Menu
تعلیمی7 منٹ پڑھائی

ناک کے امراض

ناک کے امراض میں نزلہ زکام، نکسیر، رینائیٹس اور سائینوسائیٹس شامل ہیں۔ ان بیماریوں میں چھینکیں، ناک بہنا یا بند ہونا، گاڑھا بلغم، سر درد، سانس لینے میں دشواری اور بعض اوقات خون بہنے جیسی علامات پیدا ہوتی ہیں۔ انفیکشن، الرجی اور موسمی تبدیلیاں ان امراض کو بڑھا دیتی ہیں۔

ناک کے مختلف امراض ہیں:

نزلہ و زکام

دماغ اور ناک کے درمیان ایک جالی دار ہڈی ہے جس میں سے شریانیں اور اعصاب آکر پھیلتے ہیں۔ یہ دماغ کی رطوبت کو ناک اور حلق کی طرف گراتے ہیں۔ جب دماغ کو خون کی مکمل غذا میسر نہیں ہوتی تو اس کے پردوں پر سوزش ہونے سے زکام اور نزلہ کی شکایات ہوتی ہیں۔ اس حالت میں دماغ تین طرح کی رطوبات کا چھڑکاؤ کرتا ہے جو شریاتوں اور اعصاب کے ذریعے ناک اور حلق کی طرف گرتی ہیں۔ رطوبت کے گرنے کے اس عمل کو تزلہ (گرنا) کہتے ہیں۔ دماغ کی جس سطح پر سوزش ہوگی تو وہ حصہ تحریک میں آکر ترشح کرتا ہے۔ اگر دماغ کی اعصابی سطح پر سوزش ہو تو نزلہ بارد (زکام)، عضلاتی سطح پر سوزش ہو تو نزلہ بند اور غدی سطح پر سوزش ہو تو نزلہ حار کی علامات رونما ہوتی ہیں۔

۱) نزلہ بارد (زکام):

نزلہ بارد پانی کی طرح رقیق اور بے تکلف بہتا ہے۔ عام طور پر اس کا رنگ سفید ہوتا ہے۔ مریض کا جسم ٹھنڈا ہوتا ہے، پیشاب سفید اور مقدار میں زیادہ آتا ہے۔ منہ کا ذائقہ پھیکا اور لعاب زیادہ بنتا ہے۔ ناک بار بار صاف کرنے سے اس کی بیرونی سطح پر سوزش ہو جاتی ہے اور زوردار چھینکیں آتی ہیں۔ جسم کے تمام مخارج سے رطوبات کے اخراج کی زیادتی ہو جاتی ہے۔ مریض پر کاہلی، سستی اور سونے کی حالت طاری رہتی ہے۔

اسباب:

تر سرد اشیاء کا بکثرت استعمال تر سرد موسم

۲) نزلہ بند:

اس علامت میں رطوبات خشک ہوکر پیشانی اور ناک کے پچھلے حصے میں جم جاتی ہیں۔ زوردار سانس لینے سے ریشہ محسوس ہوتا ہے لیکن باہر نہیں نکلتا۔ زیادہ زور لگانے سے سیاہی مائل لیس دار بلغم کے ساتھ خون آنے لگتا ہے۔سر نیچے جھکانے، رکوع اور سجدہ کی حالت میں سر بوجھل اور درد کرتا ہے۔ اٹھ کر سیدھا کھڑا ہونے یا بیٹھ جانے سے آرام محسوس ہوتا ہے۔ بسا اوقات رطوبات کی کثرت کی بناء پر سانس لینا مشکل ہوتا ہے۔ سوتے وقت سانس منہ سے لینا پڑتا ہے اور سانس بند ہوکے کے خوف سے مریض حالت نیند سے بیدار ہوجاتا ہے۔ آنکھ، کان اور ناک بلغم سے بوجھ محسوس کرتے ہیں۔ اس کی زیادتی سے گردن کے اوپر کے تمام اعضاء زیر عتاب رہتے ہیں۔ کسی کے کان خراب ہو جاتے ہیں، کسی کی بینائی متثر ہو جاتی ہے اور کسی کے بال سفید ہو جاتے ہیں اور کسی کے دانت اذیت میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور کسی کو ناک کے اندر مسے بنے لگتے ہیں اور بہت سے لوگوں کو چھینکیں بھی آتی رہتی ہیں۔

اسباب:

سرد خشک اشیاء کا بکثرت استعمال

۳) نزلہ حار:

اس حالت میں ناک کے بائیں طرف سے غلیظ زردی مائل رطوبت نکلتی ہے اور کبھی یہ حلق کے راستے کھنگارنے سے گاڑھا پیلا ریشہ نکلتا ہے۔ اسے خارج کرتے بڑی کوفت ہوتی ہے۔ بعض اوقات اس بلغم کی مقدار زیادہ ہو جاتی ہے جسے نکالنے کے بعد سر فوراََ ہلکا اور جسم سکون محسوس کرتا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ اب دوبارہ شکایت نہیں ہو گی لیکن تھوڑی دیر بعد پھر وہی کیفیت ہو جاتی ہے اس صورت میں جسم بہت گرم ہوتا ہے۔ ٹھنڈا پانی پینے کو جی چاہتا ہے۔ کمرے میں یہ شکایت زیادہ ہوتی ہے جبکہ کھلی فضا میں چلنے پھرنے سے افاقہ ہو جاتا ہے۔ اس حالت میں چگر کا طبعی فعل تیز ہو کر غیر طبعی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ صفراء کی زیادتی سے نیند کی بے چینی، ہاتھ پاؤں میں گرمی، خون میں حدت اور پیشاب گہرا پیلا اور اجابت مروڑ سے ہوتی ہے۔

اسباب:

گرم خشک اشیاء کا بکثرت استعمال

نکسیر(رعاف)

قدرت نے ناک میں دونوں طرف بہترین سیفٹی والو (Safty Volve) لگائے ہیں، ان کے اچانک کھل جانے سے خون بہنے لگتا ہے جسے نکسیر کہتے ہیں۔ کبھی یہ معمولی نوعیت کا ہوتا ہے اور کبھی شدید ہو جاتا ہے۔

اس کی دو صورتیں ہیں:

۱) تیزابی نکسیر:

جب خون میں سردی خشکی بڑھ جاتی ہے تو اعضاء میں پھٹنے کا عمل ہوتا ہے۔ ان سے خون نکلتا ہے لیکن گاڑھا ہونے کی وجہ سے تیزی سے نہیں بہتا بلکہ تھوڑا تھوڑا کر کے نکلتا رہتا ہے۔ یہ دائیں نتھنے سے نکلتا ہے۔ ہاتھ لگانے سے ناک کی صفائی کرنے سے، ناک میں کوئی چیز لگانے سے یا زوردار چھینک مارنے سے خون کے ذرات نکلتے ہیں۔

اسباب:

  • دیدان امعاء

  • بواسیری مادہ

  • درد خشک اشیاء کا کثرت استعمال

  • ہیپاٹائیٹس

  • ہیموفیلیا

  • اے پلاسٹک انیمیا

  • ایام حمل و حیض

۲) حدتی نکیسر:

اس تحریک میں خون میں صفراء کی زیادتی سے جوش پیدا ہو جاتا ہے جس سے ناک کے بائیں طرف سے والو کھل جاتا ہے اس سے دماغ کسی بڑی آفت بلڈ پریشر، فالج اور برین ہیمبرج سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ یہ خون بہتے وقت رقیق ہوتا ہے اور بہت زیادہ مقدار میں آتا ہے۔ نکسیر سے پہلے سر میں درد ہوتی ہے اور طبیعت بوجھل ہو جاتی ہے اور پھر ناک میں گدگدی سی ہوتی ہے اور خون آنے لگتا ہے۔

اسباب:

  • گرم خشک اشیاء کا کثرت استعمال

  • آب و ہوا

  • موسم گرما میں گندم کی کٹائی کرتے وقت گرمی خشکی سے خون کا رقیق ہوجانا

بواسیر الانف

مدت سے لگے ہوئے نزلہ کا صحیح علاج نہ کرنے کی صورت میں رطوبات گاڑھی، لیس دار اور سرد خشک ہو کر پریشان کرتی رہتی ہیں اور ناک نتھنوں سے بدبودار حالت میں نکلتی رہتی ہیں اور نکلنے کا راستہ بند ہو جاتا ہے اور سانس لینا دشوار ہو جاتا ہے اور اس حالت میں دماغ کی رگوں پر پریشر بڑھ جاتا ہے جس سے زور دار چھینکیں آ جاتی ہیں۔ ناک کی اندرونی رگوں میں خون کی تیزی اور دباؤ سے بواسیر کے مسوں جیسا ریشہ دار زائد سرخ رنگ کا گوشت پیدا ہو جاتا ہے جسے ناک کی بواسیر (بواسیر الانف) کہتے ہیں۔ کبھی اس کی شدت سے بخار بھی ہو جاتا ہے۔

