معدہ
معدہ کے مختلف امراض ہیں:
بھوک نہ لگنا (جوع البقر)
اس مرض میں اعضاء کو غذا کی ضرورت ہونے کے باوجود معدہ بھوک کا احساس نہیں کرتا۔ کھانے پینے کی خواہش ختم ہو جاتی ہے جیسے بیل کو کھانے کی حرص بہت کم ہوتی ہے، ایسا اکثر اس وقت زیادہ ہوتا ہے جب غذا معدہ میں پہنچتی ہے تو اس کی دیواروں میں کھچاؤ پڑتا ہے جس کے ردعمل سے معدہ کی دیواروں سے ایک گیسٹرک ہارمون نکلتا ہے جس کے زیر اثر معدہ میں ایک طرف تو میکانی حرکت کنٹرول ہوتی ہے دوسری طرف معدہ کی دیواروں میں موجود گیسٹرک گلینڈ گیسٹرک جوس بنانا شروع کر دیتے ہیں۔ معدہ کی یہ رطوبت انتہائی ترش ہوتی ہے اس کی pH ویلیو 0.9 تا 1.5 تک ہوتی ہے اور اس رطوبت میں Pepsin اور تیزاب نمک (HCl) اور وٹامن B12 کو جذب کرنے کے لئے ضروری مرکب انٹرنزک فیکٹر (Intrinsic Factor) اور Proteolytic Enzymes خامرے پائے جاتے ہیں جو نظامِ انہضام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جب ان میں کمی بیشی ہوتی ہے تو بھوک نہ لگنے کی شکایات ہوتی ہیں۔
معدہ کا درد
اس کی تین صورتیں ہیں:
۱۔ معدہ میں درد کا احساس ہوتا ہے۔ منہ میں رطوبت کی زیادتی، جی متلانا، ابکائی، قے، ہاضمہ خراب اور تھوک کی کثرت جیسی علامات پیدا ہوتی ہیں۔
اسباب:
بلغمی اشیاء کا کثرت استعمال
ہیضہ
بدہضمی
۲۔ شکم میں نفخ، قراقر، ترش ڈکاریں، بے چینی اور شدید قبض ہونے سے قولنج کی سی کیفیت پیدا کرتے ہیں۔
اسباب:
ترش اشیاء کا کثرت استعمال
ٹھوس اور دیر ہضم اشیاء کا کثرت استعمال
بلا ضرورت کھانا
۳۔ معدہ میں درد، پیاس کی کثرت، زرد رنگ کی قے، پیشاب میں جلن اور براز مروڑ سے آتا ہے۔ دل گھبراتا ہے، بے چینی سے نیند ختم ہو جاتی ہے۔ ہاتھ اور پاؤں میں جلن اور جسم کا رنگ پیلا ہو جاتا ہے۔
اسباب:
گرم خشک اشیاء کا کثرت استعمال
بد ہضمی
اس علامت میں معدے کے صرف فعل ہضم میں فتور آجاتا ہے جبکہ اس کی ساخت میں کسی قسم کا فتور نہیں آتا۔
کھانے کے تین چار گھنٹے بعد معدے میں درد، تناؤ، گرانی اور بے چینی کی شکایت ہوتی ہے۔ کبھی جی متلاتا یا قے ہو جاتی ہے۔ کبھی دست آتے ہیں اور کبھی قبض ہو جاتی ہے۔ پیٹ میں درد اور تنفس سے بدبو آتی ہے۔ کبھی خفیف سا بخار ہو جاتا ہے۔ ڈکار آ کر منہ میں ترش پانی بھر جاتا ہے۔ پیشاب میں تلچھٹ تہہ نشین ہونے لگتی ہے اور کبھی زلالی پیشاب آنے لگتا ہے یعنی پیشاب میں البیومن آنے لگتی ہے۔ عام طور پر مریض کو کمزوری نہیں ہوتی لیکن اگر چند روز مسلسل ایسے ہی رہے تو کمزوری ہونے لگتی ہے۔
پھر پرانی بدہضمی ہو جانے سے بھوک بہت کم ہو جاتی ہے۔ فمِ معدہ پر گرانی اور دھیما دھیما سا درد ہوتا ہے۔ خصوصاً کھانے کے بعد پیٹ میں ہوا بھر جاتی ہے۔ ترش ڈکاریں آتی ہیں۔ کبھی جی متلاتا اور ابکائیاں آتی ہیں۔ کبھی قبض، کبھی دست آتے ہیں۔ چہرہ بے رونق، جسم نڈھال اور مریض روز بروز لاغر ہو جاتا ہے۔ طبیعت سست، کسمندی کا شکار رہتی ہے۔ دل دھڑکتا ہے اور معدے میں جلن اور درد کی شکایت ہوتی ہے۔ حلق میں خراش اور کبھی چھالے پڑ جاتے ہیں۔ ہاتھ پاؤں بھی جلتے ہیں۔
