Menu
تعلیمی4 منٹ پڑھائی

فالج

فالج ایک ایسی کیفیت ہے جس میں جسم کا ایک حصہ یا ایک جانب حس و حرکت سے محروم ہو جاتی ہے جبکہ باقی جسم نسبتاً درست رہتا ہے۔ یہ ٹانگوں یا جسم کے دائیں یا بائیں حصے کو متاثر کر سکتا ہے، جس سے چلنے پھرنے میں دشواری، کمزوری اور روزمرہ امور انجام دینے میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔

فالج

فالج کے لغوی معنی نصف نصف کرنے والے کے ہیں چونکہ اس مرض میں بدن کا نصف حصہ بیمار اور نصف حصہ تندرست ہوتا ہے اس لئے اسے فالج کہا جاتا ہے۔ اس کی تین اہم اقسام ہیں:

فالج اسفل:

بدن میں تر گرم رطوبات کی کثرت سے اعصاب میں تحریک غدد میں تحلیل اور عضلات میں تسکین سے نچلا دھڑ بے حس و حرکت ہو جاتا ہے کیونکہ تری سردی روح نفسانی میں تسکین اور تخدیر پیدا کرتی ہے اور مرطوب المزاج عضو کو بلادت اور کندی حواس میں مبتلا کر دیتی ہے جو کہ مانع حس و حرکت کا باعث بنتی ہے جسے فالج اسفل کہتے ہیں۔ اس مرض میں دونوں ٹانگیں اس قدر حرکت سے لاچار ہو جاتی ہیں کہ جنہیں خود ہلانا مشکل ہوتا ہے۔ صرف مریض پکڑ کر ادھر اُدھر کرتا ہے۔ ان پر وزن نہیں ڈالا جاسکتا ہے حتیٰ کہ قضائ حاجت کے لئے اُٹھ کر چلنا محال ہوتا ہے۔ بسا اوقات پیشاب میں تکلیف ہوتی ہے اور کبھی قبض ہو جاتی ہے اور انیما کی ضرورت ہوتی ہے۔ دل ڈوبتا ہے اور اجابت کا رنگ سفید اور قارورہ بھی سفید ہوتا ہے۔

اسباب

تر گرم یا تر سرد اشیاء کا کثرت استعمال سرد پانی سے غسل کرنا۔ فالج کا سبب یہی ہے کہ روح کا احتباس ہو جائے یعنی روح کے راستوں کی بندش جن کی راہ سے روح بطرف اعضاء پہنچتی ہے۔ یہ رکاوٹ چاہے قطع (کٹ) سے ہو یا انقباض مسام سے یا کبھی خلط غلیظ سے فقرات بدن پر دباؤ یا انقطاع یا وہ کسی طرف مائل ہو جائیں اس وجہ سے عصب میں انضغاط اور تنگی پیدا ہو جاتی ہے جو ان فقرات سے نکلتا ہے تو یہ انقباض مسام بھی بندش روح کا سبب بنتا ہے۔ کبھی خلط غلیظ منبادی اعصاب اور اعصاب کے شعبوں میں پہنچ کر ٹھہر جاتی ہے جس سے روح کی آمدورفت رک جاتی ہے اور وہ حصہ بے حس و حرکت ہو جاتا ہے۔

فالج دائیں جانب

عضلات میں انتہائی تحریک غدد میں انتہائی تسکین اور اعصاب میں انتہائی تحلیل سے حرام مغز کے مقام پیدائش پر ایک جانب بلغمی رطوبات گرتی ہیں جس سے چہرے کے علاوہ بدن کے دائیں طرف کا حصہ مفلوج ہو جاتا ہے کیونکہ یہ جانب رطوبی فضلات جذب کر کے تر ہو جاتی ہے اس طرف کی حس و حرکت باطل ہو جاتی ہے اور دفعتہََ فالج ہو جاتا ہے اور مریض کا قارورہ سفید اور کچا اور مکدر ہو تا ہے اس میں چمک نہیں ہوتی۔ اس کا قوام غلیظ ہوتا ہے کیونکہ غدد میں تسکین سے جگر کی رگیں ضعیف ہو جانے سے قارورہ میں نضج نہیں ہوتا، خون کی کمی، چہرے کا رنگ پھیکا اور سیاہی مائل ہو جاتا ہے۔ اختلاج قلب اور فشار الدم قوی کاذب ہوتا ہے اور کبھی بلڈ پریشر ضعیف ہو جاتا ہے۔ زبان پر سفید غلیظ نہہ اور سیاہ داغ ہوتے ہیں۔ پیٹ میں ریاح غلیظ بکثرت ہوتی ہے۔ اجابت کی کمی، قبض اور بواسیر کی شکایات پائی جاتی ہیں یورک ایسڈ، کولسٹرول اور ٹرائی گلیسرائیڈز بار بار بڑھنے کی علامات ہوتی ہیں۔ اسباب

  • بکثرت گوشت خوری

  • بریانی، برگر، کباب، خشک گرم اشیاء کا بکثرت استعمال

  • شراب کی لعنت کا رسیا ہونا

فالج بائیں جانب

غدد میں تحریک عضلات میں تحلیل اور اعصاب میں تسکین کی وجہ سے دماغی بطون کی ایک شق میں بلغمی مواد گرتے ہیں تو بائیں طرف کا چہرہ اور بدن مفلوج ہو جاتے ہیں۔ اس قسم کو فالج مع لقوہ بھی کہتے ہیں۔ بایاں ہاتھ اور پاؤں حرکت نہیں کرتے بلکہ دوسرے ہاتھ کی مدد سے اِدھر اُدھر کرنا پڑتا ہے۔ منہ کا ذائقہ کڑوا ہوتا ہے اور بلڈ پریشر ہائی ہوتا ہے۔ پیشاب قطرہ قطرہ رنگین ہوتا ہے۔ اجابت زردی مائل اور کبھی پیچش بھی لگ جاتے ہیں۔ جسم میں جلن، حدت، چبھن، گھبراہٹ اور خفقان قلب کی شکایت ہوتی ہے۔ ہاتھ پاؤں میں جلن اور کبھی شدت سے متورم بھی ہو جاتے ہیں۔ اکثر یہ فالج جوشیلے آدمیوں کو ہوتا ہے۔

اسباب

  • فشار الدم قوی کاذب

  • سوزش کلیہ

  • شدید غصہ

گرم خشک اشیاء کا بکثرت استعمال

وجوہات

تر گرم یا تر سرد غذاؤں کا حد سے زیادہ استعمال

بار بار ٹھنڈے پانی سے غسل کرنا

روح (زندگی کی توانائی) کے بہاؤ میں رکاوٹ یا بندش

جسمانی راستوں یا اعصابی نظام میں رکاوٹ (کٹ، دباؤ یا تنگی کی وجہ سے)

اعصاب میں گاڑھے اور غلیظ مادّوں کا جمع ہونا

ریڑھ کی ہڈی کے مہرے پر دباؤ جو اعصابی نظام کو متاثر کرے

گوشت کا زیادہ استعمال (جیسے بریانی، برگر، کباب وغیرہ)

خشک اور حد سے زیادہ گرم غذاؤں کا استعمال

شراب کا استعمال

مستقل بلند فشارِ خون (ہائی بلڈ پریشر)

گردوں کی سوزش یا کمزوری

شدید یا بے قابو غصہ

جسم میں گرمی اور خشکی کا عمومی عدم توازن

متعلقہ بیماریاں

فالج: اقسام، اسباب، علامات اور روایتی طبی جائزہ