Menu
تعلیمی23 منٹ پڑھائی

مردانہ امراض

مردانہ امراض میں جریان، احتلام، سرعت انزال اور نامردی جیسے مسائل شامل ہیں۔ ان امراض کے باعث جسمانی کمزوری، ذہنی پریشانی، توجہ میں کمی اور ازدواجی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ متن میں ان کی علامات، اسباب اور روایتی تشریحات بیان کی گئی ہیں۔

مردانہ امراض

مردانہ امراض میں مختلف امراض آتے ہیں:

کثرت مباشرت

صحیح خواہش وہ ہے جو کسی بیرونی تحریک کے بغیر پیدا ہو اور وہی مباشرت کا صحیح وقت ہے۔ یہ صورت روز پیدا ہو یا دوسرے تیسرے روز یا ہفتے اور مہینے میں پیدا ہو اس صورت میں مباشرت کے بعد جسم ہلکا ہوگا، دماغ میں سکون اور دل میں فرحت ہوگی اور کام کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے اور بھوک بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔

اس کے برعکس جب خواہش مباشرت بڑھ جائے اور یہ مرض کی صورت اختیار کر لے تو اس میں مندرجہ بالا تمام اچھی علامات نہیں پائی جائیں گی بلکہ روز بروز جسم ضعیف ہوتا جائے گا۔ دل و دماغ میں راحت و فرحت ختم ہو جائے گی۔ اس سے کام کرنے کی طاقت رفتہ رفتہ ختم ہو جاتی ہے اور مباشرت باعث مصیبت اور زحمت بن جاتی ہے اور کبھی منی کی بجائے خون بھی آنا شروع ہو جاتا ہے۔ بعض دفعہ غشی ہوجاتی ہے۔ اسے مرض خیال کرنا چاہئے۔

یونانی اطباء کا فیصلہ ہے کہ متواتر تین چار یا حد پانچ بار مباشرت کرنے سے اوعیہ منی کے اندر جس قدر مین جمع ہوتی ہے، خارج ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد اگر کوئی مباشرت کرے تو پھر خون صالح جو پرورش بدن کے لئے مخصوص ہے، خارج ہونے لگتا ہے چنانچہ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ علاوہ ضعف باہ کے جسم بھی تحلیل ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ پھر رفتہ رفتہ مختلف امراض نمودار ہونے لگتے ہیں جن میں اختلاج قلب، ضعف بصر، دوران سر، سوزش حرام مغز، مراق، صرع، جنون، ذیابیطس، جریان، دق و سل اور فالج وغیرہ شامل ہیں۔ عورتوں میں ورم رحم، سیلان رحم اور اختناق رحم پیدا ہو جاتے ہیں۔ ان امراض کی پیدائش کی صورت کچھ اس طرح ہوتی ہے کہ سب سے پہلے دل دھڑکنے لگتا ہے، تنفس میں تیزی آجاتی ہے، اعضاء ڈھیلے ہونا شروع ہو جاتے ہیں، جسم سست ہونے کے ساتھ سن ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ آخر کار انسان کسی سخت اور مہلک مرض میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

1- جن لوگوں میں گرمی تری کی کمی ہوتی ہے، ان کے لئے بہت تقصان دہ ہے۔

2- وہ لوگ جو ضعف دل و دماغ، جگر خصوصاً ضعف معدہ، تپ دق و سل، ذیابیطس، ضعف بصر، مرگی، جنون، جریان اور ضعف باہ میں ضعف انتشار کی شکایت ہوں ان میں پہلے ہی حرارت غریزی کم ہو جاتی ہے اور نقصان زیادہ ہوتا ہے۔

بعض معالجین کا مشاہدہ ہے کہ کسی بھی مریض کو مباشرت کے قریب نہیں جانا چاہئے۔ اس سے نہ صرف مرض میں زیادتی ہوتی ہے بلکہ جسم بھی کمزور ہو جاتا ہے اور مرض خوفناک صورت اختیار کر لیتا ہے۔

3- دماغی محنت کرنے والے لوگوں کو بھی کثرت مباشرت سے بچنا چاہئے۔

4- حاملہ عورت کو بھی کثرت مباشرت سے بچنا چاہئے۔

5- دودھ پلانے والی عورت کو بھی کثرت مباشرت سے پرہیز کرنا چاہئے۔

جلق

ہاتھ کی حرکت سے منی کا خارج کرنا جسے عربی میں استمنا بالید کہتے ہیں، فارسی میں مشت زنی یہی نام عرف عام میں بھی بولا جاتا ہے۔ انگریزی میں اسے ماسٹربیشن کہتے ہیں۔ اس بدعادت سے ایک شخص کی انسانیت اور آدمیت دونوں ختم ہو جاتی ہیں۔

جلق کے اثرات

ظاہری طور پر جلق سے قوت باہ، اعضائے تناسل اور پیدائش منی پر نقصان ہوتا ہے۔ باطنی طور پر جلق سے تمام جسم، اعضائے رئیسہ، روحانی قدروں خصوصاََ اخلاق و اقدار پر اس کا اثر پڑتا ہے۔