اسباب:
کھانے پر کھانا
بیکری کی مصنوعات کا استعمال
ہوٹلنگ
فواق (ہچکی)
ہچکی وہ حرکت دفعیہ ہے جو عموماً آفاتِ معدہ سے پیدا ہوتی ہے۔ اس میں حجابِ حاجز اور دیگر عضلات یک لخت زور سے سکڑتے ہیں جونہی ہوا حنجرہ کے سوراخ میں داخل ہوتی ہے تو وہ اس کو برداشت کرنے کے لئے آمادہ نہیں ہوتا اور لسان المزمار کی ڈوریوں میں جھٹکا لگتا ہے تو ہچکی کی مخصوص آواز پیدا ہوتی ہے۔
اسباب:
فمِ معدہ میں رطوبات کا اجتماع
غلیظ ریاح کا اجتماع
پیاس کی شدت
زبان کی خشکی
تیز خلط والی اشیاء کا کثرت استعمال
متلی، ابکائی اور قے
دماغ میں میڈولا کے مقام پر ایک خاص سنٹر ہے جس کا تعلق Chemo Recepter Tri Zone سے ہوتا ہے۔ جب اس مرکز کو تحریک پہنچتی ہے تو منہ میں لعاب بکثرت پیدا ہوتا ہے۔ جب یہ لعاب معدہ میں اترتا ہے تو معدہ میں تحریک پیدا ہو جاتی ہے جس سے وہ پھول جاتا ہے۔ اس دوران منہ کی طرف خوراک کی نالی کا سوراخ کمزور پڑ جاتا ہے جبکہ معدے کا چھوٹی آنت سے منسلک سوراخ پائلورس کے مقام پر سخت تناؤ سے تنگ ہو جاتا ہے۔ جب یہ تناؤ معدہ میں پہنچتا ہے تو وہ بار بار سکڑتا اور پھیلتا ہے۔ پائلورس کے مقام پر راستہ بند ہونے کی وجہ سے مواد منہ کے راستے باہر نکل آتا ہے جسے الٹی یا قے کہتے ہیں۔ اگر مواد نہ نکلے ویسے ہی کچھ باہر نکلنے کی کیفیت ہو تو اسے ابکائی کہتے ہیں۔
جب معدہ زیادہ ضعیف ہو جاتا ہے تو اسے مضر چیز سے نفرت ہو جاتی ہے، وہ کوئی حرکت نہیں کرتا۔ طبیعت ہر وقت بے چین رہتی ہے۔ اس کیفیت کو غثیان یا متلی کہتے ہیں۔
اسباب:
تر سرد اشیاي کا کثرت استعمال
ٹھنڈی آب و ہوا کا اثر
بلا ضرورت کھانا
فوڈ پوائزنگ
فم معدہ کا درد
قدرت نے معدہ کا یہ حصہ بھوک کا احساس پیدا کرنے کے لئے نہایت ذکی الحس بنایا ہے۔ یہاں پر معمولی سی تکلیف بھی زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ کبھی غشی لاحق ہو کر سرد پسینے بھی آتے ہیں۔
اسباب:
سخت پریشانی
خشک اشیاء کا کثرت استعمال
جوع الکلب
اس علامت میں کھانے کی اشتہاء بہت زیادہ ہوتی ہے اور غذا کھانے کے بعد بھی خواہش رہتی ہے۔ ایسی حرص جانوروں میں صرف کتے میں ہوتی ہے اس لئے اسے جوع الکلب کہتے ہیں۔
یہ سچی بھوک نہیں ہوتی بلکہ جھوٹی ہوتی ہے اور یہ زیادہ تر ذیابطیس کے مریضوں کو لگتی ہے۔ یا پھر بچوں کے پیٹ میں کیڑے ہوتے ہیں جو ان کی غذا چٹ کر جاتے ہیں جس سے انہیں کچھ نہ کچھ کھانے کی خواہش رہتی ہے۔
اسباب:
دیدانِ امعاء
ذیابطیس
ترش اشیاء کا بکثرت استعمال
اچار
کیچپ
سوڈا
چٹنیاں وغیرہ۔
اپھارہ
