امراضِ حلق
حلق کے مختلف امراض ہیں:
خناق:
پہلے حلق میں خشکی اور خرخراہٹ ہوتی ہے پھر خراش ہو کر بار بار کھانسی آتی ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے کہ گلے میں کوئی چیز اٹکی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ اس لئے مریض بار بار نگلنے کی کوشش کرتی ہے۔ لعاب دہن نگلنے اور کھانے پینے میں تکلیف ہوتی ہے۔ خفیف لرزے سے بخار ہو جاتا ہے جس سے منہ کا ذائقہ خراب اور سانس بدبودار ہوتا ہے۔ آواز بیٹھ جاتی ہے، حلق کی جھلی سرخ اور متورم ہو جاتی ہے۔
اسباب:
گرد و غبار
سرد خشک موسم
کارن بیکٹیریم ڈفتیھر یا جراثیم کا اٹیک
ترش اشیاء
کانجی اور سرکہ کا بکثرت استعمال
ورم لوذتین (ٹانسلز)
حلق کے دونوں طرف دو غدد مستعد نگران کی حیثیت سے موجود ہوتے ہیں جو جراثیم کو آگے نہیں بڑھنے دیتے، انہیں پکڑ کر فوراََ ہلاک کر دیتے ہیں۔ اگر یہ کسی وجہ سے متورم ہو جائیں تو ان میں درد ہونے لگتا ہے۔ زیریں جبڑے کے نیچے ہاتھ لگانے سے ورم محسوس ہوتا ہے۔ منہ کھول کر دیکھنے سے زبان کی جڑ کے دونوں رف لوذتین سرخ اور متورم نظر آتے ہیں۔ غذا نگلنے اور پانی پینے سے تکلیف ہوتی ہے۔ جب ورم بڑھ جائے تو پانی پینے سے وہ ناک کے راستے باہر آجاتا ہے۔ خفیف بخار، سر میں درد، جسم بوجھل اور تھکاوٹ محسوس کرتا ہے۔ یہ ورم مسلسل رہے تو پیچیدگی پیدا ہو جاتی ہے کہ پھر ان ممیں پیپ پڑ جاتی ہے اور منہ سے بدبودار مواد نکلتا ہے اور کچھ معدہ میں اتر کر فساد مچاتا ہے۔
اسباب:
بی ٹا ہیمو لیٹک سٹرپٹوکاکس جراثیم کی انفیکشن
گرم خشک اشیاء کا بکثرت استعمال
بحتہ الصوت (آواز کا بیٹھ جانا)
آلہ صوت میں سوزش ہو جاتے سے آواز بیٹھ جاتی ہے۔ آدمی بلند آواز سے بولنے کی کوشش کرتا ہے مگر آواز پیدا نہیں ہوتی۔
آواز اس وقت بیٹھتی ہے جب لیرنکس (Larynx) میں خرابی پیدا ہوتی ہے۔ شہ رگ کی بیماری دونوں (دائیں اور بائیں) ترو پر اثر انداز ہوتی ہے۔ دسویں اور نویں نروز کی رگیں اکٹھی ہونے سے تالو کے سامنے حصے پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ آواز نکالنے پر دونوں برانچیں ملوث ہوتی ہیں۔ کھانسی آنا دب جاتی ہے اور دونوں ووکل کارڈز فیل ہو جاتے ہیں اس سے مریض کو نگلنے میں تکلیف ہوتی ہے۔ آواز بیٹھ جاتی ہے، آواز صرف ایک ووکل کارڈ کو تقصان پنچنے سے بیٹھتی ہے۔ دونوں ووکل کارڈز کام کرنا چھوڑ دیں تو مریض کو سانس لینا بھی مشکل ہو جاتا ہے، غزا اندر داخل نہیں ہوتی۔
اسباب:
گلا ایک دم بیٹھ جانے کی وجہ لیرنکس کی وائرل ینفیکشن ہے۔ اس مین سوزش آ جاتی ہے، دونوں ووکل کارڈ سرخ ہو جاتے ہیں اور سوج جاتے ہیں۔ ایک ووکل کارڈ کام کرنا چھوڑ دے تو آواز بیٹھ جاتی ہے۔ لیرنکل پر کئی طرح کے وائرسز عمل کرتے ہیں، ان میں انفلوئنز ا وائرسز، ایڈینو وائرسز اور اینو وائرسز وغیرہ شامل ہیں مریض کو بخار اور جسم میں تھکاوٹ ہوتی ہے۔ اگر لیرنکس میں ٹیومرز ہو جائیں تب بھی ووکل کارڈز کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ بعض مریضوں کو رات کے وقت پھیپھڑوں سے گیس وغیرہ منہ کی طرف آتی ہے اور ساتھ رطوبات اکٹھی کرتی ہے جس گلے میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے اسی طرف خوراک کی نالی اور پھیپھڑوں کا معمولی کینسر بھی ووکل کارڈ پر اثر کرتا ہے اس سے لیرنکل سوج جاتی ہے اور آواز بیٹھ جاتی ہے۔ برین سسٹم کی نالیا متورم ہوں تو لے ریجل ترو جو گردن میں سے اوپر ووکل کارڈز کو سپلائی کرتی ہے تو اگر سینے میں انفیکشن ہو تو وہ ترو بھی متاثر ہوتی ہے اور اس طرح آواز دپریشن میں ہوتی ہے۔ اس عمل میں ایک ووکل کارڈ متاثر ہوتا ہے۔ بعض دفعہ گردن پر چوٹ آجانے سے نروز کو نقصان پہنچتا ہے اور آواز نکلنا بند ہو جاتی ہے۔ کبھی سرد خشک چیزیں کھانے سے آواز بیٹھ جاتی ہے۔ بسا اوقات خود ہی ٹھیک ہو جاتی ہے۔
غوطر (Goiter) گلہڑ
بڑھا ہوا درقیہ غوطر کہلاتا ہے۔ اس کا سبب یا تو درقیہ کی رسولی یا غذا میں آئیوڈین کی کمی کی حالت میں درقیہ کے فعل کو تحریک دینے کے لئے نخامیہ کا محرک درقی ہارمون تھائیروکسن زیادہ پیدا کرتا ہے جس کے نتیجے میں درقیہ بڑا ہونے لگتا ہے۔
گوئٹر پاکستان میں زیادہ تر پہاڑی علاقوں میں رہنے والوں کو ہوتا ہے جہاں آیوڈین کی کمی ہے۔ مغربی ممالک میں یہ بیماری نہیں ہے۔ عورتوں کو مردوں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔ یہ تقریباََ ۹ فیصد آبادی کو عام ہے۔ اس مرض میں گلینڈ کا سائز بڑا ہو جاتا ہے۔ اس میں درد نہیں ہوتا لیکن جو گلہڑ کسی پھوڑے کی وجہ سے ہوں، ان میں درد بھی ہوتا ہے۔ بڑے گلہڑ کی وجہ سے سانس لینے میں تکلیف ہوتی ہے۔ یہ بڑی آسانی سے نظر آ سکتے ہیں شروع شروع میں گلہڑ صاف ہوتے ہیں لیکن بڑے ہو کر کھردرے ہو جاتے ہیں۔ گلہڑ تین طرح کے ہوتے ہیں:
۱) سادہ گلہڑ (Simple Diffuse Goiter)
۲) رسولی دار گلہڑ (Nodules Goiter)
۳) ریشہ دار گلہڑ (Fibrotic Goiter)
۱) سادہ گلہڑ (Simple Diffuse goiter):
اس کے بڑے ہونے کی کوئی واضح وجہ نہیں۔ یہ عام طور پر صاف اور نرم ہوتا ہے۔ آٹوایمیون تھائی رائیڈٹس اور تھائی روٹوسک اوسس (Thyrotoxicosis) کا اس گلہڑ سے تعلق ہے۔ تھائی رائیڈٹس وائرل بیماری ہے یہ ہائپر تھائی رائیڈزم کی وجہ سے بنتی ہے۔
۲) رسولی دار گلہڑ (Nodules Goiter):