قضیب کی بناوٹ اس طرح ہے:

1- سب سے اوپر اعصاب

2-اس کے نیچے غدد

3- سب سے نیچے عضلات

1- جلق سے سب سے پہلے اعصاب متاثر ہوتے ہیں۔ دوران خون کی تیزی اعضائے تناسل خصوصاََ قضیب کی طرح زیادہ ہو جاتی ہے۔ مریض بار بار حرکت دیتا رہتا ہے جس سے مادہ منویہ برباد ہو جاتا ہے۔ اس مادہ کی پیدائش ختم ہو جاتی ہے۔ جوش خون میں تیزی، پیٹ میں ریاح، احتلام کی کثرت، ہاضمہ خراب، رطوبات بڑھ جاتی ہیں۔ نزلہ و زکام شروع ہو جاتا ہے۔

2- جب اعصاب کمزور ہوتے ہیں تو اس کا اثر غدد تک پہنچ جاتا ہے۔ پیشاب میں منی، تقطیر بول، سوزاک، سرعت انزال، معمولی تحریک سے چلتے چلتے انزال ہو جانا۔ دل کمزور اور پٹھے (اعصاب) کمزور ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ یہاں سے قضیب میں استرخاء (فالج) کی ابتداء شروع ہو جاتی ہے۔

3- جب غدد (غشائے مخاطی) میں سوزش کی انتہا ہو جاتی ہے تو شدید رگڑ سے عضلات (جو اسفنجی اجسام کے ہوتے ہیں) برباد ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور وہاں پر ایک خفیف سی ورم کی صورت پیدا ہو جاتی ہے جس پر کپڑا لگنے سے درد ہونے لگتا ہے۔ ساتھ ہی دیگر اعضائے تناسل بھی شدید متاثر ہو جاتے ہیں۔ ذکاوت حس پیدا ہو جاتی ہے۔ رطوبت کا اخراج ہر وقت احلیل کو تر رکھتا ہے۔ ذرا سی تحریک سے رطوبت بہنا شروع ہو جاتی ہے۔ اس طرح کثرت رگڑ سے عضلات (اسفنجی اجسام) برباد ہو جاتے ہیں جس سے “ٹیڑھا پن” پیدا ہو جاتا ہے۔ وہ لاغر اور کمزور ہو جاتا ہے۔ اس میں پھیلنے اور سکڑنے کی قوت ختم ہو جاتی ہے۔ اس میں انتشار اور خیزش کی صورت تقریباََ ختم ہو جاتی ہے اور آدمی نامرد بن جاتا ہے۔

یاد رکھیں کہ قضیب کے “ٹیڑھے پن” اور “دبلے پن” کا خاص قسم کے طلاء جات سے علاج ممکن نہیں جیسا کہ بعض نادان لوگوں کا خیال ہے۔

جب تک اعصاب، غدد اور عضلات میں پھر سے زندگی پیدا نہ ہو، مرض کجی رفع نہیں ہو سکتا۔

علامات:

جلق کے مریض نہایت ہی پست ہمت اور بزدل ہوتے ہیں۔ جہرہ اداس، طبیعت غمگین، کاروبار سے بے پرواہ، مجلس سے گریزاں، رنگ زرد، آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے، نہایت شرمیلا مزاج، آنکھیں ملا کر بات چیت نہ کرنا، ہتھیلیوں اور تلوؤں میں سرد پسینہ، عورتوں کی صحبت سے گریزاں اور اکثر تنہائی پسند ہوتے ہیں۔

اسباب:

برے لوگوں کی صحبت، جہالت، گردوں میں سوزش کی وجہ سے جنسی قوت پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔

اغلام

ایک جنس کے دو افراد کا ایک دوسرے سے مباشرت کرنا اغلام کہلاتا ہے۔

یہ فعل بد قدیم زمانے سے پایا جاتا ہے۔ قرآن حکیم کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ حضرت لوطؑ کی قوم میں یہ فعل انتہائی عروج پر تھا۔ جب یہ قوم اس فعل بد سے باز نہ آئی تو اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو اٹھا کر آسمان پر لے جاکر الٹ دیا اور اوپر سے نوکدار پتھروں کی بارش کردی اور اس فعل بد کرنے والی بستی کو تباہ و برباد کر دیا۔

یہ اتنا قبیح فعل ہے جس کو انسان کے سوا کوئی مخلوق حتیٰ کہ جانور بھی نہیں کرتا۔

اغلام کے نقصانات:

1- فساد شہوت کا نقصان ہوتا ہے جس کی تین صورتیں ہیں:

(i) قضیب کا نقص

(ii) اندرونی اعضائے تناسل کا نقص

(iii) اعصاب کا نقص

2- فساد شہوت کے نقصان سے اعضائے رئیسہ بھی متاثر ہوتے ہیں۔

3- اغلام سے انسان کے اندر کا کردار اور اخلاق بھی تباہ ہو جاتا ہے۔

4- قضیب کی بناوٹ میں زیادہ تر اسفنجی اجسام ہوتے ہیں جن کا تعلق عضلات اور قلب سے ہوتا ہے۔ وہاں پر جو غشائے مخاطی اور اعصاب پائے جاتے ہیں، ان میں انتہائی لطافت کا احساس پایا جاتا ہے خصوصاََ حشفہ اور احلیل میں، یہ اثرات اپنی انتہا کو پہنچ گئے ہوتے ہیں۔ ان سب کو شریانوں اور وریدوں سے غذا پہنچتی ہے جس سے وہاں کی نشونما کا سلسلہ قائم رہتا ہے۔

لیکن اغلام میں اعضاء پر غیر فطری دباؤ پڑتا ہے۔ اس کی رگڑ سے حشفہ اور احلیل کی جھلی و اعصاب میں خراش اور سوزش پیدا ہو جاتی ہے۔ بار بار ایسا کرنے سے خون کا دوران اس طرف زیادہ ہو جاتا ہے جس سے وہاں کی لطافت اور احساس میں اس قدر شدت آجاتی ہے کہ دکھن پیدا ہو جاتی ہے جس سے ورم تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ آخرکار جنسی اعضاء کے ساتھ ساتھ دل، دماغ اور جگر بگڑنے شروع ہو جاتے ہیں۔ پھر بجائے جسم و نفس کی روحانی تکمیل کے خوفناک امراض پیدا ہو جاتے ہیں مثلاََ آتشک، سوزاک اور ذکاوت حس وغیرہ۔

علامات:

جن نوجوان بچوں کے جنسی جذبہ کو نقصان پہنچ چکا ہو، چاہے وہ لڑکے ہوں یا لڑکیاں تو اکثر وہ بہت شرمیلے ہو جاتے ہیں۔ اکثر خوف زدہ رہتے ہیں۔ تنہائی پسند ہوتے ہیں، جنسی جذبہ کے ذکر سے گھبرا جاتے ہیں۔ تعلیم اور کام میں جی نہیں لگتا۔ ان کی ذہانت اور مسرتیں روز بروز ختم ہو جاتی ہیں۔ شادی کے ذکر سے گھبرا جاتے ہیں۔ اکثر نشہ میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ ناول، سینما اور ویڈیو سنٹر وغیرہ کا نشہ پڑ جاتا ہے۔

اسباب:

بچپن میں دایہ کا بچے کے جنسی اعضاء کو سہلانا، بچپن میں بچوں کا ایک دوسرے کے جنسی اعضاء کو چھیڑنا، ہمجولیوں کے ساتھ گھنٹوں سیکسی باتیں کرنا، بچوں کا آپس میں ملنا، لپٹنا یا گندی محفلوں میں شریک ہونا، فحش لٹریچر پڑھنا، جہالت اور بری تعلیم، گندی فلمیں دیکھنا۔

جریان

تعریف: پیشاب و پاخانے کے وقت پیشاب سے قبل یا پیشاب کے بعد شہوانی خیالات یا کپڑے کی رگڑ سے جب کوئی سفید مادہ خارج ہوتا ہے اس کو جریان منی کہتے ہیں۔

علامات:

مباشرت کے بغیر بلاخواہش منی کا خود بخود نکلنا، جب بکثرت منی کا اخراج ہو تو درج زیل علامات پیدا ہوتی ہیں:

ضعف، نقاہت، کمزوری، دماغی محنت نہ ہو سکنا، خیالات کا منتشر رہنا، توجہ کا کسی خاص امر پر مجتمع نہ ہونا، تھوڑا سا چلنے سے پنڈلیوں میں کمزوری کا پایا جانا، صبح بستر سے بیدار نہ ہو سکنا، سر کا بوجھل رہنا، نسیان کا لاحق ہو جانا۔

جب ان علامات میں بھی شدت پیدا ہو جاتی ہے تو ذیل کی علامات پیدا ہو جاتی ہیں:

محنت کا کوئی کام مریض سے نہیں ہو سکتا، نہ دماغی کام کر سکتا ہے۔ تھوڑا سا کام کر کے اس کو سانس چڑھ جاتا ہے۔ خیالات درست نہیں رہتے، اکثر پریشان رہتا ہے۔ حافظہ کمزور اور قوت فیصلہ بیکار ہو جاتی ہے۔ سر میں درد اور طبیعت میں گرانی رہتی ہے۔ کمر اور پیٹ میں اکثر عصبی درد رہتا ہے۔ ہاضمہ خراب، ڈکاریں اور نفخ رہتا ہے۔ نیند نہیں آتی، خوابیں ڈراؤنی آتی ہیں۔ مثانہ میں خراش، مقعد اور احلیل میں جلن، ریڑھ پر چیونٹیاں چلنے کا احساس، رانوں اور جنگاسوں کے عضلات میں درد، ضعف بصارت، جلد پر رنگ زرد سیاہی مائل، خصیتین میں ہلکا ہلکا درد، دقت تنفس، چڑچڑاپن، پاؤں کے تلوؤں میں جلن، بدنی کمزوری، قوت باہ برباد ہو جاتی ہے۔ درد سر دائمی، سر چکرانا، ضعف سماعت، مرگی، جنون، ضعف ہضم مزمن اور دق و سل تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ یہ ایک خوجناک مرض ہے۔ اس کا علم بعض اوقات مریض کو نہیں ہوتا۔