فلے چولینس کے معنی ہیں ”زیادہ ہوا“ کھانے کے وقت کچھ ہوا بڑی آنت میں جذب ہو جاتی ہے۔ جب خوراک کے بیکٹیریا کی ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے اس وقت کچھ ہوا پیدا ہوتی ہے اس میں نائٹروجن، کاربن ڈائی آکسائیڈ، ہائیڈروجن اور میتھین ہوتی ہے تب غذا کا کچھ حصہ معدے میں ہضم نہیں ہوتا تو متعفن ہو جاتا ہے اور پیٹ میں ریح (ہوا) پیدا کرتا ہے۔
یہ ریح پیٹ میں درد کا باعث بنتی ہے۔ جب آدمی کھانا کھا لیتا ہے تو یہ ہوا اور زیادہ ہو جاتی ہے چنانچہ کھانے کے دو تین گھنٹے بعد پیٹ پھول کر ڈھول جیسا ہو جاتا ہے کہ گیس خارج نہیں ہوتی جس سے طبیعت میں اضمحلال اور بوجھل پن آ جاتا ہے۔ پیٹ میں درد ہوتا ہے اور کبھی جلی ہوئی ترش ڈکاریں آتی ہیں۔ منہ تھوک سے بھرا رہتا اور بار بار تھوکنا پڑتا ہے۔ سینے پر جلن ہوتی ہے، دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے، سر چکرانے لگتا ہے، سانس پھول جاتا ہے۔ دودھ پیتے بچوں کو ایسی حالت میں بہت زیادہ تکلیف ہوتی ہے اور وہ بے چین ہو جاتے ہیں۔ اس حالت میں اجابت جھاگ دار اور انتہائی بدبودار ہوتی ہے۔
اسباب:
بیکری کی مصنوعات کا استعمال
بسیار خوری
کھانے کے فوراً بعد لیٹ جانا
دیر ہضم اشیاء کا استعمال
ڈکار آنا
ڈکار دراصل معدے یا خوراک کی نالی سے خود بخود یا جان بوجھ کر گیس کا اخراج ہے۔ یہ عام طور پر کھانے کے بعد ہوتا ہے جب معدہ غذا سے بھر جاتا ہے اور خوراک کی نالی کا نچلا سفنکٹر (Sphincter) ڈھیلا ہو جاتا ہے، ڈکار کا آنا ایک نارمل عمل ہے۔ ڈکار کے دوران نکلنے والی گیس وہ ہوتی ہے جو ہم ہر وقت نگلتے رہتے ہیں لیکن اگر گیس زیادہ نگلی جائے تو پیٹ پھول جاتا ہے اور بہت درد ہوتا ہے۔ یہ عام طور پر اس وقت ایسا ہوتا ہے جب بہت زیادہ کھانا کھا لیا جائے یا گیس پیدا کرنے والی اشیاء کا استعمال زیادہ کیا جائے۔ پھر انہی لوگوں کو ڈکار بھی زیادہ آتے ہیں البتہ بعض اوقات جنہیں عسر البلغ کی تکلیف ہوتی ہے، انہیں بھی یہ عارضہ ہوتا ہے اور پیٹ درد، متلی، ابکائی اور قے ہوتی ہے۔ سینے میں جلن ہوتی ہے۔ بعض کو ناک بند رہنے کی وجہ سے منہ سے سانس لیتے وقت بھی ڈکار آتے ہیں۔ مذکورہ علامات کے سوا کثرت سے ڈکار آتے رہیں اور معدہ و امعاء میں گیس کی کثرت کی شکایت رہے تو وہ ڈپریشن کی اہم علامت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بے چینی زیادہ ہوتی ہے، مریض کو کسی لمحے سکون نہیں ملتا۔
اسباب:
ضرورت سے زیادہ کھانا
ٹینشن
عسر البلغ
نزلہ بند
ڈپریشن
قے الدم (خونی قے)
مقامِ معدہ پر برچھی یا چھری یا چاقو لگنے جیسا شدید درد ہوتا ہے اور کبھی صرف جلن محسوس ہوتی ہے۔ کبھی خون شدت کی قے کے ساتھ خارج ہوتا ہے اور کبھی صرف اچھو کے ساتھ آتا ہے۔ کبھی رقیق اور کبھی غلیظ ہوتا ہے۔ کبھی جھاگ دار اور غذا سے ملا ہوا اور کبھی خالص آتا ہے۔ مقدار میں کبھی تھوڑا اور کبھی بہت زیادہ آتا ہے جس سے مریض کے مر جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔
اسباب:
معدے میں زخم (السر)
