طحال (تلی)
تلی ایک بڑا لمفاوی عضو ہے اور یہ معدے کے پیچھے جوف شکم میں بائیں طرف نویں سے گیارہویں پسلی تک ہوتی ہے۔ اس کے اور پسلیوں کے درمیان حجاب حاجز ہوتا ہے۔ طحال نرم اور گہرے سرخ رنگ کی ہوتی ہے اور اس میں خون کی رگیں بہت زیادہ تعداد میں پائی جاتی ہیں۔ اس کی سطح پوری طرح پر باریطون سے ڈھکی ہوتی ہے۔ طحال کے دو چوڑے رباطات ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک طحال کو گردے سے ملاتا ہے، یہ معدی طحالی رباط کہلاتا ہے جبکہ دوسرا جو طحال کو گردے سے ملاتا ہے، کلوی طحال رباط کہلاتا ہے۔ یہ دونوں رباطات باریطون سے بنتے ہیں۔
طحال کا سائز:
طحال 12 سے 15 سینٹی میٹر طویل ہوتی ہے اور اس کا اوسط وزن تقریباً 200 گرام ہوتا ہے۔ جب اس میں خون کی مقدار اکٹھی ہوتی ہے، پھر یہ جسامت اور وزن میں بڑھ جاتی ہے۔ اس طرح جمع ہونے والے خون کو خارج کرنے کے لئے طحال میں وقفوں سے انقباض ہوتا ہے۔ کھانا کھانے کے بعد طحال کی جسامت میں کمی آ جاتی ہے۔
اس کے درج ذیل امراض ہیں:
عظم طحال (تلی بڑھ جانا)
یہ عضو بائیں پسلی کے نیچے واقع ہے۔ ملیریا یا مزمن بخاروں میں یا ان کا صحیح علاج نہ ہونے سے اکثر تلی بڑھ جاتی ہے۔ اس کے بڑھنے کی علامات درج ذیل ہیں:
1- بائیں پسلی پیٹ کی طرف جہاں ختم ہوتی ہے، وہاں دبانے سے تلی ہاتھ سے ٹچ ہوتی ہے۔
2- قوتِ ہاضمہ کمزور ہو جانے کی وجہ سے بھوک زائل ہو جاتی ہے۔ اگر کوئی چیز کھائی جائے تو ہضم نہیں ہوتی۔
3- ہلکا بخار رہنے کی وجہ سے مریض کمزور اور اس کی آنکھیں گول ہو جاتی ہیں۔
4- جسم کا رنگ پہلے پھیکا پھر سیاہی مائل ہو جاتا ہے۔
5- قبض شدید اور براز کا رنگ سیاہی مائل ہو جاتا ہے۔
6- چہرہ، ہاتھ اور تمام جسم میں سوجن ہوتی ہے۔
7- یرقان اور استسقاء اس مرض کا آخری مرحلہ ہوتے ہیں۔
8- بائیں طرف سونے سے تکلیف ہوتی ہے۔
9- الٹرا ساؤنڈ کرانے سے تلی اپنے سائز سے بڑھی ہوئی نظر آتی ہے۔
10- تلی کی وجہ سے دو قسم کا بخار ہوتا ہے:
الف: بخار سردی سے ہوتا ہے اور پانچ چھ گھنٹوں کے بعد اتر جاتا ہے۔ انگریزی طب میں اسے "ملیریا" کہتے ہیں۔
ب: بخار ہر تیسرے دن بعد ہو جاتا ہے بالخصوص غذا کے ہضم کے وقت تیز ہو جاتا ہے اور صبح کے وقت قدرے کم ہو جاتا ہے۔ یہ بخار لمبے عرصے تک رہتا ہے۔ مریض کمزور اور نحیف ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات سانس کی تنگی اور کھانسی کی شکایت بھی ہوتی ہے۔ یہ کیفیت دقّی بخار جیسی ہوتی ہے۔
علاماتِ حاد:
حمیٰ تیفودیہ کی صورت میں طحال نرم ہوتی ہے۔ اس لئے امتحان کے وقت اچھی طرح محسوس نہیں ہوتی۔ صرف مزاحمت کی زیادتی سے شناخت ہو سکتی ہے۔ حمیٰ تیفودیہ کی دوسری مخصوص علامات بھی موجود ہوتی ہیں۔ حمیٰ نکسیسہ کی صورت میں طحال کافی بڑی ہوتی ہے۔ لرزہ سے بخار آتا ہے، کمر میں درد ہوتا ہے، جسم کا درجہ حرارت یک بیک 105 ہو جاتا ہے۔ 6 تا 7 دن بعد بحران ہو کر اتر جاتا ہے۔ 6-7 دن بعد مرض کا حملہ دوبارہ ہوتا ہے۔ نبض سریع اور پسینہ بکثرت خارج ہوتا ہے۔ حمیٰ اجامیہ مزمن میں حمیٰ اجامیہ کی روداد ملتی ہے۔ ملتی ہے۔ ذات الریہ اور خناق کی صورت میں عظم طحال کے ساتھ ان امراض کی مخصوص علامات موجود ہوتی ہیں۔ ضربہ و سقطہ کی صورت میں طحال پھٹ جاتی ہے۔ تاہم اس کا غلاف نہیں پھٹتا اور نہ ہی جلد پر کوئی خاص نشان ہوتا ہے۔ غلاف طحال کے اندر ہی جریانِ خون کی وجہ سے شدید درد ہوتا ہے اور طحال بڑھ جاتی ہے۔
علاماتِ مزمن:
مقامِ طحال پر دردِ بے حسی ہوتی ہے۔ دبانے سے درد میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ طحال بڑھ کر بعض اوقات تمام شکم کو گھیر لیتی ہے۔ جسم سیاہی مائل ہو جاتا ہے، چہرہ بے رونق، پھیکا، منہ اور مسوڑھے کی غشاء مخاطی بھی پھیکی ہو جاتی ہے۔ بیاضِ چشم میں تکدر پیدا ہوتا ہے۔ سوء ہضم اور ضعفِ اشتہا ہوتا ہے۔ قے اور براز میں سیاہی مائل مادہ خارج ہوتا ہے جس میں عفونت بھی ہوتی ہے۔ لاغری اور ضعف ہوتا ہے۔ معمولی نقل و حرکت سے تنگیِ نفس کی شکایت ہوتی ہے۔ پپوٹوں اور پیروں میں تپج ہوتا ہے۔
دم ابیض طحالی میں طحال سب سے بڑی ہوتی ہے اور خلیاتِ ابیض پچاس ہزار سے زیادہ ہو جاتے ہیں۔ قلت الدم طحالی کی صورت میں طحال آہستہ آہستہ بڑھتی رہتی ہے اور خون میں خلیاتِ ابیض کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔ طبیعت کا رجحان جریانِ الدم کی طرف ہوتا ہے۔ تصلب الکبد کی صورت میں مرض کے انتہائی زمانہ میں طحال بڑھتی ہے۔ ساتھ میں قے الدم اور استسقاء زقی اور یرقان بھی ہوتا ہے۔ بعض اوقات استسقاء لحمی ہوتا ہے۔ رعاف، مسوڑھوں سے جریان ہوتا ہے۔ اخراجِ خون سے اکثر جسم پر دھبے پڑ جاتے ہیں۔
عظم طحال اور ضعف کی صورت میں جسم میں تیزابیت کم ہو جاتی ہے اور خون میں سرخی کی بجائے رطوبات زیادہ ہو جاتی ہیں۔ کمیِ خون اور خرابیِ خون کی علامت پیدا ہو جاتی ہے۔ جسم پھول جاتا ہے، خون کی پیدائش رک جاتی ہے۔ بڑا نقصان عضلات کا پھول جانا ہے، جس کے ساتھ قلب بھی پھول جاتا ہے۔
اسباب: تر سرد اشیاء کا کثرتِ استعمال سمیت۔
صلابت طحال