جریان کے اسباب:

1- مولدات منی اور مقوی اغذیہ کھانا اور ریاضت یا جماع نہ کرنا

2- قبض یعنی پاخانہ کرتے وقت زور لگانا جس سے مستقر منی پر زور پڑتا ہے۔

3- خراش مقعد۔۔۔ جب بواسیر یا کرم صغیر مقعد کے اندر گدگدی کرتے ہیں تو مستقر منی میں دغدغہ ہوتا ہے اور منی کا سیلان ہو جاتا ہے۔

4- التہاب مقامی۔۔۔ اس کی کئی صورتیں ہیں مثلاََ سوزش احلیل، سوزاک، سوزش مثانہ وغیرہ۔

5- حدت بول۔۔۔ بعض اوقات پیشاب میں کوئی تیزابی مادہ آجاتا ہے تو اس سے سوزش ہو جاتی ہے۔

6- تنگی احلیل۔۔۔ امراض مثانہ کے باعث جب کونتھنا پڑتا ہے تب بھی اخراج منی ہو جاتا ہے۔

7- قلفہ۔۔۔ اگر لمبا ہو تو اس کے نیچے میل جمع ہو جاتی ہے اس کی خراش سے دغدغہ ہو کر منی کا اخراج ہو جاتا ہے۔

8- بعض منی میں کچھ ایسا تغیر ہو جاتا ہے کہ نکلتے وقت سوزش و جلن کرتی ہے۔

9- خیالات فاحشہ۔۔۔ عشق انگیز خیالات اعضائے تناسل کی طرف توجہ مبذول رکھتے ہیں۔ اعضائے تناسل کی طرف دوران خون تیز ہو جاتا ہے جس سے وہ ذکی الحس ہو جاتے ہیں اور معمولی سی تحریک سے منی کا اخراج ہو جاتا ہے۔

نیز خیالات فاحشہ ظروف منی کو بھی مسترخی کر دیتے ہیں۔

10- استرخائے اوعیہ منی۔۔۔ اگر کسی سبب سے اوعیہ منی کے لحمی ریشوں میں فالج واقع ہو تو ان کی قوت ماسکہ نہیں رہتی اور منی باہر نکل آتی ہے۔

11- اعصابی ضعف۔۔۔ مرکز ہائے اعصاب یعنی دماغ، نخاع اور ران کمزور ہو جاتے ہیں۔

12- جلق۔۔۔ جلق سے احلیل میں خراش ہو جاتی ہے جس سے وہ ذکی الحس ہو جاتی ہے اور معمولی تحریک سے جریان منی ہو جاتا ہے۔

13- بعض اسباب ایسے جو مرض میں ترقی کا باعث بنتے ہیں مثلاََ قہوہ یا شراب کی کثرت، تمبا کو کی عادت، اوندھا سونے اور میلا رہنے کی عادت، دماغی محنت اور ورزش نہ کرنا۔

14- سب سے بڑا اور عام سبب اعضائے تناسل کا “ذکی الحس ہوجانا” ہے۔

15- جریان کا ایک اور بڑا سبب ذکاوت حس ہے۔

احتلام

احتلام عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہے خواب میں جنسی لذت حاصل کرنا۔

1- نیند کی حالت میں جب منی اور اس کے اعضاء کو جسم میں دباؤ اور غلبہ ہوتا ہے تو طبیعت جنسی جذبہ کو پیش کر دیتی ہے جس سے جنسی بیداری اتنی شدت سے پیدا ہوتی ہے کہ انسان بے قابو ہو جاتا ہے اور جنسی انزال ہو جاتا ہے اسے احتلام کہتے ہیں۔

2- عوام میں اس کے مختلف نام ہیں مثلاََ بد خوابی، خواب میں شیطان آنا، کپڑے خراب ہونا وغیرہ۔

3- انگریزی میں اسے “ناک ٹرنل ایمیشن” کہتے ہیں۔

سونے والا خواب میں کسی سے جذبات محبت میں مشغول ہوتا ہے۔ اکثر نیم خوابی کی حالت میں ہوتا ہے۔ کبھی کمزوری کی وجہ سے کسی قسم کا خیال نہیں ہوتا مگر احتلام ہو جاتا ہے جس کی علامات کپڑون پر دکھائی دیتی ہے۔ مرض کی شدت میں آلات منی بہت زکی الحس ہو جاتے ہیں کہ ادنیٰ سا خواب آنے پر بھی احتلام ہو جاتا ہے۔ کبھی دن کے وقت بھی ایسا ہو جائے تو مرض دوسرے درجہ تک پہنچ جاتا ہے۔ کبھی مرض بڑھ جانے سے مادہ منویہ رقیق ہو جاتا ہے اور ذرا سی تحریک سے خارج ہو جاتا ہے، نعوظ ہو یا نہ ہو۔