ہیپاٹائٹس کے مریض جب اُبلے ہوئے چاول دودھ کھاتے ہیں تب قے الدم ہو سکتا ہے
معدہ میں ویری کوز وینز کا پھٹنا
سمیات کا استعمال
سرطانِ معدہ
حیض کا خون غلط طریقے سے بند کرنا
سوزش معدہ
جب معدہ کے عضلات میں تحریک ہوتی ہے تو ان میں انقباض آ جاتا ہے۔ کبھی بڑھ کر تشنجی حرکات کی نوبت بھی آ جاتی ہے اور معدہ کے غدود میں تسکین ہوتی ہے اس لئے وہ اپنے مکمل ہاضم رس نہیں چھوڑتے جس سے بھوک کم ہو جاتی ہے اور کھائی ہوئی غذا زیادہ دیر تک وہاں پڑی رہتی ہے جس میں تبخیر پیدا ہو کر تبخیرِ معدہ کی شکایت ہوتی ہے۔ پیٹ ریاح سے تن جاتا ہے اور بدہضمی محسوس ہوتی ہے۔ پیاس لگتی ہے اور پھر ترش ڈکاریں آتی ہیں اور کبھی شدت سے جلن ہونے لگتی ہے۔ قبض ہوتی ہے اور ہاتھ پاؤں جلتے ہیں۔ پیشاب کم اور سرخ رنگ میں آتا ہے اور جب اعصاب میں تحلیل واقع ہو جاتی ہے تو وہ اپنی رطوبت نچوڑ دیتے ہیں جس سے منہ میں پانی بھر بھر کر آتا ہے۔ کھانے کے بعد پیٹ میں دھیما دھیما سا درد ہوتا ہے اور منہ سے ترش پانی آتا ہے۔ طبیعت میں پریشانی اور تھکاوٹ سی پائی جاتی ہے۔ کھانے پینے سے اس میں اضافہ ہو جاتا ہے اس لئے مریض غذا کو کم کرتا جاتا ہے اور نہایت کمزور ہو جاتا ہے۔
اکثر مریضوں میں اس بیماری کی وجہ علاج میں سستی ہے۔ زیادہ دیر تک یہ مرض رہے تو پھر جراثیم پیدا ہو جاتے ہیں جنہیں ہلیکو بیکٹیر پائی لورائی (Helicobactor Pylori) کہتے ہیں۔ اس کے پیدا ہونے سے پیٹ کے اوپر والے حصے میں شدید درد ہوتا ہے۔ درد زیادہ کھانے کے بعد ہوتا ہے۔ خون میں ٹیسٹ سے جو جراثیم پازیٹو ہوتے ہیں اور اینڈوسکوپی کرانے سے معدے کی دیواریں سوجی ہوئی معلوم ہوتی ہیں اور مریض کو متلی، ابکائی اور قے ہونے لگتی ہے اور جب قے ہو جائے انتہائی ترش ہوتی ہے حتیٰ کہ سارے دانت کھٹے ہو جاتے ہیں۔
اسباب:
اچار
کیچپ
چٹنیاں
چٹ پٹے مصالحے
شراب کی لعنت کا رسیا
جوع الکلب (بار بار کھانے کی عادت)
بے وقت کھانا کھانا
کثرتِ مباشرت
علاج میں سستی
ڈسپرین
بروفین اور دیگر ایلوپیتھی ادویہ کا استعمال
ورم معدہ
معدہ میں سوزش دیر تک رہے یا اس کا صحیح علاج نہ ہو سکے تو وہ ورم میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اس وقت معدے کی اندرونی لعاب دار جھلی (Mucous Membrane) سرخ اور متورم ہو جاتی ہے۔
ورم کی ابتدائی سٹیج پر پیٹ میں گرانی اور بے چینی محسوس ہوتی ہے۔ دل گھٹتا ہے، جی متلاتا ہے، تھوک زیادہ آتا ہے اور بعض اوقات کڑوا سا پانی منہ سے نکلتا ہے اور ڈکار آتے ہیں۔ زبان میلی ہو جاتی ہے، بھوک مر جاتی ہے، پیاس زیادہ لگتی ہے، قبض ہوتی ہے، پیشاب کم اور انتہائی سرخ آتا ہے، سر درد کرتا ہے اور اکثر ہلکا سا بخار رہتا ہے۔
اس قسم کا ورم اگر بچوں کو ہو جائے اور جب آنتوں کی طرف بڑھے تو انہیں دست آنے لگتے ہیں اور پیٹ میں سخت درد ہوتا ہے لیکن جوانوں میں عموماً قبض ہوتی ہے۔ جب ورم معدہ سے گزر کر بارہ انگشتی آنت میں پہنچتا ہے تو صفراء کی نالی متورم ہو جاتی ہے جس سے ایک دو روز بعد خفیف سا یرقان ہو جاتا ہے۔