طحال خون سے سوداء اخذ کر کے محفوظ رکھتی ہے جسے وہ ضرورت کے وقت پھر خون میں شامل کر دیتی ہے۔ خون کے سرخ ذرات (RBC) جب ٹوٹ جاتے ہیں تو طحال انہیں اپنے اندر جذب کر لیتی ہے پھر انہیں تازہ ہیم (فولاد) سے مرمت کر کے خون میں شامل کر دیتی ہے۔ اگر یہ نظام کسی وجہ سے خراب ہو جائے تو طحال خون سے سوداء حاصل کرتی ہے لیکن اسے خون میں شامل نہیں کرتی، اس میں سوداء اکٹھا ہونے سے وہ پھول جاتی ہے۔ کچھ عرصہ ایسے ہی رہنے سے یہ مادہ تلی میں سوزش اور ورم پیدا کرتا ہے۔ اسے صلابتِ طحال کہتے ہیں۔ اگر یہ متعفن مادہ خون میں شامل ہو جائے تو یرقانِ اسود (ہیپاٹائیٹس) ہو جاتا ہے۔ عموماً اس مرض کا آغاز ملیریا بخار کے غلط علاج سے ہوتا ہے۔
علامات:
مقامِ طحال پر صلابت محسوس ہوتی ہے اور یہ مستدیر، عریض، طویل دقیق یا طویل غلیظ ہو سکتی ہے۔ حمیٰ ربع یا حمیٰ غیر منتظم ہو سکتا ہے۔ غذا لینے کے لئے شدید تکلیف ہوتی ہے۔ سوءِ ہضم کی شکایت ہوتی ہے۔ اسہال آ سکتے ہیں، جسم کا رنگ مٹیالا یا سیاہی مائل ہو جاتا ہے۔ گردن پتلی ہو جاتی ہے۔ ہتھیلیاں اور زانو گرم ہوتے ہیں۔ جسم میں ہزالی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ کثرتِ اشتہاء ہوتی ہے۔ غم، حزن اور وسوسہ کا غلبہ ہوتا ہے۔ بعض اوقات زبان سیاہ یا سیاہی مائل ہو جاتی ہے۔ خلطِ غلیظ کے زہریلے اثر سے پنڈلیوں میں زخم پیدا ہو جاتے ہیں۔ دانتوں اور مسوڑھوں میں تآکل کی سی کیفیت ہوتی ہے۔ پیشاب عام طور سے طبعی رنگ ہوتا ہے لیکن ریاضت کے بعد سیاہ آتا ہے۔
اسباب: سرد خشک اشیاء کا کثرتِ استعمال، ملیریا بخار کا غلط علاج، سمیت۔
ورم طحال
سوء مزاج گرم میں تلی پھیل جاتی ہے۔ اس وقت تلی کے مقام پر جلن اور معمولی دباؤ سے درد ہوتا ہے۔ جہرے کا رنگ پھیلؤکا پڑ جاتا ہے۔ بول و براز سرخ سیاہی مائل، بھوک کم ہوجاتی ہے۔ سانس تنگی سے آتا ہے، جسم میں تھکاوٹ، کمزوری اور چلنا پھرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ عموماََ باری کا بخار ہر تیسرے دن بعد ہوتا رہتا ہے۔
ملیریا
ملیریا کے معنی ہیں ”خراب ہوا“ یہ لفظ اس وقت ایجاد ہوا جب اطباء کا خیال تھا کہ ملیریا ایک زہریلی ہوا ہے جو کہ گرم مرطوب مقامات میں نباتی مادوں کے تعفن اور تبخیر سے پیدا ہوتی ہے لیکن جدید تحقیقات سے یہ معلوم ہوا ہے کہ ملیریا زہریلی ہوا سے نہیں بلکہ انافیلس (Anopheles) نامی مچھر کے کاٹنے سے ہوتا ہے۔
تعریف:
ملیریا ایک جراثیمی مرض ہے جو کہ خون میں ایک خاص قسم کے کرم کی موجودگی سے پیدا ہوتا ہے۔ بخار کا ہونا، تلی اور جگر کا بڑھ جانا اور کمزوری وغیرہ اس مرض کی خاص علامات ہیں۔
اسباب: ملیریل پیراسائیٹ کا زہر۔
ضعف طحال (تلی کمزور ہوجانا)
علامات:
ضعف قوت جاذبہ کی صورت میں جسم کا رنگ پھیکا ہوجاتا ہے۔ بیاض چشم میں پھیکا پن پیدا ہو جاتا ہے۔ بطلان اشتہاء ہوتا ہے اور بلغم خون میں شامل ہوکر سارے جسم میں پھیل جاتا ہے اور بہت سے امراض کا باعث ہوتا ہے۔
