیدا کرتی ہیں، جو سوزش، الرجی، انفیکشن یا سانس کی نالیوں میں رکاوٹ کی وجہ سے ہوتی ہیں۔

پھیپھڑوں کے امراض

پھیپھڑوں کے مختلف امراض ہیں:

ضیق النفس Asthma

اس کی تین قسمیں ہیں:

۱) ضیق النفس بلغمی

اس مرض میں پھیپھڑوں کی باریک ہوائی نالیوں میں تشنج پیدا ہو کر سانس تنگی سے آنے لگتا ہے اس لئے اسے ضیق النفس (سانس کی تنگی) کہتے ہیں۔ پھیپھروں کی ان ہوائی نالیوں میں سوزش کی وجہ سے میوکس مخاط بلغم کی صورت اختیار کر لیتا ہے جو ہوا کی نالیوں میں تقریباََ جم جاتا ہے جونہی یہ مواد نکل جاتا ہے، سانس رواں ہو جاتا ہے اور کبھی یہ بلغم غلیظ ہونے کی وجہ سے تکلیف سے نکلتی ہے یا نکلنے سے پہلے قے ہو جاتی ہے۔ اجابت غیر منہضم ہوتی ہے اور پیشاب کی رنگت سفید ہوتی ہے۔

اسباب:

زکام بگڑ جانا

بلغمی اشیاء کا کثرت استعمال

۲) صیق النفس یابس (دمہ سوداوی)

عربی میں ضیق النفس اردو میں دمہ خشک اور انگریزی میں Asthama کہتے ہیں۔ سانس لینے کے عمل میں ناک، منہ، حلق، خجرہ اور پھیپھڑے حسہ لیتے ہیں اور پھیپھڑوں میں چھوٹی چھوٹی ہوائی نالیاں ہوتی ہیں جو تقسیم در تقسیم ہو کر بریک سے باریک تر ہوتی چلی جاتی ہیں۔ بڑی نالیوں کو شعبات (bronchi) اور چھوٹی نالیوں کو شعیبات (bronchioles) کہتے ہیں۔ یہ وہ نالیاں ہیں جو ہوا کو قصبتہ الریہ سے پھیپھڑوں کی ہوائی تھیلیوں (Alveolar Sacs) تک لے جاتی ہیں۔

ان بڑی اور چھوٹی تنفسی نالیوں کی دیواریں لچک دار یعنی ( Elastic Fibrous) جھلی اور گول عضلی ریشوں کی ہوتی ہیں۔ عصب راجع کی تحریک سے اس عضلے میں انقباض پیدا ہوتا ہے جبکہ عصب مشارکی کی تحریک سے یہ عضلہ پھیل جاتا ہے۔ شعیبات کی آخری شاخوں کو اختتامی شعیبات (Terminal Bronchioles) کہتے ہیں۔

ہر ایک اختتامی شعبہ میں بہت ساری تجویفیں (Atria) کھلتی ہیں جن کا تعلق ہوائی تھیلیوں (Air Sacs) سے ہے۔ ان کے اندر عضلی اور لچکدار ساخت ہوتی ہے۔ آگے بڑھ کر یہ عضلی ساخت غائے ہو جاتی ہے اور اس کی دیواریں بے قاعدہ طور پر پھیل کر چھوٹی چھوٹی کیسہ نما ساختوں میں بدل جاتی ہیں، ان کو ہوائی خانے (Air Cell) کہتے ہیں۔ ہوائی خانوں سے باہر پھیپھڑوں کی عروق شعریہ کا جال پھیلا ہوا ہوتا ہے۔

دوسری طرف دل کے دائیں بطن سے ہر منٹ کے دوران پھیپھڑوں میں تقریباََ اور عروق شعریہ کی باریک دیوار کے سوا اور کوئی چیز حائل نہیں ہوتی جن کے واسطے سے گیسوں کا انتشار عمل میں آتا ہے۔ خون کے اندر کاربن ڈائی آکسائیڈ زیادہ ہوتی ہے جبکہ ہوائی خانوں میں آکسیجن زیادہ ہوتی ہے اس لئے ہیموگلوبن کاربن ڈائی آکسائیڈ چھوڑ کر آکسیجن کو جذب کرتی ہے اور آکسی ہیموگلوبن میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ کاربن دائی آکسائیڈ ہوائی خانوں میں داخل ہو کر نتفس کے ساتھ خارج ہو جاتی ہے۔