اور اگر یہ ورم زیادہ شدید ہو جائے تو اس کی علامات بھی زیادہ شدید ہوتی ہیں چنانچہ 103 درجے تک بخار ہوتا ہے۔ زبان خشک اور پیلی ہوتی ہے، منہ میں پھنسیاں اور چھالے نکلے رہتے ہیں، مسوڑھے پھول جاتے ہیں، منہ سے بدبو آتی ہے، بار بار جی متلاتا ہے اور قے ہوتی ہے۔ قے میں پہلے تو بقیہ غیر منہضم غذا نکلتی ہے اور پھر میوکس (بلغم) خارج ہوتا ہے۔ معدے میں شدید جلن ہوتی ہے۔ شدت کی پیاس لگتی ہے۔ بھوک مر جاتی ہے بلکہ مریض کو غذا سے نفرت ہو جاتی ہے۔ پیٹ پھول جاتا ہے اور فمِ معدہ پر دبانے سے درد محسوس ہوتا ہے اور کبھی تشنجی قسم کا درد ہوتا ہے۔ نیند اچھی طرح نہیں آتی۔ ہاتھ پاؤں کے تلوے جلتے ہیں۔ پیشاب بہت کم، سرخ اور اس میں تلچھٹ بکثرت تہہ نشین ہوتی ہے۔ جلد خشک اور جسم کا رنگ پھیکا پڑ جاتا ہے اور مریض روز بروز لاغر اور کمزور اور پست ہمت ہو جاتا ہے۔ سست اور مغموم رہتا ہے، کام کاج کرنے کو جی نہیں چاہتا۔ نبض جلد جلد اور مشرف طویل ہو کر چلتی ہے اور عموماََ مروڑ سے پہلے پتلے پتلے دست آتے ہیں۔
اسباب:
متعفن غذا کھا لینا
گلے سڑے کباب کھانا
شراب کی لعنت کا عادی ہونا
سمیات کا استعمال
کیمیکلز پر مبنی ادویہ
زخم معدہ (السر)
معدے کی اندرونی سطحیں جنہیں میوکوسا (Mucosa) کہتے ہیں۔ یہ بلغمی جھلیاں ہیں، ان پر ہلکے لیس دار چکنے مواد کی تہہ ہوتی ہے۔ یہ ہونٹوں سے لے کر مقعد تک پھیلی ہوتی ہے۔ ان بلغمی جھلیوں میں خلیے بلغم بناتے رہتے ہیں جن سے غذا آسانی سے پھسل جاتی ہے۔ معدے کا اوپر والا حصہ Fundus اور نیچے والا Body کہلاتا ہے۔ ان دونوں حصوں کی بلغمی جھلیوں میں دو خاص قسم کے خلیات ہوتے ہیں:
1۔ پیریٹل سیل ۔۔۔۔۔۔ یہ HCL پیدا کر کے غذا کو تیزابی بناتے ہیں۔
2۔ چیف سیل ۔۔۔۔۔۔ یہ پیپسی نوجن (Pepsinogen) پیدا کر کے غذا کو ہضم کرتے ہیں۔
معدے میں جلن کب اور کیسے شروع ہوتی ہے؟
معدہ کے دونوں سروں پر موجود کارڈ یک گلینڈ اور پائلورک گلینڈ میوسین کی پتلی رطوبت بناتے ہیں جو کسی حد تک اساسی صفت رکھتی ہے جو معدہ کی دیواروں کا Lining لیپ کر دیتا ہے جس کی وجہ سے معدہ اپنی ہی تیزابی رطوبتوں کے اثرات سے محفوظ رہتا ہے۔ پھر جب معدہ میں یہ HCL اور Pepsin دونوں حدِ اعتدال سے متجاوز ہو جاتے ہیں توب یہ معدے کی دیواروں سے لگنے لگتے ہیں جہاں میوکس ممبرین بلغمی جھلی کی رطوبت کم ہو جاتی ہے اور وہ دفاع کرنے سے قاصر ہو جاتی ہے جس سے یہ تیزاب ان دیواروں پر بار بار لگنے سے خراش ہو کر جلن ہونے لگتی ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح جلد پر معمولی سی خراش ہو جانے سے خون نہیں نکلتا صرف جلن ہوتی ہے۔ جب مریض جلن کم کرنے کے لئے کوئی مشروب پیتا ہے، وقتی طور پر یہ تیزاب نیچے ہو جانے سے افاقہ ہو جاتا ہے لیکن تھوڑی دیر بعد یہ تیزاب پھر اوپر تیر آتا ہے جس سے دوبارہ جلن ہونے لگتی ہے، جلن مسلسل ہونے سے درد ہونے لگتا ہے۔ اگر یہ کیفیت زیادہ دیر تک رہے تو فمِ معدہ پر سوزش ہو جاتی ہے جسے Esophagitis کہتے ہیں۔
