سرسام
سرسام کی دو قسمیں ہیں:
سرسام بلغمی
سرسام صفراوی
سرسام بلغمی( لیثرغس)
سرسام کے معنی سر کا مرض ہے لیکن بوعلی سینا سرسام کو سر کا ورم کہتے ہیں جو عام طور پر دماغ اور اس کی جھلیوں پر ہوتا ہے۔ اس مرض میں بلغم کی زیادتی، سر بھاری، طبیعت سست، سردی کی شدت، آنکھوں میں ہلکی سی سرکی اور ناک بہتی ہے۔ بول و براز بلا ارادہ خارج ہو جاتے ہیں، آنکھیں نیم کشادہ اور سر کی جلد چپچی سی ہوتی ہے۔ ہاتھ پاؤں سرد اور سانس خراٹے سے آتا ہے۔ دماغ میں تحریک سے سوزش اور پھر ورم ہونے لگتا ہے تو ابتداء میں منہ میں پانی آنے لگتا ہے۔ جی متلاتا ہے، اُبکائیاں آتی ہیں اور کبھی پھیکی سی قے ہو جاتی ہے۔ آنکھوں کی گہرائی میں درد ہوتا ہے۔ قارورہ سفید اور براز رقیق یعنی دست نما ہوتا ہے۔ آنکھوں میں سرخی آ جانا سرسام کی علامت ہے۔ یہ سرسام بہت کم ہوتا ہے کیونکہ بلغم کی زیادتی سے ورم میں شدت پیدا نہیں ہوتی لیکن غنودگی زیادہ ہوتی ہے۔ ویسے بھی سردی میں بلغم کی زیادتی سے بہت کم سوزش اور ورم بنتا ہے البتہ اگر رطوبات میں تعفن پیدا ہو جائے تو ہلکا بخار ہو جاتا ہے۔
سرسام صفراوی
اس مرض میں خون میں صفراء کی زیادتی سے جوش و ہیجان پیدا ہو جاتا ہے۔ جب دماغ کی طرف خون کا غلبہ یعنی رطوبات کا دباؤ بڑھتا ہے تو وہ ان کثیر رطوبات کو اٹھانے کا متحمل نہیں ہوتا جس سے وہ بہکی بہکی باتیں کرتا ہے اور بدن میں کھچاؤ، طبیعت بوجھل، منہ کا ذائقہ کڑوا، مسلسل قے تلخ، پیچش، بے چینی، گھبراہٹ، سر درد، پیاس محسوس کرتا ہے اور پھر شدید بخار ہو جاتا ہے جس سے اضطراب اور بڑھ جاتا ہے۔ بستر سے اٹھ اٹھ کر بھاگنے کی کوشش کرتا ہے۔ آنکھیں شدید سرخ اور ورم کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ کبھی آنکھ اور نتھنے خشک اور سرخ جبکہ زبان اور چہرہ زرد ہوتے ہیں۔ دماغ تسکین سے اسے جب پوری غذا نہیں ملتی تو ہوش و حواس گم ہونے لگتے ہیں۔ مریض بے سدھ ہو کر گر جاتا ہے اور کسی چیز کی طرف ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے لگتا ہے اور جب اٹھتا ہے تو ہوا میں کسی چیز کو پکڑنے کی کوشش کرتا ہے۔
وجوہات
گرم خشک اشیاء کا بکثرت استعمال
سوزا کی مادہ
بجلی کے جھٹکے
گرم موسم و ماحول میں کام کرنا