اسباب: تر سرد اشیاء کا کثرت استعمال۔
ڈینگی وائرس
یہ وائرس ایک مادہ مچھر Aedes Aegypti کے ڈسنے سے منتقل ہوتا ہے جسے یہ ڈستی ہے اسے ہی بخار ہوتا ہے اور یہ اڑ کر وائرس کسی دوسرے کو نقصان نہیں دیتا۔ یہ برصغیر پاک و ہند، ساؤتھ ایشیا، افریقہ، چائنا، مشرقِ وسطیٰ، وسطی امریکہ، آسٹریلیا اور دیگر کئی جزائر میں پایا جاتا ہے۔ برسات کے موسم میں جب بارشیں خوب ہوتی ہیں تو مختلف جگہوں پر پانی کھڑا ہو جاتا ہے اور اس میں تعفن پیدا ہو جاتا ہے۔ اس طرح کا ماحول مچھروں کی بہتات میں اضافہ کر دیتا ہے جس سے یہ مرض ڈینگی وائرس فیور کا ظہور ہوتا ہے اور متحدہ عرب امارات جیسے علاقوں میں تعفن نہیں ہوتا اس لئے وہاں یہ بہت ہی کم پایا جاتا ہے۔
اس وائرس کے حملے کے شکار زیادہ تر دس سال سے کم عمر بچے ہوتے ہیں۔ اسے دریافت کرنے والے محققین کا خیال ہے کہ 1780ء میں پہلی دفعہ وبائی صورت میں سامنے آیا۔
مادہ مچھر کے کاٹنے کے 5 تا 8 دن بعد یہ وائرس اثر انداز ہوتا ہے۔ تب جسم پر یہ علامات ظاہر ہوتی ہیں:
1. سردی لگنا
2. زکام
3. دردِ سر
4. بھوک بند، متلی، ابکائی اور قے ہونا
5. شدید بخار ہونا
6. نبض کی حرکات کم، فشارِ الدم ضعیف
7. شدید تھکاوٹ
جب مرض دوسرے درجے میں داخل ہوتا ہے تو آنکھیں سرخ، جوڑوں میں درد، وجع القطن، ضعفِ عامہ، مسوڑھوں سے خون، لمف نوڈز کا سوج جانا، Muscle Pain، Rash اور شدید دردِ سر، سرخ سرخ دھبے بازوؤں اور ٹانگوں اور پھر سارے جسم پر نکل آتے ہیں۔
پاؤں کے تلوے اور ہاتھ کی ہتھیلیاں سرخ ہو جاتی ہیں۔ علامات آہستہ آہستہ بڑھ کر 10 دنوں میں شدت اختیار کر لیتی ہیں اور مریض انتہائی کمزور اور انتہاء درجے کا تھک جاتا ہے۔
جب مرض اس سے زیادہ شدت اختیار کرتا ہے تو شدید بخار، سر درد اور کھانسی بڑھتی جاتی ہے۔ بلڈ ویسلز سوج جاتی ہیں اور پھر پھٹ کر لیک ہونے لگتی ہیں۔ اس طرح زیرِ جلد خون جما ہوا دکھائی دیتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے پرپل کلر کے سپاٹ جلد پر دکھائی دیتے ہیں جسے Petechiae کہتے ہیں۔ ناک، مسوڑھوں اور جلد سے شدید جریانِ خون ہوتا ہے اور کچھ معدہ میں اترتا ہے تو کافی کے رنگ کا مواد قے کی صورت میں دانے دار باہر نکل آتا ہے۔ شدید Hemorrhaging سے جب قلب و عضلات کو تازہ آکسیجن کم ملتی ہے تو انہیں اور گردوں کو شدید نقصان ہوتا ہے۔
خون میں پلیٹ لیٹس فنا ہوتے ہیں جس سے شدید جریان خون ہوتا ہے اور سیرم میں IGM کا اضافہ ہوتا ہے اور Coagulation Studies یعنی خون جمنے کے عمل پر نظر رکھی جاتی ہے کہ وہ کتنے پلیٹ لیٹس رکھتا ہے اور کتنے کم ہو چکے ہیں۔