صحیح علاج نہ ہونے سے یہ تیزابی مادے اس قدر بڑھ جاتے ہیں کہ وہ معدے کی دیواروں کو زخمی کر دیتے ہیں جس سے خون رسنے لگتا ہے اور ابتداء میں اجابت سیاہ ہونے لگتی ہے اور اگر یہ شدت اختیار کر لے تو پھر خونی قے ہو جاتی ہے جسے قدیم طب میں ”قروحِ معدہ“ اور طبِ جدید میں ”السر“ کہتے ہیں۔
یہ انتہائی خطرناک حالت ہوتی ہے۔ اگر اس کا جلد از جلد ازالہ نہ کیا جائے تو یہ کینسر بن جاتا ہے۔ اگر بر وقت صحیح علاج شروع ہو جائے تو مریض باآسانی بچ جاتا ہے۔
السر کی علامات:
کھانا کھانے کے بعد معدے میں تقریباً آدھا گھنٹے بعد جلن شروع ہو جاتی ہے اور تقریباً 3 تا 4 گھنٹے تک رہتی ہے اور کھانے کے تین گھنٹے بعد درد یا جلن ہو تو یہ اثناء عشری میں السر ہے اور اجابت کرتے وقت جلن اور خون آئے تو یہ قولون نازل کا السر ہے۔
مریض کی ابتداء میں جلن کم ہوتی ہے لیکن آہستہ آہستہ یہ جلن اس قدر شدت اختیار کر لیتی ہے کہ جیسے کوئی چھری یا چاقو سے کاٹ رہا ہوتا ہے۔ جب تک غذا معدے سے نیچے نہیں اترتی جلن ہوتی رہتی ہے۔ گیس سے ڈکاریں آتی ہیں، جی متلاتا ہے اور کبھی قے ہو جاتی ہے۔ معدے میں تیزابی مواد معدے کے منہ پر بار بار لگنے سے سوجن پیدا کر دیتا ہے۔ اس سے کبھی ترش اور کبھی تلخ جھاگ دار مواد منہ میں آ جاتا ہے۔ ابتداء میں یہ مواد آنتوں میں رک کر فساد کرتا ہے جس سے اجابت نامکمل ہونے لگتی ہے اور پھر شدت سے آنتوں میں سوزش ہو جاتی ہے اور مسوڑھوں سے خون آنے لگتا ہے اور مسلسل برقرار رہنے سے مقعد کے راستے بواسیری خون جاری ہو جاتا ہے۔ مریض کے مسوڑھے سیاہ اور دانتوں میں درد ہوتا ہے اور پھر ان کے دانت سیاہ یا پیلے یعنی بے رونق سے ہو جاتے ہیں جنہیں ڈینٹل سپیشلسٹ بے چارے مختلف ٹوتھ پیسٹ اور دیگر ادویات استعمال کراتے ہیں لیکن کسی سے فائدہ نہیں ہوتا۔ پھر وہ تنگ آ کر کہتے ہیں کہ یہ پیدائشی ایسے ہی ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہوتا بلکہ خون میں کثرتِ سوداء سے دانتوں کا رنگ سیاہ اور کمی خون سے دانت پیلے ہو جاتے ہیں اور ان لوگوں کو کھانے کے بعد ہونے والی قے انتہائی ترش یا انتہائی زہریلی ہوتی ہے۔
آنکھوں کا سفید حصہ میلا پیلا، آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے، ناخن سے رونق ختم، اکثر نفخ، گیس اور قبض کی شکایت رہتی ہے۔ صبح اٹھتے ہی منہ سے بدبو اور برش کرنے سے پیپ آمیز خون آتا ہے۔ دن بھر تھکاوٹ، کم ہمتی اور سر بوجھل رہتا ہے اور کبھی چکر بھی آتے ہیں۔ مریض بے شمار علامات واقع ہونے کا ذکر کرتا ہے۔