بعض اوقات براز کے اخراج کے وقت منی سوزش سے یا بلا سوزش فوراََ نکل جاتی ہے۔ یہ صورت نقصان دہ ہوتی ہے حتیٰ کہ اس سے سپرم کم ہو جاتے ہیں اور اکثر بغیر دم کے ہو جاتے ہیں۔ خصیتین میں سوزش ہونے کی وجہ سے اس کی ساخت میں خرابی ہو جاتی ہے۔

علامات:

کثرت احتلام سے بدن کمزور، دماغی محنت بہت کم، خیالات منتشر، چلنے سے پنڈلیوں میں تھکاوٹ، صبح اٹھنے میں دقت، سر بوجھل، کمر اور سینہ میں درد، نظام انہضام خراب، معدہ میں گیس اور نفخ کی شکایت اور نیند کم آتی ہے۔

ریڑھ کی ہڈی پر چیونٹیاں چلنے کا احساس، جلد کا رنگ سیاہی مائل، خصیتین میں درد، بدن لاغر، اعضائے تناسل کی کمزوری، درد معدہ، پیشاب میں کمی اور جلن جیسے عوارض لاحق ہوتے ہیں۔ مہینہ میں احتلام تین مرتبہ ہو تو علاج کی ضرورت نہیں۔ اگر اس سے بھی جلدی ہو تو مریض کو علاج کروانا چاہئے۔

اسباب:

اوعیہ امتالئے منی، سوزش آلات مخصوصہ، تجرد، کثرت مباشرت، جنسی بے راہ روی، قبض، بد ہضمی، تیزابیت، موسیقی، سیکسی ماحول، سوتے وقت مثانہ پیشاب سے لبریز رہنا۔

سرعت انزال

مباشرت میں طبعی مدت سے پہلے انزال ہو جانے کو سرعت انزال کہتے ہیں۔

اس کی طبعی مدت 2 تا 5 منٹ ہے۔ زیادہ سے زیادہ دس منٹ ہے۔

اس سے زیادہ کے خواہش مند ساری عمر ادویات کے محتاج رہتے ہیں بالآخر وہ امساک کی طبعی مدت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

ہاں اگر غیر طبعی کیفیت پیدا ہو گئی ہو کہ مباشرت کے وقت دخول سے پہلے یا دخول کے بعد فوراََ انزال ہو جاتا ہے جس سے ایک طرف مرد کی اپنی قوت باہ کمزور ہوتی ہے، دوسرے اولاد نہیں ہوتی تیسرے عورت کی تسلی نہیں ہوتی، وہ نفرت دکھاتی اور بے شمار مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔

یاد رکھیں کہ بعض لوگ زیادہ سے زیادہ امساک کے لئے الٹی پلٹی حرکات کرتے ہیں جو کہ سخت نقصان دہ ہیں مثلاََ:

1- بعض افیون، بھنگ اور چرس کا استعمال کرتے ہیں جو قوت مردی کو تباہ کر دیتی ہے۔

2- اپنی توجہ کو دوسری طرف ہٹا لیتے ہیں تا کہ زیادہ سے زیادہ امساک ہو۔

3- مباشرت کے وقت جب انزال کے قریب پہنچتے ہیں تو اپنی حرکات کو روک لیتے ہیں یا عضو مخصوص کو باہر نکال لیتے ہیں۔

4- مباشرت میں ایک بار انزال کے بعد دوبارہ مباشرت سے لمبا عرصہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ تمام صورتیں مرد اور عورت دونوں کے لئے سخت نقصان دہ ہیں اور مختلف امراض کا باعث ہیں۔

سرعت انزال کے اسباب

1- سوزش غدد اور غشائے مخاطی:

سوزش غدد میں جگر، گردے، خصیتین اور امعاء کے غدد خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ان حالات میں دوران خون مقام سوزش پر دباؤ کی حالت پیدا کرکے سرعت انزال کا قوی سبب بن جاتا ہے۔ ان حالات میں ذکاوت اور انتشار بھی اکثر رہتا ہے۔

غشائے مخاطی کی صورت میں سر سے پیر تک کسی مقام کی غشائے مخاطی میں سوزش ہو سکتی ہے۔ اس میں احلیل (پیشاب کی نالی) کی سوزش اور سوزاک قابل ذکر ہیں۔

2- غلبہ خون:

غلبہ خون عام طور پر خون کی زیادہ پیدائش سے ہوتا ہے۔ اس کی تین صورتیں ہیں:

i- جگر کی تقویت۔۔۔ جگر کی تقویت سے غذا جلد خون بننے لگتی ہے۔

ii- بہترین غذا۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ بہترین غذا ہو تو خون میں اور کثرت ہو جائے گی۔

iii- اچھا ماحول۔۔۔ اچھے ماحول سے بھی خون میں اضافہ ہوتا ہے۔

اگر چہ یہ وقتی صورتیں ہیں لیکن ان کا تسلسل آخر کار تحلیل قلب و عضلات پیدا کر کے فوری امراض کا باعث بن جاتا ہے۔

