Menu
تعلیمی4 منٹ پڑھائی

منہ اور زبان کے امراض

منہ اور زبان کے امراض میں چھالے، بدبو، رال کا زیادہ آنا، لکنت، ہونٹوں اور زبان کا پھٹنا اور زبان کی سوزش شامل ہیں۔ یہ بدہضمی، انفیکشن، صفائی کی کمی اور گرم، سرد یا ترش اشیاء کے زیادہ استعمال سے ہوتے ہیں۔ علامات میں درد، سوجن، جلن، بدبو، زیادہ تھوک اور بولنے کھانے میں دشواری شامل ہیں۔

منہ اور زبان کے مختلف امراض ہیں:

قلاع الفم(منہ کے چھالے)

اس کی تین صورتیں ہیں:

۱) قلاع الفم بلغمی:

اس مرض میں سفید یا خاکستری مائل چھوٹے چھوٹے چھالے لبوں اور زبان، مسوڑھوں اور رخساروں کے اندر کی طرف نکل آتے ہیں۔ منہ میں سوزش اور جلن ہوتی ہے، کھایا پیا اور بولا نہیں جاتا، ہر وقت منہ سے رال بہتی ہے اور اکثر منہ سے بدبو آتی ہے جیسے دودھ متعفن ہو گیا ہو۔ بعض اوقات قے اور دست بھی شروع ہو جاتے ہیں۔ کبھی ہلکا ہلکا بخار ہو جاتا ہے۔

جب اس مرض میں شدت ہوتی ہے تو منہ میں زخم ہو جاتے ہیں اور منہ پھول جاتا ہے بلکہ منہ کا گلنا (آکلہ پیدا) ہو جاتا ہے یہاں تک کہ آتشکی قلاع کی علامات ہوتی ہیں۔ بہت زیادہ تھوک پیدا ہوتا ہے منہ سے بدبو آنا اور فسادِ ذوق کی صورت ہو جاتی ہے اور اسی تحریک میں دانت ہل جاتے ہیں اور جلد گرنے لگتے ہیں۔

اسباب:

اکثر یہ مرض بچوں کو زیادہ اور بڑوں کو بہت کم ہوتا ہے کیونکہ ان کے مزاج میں رطوبت زیادہ ہوتی ہے۔ جب ان میں حررت کی کمی واقع ہوتی ہے تو یہ مرض ہو جاتا ہے دوسرے چونکہ بچے دودھ زیادہ اور بے وقت پیتے ہیں جس سے بدہضمی ہو جاتی ہے۔ دودھ کا مزاج تر سرد ہے اس لئے اس تحریک میں تیزی پیدا ہو کر منہ میں چھالے پیدا ہو جاتے ہیں جو بچے ماں کا دودھ بغیر وقت کے پیتے ہیں یا زیادہ تر بازار کا دودھ پیتے ہیں، انہیں یہ عارضہ پیش آتا ہے۔

۲) قلاع الفم تیزابی:

اس مرض میں منہ کی اندرونی جھلی سرخ ہو کر متورم ہو جاتی ہے اور چھالے بن جاتے ہیں جو انتہائی تکلیف دہ ہوتے ہیں۔ کھانے یتے اور گفتگو کرتے وقت بہت دقت ہوتی ہے۔ اکثر بڑا گوشت یا تیزابی اشیاء کھانے سے زبان پر سرخ دانے نکل آتے ہیں۔ مسوڑھے لب اور رخسار کی لعاب دار جھلی بھی متورم ہو جاتی ہے۔

اسباب:

  • ایلوپیتھی پین کلر ادویہ کا استعمال

  • تیزابیت پیدا کرنے والی غذاؤں کا کثرت استعمال

  • بڑا گوشت

  • اچار

  • سرکہ جات کا استعمال

۳) قلاع الفم حاد:

تیسری صورت میں منہ کے اندر جھلی اور زبان پر پیلے رنگ کے دانے نکل آتے ہیں۔ زبان پر زردی مائل بھوری تہہ ہوتی ہے، گرمی کی زیادتی سے منہ پکا رہتا ہے۔ کھانا پینا دشوار ہوتا ہے، معمولی گرم چھیز کھانے سے مرض میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

اسباب:

گرم خشک اشیاء کا بکثرت استعمال

بخر الفم(منہ سے بدبو آنا)

یہ مرض انتا نکلیف دہ ہے کہ جس سے مریض خود بھی تنگ آجاتا ہے اور دوسرے بھی اس سے متنفر ہو جاتے ہیں اور بعض اس کی شدت سے ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ لوگ ان سے تعلق ختم کرنے لگتے ہیں۔ منہ میں غذائی ذرات چپکنے سے بیکٹیریا پیدا ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے بدبو سانس میں شامل ہو جاتی ہے جو بہت ہی ناگوار ہوتی ہے۔

اسباب:

  • بد ہضمی

  • دانتوں کی صفائی نہ کرنا

  • پائیوریا

  • ٹانسلز

  • پھیپھڑوں کی خرابی

  • ریاح

  • تبخیر

  • لبلبہ کی خرابی(ذیابیطس)

رال بہنا

میڈولا اوبلنگیٹا sliva کو کنٹرول کرتا ہے۔ جب اس میں تحریک ہو تب منہ میں تھوک پیدائش کثرت سے ہوتی ہے۔ مریض تھوکنے سے بہت تنگ آجاتا ہے۔ رال بہتی رہتی ہے۔ کھانا پینا، بیٹھنا اٹھنا، لکھنا پڑھنا، پڑھانا اور گفتگو کرنا نہایت دشوار ہو جاتا ہے۔ رات سوئے تو صبح کے وقت بہت زیادہ لعاب گرنے کی وجہ سے تکیے کا ایک حصہ تر ہو چکا ہوتا ہے۔

اسباب:

  • دیدان امعاء

  • سوء ہضم

  • تر سرد اشیاء کا بکثرت استعمال

لکنت

زبان کے عضلات میں غلیظ رطوبات کے رکنے سے ان میں سیکٹر واقع ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے مریض بات کرتے وقت کسی ایک لفظ پر اٹک جاتا ہے اسے لکنت کہتے ہیں اور بعض پوری پوری بات کرنے پر قادر نہیں رہتے، اسے ہکلاع کہتے ہیں۔ اٹک اٹک کر بولتے ہیں اور الفاظ کی ادائیگی میں روانی نہیں ہوتی۔

اسباب:

  • تشنج

  • فالج

  • سرسام

  • ٹائیفائیڈ کے مابعد اثرات

ہونت اور زبان کا پھٹنا

جسم میں سردی اور خشکی کی زیادتی سے زبان اور ہونٹ پھٹ جاتے ہیں، پھٹے ہوئے ہونٹ سے خون بھی رستا ہے۔

اسباب:

  • سرد خشک موسم

  • پانی میں چونا کی کثرت

  • تیز ترش اشیاء

  • بدہضمی

زبان کی سوزش

زبان بھی منہ کے دوسرے حصوں کی طرح سوزش میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ اس سوزش کو Glossitis کہتے ہیں۔ اس مرض میں زبان متورم ہو جاتی ہے اور اس کا رنگ سرخ ہو جاتا ہے اور درد بھی ہوتی ہے۔ کھانا کھاتے وقت بہت تکلیف ہوتی ہے اور بات کرتے وقت بھی زبان میں تکلیف محسوس ہوتی ہے۔

اسباب:

  • ترش اشیاء کا بکثرت استعمال

  • اینٹی سیپٹک کا استعمال

متعلقہ بیماریاں

امراضِ منہ و زبان: منہ کے چھالے، بدبو، لکنت اور زبان کی سوزش