حاملہ کے امراض
متلی اور قے
حمل ٹھہر جانے کے دوسرے ماہ سے چوتھے ماہ تک حاملہ کو کم و بیش متلی اور قے کی شکایت ہو جاتی ہے۔ کثرتِ لعاب کی وجہ سے منہ بھرا رہتا ہے اور بار بار تھوکنا پڑتا ہے۔ پیشاب بار بار آتا ہے۔ کوئی چیز کھانے کو دل نہیں چاہتا۔ اگر کھا لی جائے تو وہ قے سے خارج ہو جاتی ہے اور بھوک ویسے ہی رہتی ہے اور بعض خواتین کو معمولی متلی ہونے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ بعض خواتین کی طبیعت میں چڑچڑاپن پیدا ہو جاتا ہے۔
اسباب: قرارِ حمل۔
دست
حمل کے ایام میں پیٹ میں گڑبڑ ہونے سے حاملہ کو دست آنے لگتے ہیں۔
اسباب:
بلغمی اشیاء کا کثرت استعمال، رطوبات کا آنتوں پر دباؤ۔
حکتہ الرحم (شرمگاہ کی خارش)
حمل کی حالت میں رحم سے پانی جیسا مواد خارج ہوتا ہے۔ حاملہ کو بہت زیادہ خارش ہوتی ہے حتیٰ کہ خارش کرنے سے وہ جگہ سوزش کا شکار ہو جاتی ہے اور پیشاب کرنے میں تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کبھی اس مقام پر سرخی اور ورم بھی بن جاتا ہے۔
اسباب: گرم خشک اشیاء کا کثرتِ استعمال۔
اسقاط حمل
قرار حمل کے بعد اگر سات ماہ قمری سے پہلے جنین رحم سے خارج ہو جائے تو اسے اسقاط حمل کہتے ہیں۔
اسباب:
خون کی کمی، اچھلنا کودنا، وزنی اشیاء اٹھانا، ضربہ وسقطہ، ہچکولے والی سواری پر سفر کرنا، مجامعت کی غلط صورتیں، رنج و فکر، تیز مسہلات، سیڑھیاں چڑھنا، کونین کا استعمال، سوزاکی زہر کے اثرات۔
کرنگ
(جنین کی نشونما کا رک جانا)
رحمِ مادر میں جنین نہایت کمزور اور خشک ہو کر رحم کی کسی ایک جانب نیم مردہ حالت میں رہتا ہے جس کی وجہ سے عورت کی طبیعت خراب، بے چینی، کمزوری اور کئی دیگر عوارض لاحق ہو جاتے ہیں۔ رحم بڑھنے سے رک جاتا ہے، وجود میں تھکن اور پریشانی شروع ہو جاتی ہے۔
اگر مریضہ کا علاج نہ کیا جائے تو شدید امراض لاحق ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔
اسباب: خشک اشیاء کا کثرتِ استعمال، رحم سے خون بہنا، کمیِ غذا، خشک گرم موسم، مزمن امراضِ خبیثہ۔
گیس
حاملہ کو اکثر تبخیر و ریاح کی شکایت رہتی ہے۔ کھانا پینا صحیح ہضم نہیں ہوتا اور نہ جزوِ بدن بنتا ہے۔ ریاح کے اجتماع سے سر درد، بے چینی اور کمزوری ہونے لگتی ہے۔
اسباب:
نفاخ اشیاء کا کثرت استعمال، کھانے کے فوراََ بعد سو جانا۔
قبض
بعض دفعہ ایام حمل میں حاملہ کو شدید قسم کی قبض ہو جاتی ہے۔
اسباب:
سرد خشک اور ترش اشیاء کا کثرت استعمال۔
اولاد نرینہ
فطرت کے تولیدی نظام کے اسرار و رموز کو محققین نے سالہا سال کی تحقیق کے بعد دریافت کر لیا ہے جس کا خلاصہ درج ذیل ہے:
مرد کے سپرم 23 کروموسومز ہوتے ہیں۔ ان میں سے 22 ایک جیسے ہوتے ہیں جبکہ تئیسویں کی دو اقسام ہیں: ایکس x (مؤنث) اور وائی y (مذکر)۔
عورت کے بیضہ انثیٰ میں صرف ایکس x ہی ہوتا ہے۔ اختلاط کے وقت عورت کے ایکس x سیل سے اگر مرد کا ایکس x سیل ملے تو بیٹی اور اگر y سیل ملے تو بیٹا پیدا ہوتا ہے یعنی جنس کا تعین مرد کے سپرم سے منسلک ہے۔ x کروموسومز y کروموسومز سے 3.5 فیصد وزن زیادہ رکھتا ہے۔ یعنی اگر x کا وزن 100 فیصد ہے تو y کا وزن 96.5 فیصد ہوتا ہے۔ وزن میں اس فرق کی وجہ سے ان کی رفتار میں بھی فرق آ جاتا ہے۔ اگر ایکس کی رفتار 100 ہو تو وائی کی رفتار 120 ہوتی ہے۔ y وزن میں ہلکا ہونے کی وجہ سے تیز رفتار ہوتا ہے اس لئے وہ آگے جا رہا ہوتا ہے جبکہ عورت کے رحم میں تیزابیت ہوتی ہے۔ وائی (y) کروموسومز جو الکلائن پسند ہوتا ہے اس تیزابیت کے ماحول میں سست رفتار ہو جاتا ہے کیونکہ اس ناسازگار ماحول میں اس کے پاس دفاعی صلاحیت کم ہوتی ہے جبکہ ایکس (x) کروموسومز اپنے سر پر دفاعی تہہ لے کر آتا ہے جس سے وہ اپنا دفاع کر لیتا ہے اور منزل تک پہنچ جاتا ہے نتیجتاً بیٹی پیدا ہوتی ہے۔
خوبصورت بچے
ہر انسان کی فطری خواہش ہوتی ہے کہ اس کے بچے خوبصورت ہوں لیکن ایام حمل میں بعض خواتین ایسی غلط اشیاء کھا جاتی ہیں جس سے بچے کے رنگ اور سائز میں فرق پڑ جاتا ہے۔
اسباب:
سنگریزے اور مٹی کھانا، مولد سوداء اشیاء کا کثرت استعمال۔