دمہ کی تکلیف ہر جنس و عمر کے افراد کو لاحق ہو سکتی ہے لیکن بڑھاپے میں یہ تکلیف انتہائی اذیت ناک ہو جاتی ہے۔ اس کی ابتداء عموماََ نزلہ بند سے ہوتی ہے جسے طبیعت جاری کرنے کے لئے پورا زور لگاتی ہے اس لئے بار بار چھینکیں، حلق میں بے چینی، سانس لینے میں دشواری جیسے جیسے رات ہوتی جاتی ہے چھاتی میں بوجھ، جکڑن اور کھانسی کی شدت ہوتی جاتی ہے حتیٰ کہ دورہ پڑنے لگتا ہے۔ جب چھاتی میں چپکا ہوا لیس دار مادہ نکل جاتا ہے تو پھر سکون ہو جاتا ہے اور پھیپھڑوں میں خون کی مقدار بڑھنے سے سیڑھیاں جڑھنے، تیز تیز چلنے اور سخت محنت کا کام کرنے سے سانس پھولنے لگتا ہے۔ جب حملہ شدت کا ہوتا ہے تو معمولی چلنے سے سانس پھول رہا ہوتا ہے اور آرام کی حالت میں سینے سے خرخراہٹ کی آواز آرہی ہوتی ہے۔

اس طرح ان میں سے بعض مریضوں کو کچھ اشیاء سے حساسیت ہو جاتی ہے چنانچہ جن اشیاء سے حساسیت ہوتی ہے جب وہ انہیں استعمال کرتے ہیں یا کچھ ناموافق اشیاء مثلاََ دھواں، گردوغبار سانس کے راستے داخل ہوتے ہیں تو یہ بھی پھیپھڑوں کی ہوائی نالیوں کے عضلات میں سوزش پیدا کر دیتے ہیں جس سے وہاں موجود میوکس مخاط بلغم کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور ہوائی نالیوں میں جم جاتا ہے۔ اگر کسی وجہ سے ہوائی نالیوں کی گنجائش کم ہو جائے یعنی ان میں پوری طرح نہ سما سکے تو اس کمی کو پورا کرنے کے لئے سانس کی رفتار بڑھ جاتی ہے۔ سانس لیتے وقت ہوا پھیپھڑوں کے اندر جاتی ہے اسے شہیق (Inspiration) اور جو ہوا باہر نکالتے ہیں اس میں چونکہ سیٹی کی آواز آ رہی ہوتی ہے اس لیے اسے زفیر (expiration) کہتے ہیں۔ یہ سانس چونکہ بار بار لینا پڑتا ہے، سانس لینے کے عمل میں کافی تنگی اور دشواری ہوتی ہے اس لئے اسے صیقق النفس یا دمہ کہتے ہیں۔

الرجی کی عموماََ یہ چار اقسام ہیں:

۱) Contact Allergen

یہ الرجی سکن پر آکر چمٹ جاتے ہیں۔

۲) Inhealed Allergen

یہ الرجن سانس کے رستے میں چلے جاتے ہیں۔

۳) Injected Allergen

یہ انجکشن کے ذریعے جسم میں داخل ہوتے ہیں جیسے ایلوپیتھی ادویہ سے ری ایکشن ہوتا ہے۔

۴) Digestive Allergen

یہ الرجن بذریعہ غذا جسم میں داخل ہوتے ہیں۔

جب ان چاروں میں سے کوئی ایک جسم میں داخل ہوگا تو یہ باڈی میں IgE امیون سسٹم کو ایکٹیویٹ کرتے ہیں۔ یہ پھر Mast cell پر چپکتا ہے اس میں سے ہسٹامین ریلیز کرتا ہے پھر ہسٹامین یہ فنکشن کراتی ہے۔

۱) Vasodilation

خون کی نالیاں کھول دیتی اور بلڈ پریشر کم کر دیتی ہے۔

۲) Broncho Constraction

سانس کی نالی کا تنگ ہونا، یہ دمہ کی صورت پیدا کرتا ہے۔

۳) Oedema Formation

چھالے بننا، چھاتی میں پانی، بلغمی مواد اکٹھا یا ریشہ جمع ہونا وغیرہ۔

اسباب:

سرد خشک اشیاء کا بکثرت استعمال

سرد آب و ہوا

جانوروں کے بال و پر

خوشبو

بدبو

کیمیکلز

قالین اور چادر کی گرد

کچھ افراد میں اینٹی باڈیز کی کمی کی وجہ سے الجک استھما

۳) ضیق النفس کلوی (صفراوی دمہ)

جب غشائے مخاطی جگر اور گردوں کے افعال میں خرابی ہوتی ہے تب بلغم زردی مائل رقیق اور کبھی غلیظ آتا ہے۔ اکثر چہرے اور قارورے میں واضح زردی نظر آتی ہے۔ کثرت صفراء سے جسم میں تلخی، گھبراہٹ اور جی متلاتا ہے اور کبھی پیٹ میں مروڑ اٹھنے کی صورت ہو جاتی ہے۔ بسا اوقات پیشاب میں جلن اور گرمی سے تحلیل قلب (خفقان) کی شکایت بھی ہوتی ہے۔ بلڈ پریشر ہائی اور نیند کی بے چینی ہوتی ہے۔ چھوٹی چھوٹی کھانسی سارا دن ستائے رکھتی ہے اور اگر رات کو شروع ہو جائے تو پھر نیند ختم کر دیتی ہے۔ جلد ہی جسم میں نقاہت اور کمزوری دکھائی دیتی ہے حتیٰ کہ چلنا پھرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے اور سانس تنگی سے آتا ہے۔ اس حالت میں بہت سارے مریضوں کی آنکھوں کے نچلے حصے سوجے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

اسباب:

گرم خشک اشیاء کا بکثرت استعمال اور گردوں میں سکیٹر سے رقیق فضلات خون سے اخراج نہیں پاتے اور خون ان فضلات کی موجودگی میں آکسیجن جذب نہیں کر سکتا جس وجہ سے پھیپھڑوں پر دباؤ بڑھتا ہے اور وہ بار بار سانس کھینچ کر اندر آکسیجن پہنچانے کا اہتمام کرتے ہیں۔ اس کوشش میں سانس تکلیف سے آتا ہے جسے غدی دمہ کہتے ہیں۔

کھانسی

کسی موذی چیز کو دفع کرنے کے لئے پھیپھڑوں کی حرکت کو کھانسی کہتے ہیں۔ اس کی تین صورتیں ہیں:

۱) بلغمی کھانسی:

اس مرض میں اعصاب میں تحریک سے خون میں بلگمی رطوبات بہت بڑھ جاتی ہیں۔ یہی بوجھل خون جب پھیپھڑوں میں پہنچتا ہے تو خون سے پھیپھڑوں کو اپنی غذا نہیں اور نہ ہی یہاں تازہ آکسیجن جذب ہونے کا عمل درست رہتا ہے۔ خون میں ان فاضل رطوبات کے آنے سے جسم ٹھنڈا، اجابت غیر منہضم اور پیشاب مقدار میں زیادہ اور سفید آتا اور یہ ردی رطوبات پھیپھڑوں پر بوجھ بنتی ہیں جسے وہ اٹھا اٹھا کر باہر پھینکنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کی اس کوشش کا نام بلغمی کھانسی ہے کیونکہ ان سے سفید بلغم اخراج پاتی ہے اور شدت مرض کی صورت میں سر میں درد اور کھانستے کھانستے قے ہو جاتی ہے۔

اسباب:

تر سرد اشیاء کا بکثرت استعمال

۲) خشک کھانسی (سوداوی):

اس کھانسی میں پھیپھڑوں کے عضلات متاثر ہوتے ہیں۔ جسم میں خشکی کا غلبہ ہوتا ہے۔ بلغم غلیظ ہونے کی وجہ سے اس کا اخراج مشکل ہو جاتا ہے۔ کھانسنے سے چہرہ سرخ ہو جاتا ہے اور قارورہ بھی ہوتا ہے۔ پیٹ میں ریاح الافرسہ اور قبض کی شدت ہوتی ہے۔ دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔

اسباب:

سرد خشک اشیاء کا بکثرت استعمال

۳) صفراوی کھانسی

جب پھیپھروں کے غشائے مخاطی متاثر ہوتے ہیں تو چہرہ اور قارورہ کی رنگت زرد، بلغم گاڑگی، رقیق اور ملی جلی ہوتی ہے۔ کبھی جی متلاتا ہے اور پیچش لگ جاتے ہیں۔ پیشاب کم اور جل کر آتا ہے اور خفقان قلب کی شکایت ہوتی ہے۔

اسباب:

گرم اور خشک موسم

گرم اشیاء کا بکثرت استعمال

ہضم کی خرابی

تیز مصالحہ جات کا استعمال

تپ دق

تپ بمعنی بخار، دق بمعنی دملا پتلا۔

اس مرض میں مریض کو ہر وقت ہلکا سا بخار رہتا ہے جو ؑصر کے وققت شدت اختیار کر لیتا ہے جس سے تحلیل بہت زیادہ ہو جاتی ہے اور مریض سوکھ کر دبلا پتلا ہو جاتا ہے۔ اس لئے اس مرض کو تب دق کہا گیا ہے۔ کھانسی پہلے خفیف پھر وردار اور خشک آتی ہے، بلغم بالکل نہیں آتی، اگر بلغم آئے تو وہ غلیظ سیاہی مائل یا خون آمیز آتی ہے۔ بھوک بند اور نیند کتم ہو جاتی ہے۔ ہونٹ اور پورا چہرہ سیاہی مائل ہو جاتا ہے۔ چھاتی کے مقام پر درد اور ٹانگوں میں تھکاوٹ ہوتی ہے۔ روز بروز وزن کم ہوتا جاتا ہے۔ لیبارٹری تیسٹ میں ٹیوبرکلوزز مائیکرو بیکٹیریا (Tuberclosesmicro Bacteria) آتا ہے۔

E.S.R کی نارمل مقدار مردوں میں ۵ تا ۷ اور عورتوں میں ۷ تا ۱۰ ہوتی ہے۔ اس مرض میں یہ تین یا چار گنا بڑھ جاتا ہے۔

ایکسرے میں پھیپھڑے زخمی نظر آتے ہیں۔

Monteox Test کے ذریعے ۷۲ گنٹوں میں جلد پر دانے نکل آتے ہیں یا سرخ رنگ کا ابھار نظر آتا ہے۔ اس کی پیمائش کر لینی جاہئے۔ اگر اس ابھار کا ڈایا میٹر 5mm ہو تو دق کے جراثیم موجود ہونے کی دلیل ہے۔ اگر اس سے کم ہوتو ان کی عدم موجودگی کی دلیل ہے۔

اسباب:

موروثی

ریشے کی زیادتی

آلو کا کثرت استعمال

کیمیکل گھی اور ترش و خشک اشیاء کا کثرت استعمال

قلت خوراک بوجہ غربت

نفث الدم (خون تھوکنا)

اگر تھوک میں خون کی آمیزش ہو تو یہ منہ کی مختلف جگہوں، مسوڑھوں اور دانتوں کی جڑوں سے آتا ہے جس کا سبب چھالے یا پائیوریا ہے اگر سڑکنے سے آئے تو وہ سر سے آتا ہے۔ اس کے آنے کے بعد سر ہلکا محسوس ہے۔ اگر خون کھنکارنے سے آئے تو وہ خجرہ اور قصبتہ الریہ سے آتا ہے۔ اگر قے ذریعے آئے تو وہ غذا کی نالی، مری اور معدہ س آتا ہے اس کی رنگت سیاہی مائل ہوتی ہے۔ کبھی غذا کا کوئی جزو بھی ساتھ آجاتا ہے۔ اس مقام پر درد اور جلن بھی ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جگر اور طحال کا بھی خیال رکھنا چاہئے اور مسوڑھوں سے مواد چوستے وقت آئے تو وہ مسوڑھوں سے آتا ہے۔ سب سے آسان شناخت یہ ہے کہ خون جس عضو سے آتا ہو اس میں تکلیف ہوتی ہے۔

اسباب:

بجلی لگنا

ضربہ وسقطہ

خشک اشیاء کا بکثرت استعمال

بدہضمی

السر

پائیوریا(قروح لثہ)