رسولی دار گلہڑ اکٹھے بھی ہوتے ہیں اور اکیلا گلہڑ بھی ہوتا ہے۔ رسولی دار بوڑھے لوگوں کو عم ہوتے ہیں۔ اس سے ہوا کی نالی اور غذا کی نالی میں کھچاؤ ہو جاتا ہے اور نرخرے کے لقوہ کا سبب بنتا ہے جس سے گردن میں درد ہوتا ہے۔ ایک گلہڑ بڑا ہوتا ہے، اس کی تشخیض مشکل ہے۔ اس میں درد ہوتا ہے، اگر علاج نہ کیا جائے تو اس سے تھائیرائیڈ کا سرطان ہو سکتا ہے۔
۳) ریشہ دار گلہڑ (Fibrotic Goiter):
یہ بہت کم ہوتا ہے اس سے وڈی گلینڈ (Woody Gland) پیدا ہوتا ہے۔ سخت اور بے ڈھنگی شکل کا ہوتا ہے۔
وجع الحلق
حلق میں درد ہونا جب کوئی چیز کھائی جائے یا پی جائے تو وہاں سے گزرتے ہوئے درد ہونا اور جب حلق میں سے کوئی لعاب یا کسی چیز کو گلے میں سے اتارنے کا ایکشن ہو تو وہاں درد ہونے کا احساس ہوتا ہے۔
اسباب:
گرم خشک اشیاء کا کثرت استعمال
عظم غدہ درقیہ (ہائپر تھائیرائیڈزم)
غدہ درقیہ اپنا کام معمول سے زیادہ کرنے لگ جاتا ہے تو اس کے ہارمون کی مقدار خون میں بڑھ جاتی ہے جس سے مریض کو بے چینی، کمزوری، پسینے آتے ہیں، دل دھڑکتا ہے اور گرمی زیادہ لگتی ہے۔ دست لگ جاتے ہیں، وزن کم ہونے لگتا ہے، عورتوں میں ایام بے قاعدہ ہو جاتے ہیں، ہاتھوں میں رعشہ ہو جاتا ہے، آنکھیں ابھر آتی ہیں اور ان کے عضلات سخت ہو جاتے ہیں جس سے بینائی میں فرق پڑ جاتا ہے۔ ایک کے دو نظر آتے ہیں آنکھوں کی یہ مخصوص کیفیت حجوز (Exopthalamus) کہلاتی ہے، مریض کا درقیہ گلے میں باہر کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔ لیبارٹری ٹیسٹ میں T4, T3 بڑھ جاتے ہیں، T.S.H کم ہوجاتا ہے، خون میں کیلشیم کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور گردوں میں پتھری بن سکتی ہے۔ کبھی کبھار ہائپرتھائیرائیڈزم پچوٹری گلینڈ میں کسی ٹیومر کی وجہ سے T.S.H لیول بڑھ جاتا ہے جو کہ اس بات کی علامت ہے کہ یہ سیکنڈری ہائپرتھائیرائیڈزم ہے۔ بعض مریضوں کے بال جھڑنا شروع ہو جاتے ہیں اور ان میں سے کچھ کو بھوک بہت زیادہ لگتی ہے۔ خون میں سفید سیلز اور پلیٹ لیٹس کی تعداد کم ہو جاتی ہے۔ مردوں میں نامردی کے آثار ہوتے ہیں۔ سب سے نمایاں علامت یہ ہے کہ مریض کے تھائیرائیڈ کا سائز بڑھا ہوا نظر آتا ہے۔
اسباب:
سرد خشک اشیاء کا بکثرت استعمال
ہائپوتھائیرائیڈزم
تھائیرائیڈ گلیند کے صحیح کام کرنے کے لئے T.R.H،T.S.H ہارمون ضروری ہوتے ہیں۔ ان کی کمی ہو جانے سے تھائیرائیڈ اپنا صحیح کام نہیں کرتے جس کے نتیجہ میں ہائپوتھائیرائیڈزم ہا جاتا ہے اور پھر مریض میں آہستہ آہستہ یہ علامات شروع ہو جاتی ہیں۔