اس مریض کو تیزابیت کی زیادتی کی وجہ سے بھوک زیادہ لگتی ہے اس لئے کھانا بھی زیادہ اور جلدی جلدی کھاتا ہے جس قدر کھاتا ہے اسی قدر تکلیف میں مبتلا بھی ہوتا چلا جاتا ہے۔ نرم غذا سے آرام و سکون ہوتا ہے۔
بعض مریضوں کو خالی پیٹ تکلیف زیادہ ہوتی ہے اور کچھ کھا لینے سے سکون ہو جاتا ہے جیسے جیسے یہ مرض بڑھتا جاتا ہے مریض ہر چیز کھانے سے ڈرتا ہے کہ کہیں اس کے کھانے سے اسے جلن نہ ہو جائے اس لئے وہ کم کھاتا ہے جس سے روز بروز وہ کمزور ہونے لگتا ہے۔ بعض کو موشن لگے رہتے ہیں یا چھوٹے چھوٹے پاخانے دن میں تین چار مرتبہ، کبھی درد، کبھی مروڑ، کبھی تکلیف اور کبھی بلا تکلیف آتے ہیں اور کبھی قبض میں مبتلا ہوتے ہیں اور بعض کو Hiatus Hernia اور Reflex Oesophagitis ہو جاتا ہے۔
ہائیٹس ہرنیا سے مراد معدہ کے منہ کا کچھ حصہ Abdominal Cavity (حوضِ بطن) سے نکل کر Thorasic Cavity یعنی حوضِ سینہ میں چلا جاتا ہے اور Reflex Oesophagitis میں معدہ سے Perestalic Movements لہروں کی شکل میں حرکات اوپر گلے کی طرف متواتر جانا شروع ہو جاتی ہے۔ لہَری حرکات کا یہ عمل مریض کے لئے انتہائی اذیت ناک ہوتا ہے۔ یہ حرکات سوتے جاگتے موجود رہتی ہیں اور شدید بے چین کر دیتی ہیں اس میں چونکہ Motor Nerve Activate ہو جاتے ہیں جن کی بناء پر لبلبہ (Pancrease) ہر وقت تیزاب بناتا رہتا ہے اور خوراک کی نالی میں الٹی لہریں شروع ہو جاتی ہیں۔ لہَری حرکات معدہ سے اٹھ کر خوراک کی نالی اور پھر حلق تک جاتی ہیں، کسی وقت بھی چین نہیں آنے دیتیں۔ بدہضمی، سینے کی جلن، درد اور فمِ معدہ پر درد مریض کی حالت ابتر کئے رکھتے ہیں۔
اسباب:
1۔ Helicobactor Pylori کی انفیکشن
2۔ ہوٹلنگ (تیز مرچ مصالحے)
3۔ بیکری کی مٹھائیاں اور بسکٹ
4۔ بھنے ہوئے گوشت کا کثرت استعمال
5۔ تیز ترش اشیاء مثلاً کوکا کولا، پیپسی دیگر سوڈا واٹر، کانجی، کیچپ، اچار چٹنیاں اور سرکہ جات کا کثرت استعمال
6۔ کھانے کے شیڈول میں بے اعتدالی
7۔ ٹینشن
8۔ میدے کی مصنوعات، سموسے، پیٹیز، کچوریاں وغیرہ
9۔ تمباکو نوشی اور شراب، پان، گٹکا وغیرہ
10۔ سمیات کا اثر
11۔ چائے اور کافی کا بکثرت استعمال
12۔ انگریزی ادویات کا عادی ہونا اسپرین، انڈومیتھاسین، فینائل بیوٹازون وغیرہ
نوٹ: ایلوپیتھک معالجین اس کی تشخیص کے لئے اینڈوسکوپی انتہائی تکلیف دہ ٹیسٹ کرتے ہیں جبکہ مذکورہ علامات کی روشنی میں اس ٹیسٹ کی ہرگز کوئی ضرورت نہیں رہتی۔
ہیضہ
ہیضہ ان تیز امراض میں سے ایک ہے جنہیں معالجین امراضِ حاد (ایکیوٹ ڈیزیز) کہتے ہیں۔ یہ ایک مہلک مرض ہے جس کی دو اقسام ہیں:
1۔ وبائی
2۔ غیر وبائی
1۔ وبائی:
اس صورت میں جراثیم وبریو کالرا (Vibrio Cholera) چھوٹی آنتوں میں اٹیک کرتے ہیں اور وہاں سوزش ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے بار بار قے اور اسہال آتے ہیں۔
2۔ غیر وبائی:
ہیضے کی یہ صورت موسمِ گرما میں شدید ہوتی ہے۔ گرمی کے باعث لوگ ٹھنڈی اشیاء مثلاً تر، کھیرا، خربوزہ اور تربوز وغیرہ بکثرت کھاتے ہیں۔ ایسی تر سرد غذائیں کھانے کے بعد اگر پانی پی لیا جائے تو معدے کا سوداء (تیزابیت) کھاری پن (الکلی) میں بدل جاتا ہے۔ اگر اس کے بعد مزید پانی پیا جائے تو اس سے معدے کی قوتِ جاذبہ پانی کو جذب نہیں کر پاتی اور قوتِ ماسکہ اس پانی کو کنٹرول کرنے سے عاجز آ جاتی ہے جس پر قوتِ ہاضمہ کوئی عمل نہیں کر سکتی بالآخر قوتِ دافعہ قے اور اسہال کی صورت میں اسے جسم سے نکالنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔
علامات: علامات کے لحاظ سے ہیضہ کو چار درجوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
1۔ زمانہ ابتداء:
اس درجہ میں پیٹ میں درد ہو کر قے و دست آنے لگتے ہیں جن میں پہلے فضلہ برآمد ہوتا ہے پھر چاولوں کے پیچ کی مانند دست آنے لگتے ہیں۔ دستوں کے کچھ دیر بعد قے آنے لگتی ہیں۔ قے میں بھی پہلے غذا نکلتی ہے پھر چاولوں کی پیچ کی مانند قے آنے لگتی ہیں۔
۲۔زمانہ تزائد:
اس درجہ میں علامات شدید ہو جاتی ہیں۔ دست و قے زیادہ آنے لگتے ہیں، ہاتھ پاؤں اینٹھنے لگتے ہیں، سر اور پیٹ میں درد ہونے لگتا ہے۔ شدت کی پیاس لگتی ہے لیکن مریض ادھر پانی پیتا ہے ادھر قے کر دیتا ہے۔ بے چینی اور گھبراہٹ بڑھ جاتی ہے۔ یہ صورتِ حال دس بارہ گھنٹے تک رہا کرتی ہے۔
3۔ زمانہ انتہاء:
دستوں اور قے کے ذریعے جسم سے رطوبت کے اخراج کے سبب خون گاڑھا ہو جاتا ہے اور اس کا دوران سست ہو جاتا ہے اس لئے جسم کی حرارت کم ہو جاتی ہے۔ مریض بے حد کمزور ہو جاتا ہے، سرد پسینہ آتا ہے اور سارا جسم ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ سانس لینے میں تکلیف ہوتی ہے۔ مریض گفتگو نہیں کر سکتا، آنکھیں پتھرا جاتی ہیں، پیاس بہت لگتی ہے۔ آنکھوں کے گرد نیلگوں حلقے پڑ جاتے ہیں۔ نبض کمزور اور اٹک اٹک کر چلتی ہے۔ چہرے پر مردنی چھا جاتی ہے۔ دست اور قے بند ہو جاتے ہیں۔ یہ حالت دو تین گھنٹے سے زیادہ نہیں رہا کرتی۔ اکثر مریض اس درجہ میں مر جاتے ہیں۔ اگر یہ حالت بخیر وعافیت گزر جائے تو مریض کی شفاء کی امید ہوا کرتی ہے۔
4۔ زمانہ انحطاط:
اس درجہ میں علامات میں آہستہ آہستہ تخفیف ہو جاتی ہے۔ قے آنا موقوف ہو جاتا ہے، تری سردی رفع ہو جاتی ہے، نبض تیز چلنے لگتی ہے، بدن گرم ہو جاتا ہے، کبھی بخار بھی ہو جاتا ہے۔ چہرے پر شگفتگی اور آنکھوں میں تراوٹ آنے لگتی ہے غرضیکہ مریض روبہ صحت ہونے لگتا ہے۔
اسباب:
معدے کی تیزابیت ختم کرنے والی اشیاء مثلاََ ساڈابائیکارب اور دیگر اینٹی ایسڈ ادویات وغیرہ کا بکثرت استعمال کیونکہ جب تک معدے میں طبعی تیزاب موجود ہے۔ ہیضے کے جراثیم اس کو عبور کر کے چھوٹی آنتوں میں نہیں جا سکتے۔
غیر وبائی ہیضے میں کھیرا، تربوز اور خربوزہ وغیرہ کھانے کے بعد پانی پینے سے بھی یہ مرض لاحق ہو جاتا ہے۔