3- کثرت حرارت و حدت منی:

کثرت حرارت سے جسم میں حرارت اور صفراء کی پیدائش بڑھ جاتی ہے اور اس حرارت کا اخراج پورے طور پر نہیں ہو سکتا۔ یا اس کا جسم میں پورے طور پر خرچ نہیں ہو سکتا تو اس سے منی میں بھی حدت بڑھ جاتی ہے۔

اسی طرح گرم سالن روٹی کھانا، گرم دودھ یا گرم چائے پینا، گرم علاقے یا گرم ماحول میں رہنے سے بھی سرعت انزال کی شکایت ہو جاتی ہے۔

اسی طرح گرم ماحول اور گرم اشیاء اور گرم مصالحہ جات کھانے سے بھی منی میں حدت آجاتی ہے۔ اسی طرح فاحشہ عورتوں سے مباشرت کرنے سے بھی جسم میں حرارت اور حدت منی پیدا ہو جاتی ہے کیونکہ فاحشہ عورتوں میں آتشک اور سوزاک کے امراض پائے جاتے ہیں۔

4- کم عمر عورتوں سے مباشرت کرنا:

ان کے جسم میں حرارت مرد کی حرارت سے زیادہ ہوتی ہے جو جسم میں جذب ہو کر منی میں حدت پیدا کر دیتی اور سرعت انزال کا مرض پید ہو جاتا ہے۔

ذکاوت حس

ذکاوت حس دراصل احساسات کی تیزی ہے جو غدد میں پیدا ہوتی ہے حقیقتاََ لذت کی شدت کا دوسرا نام ہے۔ یہی لذت بڑھ کر کبھی خارش اور کبھی درد کی صورت بھی اختیار کر لیتی ہے۔ اس کی وجہ رطوبات کا غدد میں رک جانا ہے جو کہ اخراج اور انزال چاہتی ہیں۔ گویا یہ ایک فطری کوشش ہے جو جسم میں مادی و نفسیاتی اثرات کے تحت عمل میں آتی ہے۔ اگر تحریکات شدید ہو جائیں یا سوزش کی صورت پیدا ہو جائے تو ذکاوت، لذت اور شہوت کا سلسلہ جاری رہتا ہے جس سے نالی تر ہو جاتی ہے۔

اس کا صحیح علاج فطری صورت یعنی شادی ہے ورنہ سوزش ہو کر مسلسل شہوت کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ مریض توہمات، بدہضمی، اسہال، درد سر، مغلوب لذت اور غیر معمولی فساد ذہن کا شکار رہتا ہے۔

علامات:

چونکہ اس مرض میں غدد میں تیزی ہوتی ہے۔ اعصاب میں سکون اور عضلات کی طرف خون کا دباؤ ہوتا ہے اس لئے اکثر طبیعت میں جوش اور بے چینی رہتی ہے۔ پیٹ میں نفخ، عورتوں میں باؤ گولا، ہاضمے کی خرابی، جنسی لذت کا بھوت ہر وقت چڑھا رہتا ہے۔ مزاج چڑچڑا اور خود پسند اور دوسروں کو کمتر خیال کرتا ہے۔ احساس کمتری کا شکار ہوتے ہیں۔ کام کاج اور پڑھائی میں دل نہیں لگتا۔ لذت کی باتوں، عشقیہ افسانوں، ناچ گانے اور فلموں میں اکثر وقت صرف کر دیتے ہیں۔ جنسی کمزوری کی شکایت کرتے ہیں، موت کا خوف رہتا ہے، جوان بننے کی کوشش کرتے ہیں۔

اسباب:

موسیقی، سیکسی ماحول، بری صحبت، فحش لٹریچر۔

عنانت (نامردی)

اس کی تین صورتیں ہیں:

1- قوت تولید کا خراب یا ختم ہو جانا:

اس صورت میں مباشرت و موصلت اور جماع کی قابلیت تو ہوتی ہے بلکہ بعض حالتوں میں بہت زیادہ ہوتی ہے مگر اولاد پیدا کرنے کی قابلیت نہیں رہتی یا کم ہو جاتی ہے۔

2- مردی قوت میں کمزوری:

جس سے مرد کا مباشرت و مماصلت اور جماع کی قابلیت ختم ہو جانا یا بہت کم ہو جانا اور مناسب انداز کے مطابق فعل انجام نہ دے سکنا۔

3- خواہش جماع کا ختم ہو جانا:

اس میں وہ جذبات ختم ہو جاتے ہیں یا بہت حد تک کم ہو جاتے ہیں جن سے خواہش جماع پیدا ہوتی ہے۔

4- قوت تولید کا خراب یا ختم ہو جانا:

اس کی تین صورتیں ہیں:

i- پیدائش منی میں کمی

ii- قوام منی میں ضعف

iii- مزاج منی میں نقص

i- پیدائش منی میں کمی:

منی میں یہ قوت ہے کہ جب اس کی پیدائش بڑھ جاتی ہے تو جسم انسان پر اس کا ایک خاص قسم کا اثر ہوتا ہے کیونکہ قدرت نے نل کو برقرار رکھنے کے لئے عمل ازواج میں ایک قسم کا ذوق رکھ دیا ےہ جو اس کے اس جسم میں ایک قسم کا ہیجان اور جوش پیدا کرتا ہے۔ اس کی وجہ سہ مادہ منویہ ہے جو انسان کے جسم میں وافر تیار ہوتا رہتا ہے جس کے ساتھ ہی اس کے اخراج کے لئے سرور اور دغدغہ محسوس ہوتا ہے اور انسان طبعی عمل کا طلبگار ہوتا ہے۔

ii- قوام منی میں ضعف:

اس کی تین صورتیں ہیں:

پہلی صورت:

رطوبات بلغمیہ کی زیادتی سے اس میں پختگی پیدا نہ ہو اور مکمل قوام بنے۔

اسباب: تر گرم یا تر سرد اشیاء کا کثرت استعمال و آب و ہوا۔

دوسری صورت:

کثرت مباشرت سے منی میں پختگی اور قوام قائم نہ ہونے دینا۔

تیسری صورت:

جسم میں کثرت صفراء کی وجہ سے درجہ حرارت اس قدر بڑھ جاتا ہے جس سے منی کا قوام بگڑ جاتا ہے۔ اس سے کرم منی فنا ہو جاتے ہیں، رطوبت پانی کی طرح پتلی ہو جاتی ہے اور سرعت انزال کی شکایت ہو جاتی ہے۔

اسباب:

گرم خشک اشیاء کا کثرت استعمال، گرم خشک آب و ہوا۔

iii- مزاج منی میں نقص (سپرم کی کمی):

اس کی تین صورتیں ہیں:

پہلی صورت:

جب منی اپنے مزاج میں پختہ ہو جاتی ہے تو اس میں کرم ازخود پیدا ہو جاتے ہیں اور جب اس میں رطوبات بلغمیہ کی کثرت ہو جاتی ہے تو اس میں پختگی پیدا نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کا صحیح مزاج اور قوام بنتا ہے۔

اسباب:

بلغمی اشیاء کا کثرت استعمال مثلاََ چاول، کھیر وغیرہ۔ کثرت مباشرت، موٹاپا، پس سیلز۔

دوسری صورت:

اس صورت میں منی اپنے مزاج میں پختہ ہوتی ہے اور اس مین کرم بھی پیدا ہوتے ہیں۔ اس حالت میں لذت اور لطف کی کثرت ہوتی ہے۔ سیکس کا مطالعہ اور ماحول اس میں اور بھی اضافہ کر دیتا ہے جس سے یہ مریض کثرت مباشرت یا کثرت کار کا عادی ہو جاتا ہے پھر اتنی جلدی جلدی یہ کام کرنے لگتا ہے کہ منی اپنے مزاج میں پختہ نہیں ہوتی اور اس میں سپرم بھی کم بنتے ہیں۔

اسباب:

سرد خشک اشیاء کا کثرت استعمال و ماحول۔

تیسری صورت:

جسم میں اس قدر حرارت اور صفراء پیدا ہو جاتا ہے جس سے منی کا قوام رقیق ہو کر بگڑ جاتا ہے اور اس میں موجود سپرم فنا ہو جاتے ہیں اور جب اس کا اخراج ہوتا ہے تو عضو خاص میں حدت اور جلن کا احساس ہوتا ہے اور یہ رنگت میں زرد ہو جاتا ہے۔

اسباب:

گرم خشک اشیاء کا کثرت استعمال اور ماحول۔

قوت تولید کا بالکل نہ ہونا (Azoospermia)

(سپرم مکمل ختم ہونا)

یہ مرض عسر العلاج ہے لیکن ناممکن نہیں۔ اگر خلقی نقص نہ ہو تو کوشش سے علاج ہو جاتا ہے بشرطیکہ کرنے والا محتنی اور کروانے والا پوری دلجمعی سے کرے تو اللہ کریم کرم فرماتا ہے۔ عام طور پر دو بڑی وجوہات سے سپرم تباہ ہو جاتے ہیں:

1- آتشکی زہر:

آپ جانتے ہیں کہ آتشک اعصابی غدی، اعصابی عضلاتی اور عضلاتی اعصابی تک ہو سکتی ہے البتہ عضلاتی غدی میں مکمل ختم ہو جاتی ہے بس اسی تحریک کو بحال کر دیں اس مریض کا علاج ہو جاتا ہے۔

2- سوزاکی زہر:

غدی عضلاتی تحریک میں حرارت کی زیادتی سے سپرم تباہ ہو جاتے ہیں،، منی کا اخراج پس (پیپ) جیسا ہوتا ہے اور شدید جلن ہوتی ہے۔ مریض کی رفیقہ حیات کو نطفہ انگارہ محسوس ہوتا ہے۔

ٹیسٹوسٹیران کی کمی

یہ ہارمون تندرست انسانوں میں 3 تا 12 ہوتا ہے البتہ جب اس کی مقدار 6 سے کم ہو جائے تو عدم انتشار کی صورت واقع ہو جاتی ہے تو اس صورت میں مریض جماع پر قادر نہیں ہوتا۔

مردمی قوت میں کمزوری

مردمی قوت میں کمزوری دو طرح سے ہوتی ہے:

1- عدم انتشار

2- کجی قضیب

(1) عدم انتشار

ماہیت انتشار:

جب جنسی حظ اندرونی یا بیرونی طور پر پیدا ہوتا ہے تو اوّل اوّل اعصاب میں لہر سی دوڑ جاتی ہے جس سے عضلات مین تحریک ہوتی ہے اور دل کا فعل تیز ہوجاتا ہے اور اپنی شرائن کے ذریعے اعضائے مخصوصہ کی طرف روانہ کرتا ہے جس کے ساتھ روح اور حرارت وہاں پر بڑھ جاتی ہے۔

جب عضلات میں تحریک پیدا ہوتی ہے تو رطوبات غدد کی طرف روانہ ہو جاتی ہیں اور حرارت اعصاب کی طرف جا کر وہاں جو تیز لہر دوڑاتی رہتی ہے اس میں تحلیل پیدا کر کے اس کو اعتدال پر لاتی ہے مگر عضلات کی تیزی سے چونکہ غدد میں سکون ہوتا ہے اس لئے رطوبات کا اخراج بند ہو جاتا ہے اس طرح قضیب میں خیزش بڑھتی رہتی ہے تو دل کے فعل میں تیزی آجاتی ہے جس سے دوران خون کی قضیب کی طرف زیادتی ہوتی ہے اور عضو مخصوص اپنی لمبائی اور چوڑائی میں بڑھنا اور پھیلنا شروع ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ شدت سے تن جاتا ہے۔ اس صورت میں اوپر نیچے اور دائیں بائیں کے عضلات اپنی اپنی جگہ کھینچ کر قضیب کو انتشار کی حالت میں کھڑا کر دیتے ہیں چونکہ شدت حرارت سے غدد میں تحریک آجاتی ہے اس سے منی پختہ ہو جاتی ہے۔

جب مذکورہ انتشار کی صورت پیدا نہ ہو تو مباشرت کی صلاحیت نہیں رہتی اور آہستہ آہستہ جماع کی رغبت نہیں رہتی۔

اسباب:

جنسی بے راہ روی، جلق، اغلام، کثرت جماع، جریان، احتلام، رنج، موٹاپا، شوگر، منشیات کا استعمال، تجرد۔

(2) کجی قضیب (عضو کا ٹیڑھا پن)

کجی کی ماہیت:

کثرت رگڑ یا چوٹ یا زخم سے جب قضیب کے انسجہ (خصوصاََ عضلاتی انسجہ) خراب ہو جاتے ہیں یا ان میں فساد پیدا ہو جاتا ہے تو وہاں پر رطوبات و خون اور روح و حرارت کا اجتماع مشکل ہو جاتا ہے اور جس طرف کے عضلات درست ہوتے ہیں اس طرف انتشار کے وقت تیزی، جھکاؤ اور ٹیڑھا پن پیدا ہو جاتا ہے۔

جس قدر انسجہ خراب ہون گے اسی قدر کجی زیادہ ہوگی۔

کجی کے اسباب:

جلق، اغلام، کثرت مباشرت، سوزاک، آتشک، ضرب اور زخم وغیرہ۔

کجی کی علامات:

قجیب میں دبلا پن اور شہوت کی حالت میں ٹیڑھا پن، جھکاؤ اسی طرف ہوتا ہے جس طرف کھچاؤ ہوتا ہے اور دوسری طرف استرخاء اور ڈھیلا پن ہوتا ہے۔ انتشار نامکمل، حرارت میں کمی اور جوش کا فقدان، احلیل سے رطوبات کا اخراج، غرض یہ کہ کجی کے ساتھ نا مکمل انتشار اور کمی حظ کی حالتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔

خواہش جماع کا ختم ہو جانا

اس مرض کے مریض میں خواہش جماع کم یا ختم ہو جاتی ہے۔ اس کے چہرے سے اداسی کی کیفیت واضح ہوتی ہے۔ وہ کسی مجلس میں جرأت مندی سے بات کرنے اور کام کرنے سے کتراتے ہیں۔

اسباب:

ذہن کو کسی بڑے کام میں مصروف کر دینا جیسے چلہ کشی وغیرہ، دماغی و علمی کام، شادی دیر سے کرنا۔

متعلقہ بیماریاں

مردانہ امراض: علامات، اسباب اور روایتی تشریحات