جن بچوں میں پیدائشی طور پر درقیہ کا فعل ناقص ہوتا ہے ان میں نشو و نما رک جاتی ہے۔ ان کے خون میں درقیہ ہارمون تھائروکسن نہیں ہوتا جس کی وجہ سے ان کے جسم کی نشو و نما ناقص ہوتی ہے۔ عدم نمو کی کیفیت خاص کر نظام عضلات و عظام اور اعصاب میں نمایاں ہوتی ہے۔ ان بچوں کا جسم چھوٹا اور عصبی نظام غیر نمو ہوتا ہے۔ ان میں استحالے کی شرح اور بیشتر جسمانی افعال کی رفتار کم ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر غذائی نالی کی حرکات کی رفتار کی کمی کی وجہ سے غذا آہستہ آہستہ گزرتی ہے جس کی وجہ سے بچہ کو مستقل قبض رہتی ہے۔ اسی طرح ان میں قلب سے خون نکل کر شریانون میں آنے کی مقدار نسبتاََ کم ہوتی ہے۔
عدم نمو کا یہ مرض جس طرح درقیہ غیر فعال ہونے کی وجہ سے ہوسکتا ہے۔ اس طرح غذا میں آئیودین کی عدم موجودگی سے بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ اگر ابتداء میں تشخیص کر لی جائے اور بچے کو مناسب مقدار میں تھائروکسن استعمال کرایا جائے تو مرض پر قابو پایا جا سکتا ہے لیکن جب بچہ درقیہ کے ہارمون کی کمی سے ساتھ بڑا ہونے لگے تو اس کے جسمانی نظام اور خاص کر نظام اعصاب کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے۔
درقیہ کے فعل میں کمی بڑی عمر میں ہو تو استسقائے مخاطی کا سبب بنتی ہے۔ اس مرض میں وزن بڑھنے لگتا ہے، سردی ناقابل برداشت ہوتی ہے، مستقل تھکن رہتی ہے، جلد کے نیچے ساختوں میں سیال جمع ہونے لگتا ہے۔ یہ علامات خون میں درقیہ ہارمون تھائروکسن کی کمی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔
تھکاوٹ، کمزوری، کام آہستہ آہستہ کرنا، آوااز دھیمی اور کبھی بیٹھ جانا، آنکھوں کے گرد سوجن، سردی محسوس کرنا، جلد کھردری اور بال گرنے لگتے ہیں۔ بعض کی یادداشت کمزور اور کبھی وہ نازیبا حرکات کرتے ہیں۔ زبان موٹی اور نبض سست ہو جاتی ہے۔ عظم قلب اور استسقاء مافی الصدر بھی ہو سکتا ہے۔ خواتین کو ایام کثرت سے آتے ہیں۔ لیبارٹری تیسٹ میں T4 کا لیول 5 مائیکرو گرام فی دیسی لیٹر سے کم ہوتا ہے۔ خون میں کولیسٹرول، C.P.K اینزائم اور اینزائم جگر سیرم پرولیکٹن بڑھ جاتے ہیں جبکہ خون میں شوگر اور سوڈیم کم ہوتا ہے۔ T.S.H کا لیول پرائمری ہائپوتھائیرائیڈزم میں بڑھ جاتا ہے۔ مریض کو پیری فرل نیوروپیتھی کی وجہ سے ہاتھوں اور پاؤں میں چبھن ہوتی ہے۔ اس کا وزن بڑھ جاتا ہے، سردی زیادہ لگتی ہے اور کسی کام کے کرنے سے گھبراتا ہے۔ چلنے میں لڑکھڑاتا ہے اور کئی خواتین بانجھ پن کا شکار ہو جاتی ہیں۔
اسباب:
ریڈیو تھراپی
ریڈیو اکٹو آئیودین کے مابعد اثرات
سرجری
تھاائیرائیڈ کا ہارمون کم پیدا کرنا
پچوٹری گلینڈ کا فیل ہونا
ہائپوتھیلامس کا کام نہ کرنا