دق سل

ذات الجنب

عروق شعریہ کا پھٹنا

احتباس طمث

سل

سل کے معنی ایسے زکم کے ہیں جو عسر العلاج ہو اور انسان کو لاغر اور نحیف کر دے۔ یہ زخم عام طور پر ذات الریہ (نمونیا)، تپ دق، سوزش معدہ و سوزش رحم کے بعد ہوتا ہے۔ عام طور پر تب دق اور سل ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں لیکن تپ دق میں سل ضروری نہیں البتہ سل میں تپ دق ضروری ہے۔

ایک وضاحت

جیسے ہمارا جسم تین حصوں میں تقسیم ہے اعضاء، رطوبات ( خون اس میں شریک ہے) ، ارواح اسی طرح بخار بھی تین قسم کے ہوتے ہیں؛

۱) اگر حرارت ارواح کو لاحق ہے تو اس بخار کو حمی یوم کہتے ہیں۔

۲) اگر حرارت رطوبات میں لاحق ہو جائے تو اسے حمی خلطی کہتے ہیں۔

۳) اگر حرارت اعضاء میں لاحق ہو تو اسے حمی دق کہتے ہیں۔

دوسری وضاحت

یہ مرض پہلے عضلاتی انسجہ میں نمودار ہوتا ہے پھر جب انتہاء کو پہنچ جاتا ہے تو پھر اس کا اثر غدی انسجہ پر اثر انداز ہوتا ہے جب تک اس کا اثر عضلاتی نسیج پر رہتا ہے اس وقت تک یہ دق ہی رہتا ہے اور جب اس کا اثر غدی تسیج پر پہنچ جاتا ہے تو اس وقت یہ سل بن جاتا ہے اور یہ سل ہی دق کا تیسرا حصہ ہے۔

دق و سل ریوی، معوی، امعائی اور رحمی ہو سکتی ہیں لیکن کبدی نہیں کیونکہ کبدی سوزش سے اس قدر صفاء و حرارت پیدا ہوتی ہے کہ اس کا زہر فنا ہو جاتا ہے۔ ہڈی میں دق نہیں البتہ سل ہوتی ہے۔ وہ بھی ہدی کی ذات میں بلا واسطہ نہیں بلکہ بالواسطہ ہوتی ہے یعنی وہ سل ہڈی کی غشاء میں ہوتی ہے جس کی وجہ سے ہڈی کو کمل غذا نہیں ملتی۔ وہ بھر بھری ہو جاتی ہے اور اکثر ٹوٹ جاتی ہے۔ یاد رہے کہ ہڈی کی غزائیت میں اہم جز فسفیٹ (حرارت حیوانہ) کا ہوتا ہے س کے ختم ہونے پر ہڈی بھر بھری ہو جاتی ہے۔ دق و سل سرسامی میں کہیں یہ مغالطہ نہ رہے کہ دماغ اعصاب کا مرکز ہے اس لئے اس میں جو دق و سل ہوگا وہ اعصابی ہو گا، ہر گز نہیں۔ دماغ میں عضلاتی پردہ جس کو حجاب کہتے ہیں اس طرح وہاں غشاء بھی پائی جاتی ہیں جس کا تعلق غدی انسجہ سے ہے۔ یہ مقام اور اعضاء اس امر کی دلالت کرتے ہیں کہ دق و سل کا تعق کسی خاص حصہ جسم سے ہے اور علاج میں انہی اعضاء اور انسجہ اور افعال کو مدنظر رکھنا چاہئے۔ اسی کا نام صحیح علاج ہے۔

اسباب:

سلی زہر

گرم خشک اشیا کا استعمال

ذات الریہ (نمونیہ) ڈبہ اطفال

پھیپھڑوں کے عضلاتی پردے کے التہاب کو نمونیہ کہتے ہیں۔ دائیں طرف پھیپھڑے کے جب عضلاتی پردے میں سوزش کا آغاز ہوتا ہے تو دوران خون اس طرف بڑھتا ہے تو طبیعت بے حس ہو جاتی ہے اور کچھ کمزوری محسوس کرتی اس کے بعد لرزے سے بخار چڑھ جاتا ہے جس کی حرارت 103 سے 105 درجہ تک ہو جاتی ہے۔ صبح بخار کم اور جیسے جیسے شام ہوتی جاتی ہے بخار تیز ہوتا جاتا ہے۔ جلد نہایت گرم اور سانس لیتے وقت ناک کے نتھنے پھول جاتے ہیں۔ سانس کی رجتار جوانوں میں 30 تا 40 اور بچوں میں 50 تا 60 فی منٹ تیز ہو جاتی ہے چونکہ یہ مرض دائیں پھیپھڑے میں ہوتا ہے اس لئے دائیں طرف کے پستان کے نیچے یا بغل کے اندر دھیما دھیما درد ہوتا ہے لیکن اگر ساتھ ہی پھیپھڑے کے غلاف میں ورم ہو چکا ہو، درد بھی نہایت شدید ہوتا ہے جس سے سانس لینا، کھانسنا اور بات تک کرنا دشوار ہو جاتا ہے۔ اس میں چھاتی میں چپکا لیس دار بلغم کھانسنے سے نہیں نکلتا، اگر نکلے تو بہت کم ہوتا ہے۔ چھاتی میں خرخراہٹ کی آواز آ رہی ہوتی ہے۔ بے چینی اور بے خوابی کی شکایت ہوتی ہے۔ زطان میلی اور بھوک مر جاتی ہے، بار بار پیاس لگتی ہے۔ دائیں طرف کا رخسار زیادہ سرخ ہوتا ہے۔ شدت مرض میں ہذیان بھی ہو جاتا ہے۔ یہ مرض سردیوں میں سرد آب و ہوا سے ننھے بچوں میں بہت زیادہ ہوتا ہے۔

C.B.C ٹیسٹ میں سفید سیلز نیوٹروفل کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔ ایکسرے میں Opacity نظر آتی ہے اور پھپیپھڑوں کا ٹھوس حصہ سفید نظر آتا ہے یا سفید سفید سھبے دکھائی دیتے ہیں۔

اسباب:

سرد آب و ہوا

سرد اشیاء کا بکثرت استعمال

کالی کھانسی

یہ مرض اکثر دو تا آٹھ سال کی عمر کے بچوں کو لاحق ہوتا ہے جس کو ایک مرتبہ ہو جائے اسے دوبارہ نہیں ہوتا۔ سانس کی نالیوں میں غلیظ بلغم چمٹ جاتی ہے جس سے شدید کھانسی آتی ہے کیونکہ پھیپھڑے انہیں باہر نکالنے کے لئے ہی عمل بار بار دہراتے ہیں جس سے کھانسی دورے کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ کھانسی کا دورہ پڑنے سے پہلے گلے میں سرسراہٹ یا خراش محسوس ہوتی ہے پھر کھانسی آتی ہے۔ نزلہ کے ساتھ خفیف بخار بھی ہو جاتا ہے۔ مریض کھانستے کھانستے بے دم ہو جاتا ہے چہرہ سرخ نیلگوں اور آنکھیں ابھر آتی ہیں۔ کبھی بول و براز بھی خطا ہو جاتے ہیں۔ شدت مرض میں ناک یا کان سے خون بھی نکل آتا ہے۔ اندر کی طرف سانس کھینچنے سے سیٹی کی آواز "ہو" پیدا ہوتی ہے۔ اکثر قے ہو جاتی ہے جس میں لیس دار رطوبت ہوتی ہے۔ کھانسی رکنے پر مریض صحت مند معلوم ہوتا ہے۔ دن کی نسبت رات کو یہ تکلیف زیادہ ہوتی ہے۔

ابتدائی مراحل میں کالی کھانسی کی تشخیص مشکل ہے صرف ظاہری بخار اور ہلکی خشک کھانسی ہوتی ہے۔ ناک سے پانی بہتا (Rihinorrhoea) شروع ہوتا ہے۔ سر درد اور آنکھوں پر سوزش ہو جاتی ہے۔ دوسرے دورے میں کھانسی شدید اور تیز ہو جاتی ہے۔ کھانستے وقت اندر کی طرف ہوپ کی آواز آتی ہے اس لئے اس کو Whooping (کالی کھانسی) کہتے ہیں۔ پھر مریض کو لگا تار کھانسی کے دورے پڑتے ہیں۔ سانس رک رک کر آتی ہے۔ بعض دفعہ مریض کے جسم میں آکسیجن کی مقدار کم ہو جاتی ہے جس سے سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔ مریض بے ہوش ہو کر گر پڑتا ہے زبان زخمی ہو جاتی ہے اور جلد کا رنگ نیلا سیاہ ہو جاتا ہے۔ اگر رطوبت حلق میں داخل ہو کر جمع ہو جائے تو مریض کو نمونیہ کی شکایت بھی ہو سکتی ہے۔