اسباب:

سرد خشک اشیاء کا کثرت استعمال

رینائیٹس

لگاتار 5 تا 25 چھینکیں آتی ہیں اور بسا اوقات ایک گھنٹہ تک شدت رہتی ہے۔ ناک کی اندرونی جھلی میوکس ممبرین انفیکشن سے متورم ہو جاتی ہے اور ناک بہتی رہتی ہے۔ سوزش کی وجہ سے ناک کا اندرونی حصہ سرخ ہو جاتا ہے اور کبھی یہ سوزش کان کی اندرونی جھلی تک پھیل جاتی ہے۔ مرض کی شدت میں جب بلغم حلق میں گرتی ہے تو ہلکی کھانسی آتی ہے۔ کبھی گلا بند ہو جاتا ہے، کبھی ناک سے متعفن رطوبت نکلتی ہے۔ بعض دفعہ رطوبت کے ساتھ خون آتا ہے۔

ریناٹیٹس موسمی بھی ہوتی ہے اسے ہے فیور (Hay Fever) کہتے ہیں۔ یہ دوسری الرجک بیماریوں سے زیادتی ہوتی ہے۔ یہ سال کے دوسرے حصے جون جولائی میں ہوتی ہے۔ ناک میں خارش، چھینکیں آنا اور ناک سے پانی کی طرح رطوبت کا بہنا دردناک علامات ہیں۔ بعض اوقات آنکھوں، کانوں اور تالو میں بھی زبردست خارش ہوتی ہے۔ اس کے 20% مریضوں کو الرجک دمہ کی شکایت ہوتی ہے۔ مریض کی ناک بند ہو جاتی ہے اور اسے سونگھنے اور چکھنے کا احساس تک نہیں ہوتا۔

اسباب:

سرد خشک اشیاء کا کثرت استعمال

سائینوسائیٹس

(ناک کے نتھنوں کی سوزش)

ناک کے ارد گرد سائنسز ہوتے ہیں جو ارد گرد کی ہڈیوں کے اندر کیویٹی ہوتی ہیں جن میں ہوا رہتی ہے اور چھوٹی سی اوپننگ کے ذریعے یہ ناک کی کیویٹی کے اندر کھلتے ہیں۔ ان میں دو میگزیلری سائی نسز، دو فرنٹل سائی نسز، ایتھمائیڈل سائی نسز اور سفی نائیڈ سائی نسز شامل ہیں۔ میگزیلری فرنٹل اور ایتھما سائی نسز ناک کی کیویٹی کے ارد گرد ہوتے ہیں۔ ان کو پیرا نیزل سائی نسز کہتے ہیں۔ ان میں سٹرپٹو کوکس بیکٹیریا یا دیگر اجسام خبیثہ کے حملے سے سوزش اور انفیکشن ہو جاتی ہے جسے ”سائینوسائیٹس“ کہتے ہیں۔ اس مقام پر معمولی دباؤ سے درد ہوتا ہے۔ سر درد، بخار، نبض تیز اور ابتداء میں ناک سے پانی بہتا ہے۔ پھر یہ رطوبت گاڑھی ہو جاتی ہے اور سیاہی مائل ہو جاتی ہے۔ مرض پرانا ہو جانے کی صورت میں ناک بند اور نزلہ حلق میں گرتا ہے جسے ”کیرا“ کہتے ہیں۔ اس کی وجہ سے گلے میں خراش، کھانسی اور بلغم کی شکایت رہتی ہے۔ لیٹنے سے سانس بند ہو جاتا ہے۔ آہستہ آہستہ مرض بڑھ کر کانوں کو بھی متاثر کرتا ہے اور پھر دماغ میں سوزش ہو جاتی ہے۔ چہرے کا ایکسرے کرانے سے سائی نسز کا مقام سیاہ نظر آتا ہے جبکہ تندرستی کی حالت میں ایسا نہیں ہوتا۔

اسباب:

  • مسلسل زکام

  • زکام کا علاج صحیح نہ ہونا

  • ناک کی صفائی نہ کرنا

  • سٹرپٹوکوکس کی انفیکشن

متعلقہ بیماریاں

امراضِ ناک: نزلہ، زکام، رینائیٹس، سائنوسائٹس اور نکسیر