مریض جب ٹھیک ہونا شروع ہوتا ہے اس کو بھوک محسوس ہوتی ہے۔ مریض کو کاہلی اور سستی چھا جاتی ہے۔ عضلات جسم ڈھیلے پڑ جاتے ہیں۔ مریض کو بے خوابی ہوتی ہے۔ کھانسی کی شدت کم ہو جاتی ہے۔ تندرست ہونے کے بعد مریض کو فوراً دماغی اور جسمانی کام نہیں کرنا چاہئے اور ہلکی غذا لینی چاہئے۔

اسباب:

سرد خشک اشیاء کا بکثرت استعمال اور سرد آب و ہوا

جراثیم گرام نیگیٹیو Pertusis کا حملہ

ذات الجنب (پلورسی)

اس مرض میں بائیں پھیپھڑے کے پردے پر سوزش ہو جاتی ہے جس سے مریض کو ہلکی سردی کا احساس ہوتا ہے اور پھر جلد ہی بخار چڑھ جاتا ہے۔ پہلے تو سینے پر بوجھ معلوم ہوتا ہے لیکن تھوڑی دیر بعد پستان کے نیچے جکڑن اور چبھن معلوم ہوتی ہے اور پھر ایسی شدت کا دورہ ہونے لگتا ہے گویا کہ کوئی چھری چبھو رہا ہے۔ اس درد کی ٹیسیں ہنسلی کی ہڈی اور بغل تک محسوس ہوا کرتی ہیں۔ سانس لیتے وقت اور کھانستے وقت درد میں شدت ہوتی ہے۔ آخرکار مریض درد کی وجہ سے سینے کو حرکت نہیں دے سکتا بلکہ جس طرف درد ہوتی ہے اسی طرف کروٹ لئے لیٹا رہتا ہے۔ زبان میلی اور اس پر تہہ جمی ہوتی ہے، نبض تیز ہوتی ہے پیشاب کم آتا ہے۔ بائیں طرف رخسار سرخ ہوتا ہے جلد مکمل گرم خشک ہوتی ہے لیکن حرارت جسم 101 سے 103 درجہ تک ہوتی ہے کبھی اس سے بھی بخار تیز ہوا کرتا ہے۔ کبھی سر میں ٹیسیں بھی پڑتی ہیں۔ جب چھاتی سے مواد نہیں نکلتا اسے ذات الجنب خشک کہتے ہیں اور جب اس میں سے گاڑھی پیلی بلغم نکلتی ہے تو اسے ذات الجنب تر کہتے ہیں۔ چند روز میں ٹھیک نہ ہو تو یہ پیپ میں بدل جاتی ہے جسے پیپ دار ذات الجنب کہتے ہیں اور یہ حالت مزمن سمجھی جاتی ہے۔

اس حالت کو احتقان المدہ فی الصدر (Empema) بھی کہتے ہیں۔ اس پیپ دار حالت کا جلد علاج کر لیا جائے تو آرام آ جاتا ہے ورنہ یہ انتہائی خطرناک ثابت ہوتی ہے۔

شروع مرض میں سینہ کو ٹھوکنے سے صاف آواز آتی ہے لیکن جب لمف پیدا ہوتا ہے تب ٹھوکنے کی آواز کسی قدر ٹھوس ہو جاتی ہے۔ سٹیتھوسکوپ کے ذریعے سانس کی آواز سنیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دو کاغذ آپس میں رگڑ کھا رہے ہیں۔

سانس میں گھٹن اس سیال کی مقدار پر ہوتی ہے جو پھیپھڑے اور جھلی کے درمیان ہوتی ہے۔ اگر پانی زیادہ ہو تو تکلیف بھی زیادہ اگر کم ہو تو تکلیف بھی کم ہوتی ہے۔ ایکسرے سے بہت رہنمائی ملتی ہے۔

اسباب:

سلی زہر

متعلقہ بیماریاں

پھیپھڑوں کے امراض: دمہ، تپ دق، نمونیا اور کھانسی